Islamic open Education System اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان

Islamic open Education System اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان

Share

ہم ملک پاکستان کا نظام عملی طریقے سے بدلنے کے خواہشمند ہیں۔
انشاء اللہ

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم برائے طلباءو طالبات دینی مدارس
تعارف
اعلیٰ دینی و دنیاوی تعلیم کی فراہمی اسلامی بورڈز کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کوئی بھی قوم جدید علوم کے حصول کے بغیر صرف رہبانیت اختیار کر کے اور گوشہ نشین ہو کر

یا صرف جدت پر انحصار کرتے ہوئے اپنی مذہبی تعلیمات کو ترک کر کے ترقی نہیں کر سکتی

اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے علمائے کرام نے بارہا سوچا کہ ملک پاکستان کے اندر ہر سال لا

12/05/2026

ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈگریوں کی تصدیق کے فرسودہ نظام کا خاتمہ

یہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان کی طرف سے ایک اہم اعلان ہے، جس کے مطابق ڈگریوں کی تصدیق (Attestation) کا پرانا طریقہ ختم کر کے اسے مکمل طور پر آن لائن اور ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔
اس اشتہار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. نئے سسٹم کا آغاز
تاریخ: یہ نیا ای-اٹیسٹیشن (e-Attestation) سسٹم آج یعنی 11 مئی 2026 سے شروع ہو رہا ہے۔
بڑی تبدیلی: اب آپ کو اپنی ڈگریاں تصدیق کروانے کے لیے کاغذات جمع کروانے یا دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
2. نئے سسٹم کی اہم خصوصیات
کوئی جسمانی حاضری نہیں: اب آپ کو HEC کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہارڈ کاپی کی ضرورت نہیں: اصل دستاویزات یا فوٹو کاپیاں ہارڈ فارم (کاغذی شکل) میں جمع کروانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
تیز اور آسان: یہ عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور سہولت بخش ہے۔
24/7 رسائی: آپ کسی بھی وقت ویب سائٹ پر جا کر آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔
3. پرانے درخواست گزاروں کے لیے ضروری نوٹ
ایسے لوگ جنہوں نے آج (11 مئی) سے پہلے اپنی درخواست جمع کروا دی تھی اور فیس بھی بھر دی تھی، ان کی ڈگریاں پرانے طریقے سے ہی تصدیق ہوں گی۔
پرانے طریقے سے پروسیسنگ کی آخری تاریخ 30 جون 2026 رکھی گئی ہے۔
اب ڈگری ویریفیکیشن کا سارا کام گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے ہوگا، جس سے لائنوں میں لگنے اور ڈاک کے ذریعے کاغذات بھیجنے کا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا۔

Photos from ‎Islamic open Education System اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان‎'s post 15/02/2026

دینی مدارس کے طلباء وطالبات کے لیے اہم خبر

دینی مدارس کے طلباء و طالبات کے لیے ایک نہایت اہم عدالتی وضاحت سامنے آئی ہے۔ اگرچہ شہادت العالمیہ کو ایم اے کے مساوی تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر سرکاری ملازمت میں اسے لازماً ایم اے کے برابر نمبر بھی دیے جائیں گے۔ نمبروں کا تعین متعلقہ آسامی کے رولز اور بھرتی کے اشتہار میں درج شرائط کے مطابق کیا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ اگر بھرتی کے اشتہار میں صراحت موجود ہو کہ شہادت العالمیہ کے نمبر صرف مخصوص آسامیوں، مثلاً عربی ٹیچر (AT) یا تھیالوجی ٹیچر (TT) کے لیے قابلِ قبول ہوں گے، تو وہ کسی دوسری پوسٹ جیسے قاری کے لیے بطورِ حق کلیم نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بھرتی کا اشتہار ایک بنیادی اور حتمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، اور امیدوار اسی کی روشنی میں اپنی اہلیت کا تعین کریں گے۔ لہٰذا کسی بھی آسامی کے لیے درخواست دینے سے پہلے اشتہار کی شرائط کا بغور مطالعہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
یہ فیصلہ F.C.P.L.A. No. 338 of 2025، Shams Uddin vs Government of KPK & Others، مورخہ 27-01-2026 میں جاری کیا گیا۔
📌 دینی طلباء کے لیے رہنمائی:
ہر سرکاری نوکری کے لیے درخواست دینے سے پہلے اشتہار کی مکمل شرائط ضرور دیکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی ڈگری متعلقہ آسامی کے لیے نمبروں یا اہلیت کے طور پر تسلیم کی جا رہی ہے یا نہیں۔

18/01/2026

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم (IOES)
قائم شدہ: 2010
بنیادی تعارف
اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم ایک غیر منافع بخش، فکری اور تعلیمی پلیٹ فارم ہے جو 2010 سے دینی مدارس کے طلباء و طالبات کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے عملی خدمات انجام دے رہا ہے۔
اس ادارے کا بنیادی فوکس دینی اسناد کی علمی و تعلیمی قدر کو اجاگر کرنا، ان کا قومی و بین الاقوامی سطح پر درست استعمال ممکن بنانا اور مدارس کے فضلاء کو باعزت روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
یہ ادارہ کسی ایک مسلک، ادارے یا فکر تک محدود نہیں بلکہ تمام مسالک کے دینی مدارس کے طلباء و طالبات کے لیے یکساں طور پر رہنمائی اور سہولت فراہم کرتا ہے۔

اغراض و مقاصد
اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلباء اور طالبات کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم سے ہم آہنگ کر کے ایک باوقار، خود کفیل اور باصلاحیت معاشرہ تشکیل دیا جائے۔ ادارہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دینی تعلیم کسی بھی صورت میں جدید علوم، تحقیق اور عملی مہارتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ درست رہنمائی کے ساتھ یہ ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی وژن کے تحت ادارے کے اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:
دینی مدارس کے بچوں اور بچیوں دونوں کو دینی اسناد کی اصل تعلیمی و پیشہ ورانہ حیثیت سے مکمل طور پر آگاہ کرنا
دینی اسناد کی بنیاد پر دستیاب تمام تعلیمی مواقع، جیسے B.A، BS، M.A، MPhil اور PhD تک کے راستوں کی واضح اور مستند معلومات فراہم کرنا
دینی اسناد پر اعلیٰ تعلیم، سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں، ٹیکنیکل و ووکیشنل کورسز اور بین الاقوامی تعلیمی مواقع سے متعلق جامع آگاہی مہم چلانا
طالبات کے لیے خصوصی سہولت فراہم کرنا تاکہ وہ گھر بیٹھ کر بھی دینی تعلیم کے بعد عصری علوم، اسکل ڈیولپمنٹ، آن لائن تعلیم اور ریسرچ پروگرامز سے فائدہ اٹھا سکیں
ایسے طلباء و طالبات کی رہنمائی کرنا جو دینی تعلیم کے بعد ایم فل یا پی ایچ ڈی کے مراحل تک جانا چاہتے ہوں، اور انہیں داخلہ، معادلہ، اور تعلیمی پلاننگ میں مکمل سپورٹ فراہم کرنا
دینی اسناد کے درست، قانونی اور باوقار استعمال کو فروغ دینا تاکہ علم کو ذریعۂ عزت بنایا جائے نہ کہ ذریعۂ مجبوری
فرقہ واریت، انتہاپسندی اور تعصب کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں علمی، تحقیقی اور استدلالی سوچ کو فروغ دینا
جدید علوم و فنون میں مہارت پیدا کر کے ایسے علماء اور عالمات تیار کرنا جو ہر شعبۂ زندگی میں مثبت کردار ادا کر سکیں
دینی طبقے کو باعزت روزگار، خود انحصاری اور سماجی استحکام کی طرف لے جانا
اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم اس بات کا عملی عزم رکھتا ہے کہ دینی مدارس کے طلباء و طالبات کو صرف معلومات نہیں بلکہ مکمل تعلیمی سروسز، رہنمائی اور سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ باخبر، باوقار اور خود اعتماد انداز میں کر سکیں۔

دائرۂ کار اور خدمات

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم درج ذیل شعبوں میں مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے
دینی اسناد (خصوصاً شہادۃ العالمیہ) کی تعلیمی اہمیت سے آگاہی
HEC / IBCC کے تحت معادلہ (Equivalence) کے لیے مکمل رہنمائی
شہادۃ العالمیہ پر B.A، M.A (Arabic / Islamic Studies) میں داخلوں کی سہولت
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ساتھ تعلیمی رہنمائی
ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ کی طرف رہنمائی
سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں کے لیے مشاورت
بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر رہنمائی
مالی معاونت، فیس کنسیشن اور اسکالرشپس میں تعاون
مجموعی کارکردگی رپورٹ
(2010 سے اب تک)
عمومی رہنمائی
تقریباً 8,00,000 سے زائد طلباء و طالبات کو
کالز، میسجز، واٹس ایپ، ای میل، خطوط اور بالمشافہ رہنمائی فراہم کی گئی
تعلیمی معادلہ و ڈگری پروگرامز
35,000+ طلباء نے
شہادۃ العالمیہ کا معادلہ M.A Arabic / Islamic Studies کروایا
27,000+ طلباء نے
شہادۃ العالمیہ کی بنیاد پر B.A مکمل کیا
9,500+ طلباء نے M.A کی ڈگری مکمل کی
7,800+ طلباء نے
ٹیکنیکل / ووکیشنل ایجوکیشن حاصل کی
روزگار اور عملی میدان
12,000+ افراد نے
دینی اسناد کی بنیاد پر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمت حاصل کی
230+ طلباء و طالبات
بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے روانہ ہوئے
مالی و تعلیمی معاونت
3,200+ افراد
مالی معاونت، فیس کنسیشن یا اسکالرشپس سے مستفید ہوئے
مجموعی خلاصہ
براہِ راست تعلیمی، روزگاری یا مالی فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد:
95,000+
مجموعی طور پر رہنمائی و مشاورت سے مستفید افراد:
8,00,000 سے زائد

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے خاموشی، استقامت اور اخلاص کے ساتھ دینی طبقے کو تعلیمی، فکری اور عملی میدان میں مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم آئندہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں، جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے، دینی مدارس کے طلباء و طالبات کو باوقار مستقبل کی طرف لے کر چلتے رہیں گے۔
ڈاکٹر حافظ خبیب الرحمان اعوان

21/08/2025

مدارس کے طلباء متوجہ ہوں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹیا نے درس نظامی والے طلباء کے لیے مختصر اور آسان کورس متعارف کروا دئیے ہیں
۔ان کی تفصیل درج ذیل ہے
۔ 1. اب عامہ کی بنیاد پر اوپن یونیورسٹی میں میٹرک اوپن کورسزز کا داخلہ بھیجیں اور ایک ہی سمسٹر میں میٹرک کر لیں۔
2. خاصہ کی بنیاد پر ایف اے کے اوپن کورسزز کا داخلہ بھیجیں اور ایک ہی سمسٹر میں ایف اے کر لیں۔
3. عالیہ کی بنیاد پر بی اے کے اوپن کورسزز کا داخلہ بھیجیں اور ایک ہی سمسٹر میں بی اے کر لیں
۔ بغیر لیٹ فیس کے ساتھ داخلہ بھیجنے کی آخری تاریخ 25 اگست ہے۔

23/11/2024

ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے پاکستانی اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے اسٹیپینڈیئم ہنگیریئم اسکالرشپ پروگرام 2025-26 کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ یہ پروگرام ہنگری حکومت کی طرف سے بیچلرز، ماسٹرز، ون ٹائر ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے شروع کیا گیا ہے، جسے HEC پاکستان اور ٹیمپس پبلک فاؤنڈیشن، ہنگری مل کر منظم کرتے ہیں۔

اہم ہدایات:

1. درخواست دہندگان کو ہنگری اور HEC کے پورٹلز پر علیحدہ علیحدہ آن لائن درخواست دینا لازمی ہے۔ کسی بھی ایک پورٹل پر درخواست جمع نہ کروانے کی صورت میں درخواست مسترد کر دی جائے گی۔

2. ہنگری پورٹل پر درخواست دینے کے لیے: stipendiumhungaricum.hu/apply وزٹ کریں۔

3. HEC پورٹل پر درخواست دینے کے لیے: scholarship.hec.gov.pk پر رجسٹر ہو کر پروفائل مکمل کریں اور "Hungarian Scholarship Program" منتخب کریں۔

4. HEC اہلیت کا امتحان (HAT/USAT) لے سکتا ہے، جس میں کم از کم 50% نمبر لازمی ہیں۔

5. صرف وہی درخواستیں قابل قبول ہوں گی جو HEC پورٹل پر "SUBMITTED" کے طور پر نشان زد ہوں۔

6. درخواست دینے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2025 (شام 4 بجے PST) ہے۔

7. درخواست جمع کروانے کے بعد اسے ایڈٹ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

8. تمام درخواست دہندگان پر لازم ہے کہ وہ اپنی جمع کروائی گئی درخواست کی کاپی محفوظ رکھیں۔

دیگر اہم معلومات:

HEC اپٹٹیوڈ ٹیسٹ (HAT/USAT) جنوری سے فروری 2025 کے درمیان متوقع ہے۔

پیشہ ورانہ ڈگری (میڈیکل، انجینئرنگ، نرسنگ وغیرہ) کے طلبہ پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ کونسل سے اپنی ڈگری کی منظوری کو یقینی بنائیں۔

مدد کے لیے:

HEC ہیلپ لائن: 051-111-119-432

آن لائن مدد: onlinehelp.hec.gov.pk

مزید تفصیلات اور مکمل ہدایات کے لیے HEC کی ویب سائٹ www.hec.gov.pk/site/ARL وزٹ کریں۔

15/09/2024

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان (IOES)

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

پاکستان میں جہاں مختلف طبقاتی، مسلکی، نسلی، لسانی، اور مذہبی و غیر مذہبی تقسیم موجود ہے، وہاں ایک بڑا مسئلہ مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل علماء و عالمات کی مستقبل کی سمت کا بھی ہے۔ مدارس سے فراغت پانے والے طلباء کے لیے محدود مواقع ہیں اور ان کی 99 فیصد تعداد مسجد یا مدرسے کے علاوہ کسی اور شعبے میں مناسب روزگار حاصل نہیں کر پاتی۔

مدارس سے فارغ ہونے والے اکثر طلباء اپنے آپ کو صرف مدرسہ سے فارغ التحصیل بتاتے ہیں اور جدید عصری تعلیم سے ناواقف رہتے ہیں، چاہے ان کے پاس ایم اے عربی یا اسلامیات کی ڈگری بھی ہو۔

اللہ رب العزت نے انسان کو شعور اور فہم عطا کیا ہے، مگر بعض طلباء کو ان کی زندگی کا مقصد جلدی مل جاتا ہے اور بعض محروم رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے مدارس کے طلباء کا مستقبل اکثر توکل علی اللہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے، اور ان کی معاشی استحکام کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔

جب ایک سروے کے ذریعے مدارس کے طلباء کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تو یہ پتہ چلا کہ ان کے لیے کوئی عملی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی۔

اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان (IOES) کا قیام

مدارس کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اللہ رب العزت کی رہنمائی سے میرے دل میں یہ بات آئی کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو ان کی کیریئر کونسلنگ اور رہنمائی فراہم کرے۔ اس ادارے کا نام اسلامک اوپن ایجوکیشن سسٹم آف پاکستان (IOES) رکھا گیا، تاکہ یہ طلباء و طالبات کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ، فاصلاتی نظام کے تحت تعلیم دلوا کر انہیں بہتر مواقع فراہم کرے۔

ادارے کا مشن

IOES کا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلباء کو ایسی تعلیم فراہم کی جائے جو انہیں نہ صرف دین کی خدمت کرنے کے قابل بنائے بلکہ وہ معاشی طور پر خود کفیل بھی ہو سکیں۔

ادارے کی خدمات

1. اسناد کی تصدیقات: دینی بورڈز اور جامعات سے اسناد کی درستگی اور تصدیقات فراہم کی جاتی ہیں۔

2. بی اے اور ایم اے امتحانات: دینی طلباء کو بی اے اور ایم اے کے امتحانات کے لیے رجسٹریشن، کتب کی ترسیل، رول نمبر سلپ، اور ڈگری کا اجرا کروایا جاتا ہے۔

3. انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین اور HEC اسلام آباد سے تصدیقات: شہادۃ العالمیہ کو ایم اے عربی واسلامیات کے برابر کروانے کی مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

4. تعلیمی معاونت: نادار اور غریب طلباء کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

5. بین الاقوامی مواقع: انٹرنیشنل یونیورسٹیز میں مفت اسکالرشپس کے حصول کے لیے طلباء کی مدد کی جاتی ہے۔

15/09/2024

اسلامک اسٹڈیز میں فلی فنڈڈ انٹرنیشنل کانفرنسز مختلف ممالک میں منعقد کی جاتی ہیں، جو اسلامی تعلیمات، تحقیق، اور مسلم دنیا کے عصری مسائل پر بات چیت اور تبادلہ خیال کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں۔ یہ کانفرنسز دنیا بھر کے اسکالرز، محققین، اور طلبہ کو اسلامی علوم کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مضامین پیش کرنے اور بحث و مباحثے میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ یہاں کچھ اہم ممالک اور ادارے دیے جا رہے ہیں جو اسلامی اسٹڈیز کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کرتے ہیں:

1. سعودی عرب

امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی (Imam Muhammad bin Saud Islamic University)

اسلامک یونیورسٹی آف مدینہ (Islamic University of Madinah)

کنگ عبد العزیز یونیورسٹی (King Abdulaziz University)

سعودی عرب میں اسلامی کانفرنسز اکثر اسلامی علوم، شریعت، اور جدید اسلامی معاشرتی مسائل پر ہوتی ہیں۔ یہ کانفرنسز اکثر حکومت کی طرف سے فلی فنڈڈ ہوتی ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے اسکالرز کو ٹیوشن فیس، رہائش، اور دیگر اخراجات کی سہولیات دی جاتی ہیں۔

شمولیت کا طریقہ:

یونیورسٹی کی ویب سائٹس اور حکومتی اداروں کے ذریعے کانفرنس کی معلومات حاصل کریں۔

کانفرنس میں شرکت کے لیے تحقیقی مقالہ جمع کرائیں۔

منظوری کے بعد سفر، رہائش اور دیگر اخراجات کی ذمہ داری کانفرنس آرگنائزرز کی ہوتی ہے۔

2. مصر

الازہر یونیورسٹی (Al-Azhar University)

دار الافتاء مصر (Dar al-Ifta Egypt)

الازہر یونیورسٹی اسلامی تعلیمات اور تحقیق میں بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کرتی ہے جن میں مسلم دنیا کے اسکالرز اور محققین شرکت کرتے ہیں۔

شمولیت کا طریقہ:

تحقیقی مقالہ یا پروپوزل جمع کروانا ہوتا ہے۔

منظوری کے بعد کانفرنس آرگنائزرز سفر اور رہائش کا انتظام کرتے ہیں۔

3. ترکی

بین الاقوامی اسلامی کانفرنسز (International Congress on Islamic Studies)

استنبول یونیورسٹی (Istanbul University)

ترک اسلامک فنڈیشنز (Turkish Diyanet Foundation)

ترکی میں اسلامی کانفرنسز خاص طور پر جدید اسلامی نظریات، تاریخ، اور سیاست پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔

شمولیت کا طریقہ:

ترکی میں بین الاقوامی کانفرنسز کے لیے تحقیقی مقالہ جمع کرانا ہوتا ہے۔

منظور ہونے پر کانفرنس فلی فنڈڈ ہوتی ہے، جس میں ہوائی ٹکٹ، رہائش، اور کانفرنس فیس شامل ہوتی ہیں۔

4. ملائیشیا

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (International Islamic University Malaysia - IIUM)

یونیورسٹی آف ملایا (University of Malaya)

ملائیشیا میں اسلامی تعلیمات پر کانفرنسز عالمی سطح پر مقبول ہیں، جہاں اسلامی علوم، مسلم دنیا کے عصری مسائل، اور فقہ کے موضوعات پر بحث ہوتی ہے۔

شمولیت کا طریقہ:

کانفرنس کی ویب سائٹس پر تحقیقی مقالہ جمع کروانا ہوتا ہے۔

منتخب اسکالرز کو کانفرنس کے آرگنائزرز کی طرف سے مکمل فنانسنگ فراہم کی جاتی ہے۔

5. انڈونیشیا

انڈونیشین اسلامک یونیورسٹیز اور انسٹیٹیوشنز

انڈونیشیا کی مختلف یونیورسٹیاں اور ادارے اسلامی کانفرنسز منعقد کرتے ہیں، جن میں بین الاقوامی محققین اور طلباء شرکت کرتے ہیں۔

شمولیت کا طریقہ:

انڈونیشیا میں کانفرنسز کے لیے تحقیقی مقالہ یا پروپوزل جمع کرایا جاتا ہے۔

منظور ہونے پر اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے جو سفر، رہائش اور کانفرنس فیس کو کور کرتی ہے۔

6. قطر

حمد بن خلیفہ یونیورسٹی (Hamad Bin Khalifa University)

قطر یونیورسٹی (Qatar University)

قطر اسلامی تعلیمات، شریعت، اور مسلم دنیا کے مسائل پر بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کرتا ہے، جن میں شرکت کے لیے مکمل فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے۔

شمولیت کا طریقہ:

تحقیقی مقالہ جمع کرانا۔

منتخب ہونے پر مکمل اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے۔

7. یورپ

آکسفورڈ یونیورسٹی (Oxford University)

ایڈنبرا یونیورسٹی (University of Edinburgh)

یورپ میں اسلامی تعلیمات پر بین الاقوامی کانفرنسز بھی منعقد ہوتی ہیں، جہاں اسلامی علوم اور جدید مسائل پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے۔

شمولیت کا طریقہ:

تحقیقی مقالہ جمع کرانا۔

کانفرنس آرگنائزرز منتخب امیدواروں کو سفر اور رہائش کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

8. کینیڈا اور امریکہ

میک گِل یونیورسٹی (McGill University)

یونیورسٹی آف شکاگو (University of Chicago)

شمالی امریکہ میں اسلامی اسٹڈیز اور مسلم معاشرتی علوم پر کانفرنسز منعقد ہوتی ہیں، جو کہ مکمل فلی فنڈڈ ہوتی ہیں۔

شمولیت کا طریقہ:

تحقیقی مقالہ جمع کروانا۔

منتخب ہونے پر کانفرنس کی تمام فیس اور اخراجات کور کیے جاتے ہیں۔

عمومی طریقہ کار برائے کانفرنس میں شمولیت:

1. مقالہ کی تیاری: کانفرنس کے موضوعات کے مطابق ایک تحقیقی مقالہ تیار کریں۔

2. کانفرنس کی درخواست: کانفرنس کی ویب سائٹ یا متعلقہ ادارے پر مقالہ جمع کرائیں۔

3. منظوری کا عمل: اگر آپ کا مقالہ منظور ہو جاتا ہے، تو آرگنائزرز آپ کو منظوری کا خط بھیجتے ہیں۔

4. فنانسنگ کی تفصیلات: اکثر فلی فنڈڈ کانفرنسز میں ہوائی ٹکٹ، رہائش، کھانے اور کانفرنس کی فیس شامل ہوتی ہے۔

یہ کانفرنسز طلبہ اور محققین کو عالمی سطح پر اسلامی علوم کے حوالے سے جدید تحقیق اور موضوعات پر گفتگو کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

15/09/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

اسلامک سٹڈیز میں سکالرشپ کے حوالے سے کچھ معلومات اور کچھ یونیورسٹیز کے نام آپ کی خدمت میں حاضر ہیں جو کہ فلی فنڈز سکالرشپ فراہم کرتی ہیں بڑا اسان طریقہ ہے کہ آپ بذریعہ ان لائن یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے اپنے متعلقہ شعبے اور متعلقہ درجے کی سکالرشپ کی تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں

اسلامک اسٹڈیز میں فلی فنڈڈ اسکالرشپس (Fully Funded Scholarships) مختلف بین الاقوامی سطح پر پیش کی جاتی ہیں تاکہ طلبہ کو اسلامی علوم میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ یہ اسکالرشپس بیچلرز، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی کے درجات پر دی جاتی ہیں، اور یہ کئی ممالک کی معروف یونیورسٹیوں اور اداروں کے ذریعے پیش کی جاتی ہیں۔ یہاں کچھ اہم ممالک اور یونیورسٹیز کی تفصیلات دی جا رہی ہیں جو اسلامی اسٹڈیز میں مکمل اسکالرشپ فراہم کرتی ہیں:

1. سعودی عرب

سعودی عرب کی یونیورسٹیاں اسلامی تعلیم میں دنیا بھر کے طلباء کے لیے فلی فنڈڈ اسکالرشپس پیش کرتی ہیں۔ یہ اسکالرشپس اکثر حکومت کی طرف سے دی جاتی ہیں اور ان میں ٹیوشن فیس، رہائش، اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں۔

مدینہ یونیورسٹی (Islamic University of Madinah)

یہ یونیورسٹی بین الاقوامی طلباء کے لیے بیچلرز اور ماسٹرز کے درجات میں اسکالرشپس فراہم کرتی ہے۔

مکمل ٹیوشن فیس، رہائش، اور ماہانہ وظیفہ شامل ہوتا ہے۔

امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی (Imam Muhammad bin Saud Islamic University)

اسلامی علوم میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی اسکالرشپس۔

ٹیوشن، رہائش اور ماہانہ وظیفہ کے ساتھ ساتھ دیگر سہولتیں۔

کنگ سعود یونیورسٹی (King Saud University)

اسلامی اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کے درجات کے لیے اسکالرشپ۔

2. مصر

مصر میں اسلامی علوم میں تعلیم کے لیے الازہر یونیورسٹی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ الازہر یونیورسٹی اسلامی دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور عالمی طلباء کو مکمل اسکالرشپ فراہم کرتی ہے۔

الازہر یونیورسٹی (Al-Azhar University)

بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے درجات کے لیے مکمل اسکالرشپس۔

اسکالرشپ میں ٹیوشن، رہائش اور ماہانہ وظیفہ شامل ہیں۔

دنیا بھر کے طلبہ خصوصاً افریقی اور ایشیائی ممالک کے طلبہ کو اسکالرشپس ملتی ہیں۔

3. ترکی

ترکی اسلامی اسٹڈیز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک مقبول مقام بنتا جا رہا ہے، اور ترک حکومت ہر سال بین الاقوامی طلباء کے لیے مکمل اسکالرشپ پروگرامز پیش کرتی ہے۔

ترکی بورسلیری اسکالرشپس (Türkiye Burslari Scholarships)

ترکی حکومت کی طرف سے دی جانے والی یہ اسکالرشپ بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے درجات میں اسلامی اسٹڈیز سمیت مختلف مضامین کے لیے دستیاب ہے۔

اسکالرشپ میں مکمل ٹیوشن فیس، رہائش، صحت بیمہ، اور ماہانہ وظیفہ شامل ہے۔

استنبول یونیورسٹی (Istanbul University)

اسلامی علوم کے مختلف شعبہ جات میں مکمل اسکالرشپ پیش کی جاتی ہے۔

4. ملائیشیا

ملائیشیا میں کئی یونیورسٹیاں بین الاقوامی طلباء کے لیے اسلامی اسٹڈیز میں فلی فنڈڈ اسکالرشپ پیش کرتی ہیں۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (International Islamic University Malaysia - IIUM)

بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے درجات میں اسکالرشپ۔

اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس، رہائش، اور بعض حالات میں وظیفہ شامل ہوتا ہے۔

ملائشین گورنمنٹ اسکالرشپس (Malaysian Government Scholarships)

ملائیشین حکومت کی طرف سے پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کے درجات کے لیے مختلف اسکالرشپ پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن میں اسلامی اسٹڈیز شامل ہیں۔

5. انڈونیشیا

انڈونیشیا میں بھی اسلامی تعلیم کے لیے مکمل اسکالرشپ پروگرامز دستیاب ہیں، جن میں بین الاقوامی طلبہ کو خاص توجہ دی جاتی ہے۔

اندونیشین گورنمنٹ اسکالرشپس (Darmasiswa Scholarship Program)

اسلامی علوم سمیت مختلف تعلیمی شعبوں کے لیے اسکالرشپ۔

اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس اور رہائش کے اخراجات شامل ہیں۔

6. قطر

قطر میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسلامی علوم میں بہت سے مواقع ہیں، خاص طور پر حمد بن خلیفہ یونیورسٹی جیسے ادارے فلی فنڈڈ اسکالرشپ پیش کرتے ہیں۔

حمد بن خلیفہ یونیورسٹی (Hamad Bin Khalifa University - HBKU)

اسلامی اسٹڈیز میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے مکمل اسکالرشپ۔

اسکالرشپ میں ٹیوشن فیس، رہائش، اور ماہانہ وظیفہ شامل ہوتا ہے۔

7. برطانیہ اور یورپ

یورپ اور برطانیہ میں بھی اسلامی اسٹڈیز کے لیے فلی فنڈڈ اسکالرشپ دستیاب ہیں، خاص طور پر کچھ اہم یونیورسٹیاں یہ اسکالرشپس فراہم کرتی ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی (Oxford University)

اسلامک اسٹڈیز سنٹر کے ذریعے اسکالرشپس۔

Clarendon Scholarships اور دیگر یونیورسٹی فنڈڈ اسکالرشپس۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی (University of Edinburgh)

اسلامی علوم کے شعبے میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے اسکالرشپ۔

8. دیگر ممالک

کینیڈا: کچھ یونیورسٹیاں جیسے McGill University اور University of Toronto اسلامی اسٹڈیز میں اسکالرشپ پیش کرتی ہیں، خاص طور پر پی ایچ ڈی کے درجات کے لیے۔

آسٹریلیا: University of Melbourne اور Australian National University بھی اسلامی تعلیم کے لیے اسکالرشپ فراہم کرتی ہیں۔

مزید معلومات:

یہ اسکالرشپ پروگرامز عام طور پر مختلف شرائط اور تقاضے رکھتے ہیں، جیسے کہ تعلیمی کارکردگی، تحقیقی منصوبہ، اور متعلقہ تجربہ۔

اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کار ہر یونیورسٹی اور ملک میں مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے درخواست دہندگان کو ہر یونیورسٹی کی مخصوص ویب سائٹ پر مکمل معلومات حاصل کرنی چاہیے۔

یہ اسکالرشپس طلبہ کو اسلامی علوم میں عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔

08/09/2024

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں امام و خطيب (BPS-13) اور مؤذن (BPS-6) کی آسامیاں خالی ہیں، امام و خطيب کے لیے اوقاف کی کسی مسجد میں امامت و خطابت کا تین سالہ تجربہ ہونا ضروری ہے، عمر کی بالائی حد 33 سال ہے، مؤذن کے لیے تجربے کی ایسی کوئی شرط نہیں ہے، دلچسپی رکھنے والے احباب اشتہار میں دی گئی ہدایات کے مطابق اپلائی کر سکتے ہیں۔

30/07/2024

مدارس کا کردار
بسم اللہ الرحمن الرحیم

پوسٹ بسلسلہ نفرت مولوی

پاکستان کی مجموعی آبادی میں سے صرف تین فیصد بچے مدارس دینیہ کا رخ کرتے ہیں اور 97 فیصد بچے سکول کالج یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہی اعدادوشمار مردم شماری گیلپ سروے اور پاکستان کے اندر لٹریسی کے اوپر ہونے والے تمام سروے میں شامل ہیں۔

پاکستان کی 57% کے قریب آبادی خواندہ ہے اور ان میں سے بھی اگر آپ تناسب لگائیں تو انتہائی قلیل مقدار ان بچوں کی ہے کہ جو مدارس دینیہ کا رخ کرتے ہیں۔

پاکستان کو بنے ہوئے 70 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور ان ستر سالوں کے اندر ملک کا ایک بڑا بجٹ تعلیمی اداروں میں دیا جاتا ہے جن میں مدارس دینیہ شامل نہیں ہیں اور جن اداروں کو یہ بجٹ جاتا ہے ان میں پرائمری سکول سے لے کر ہائی سکول ہائرسکینڈری سکول کالجز یونیورسٹی سائنس، ٹیکنالوجی یونیورسٹیز شامل ہیں۔

لیکن جب بھی آپ میڈیا کو دیکھیں اخبارات کو دیکھیں سوشل میڈیا کو دیکھیں تو ایک طبقہ بڑی شدت کے ساتھ مدارس دنیا کا رد کر رہا ہے اور مدارس کے پڑھنے والے بچوں کو ہمہ وقت بے جا تنقید کانشانہ بناتا ہے۔

لیکن افسوس ہے کہ آج تک کسی کی توجہ اس بات کی جانب نہیں گئی کہ پاکستان کے اندر تعلیم کا بجٹ مدارسِ دینیہ کو نہیں جاتا بلکہ یہ سارا کا سارا بجٹ اسکول کالج یونیورسٹی اور سائنس و ٹیکنیکل ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز کو دیا جاتا ہے۔
اور پھر ان اداروں کے پڑھے ہوئے معاشرے کے اندر بزنس کرتے ہیں فیکٹریاں لگاتے ہیں ملازمت کرتے ہیں سول سروس اور تمام انتظامی اداروں میں اورعدلیہ کے اندر اپنی سروسز مہیا کرتے ہیں یہی لوگ کاروبار کرتے ہیں اور ملازمت نہ ملنے کی صورت میں دکاندار بھی یہی طبقہ ہوا کرتا ہے

لیکن اس کے باوجود تمام تر پاکستان کی برائیوں کا ذمہ دار اور پاکستان کے تنزلی کا ذمہ دار اور پاکستان کے اندر ہونے والے تمام کرائم اور اورجرائم ہر منفی سرگرمی جو معاشرے اور سسٹم کے خلاف ہو اس کا قصور وار صرف اور صرف مولوی کو قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن آج تک کسی نے بھی یہ تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ہمارے ریاست نے آج تک مدرسہ دینیہ کو کیا دیا ہے
جس کے بدلے میں فون سے ڈاکٹر انجینئر اور اس جیسے تمام ماہرین کا مطالبہ کرتی ہے
جبکہ مدارس دینیہ پاکستان کی وہ پرائیویٹ این جی اوز ہیں جس کے تحت لاکھوں غریب بچے جو شاید فیس نہ ہونے کی وجہ سے اور وسائل کی قلت کی وجہ سے تعلیم سے ہی دور ہوجاتے اور معاشرے پر بوجھ بنتے مدارس دینی ان کی ذمہ داری اٹھائی۔
اور ان بچوں کو اسلامی ورثے کا محافظ بنایا اور انہیں
قرآن، سنت، حدیث، فقہ اسلامک لاء علم منطق ،علم فلسفہ، علم صرف، علم نحو، اصول تفسیر، اصول حدیث، علم تفسیر ،علم حدیث، حدیث، علم بلاغت، جیسے اسلامی علوم سے فیضیاب کیا یا حاصل کرتے ہیں اور اسلامی اقدار کے ملک کے اندر قانونی حدود میں رہتے ہوئے ضامن ہیں

بغیر کسی فیس کے تین وقت کا کھانا دیا مفت میں ہاسٹل مہیا کئے
اور آپ کے معاشرے کی اسلامی ضرورت کو پورا کرنے میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔

کیا آپ پاکستان کی کوئی بھی ایسی یونیورسٹی دکھا سکتے ہیں کہ جس کے اندر یہ تمام علوم باقاعدہ طور پر پڑھائے جاتے ہو یا سمجھائے جاتے ہوں

کیا یہ اسلامی علوم نہیں ہیں ؟
کیا یہ اسلامی معاشرے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ؟

کیا قرآن اور سنت کا علم حدیث اور فقہ کا علم منطق اور فلسفے کا علم کیا یہ ہماری اسلامی ضرورت نہیں ہے ؟

اور یہ بات مسلم ہے کہ یونیورسٹیز کے اندر صرف اور صرف ان میں سے بھی چند ایک علوم کا تعارف پیش کیا جاتا ہے اور کسی بھی پاکستان کی یونیورسٹی میں یہ تمام علوم باقاعدہ طور پر نہیں پڑھائے جاتے
تو کیا معاشرے کو ان اسلامی علوم کی ضرورت نہیں ہے جب گورنمنٹ سطح پر یہ انتظامات نہیں ہے کہ اسلامی تعلیم کو عام کیا جائے اور لوگوں کو قرآن و سنت سے جوڑا جائے اب اگر مدارس اسلامیہ اسلامی معاشرے کی یہ ضرورت پورا کر رہے ہیں تو ان پر تنقید کس لیے ؟
کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ تمام اسلامی علوم اور اسلام کے متعلقہ میں سے کوئی چیز بھی پاکستان کے اندر نہ رہے ؟

اور ان میں سے تقریبا 40 فیصد وہ طلبہ اور طالبات ہیں جو کہ ساتھ ہی سکول کالج یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں جن میں مدرسہ انکی مکمل مدد اور تعاون کرتا ہے

لیکن سوائے چند متشدد اور متعصب مولویوں کے علاوہ پاکستان کے تمام ذی شعور علمائے کرام اس بات کے حق میں ہیں کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا ہونا بھی ضروری ہے اور وہ اپنے بچوں کو اسی تعلیم حاصل کرنے سے قطعا نہیں روکتے

اس کی کی مثالیں موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف تین مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں

پہلی مثال
جامعۃ الرشید کراچی کراچی مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمتہ اللہ علیہ کا ادارہ ہے جو کہ پاکستان کے اندر دینی تعلیم اور عصری تعلیم کا کا ماڈرن جامعہ ہے اور جامعۃ الرشید کی علوم فلکیات کے اندر تحقیق کو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ سمی تو وہ وہ ممالک جو خلائی تحقیق اور علم فلکیات میں تحقیق کر رہے ہیں ان کی تحقیق کو تسلیم کیا ہے۔

دوسری مثال

بیت السلام ٹرسٹ کی ہے ہے کہ جو اسلامک ماڈرن ایجوکیشن قہوہ بہترین ادارہ ہے ہے کہ جن کے بچوں کی انگلش کے اندر مہارت اس درجہ کی ہے ہے کہ پاکستان میں ہونے والے نوجوانوں کے انگریزی مقابلے میں ان کے ایک طالب علم نے ملک بھر کے تمام پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکولوں میں سے پہلی پوزیشن حاصل کی
جبکہ اسی بیت السلام ٹرسٹ کے ایک طالب علم نے نے نے ایک روبوٹ تیار کیا یا کہ جس روبوٹ کو ٹیکسلا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے اندر پیش کیا گیا تو اس بچے کی مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے روبوٹ بہترین روبوٹ قرار دیا گیا۔

تیسری مثال
وفاق الجامعات العربیہ پاکستان منڈی بہاولدین کا جدید نصاب تعلیم ہے جس نصاب تعلیم کے مین contents میں چار چیزیں شامل ہیں
ماڈرن اسلامک ایجوکیشن
ماڈرن اسکول ایجوکیشن
موڈرن ٹیکنیکل ایجوکیشن
اور ماڈرن لینگوینجز ایجوکیشن
اور اس نصاب تعلیم کو کو انٹرنیشنل لیول پر اتنی پذیرائی حاصل ہوئی کہ اس نصاب تعلیم کی پریزنٹیشن انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملیشیا میں دی گئی جس کو موجود تمام انٹرنیشنل سکالرز نے انتہا درجے کا پسند کی
اور وہاں قاہرہ یونیورسٹی کے پروفیسر نے یہ جملہ کہا
جو کہ اس نصاب تعلیم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

What a beautiful curriculum of education
this is too modern curriculum for religious institutions۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس نصاب تعلیم کو تیار کرنے والے بھی مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل ہیں۔

تو یہ کہنا کہ مدارس دینیہ کے اندر کوئی جدید جدید تعلیم کے اقدامات نہیں ہورہے یہ سوائے کم علمی کے اور کچھ بھی نہیں۔
لیکن اس کے باوجودحالیہ دنوں میں کرونا وائرس کی وبا نے عالم انسانیت کو لپیٹ میں لے لیا تو پاکستان کے اندر ایک مخصوص طبقے نے سوشل میڈیا پر اور اخبارات پر پھر وہی طوفان بدتمیزی برپا کردیا کہ مولوی کدھر گئے مولویوں نے کیس مولوی یہ کریں مولوی وہ کریں۔
جیسا کہ ہر طبقہ کے اندر کچھ متشدد افراد ہوا کرتے ہیں ایسے ہی دینی طبقہ کے اندر کچھ متشدد افراد موجود رہے جنہوں نے جدید علوم اور جدید ایجادات کا کا انکار کیا
اور اس کو اور مفہوم میں لیا

جبکہ اکثریت علماء کرام کی رائے یہی تھی کہ اسلام جیسا ماڈرن مذہب پوری دنیا میں نہیں ہے مسئلہ صرف اور صرف اس کی پریزنٹیشن کا رہا ہے
اگر اسلام ماڈرن مذہب نہ ہوتا تو ڈاکٹر ذاکر نائیک ماڈرن ممالک میں کھڑے ہوکر یہودی عیسائی ہندو اور بدھ مت سکالرز کے سامنے اسلام کی حقانیت کو کبھی واضح نہ کر پاتے۔

میری ان تمام پڑھے لکھے ان پڑھ دانشوروں سے اور فیسبکی دانشورانِ سے یہ گزارش ہے کہ آپ ذرا پاکستان کے اعدادوشمار چیک کریں اور ان میں سے سب سے پہلے بحیثیت ریاست آپ نے مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل علماء کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیاہے۔

کیا آج بھی ملک کے اندر مدارس اسلامیہ کے فضلاء کو ایک تیسری مخلوق نہیں سمجھا جاتا کیا آج بھی ان کو شہادۃالعالمیہ اور مساوی سرٹیفکیٹ جو کہ ایم اے عربی ایم اے اسلامیات کے برابر ہوتا ہے اور ہائرایجو کیشن کمیشن اسلام آباد ا جاری کرتا ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی ان کو ملازمت اور جدید تعلیم حاصل کرنے کے لیے گوناگوں رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہے۔

جبکہ درحقیقت آپ کو یہ مطالبہ کرنا چاہیے ان سائنسی اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیز سے جن یونیورسٹیوں کا سالانہ بجٹ اربوں اور کھربوں میں ہے اور پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ان تعلیمی اداروں پر خرچ ہوتا ہے
لیکن اس کے باوجود ان ستر سالوں میں آج تک ہم ہماری یہ سائنسی میڈیکل اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیاں ایک نامور سائنسدان نامور ایجاد کہ جس کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا پیش نہیں کر سکی۔

کیا اس کی بھی وجہ اور اس کی بنیاد مولوی ہے جب کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ 97% وہ لوگ ہیں 97% وہ بچے ہیں کہ جو کہ بالکل مدرسہ کسی نہ کسی لحاظ سے مولوی سے رابطہ اور نہ ہی مولوی کو معاشرے کا اچھا شہری سمجھتے ہیں۔

یہ وقت اس بات کا نہیں ہے کہ ہم اس بات پر بحث کریں کہ مولوی نے کیا دیا ہے اور اسکول والوں نے کیا دیا ہے یہ مقام ہے اپنے تنزلی کی بنیادی وجوہات کو متعین کرنے کا ہے
کہ
what went wrong with us and how to identify it

کیا آخر کیا وجہ ہے کہ ایسا ملک ہے جس ملک کے اندر وسائل کی بھرمار ہے جس ملک کے اندر چار موسم ہے

جس ملک کے اندر پہاڑوں کا ایک طویل ترین سلسلہ ہے
جس ملک کے اندر سمندر جیسی نعمت ہے
جس ملک کے اندر ریت جیسی نعمت کے صحرا موجود ہیں

جس ملک کے آبی وسائل اور جس ملک کے زیر زمین وسائل اتنے ہیں کہ اگر صرف ان کو ہی نکالا جائے تو ہمارے ملک کا قرضہ ایک ہی سال میں باآسانی ادا ہوسکتا ہے اور ہم دنیا کی ایک عظیم اور سپرپاور طاقت بن سکتے ہیں

لیکن اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ آج تک ہمارا ملک ترقی نہیں کر پا رہا کیا آپ اس کی وجہ صرف اور صرف مولوی کو قرار دیں گے اور اگر آپ صرف اور صرف اس کی وجہ مولوی کو قرار دیں گے تو آپ کو ہم سوائے سلام مفارقت کے اور کوئی بھی جواب دینے سے معذور ہیں۔

تحریر
حافظ خبیب الرحمان اعوان۔

05/12/2023

اہم اطلاع
برائے قدیم فاضلات چار سالہ شہادۃ العالمیہ کورس

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ نے صرف امسال قدیم فاضلات کے نئے داخلہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
لہذا ایسی تمام طالبات جنہوں نے وفاق المدارس سے چار سالہ شہادۃ العالمیہ کورس کیا ہے
اور وہ مزید تعلیم اور روزگار کے لیے پریشان ہیں کہ ان کے پاس معادلہ سرٹیفکیٹ نہیں کیونکہ چار سالہ کورس پر ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکویلنس سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کرتا

ان کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ اپنی اسناد کو ایم اے عربی واسلامیات کے برابر کروانے کے لیے قدیم فاضلات کا امتحان دے کر اپنی اسناد میں دو دو سال کا وقفہ کروا لیں اس کے بعد یہ امتحان نہیں ہوگا

Want your school to be the top-listed School/college in Mandi Bahauddin?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Canal Colony Head Faqirian Tehsil Malakwal District Mandi Bahauddin
Mandi Bahauddin

Opening Hours

Monday 10:00 - 13:00
Tuesday 10:00 - 13:00
Wednesday 10:00 - 13:00
Thursday 10:00 - 13:00