06/11/2024
نظم: -----استاد کا پیغام ، حکمراں کے نام-----
شاعر: -----رضوان خالق ندیم-----
==============================
یہ جو استاد کو تو نے بے توقیر کیا ہے
سر علم کا جھکایا، سینہ ہنر کا چیر دیا ہے
جلد ڈھل جائے گا تیرے مقدر کا ستارہ بھی
قلم تا ابد باقی رہے گا، تیری شمشیر کیا ہے؟
ستائے تو "اقرا" کا حکم دینے والے کے بندوں کو
خاک میں مل جائے گی، تیری تدبیر ہے جو
خدا خود وارث ہے علم کے پرچاروں کا
تیرے گلے کا پھندہ ہے ، میری زنجیر ہے جو
پروان جہاں چڑھتا جوانوں کا جنوں ہے
سکندر و دارا بھی ہوا جہاں سر نگوں ہے
انہی علم کے جزیروں کو فتح کرنے کی ٹھانی تو نے
شاید اسی وجہ سے تو بھی ہوگیا بے سکوں ہے
یہ جو قرض لینے کے لیے سکولوں کو بیچ رہا ہے
دراصل عیاشی کے ذرائع کو تو سینچ رہا ہے
سادگی خود تو اپنا ، ہم تو بہت سادہ ہیں
نفرتوں کا رخ کیوں تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے
شاید کہ علم کے زیور سے تو آراستہ نہیں
اسی لیے درسگاہوں سے, تجھے کچھ واسطہ نہیں
چمن بیچ ڈالے تو نے چند سکوں کے عوض
قوم کو منزل پہ پہنچانے کا ندیم یہ راستہ نہیں