06/11/2024
نظم: -----استاد کا پیغام ، حکمراں کے نام-----
شاعر: -----رضوان خالق ندیم-----
==============================
یہ جو استاد کو تو نے بے توقیر کیا ہے
سر علم کا جھکایا، سینہ ہنر کا چیر دیا ہے
جلد ڈھل جائے گا تیرے مقدر کا ستارہ بھی
قلم تا ابد باقی رہے گا، تیری شمشیر کیا ہے؟
ستائے تو "اقرا" کا حکم دینے والے کے بندوں کو
خاک میں مل جائے گی، تیری تدبیر ہے جو
خدا خود وارث ہے علم کے پرچاروں کا
تیرے گلے کا پھندہ ہے ، میری زنجیر ہے جو
پروان جہاں چڑھتا جوانوں کا جنوں ہے
سکندر و دارا بھی ہوا جہاں سر نگوں ہے
انہی علم کے جزیروں کو فتح کرنے کی ٹھانی تو نے
شاید اسی وجہ سے تو بھی ہوگیا بے سکوں ہے
یہ جو قرض لینے کے لیے سکولوں کو بیچ رہا ہے
دراصل عیاشی کے ذرائع کو تو سینچ رہا ہے
سادگی خود تو اپنا ، ہم تو بہت سادہ ہیں
نفرتوں کا رخ کیوں تو اپنی طرف کھینچ رہا ہے
شاید کہ علم کے زیور سے تو آراستہ نہیں
اسی لیے درسگاہوں سے, تجھے کچھ واسطہ نہیں
چمن بیچ ڈالے تو نے چند سکوں کے عوض
قوم کو منزل پہ پہنچانے کا ندیم یہ راستہ نہیں
02/11/2024
*مولانا روم سے 5 سوال پوچھے گئے، مولانا روم کے جواب غور طلب ہیں۔*
سوال ۔ 1 ۔ خوف کس شے کا نام ہے ؟
جواب ۔ غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے ۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مُہِم جُوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے
سوال ۔ 2 ۔ حَسَد کِسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ دوسروں میں خیر و خُوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حَسَد ہے ۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
سوال ۔ 3 ۔ غُصہ کس بلا کا نام ہے ؟
جواب ۔ جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے ۔ اسے تسلیم نہ کرنے کا نام غُصہ ہے ۔ اگر کوئی تسلیم کر لے کہ یہ امر اُس کے قابو سے باہر ہے تو غصہ کی جگہ عَفو ۔ درگذر اور تحَمّل لے لیتے ہیں
سوال ۔ 4۔ نفرت کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ کسی شخص کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے ۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اُسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے.
سوال ۔ 5 ۔ زہر کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ” زہر“ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو ۔ انانیت ہو ۔ دولت ہو ۔ بھوک ہو ۔ لالچ ہو ۔ سُستی یا کاہلی ہو ۔ عزم و ہِمت ہو ۔ نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.
30/10/2024
بے قدری کرنے والوں کو اپنا سایہ تک میسر نہ ہونے
دے پھر چاہے وہ روئیں چیخیں، چلائیں یا مر جائے..!!🖤
30/04/2024
*ہمارا ایجوکیشن سسٹم گدھے پیدا کر رہا ہے*
*سکول/کالج میں آخری دن شرٹس اور کپڑوں پر بکواسات لکھنے ، دستخط کرنے اور بہترین ڈریس کو تباہ کرکے واپسی پر اپنی کاپیاں پھاڑ کر سڑکوں کو سفید کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ*
*ان کے والدین نے ان کی پیدائش کے علاوہ کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کی کوشش نہیں کی ہے*
*بچے پیدا کرنا کمال ہوتا تو کتے کے سال میں 6 سے 10 بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن*
*احساس ذمہ داری نہ ہونے اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے کوئی ٹرک کے نیچے آ کر مر جاتا ہے ، کوئی نالی میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کسی کو اکیلا پا کر کوئی بچہ پتھر مار کر عمر بھر کیلئے معذور کر دیتا ہے*
*ہم اشرف المخلوقات ہیں یہ شرف ہمیں تربیت دینے ، تہذیب یافتہ ہونے اور تہذیب کو اپنی نسل میں منتقل کرنے کی وجہ سے ملا ہے*
*یہ بچے ہم میں سے ہی کسی کی اولاد ہیں لیکن افسوس کہ ان کے والدین نے اشرف المخلوقات سمجھنے کی بجائے کتا بن کر احساس ذمہ داری اور تربیت دینے سے خود کو مبرا سمجھا*
*یہ کپڑے کسی غریب یتیم ، مفلس اور لاچار کو دے کر اسکی پریشانی میں کمی اور خود کیلئے ثواب کمانے کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا تھا*
*نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے شہر میں یہ فعل بد شروع ہو چکا ہے*
*والدین یاد رکھیں کہ سڑک پر یونیفارم پر گند بنے ہونے کی اس حالت میں چلتے ہوئے بچے کو دیکھ کر معاشرہ*
*پہلی گالی ماں کو اور دوسری باپ کو دیتا ہے*
*فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت کرنی ہے یا سڑک پر خود کیلئے گالیوں کے گلدستے وصول کرنے ہیں*
10/01/2024
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں،
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
بس’’ اشک‘‘ کہوں تو اِک آنسو،
ترے گورے گال کو دھو جائے
مَیں’’ آ‘‘ لکھوں، تُو آ جائے
میں ’’بیٹھ‘‘ لکھوں، تُو آ بیٹھے
مرے شانے پر سر رکھے تو
مَیں’’نِیند‘‘ کہوں، تُو سو جائے
میں کاغذ پر’’تِرے ہونٹ‘‘ لکھوں،
تِرے ہونٹوں پر مُسکان آئے
میں’’ دِل‘‘ لکھوں، تُو دِل تھامے
میں’’ گُم‘‘ لکھوں، وہ کھو جائے
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل سے
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ رکھوں
کُچھ’’ اُلٹا سِیدھا‘‘فرض کروں،
کُچھ’’ سِیدھا اُلٹا ‘‘ہو جائے
میں’’ آہ ‘‘لِکھوں، تُو "ہائے" کرے
’’بے چین‘‘ لکھوں، بے چین ہو تُو
پھر میں بے چین کا ’’ب ‘‘کاٹوں
تُجھے چین زرا سا ہو جائے
ابھی’’ ع‘‘ لکھوں، تُو سوچے مجھے
پھر’’ش‘‘ لکھوں، تِری نیند اُڑے
جب’’ ق‘‘ لکھوں، تُجھے کُچھ کُچھ ہو
مَیں’’ عِشق ‘‘لِکھوں، تُجھے ہو جائے
"Intakhaab"
05/01/2024
*زیر نظر تصویر میں ایک پنسل جاذبیت کے لحاظ سے باقی سب پر فوقیت رکھنے والی ہے۔ بہترین تراشی ہوئی، تیز اور نوکیلی، دوسروں سے لمبی اور جاذبیت میں کمال۔*
*مگر سچ یہ ہے کہ کہ اس نے کوئی کام نہیں کیا ہوا۔ نہ کوئی بات کی ہے اور نہ ہی کوئی ایک حرف لکھا ہے۔ بالکل ایسے ہی کچھ لوگ ہوتے ہیں، اپنی وضع قطع، ظاہری رکھ رکھاؤ میں شاندار، سب سے نمایاں، سب پر حاوی۔ خیال رکھیے گا کہیں ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈال دے*
نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے
31/12/2023
خوبصورت بچپن 😀
سویرے نہار منہ\ چھترول
مسجد \ چھترول
ناشتے کے وقت بہن بھائیوں کے درمیان اختلافات \ چھترول😒
سکول کی تیاری \ چھترول
سکول حاضری ٹائم / چھترول
انگلش ریاضی 'اردو سائنس نہیں یاد/ چھترول
سکول سے واپسی یونیفارم گندا / چھترول
دوپہر کا کھانا / چھترول
شام کی چائے / چھترول
ٹیوشن / چھترول😒
رات کا کھانا / چھترول
بلاوجہ ہنسنا / چھترول
زیادہ رونا / چھترول
دیر سے سونا / چھترول
بچپن سے ہی کمانڈو ٹریننگ ملی 😂😂😜
آجکل کے بچے کو سبزی پسند نہ آئے تو ماں کتنے آپشن دیتی ہے میگی کھا لو پاستہ کھا لو بریڈ جیم لگا دیتی ہوں پیزہ بنا دیتی ہوں۔😟
ہماری امی کے پاس دو ہی آپشن ہوتے تھے۔😒
سبزی کھانی ہے یا چھتر ؟؟؟😡
اور ہم دونوں کھا لیتے تھے۔😓
پہلے چھتر پھر سبزی😂😂🤣🤣
Memories 😥😭😢
05/11/2023
فرمانِ مُصطفٰی صلی الله علیه وآله وسلم
15/10/2023
💥 *جاپان میں استاد کی عزت*💥
ابھی اکتوبر 5 کو ہم نے اساتذہ کا دن منایا لیکن جاپان میں اساتذہ کا دن منانے کا کوئی رواج نہیں. جاپان ایک انتہائی ترقی یافتہ لیکن کافی عجیب معاشرہ ہے.
*ایک بچہ چوری کرتے پکڑا جائے تو پولیس اس کے والدین کی جگہ پہلے اس کے استاد کو ڈھونڈ کر بتاتی ہے جناب آپ کا* *فلاں شاگرد چوری کرتے پکڑا* *گیا ہے*
لیکن پھر بھی وہاں استاد کا دن نہیں منایا جاتا.
*جاپانی دُنیا بھر میں اپنی تعلیم و تربیت کیلئے مشہور ہیں.* *ڈسپلن اور ادب کیلئے ان کی مثال دی جاتی ہے*
*دنیا میں ایمان داری اور صفائی* *میں جاپان پہلی* *پوزیشن* *پر ہے*
لیکن انکا تعلیمی بجٹ باوجود اتنا دولت مند ملک ہوتے بھی دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے کافی کم ہے.
*البتہ اساتذہ کی تنخواہ امریکہ سے بھی زیادہ ہیں. جاپان میں تعلیم کا سارا محور اسکا استاد* ہے
لیکن جاپانی اساتذہ کا دن پھر بھی نہیں مناتے.
کوئی پرندہ اپنے بچوں کو اڑنا نہیں سکھا سکتا. یہ ایک ایسا ہنر ہے جسے بچہ خود سیکھتا ہے قدرت نے اس کی فطرت میں اڑنے کی خواہش دے کر بیجھا ہوتا ہے. جاپانی تعلیمی سوچ بھی ایسی ہی ہے. وہ بھی کہتے ہیں کل کی اڑان سیکھنا بچے کی فطرت میں ہے ہم نے بس اس فطرت کی تربیت کرنی ہے.
اس لئے روزانہ بچے جب کلاس روم میں آتے ہیں تو استاد کے سامنے جھک جاتے ہیں.
*کسی ٹرین میں استاد کا بیج لگے نوجوان کو بوڑھے جاپانی* *سیٹ خالی کر کے زبردستی بٹھا* *دیتے ہیں* . *اسٹیشن پر ان کیلئے خصوصی الگ بینچ* *ہوتے ہیں. دکانوں میں ان کیلئے الگ خصوصی رعایت* ہوتی ہے.
بچے اور ان کے والدین دونوں استاد کے سامنے عزت سے سر جھکاتے ہیں. اور یہ سارا سال ہر دن ہوتا ہے اس لئے جاپان میں ٹیچرز ڈے نہیں منایا جاتا.
*ہم دن تو مناتے ہیں لیکن یہاں نہ تو استاد کی کوئی عزت ہے نہ ہی استاد اپنے پیشے کو عزت* *دیتے ہیں* .
*معاشرے میں تربیت کا معیار دیکھ کر پتہ چلتا ہے* *یہاں تعلیم کا قتل کئی نسل قبل ہوچکا ہے اب تو بس صرف ماتم ہی رے گیا ہے.*
تحریر: ریاض علی