Respect your parents
Ali Public Secondary School Mandi Bahauddin
The Ali Public Secondary School was founded in March 1989. It is an English Medium School.The Principal of the school is Mr. Karram Elahi Bhatti.
To encourage hard work and dedication and to reward merit meaningfully the institution offers 50% Concession in fee for students scoring 85 % or more marks and Exemption of fees for students scoring 90 % or more marks in the Class.
18/05/2020
آزادی کے بعد جب پختونخواہ کے عوام نے اپنا فیصلہ سنایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تو اقوام متحدہ میں افغانستان نے پاکستان کی مخالفت میں ووٹ دیا، یہ پاکستان سے بغض کی شروعات تھی جس کے بعد 1956 میں افغان صدر محمد داود خان نے پختونستان بنانے کا اعلان کیا ہر محاذ پر ناکامی کے بعد ستمبر 1960 میں افغان فوج کو مقامی کپڑوں میں باجوڑ بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے لوگوں کو پختونستان بنانے کیلئے اکسانا شروع کیا افغانستان کا خیال تھا کہ اگر یہ علااقہ پاکستان سے آزاد ہوگیا تو اکھیلے سروائیو نہیں کرے گا اور اففغانستان میں ضم ہوجائے گا لیکن وہاں بھی ناکامی کا سامنا پڑا جس کے بعد ان لوگوں نے پروپاکستانیوں پر حملے شروع کیئے افغانستان نے اخبارات میں ان حملوں کو پاک فوج کے خلاف پختونوں کے بغاوت کا نام دیا لیکن باجوڑ کے نوابزادہ ایوب خان اور نواب عبدلصوبان خان نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا یہ ناکامی افغانستان کو ہضم نہ ہوئی اور 1961 میں افغانستان نے 85 ہزار فوج پاک افغان سرحد کونڑ کے مقام پر لے آیا__ جب دونوں اطراف سے جانی نقصان اٹھانہ پڑا تو خار کے نوابوں نے پاک فوج سے مدد طلب کی جس بعد ہنگامی طور پر پاک فوج نے پختونوں پر مشتمل ایک لائٹ انفنٹری یونٹ قائم کی جس کو باجوڑ سکاوٹ کا نام دیا گیا اس فورس نے پاک فضائیہ کے ساتھ مل کو آپریشن شروع کیا اور پاک افغان سرحد پر مورچیں قائم کیئے_ مارچ میں پاک فضایئہ نے کونڑ میں افغان کمانڈر بادشاہ گل کے ہیڈکوارٹر پر پہلی بمباری کی__
چونکہ افغانستان اس وقت ایک مستحکم ملک تھا اور پاکستان ایک نیا ملک بنا تھا اور تقسیم کے وقت ہمارے حصے میں صرف ایک جنگی جہاز آیا تھا وہ بھی خراب تھا لیکن پاکستان نے توڑے عرصے میں بہت ترقی کی تھی لوگوں کا مستقبل روشن ہوتا ہے جبکہ ہمارا ماضی روشن تھا خیر دفعہ کرو یہ باتیں کیونکہ افغانستان اور ہندوستان جیسا ہمسایہ ہو تو امن کی امید نہیں رکھنا چاہیئے_
افغان فوج نے سرحد پر باجوڑ سکاوٹ پر حملے شروع کیئے، پراکسی جنگ میں ناکامی کے بعد 20 مئی 1961 کے درمیانی شب میں افغان فوج نے باقعاعدہ پیش قدمی کی ان کا ٹارگٹ باجوڑ کو قبضہ کرنا تھا اور پھر ملکنڈ لیکن باجوڑ سکاوٹ اور باجوڑ کے مقامی لوگوں نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا دونوں اطراف کافی جانی نقصان ہوا پاک فوج نے کافی افغان فوجیوں کو گرفتار کرکے 27 فروری کی طرح انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے ان کو پیش کیا، 21 مئی کو جوابی کاروائی میں پاکستان ائرفورس نے افغانستان میں گھس کر ان کے وہ تمام ملٹری پوزیشنز تباہ کیئے جہاں سے باجوڑ پر حملہ کیا گیا تھا اس زبردست شکست کے بعد افغانستان نے پاکستان پر دوبارہ کبھی بھی حملے کی جرّت نہیں کی__
پاکستان نے اپنی دفاع میں پھر افغانستان کی سرزمین پر شطرنج کا جو کھیل کھیلا وہ ساری دنیا نے دیکھ لیا__
لیکن بدقسمتی سے پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے خلاف جو جنگ لڑی وہ ہمیں بہت مہنگا پڑا اس کا فائدہ بھارت نے اٹھا لیا، ایک فائدہ پاکستان کو دہشتگردی میں مبتلا کیا اجیت ڈول کی ویڈیوں ابھی بھی یوٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ کھل کر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کو سپورٹ کرنے کی باتیں کرتا ہے، یہی چیز بھارت کو افغانستان کے اتنا قریب لے آیا لیکن اب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو فلمی دنیا سے نکل کر افغانستان سے بوریاں بستر گول کرنا پڑیگا_ دوسرا فائدہ انہوں نے PTM کا اٹھالیا چونکہ جنگ میں جانی اور مالی دونوں نقصان ہوتا ہے اس لئے اس کو جواز بناکر بھارت نے افغانستان کے ساتھ ملکر پاکستان میں موجود قوم پرستوں لبرلز اور سرخوں کی مدد سے PTM کو خوب سپورٹ کیا خاص کر سوشل میڈیا پر لیکن یہاں بھی انشاءاللّٰہ ان کو منہ کی کھانی پڑے گی__
Coppied
15/05/2020
کمزور شخصیت کے لوگ معاف کرنے میں تاخیر سے کام لیتے ہیں جبکہ مضبوط کردار کے لوگ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتے..
نیلسن مینڈیلہ دو دہائیوں سے زیادہ وقت جیل میں گزارنے کے بعد بالآخر ساوتھ افریقہ کے صدر بن گئے تو اپنی سیکورٹی ٹیم کے ساتھ شہر گھومنے گئے اور وہیں راستے میں ایک ہوٹل میں کھانا کھانے بیٹھ گئے۔
وہاں اُنہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنا کھانا آنے کا انتظار کر رہا تھا
نیلسن مینڈیلہ نے اپنے سیکورٹی افسر سے کہا اُس شخص سے کہیں اپنا کھانا لے کر ہماری میز پر آ جائے اور یہیں بیٹھ کر ہمارے ساتھ کھائے۔
وہ شخص آگیا، کھانا کھانے کے دوران اُسکے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے، کھانا ختم کر کے وہ چلا گیا تو نیلسن مینڈیلہ کا سیکورٹی افسر بولا یہ شخص بیمار لگتا تھا کیونکہ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے حالت بھی ٹھیک نہ تھی۔
نیلسن مینڈیلہ نے جواب دیا نہیں یہ بیمار نہیں ڈرا ہوا تھا کہ شاید میں اسکے ساتھ وہی سلوک کرونگا جو یہ میرے ساتھ جیل میں کرنے کا عادی تھا۔
نیلسن مینڈیلہ نے بتایا کہ میں جس جیل میں قید تھا یہ وہاں گارڈ تھا، یہ مجھ پر شدید تشدد کیا کرتا، جب میں نڈھال ہو کر پانی مانگتا تو یہ میرے سر پر پیشاب کیا کرتا تھا
آج اسکے ہاتھ اس لئے کانپ رہے تھے کہ میں صدر ہوں اسے لگا میں انتقام لونگا لیکن انتقام ایک ایسا جزبہ ہے جو قوم کی تعمیر میں مدد دینے کی بجائے اسے بربادی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ صبر اور صلہ رحمی کا جذبہ قوم کی تعمیر میں مدد دیتا ہے ۔۔
نیلسن مینڈیلہ نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ایک تاریخی سچ ان الفاظ میں بیان کیا کہ " کمزور شخصیت کے لوگ معاف کرنے میں تاخیر سے کام لیتے ہیں جبکہ مضبوط کردار کے لوگ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتے ۔۔۔
15/05/2020
ہماری قوم کی مسیحا اور #ہیرو میڈم رتھ فاؤ
ان تصاویر میں سے پہلی بلیک اینڈ وائٹ تصویر کراچی کی ایک کوڑھ بستی کی ہے۔۔ اور یہ خاتون ڈاکٹر روتھ فاؤ ہیں
1950-60 کی دہائ میں پاکستان خاص کر کراچی میں جذام یا کوڑھ کا مرض پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ کوڑھ ایک اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے۔کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا۔ مذہبی طبقے نے بھی اسے اللہ کا عذاب قرار دے دیا۔۔
چنانچہ جس انسان کو کوڑھ کا مرض لاحق ہو جاتا ، اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا ۔۔اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
پاکستان میں 1960ء تک ہزاروں لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہوچکے تھے۔یہ مرض تیزی سے پھیل رہا تھا۔ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے۔ملک کے تقریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے بن چکے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا ،چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ سسک سسک کر آہستہ آہستہ جان دے دے یا پھر خود کشی کر لے
ان حالات میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کو ایک ٹی وی پروگرام کے ذریعے اس بھیانک بیماری کا پتہ چلا تو انہوں نے انتہائ عجیب اور مشکل فیصلہ کر ڈالا
جی ہاں تیس سال کی انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور خاتون نے یورپ کی پرسکون اور پر آسائش زندگی کو چھوڑ کر پاکستان کا رخ کرلیا۔۔ زندگی کی خوبصورتیاں ، رعنائیوں او آسائشوں کو ٹھوکر مار کر ایک جدوجہد والی زندگی کا انتخاب کرنا ایک بہت بڑا فیصلہ تھا۔۔ لیکن روتھ فاؤ نے تن تنہا اس فیصلے پر عمل درآمد کیا اور پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا۔۔
اس کے بعد وہ مستقل طور پر واپس اپنے وطن نہیں گئیں‘ انہوں نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی قربان کر دی۔انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا۔کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔ یہ عظیم خاتون اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی۔جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔ان کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی۔وہ مریضوں کا علاج کرتیں اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا۔اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی ۔ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا۔یوں یہ سینٹر 1965ء تک ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘انہوں نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا،ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے،وہ واپس جرمنی گئیں اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئیں۔جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔وہ پاکستان میں جزام کے سینٹر بناتی چلی گئیں یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔ ان کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا۔ حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔انہیں ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔جرمنی کی حکومت نے بھی انہیں آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں ۔ان کا نام ڈاکٹر روتھ فاؤ ہے۔ڈاکٹر روتھ کا عین جوانی میں جرمنی سے پاکستان آ جانا اور اپنی زندگی اجنبی ملک کے ایسے مریضوں پر خرچ کر دینا جنھیں ان کے اپنے خونی رشتے دار بھی چھوڑ جاتے ہیں واقعی کمال ہے۔ڈاکٹر روتھ اس ملک کے ہر اس شہری کی محسن ہے جو کوڑھ کا مریض تھا یا جس کا کوئی عزیز رشتے دار اس موذی مرض میں مبتلا تھایا جو اس موذی مرض کا شکار ہو سکتا تھا۔ یہ حقیقت ہے یہ خاتون‘ اس کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل پاکستان نہ آتے اور اپنی زندگی اور وسائل اس ملک میں خرچ نہ کرتے تو شاید ہمارے ملک کی سڑکوں اور گلیوں میں اس وقت لاکھوں کوڑھی پھر رہے ہوتے۔اور دنیا نے ہم پر اپنے دروازے بند کر دیے ہوتے‘ ہمارے ملک میں کوئی آتا اور نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک جا سکتے۔۔۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ انکی اس عظیم قربانی اور جدوجہد کے بدلے میں اجرعظیم عطا فرمائے۔۔۔۔
کون کون سجادہ نشین اور چوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
اصطبل میں ترے اجداد ہوا کرتے تھے
تیری جاگیر سے بو آتی ہے غداری کی
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر ڈاکٹر تراب الحسن صاحب نے ایک تھیسز لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے جس کا عنوان ہے۔
"Punjab and the War of Independence 1857"
اس تھیسز میں انہوں نے جنگ آزادی کے حالات پر روشنی ڈالی ہے۔ جس کے مطابق اس جنگ میں جن خاندانوں نے جنگ آزادی کے مجاہدین کے خلاف انگریز کی مدد کی، مجاہدین کو گرفتار کروایا اور قتل کیا اور کروایا ان کو انگریز نے بڑی بڑی جاگیریں مال و دولت اور خطابات سے نوازا ان کے لیے انگریز سرکار نے وظائف جاری کیے۔
اس تھیسز کے مطابق تمام خاندان وہ ہیں جو انگریز کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے بدلے انگریز کی نوازشات سے فیضیاب ہوئے۔ یہ خاندان آج بھی جاگیردار ہیں اور آج بھی اپنے انگریز آقا کے جانے کے بعد ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔
Griffin punjab chifs Lahore ;1909
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق سید یوسف رضاگیلانی کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے ان کی خدمات کے عوض 300 روپے خلعت اور سند عطا کی تھی۔
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858
کے مطابق دربار حضرت بہاء الدین زکریا کے سجادہ نشین شاہ محمود قریشی کے اجداد نے مجاہدین آزادی کے خلاف انگریز کا ساتھ دیا۔ انہیں ایک رسالہ کے لیے 30 آدمی اور گھوڑے فراہم کیے۔ اس کے علاوہ 25 آدمی لے کر خود بھی جنگ میں شامل ہوئے۔انگریزوں کے سامان کی حفاظت پر مامور رہے۔ ان کی خدمات کے عوض انہیں تین ہزار روپے کا تحفہ دیا گیا۔ دربار کے لیے 1750 روپے کی ایک قیمتی جاگیر اور ایک باغ دیا گیا جس کی اس وقت سالانہ آمدن 150 روپے تھی۔
جو حوالہ سابق وزیراعظم گیلانی کا ہے وہی چوہدری نثار علی خان کے اجداد چوہدری شیر خان کا ہے۔ ان کی مخبری پر کئی مجاہدین کو گرفتار کرکے قتل کیا گیا۔ انعام کے طور پر چوہدری شیر خان کو ریونیو اکٹھا کرنے کا اختیار دیا گیا اور جب سب لوگوں سے اسلحہ واپس لیا گیا تو انہیں پندرہ بندوقیں رکھنے کی اجازت اور 500 روپے خلعت دی گئی۔
Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab .
کے مطابق حامد ناصر چھٹہ کے بزرگوں میں سے خدا بخش چھٹہ نے جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا۔ وہ اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھے۔ قصور کے خیر الدین خان جو خورشید قصوری کے خاندان سے تھے نے انگریزوں کے لیے 100 آدمیوں کا دستہ تیار کیا اور خود بھتیجوں کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا۔ انگریزوں نے اسے 2500 روپے سالانہ کی جاگیر اور ہزار روپے سالانہ پنشن دی۔
احمد خان کھرل کی مقبولیت بڑھی تو انگریزوں کو ڈر پیدا ہوا کہ ان کے مقامی سپاہی جلد یا بدیر احمد کھرل سے جا ملیں گے، اس لیے 10 جون 1857ء کو ملتان چھاؤنی میں پلاٹون نمبر 69 کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا، آخر جون میں بقیہ نہتے پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور تہہ تیغ کردیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کردی تقریباً بارہ سو سپاہیوں نے علم بغاوت بلند کیا۔
انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاؤنی کے درمیان پل شوالہ پر دربار بہاء الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے قریب نہتے مجاہدین کو شہید کردیا۔
یہ شاہ محمود قریشی ہمارے موجودہ وزیر مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑ دادا تھے۔ ان کا نام ان ہی کے نام پر رکھا گیا کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہوں نے دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور ان کا قتل عام کیا۔ مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگادی کچھ ڈوب کر جان بحق ہوگئے اور کچھ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ پار پہنچ جانے والوں کو سید سلطان قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیروالہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کردیا۔
جلال پور پیروالہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق علی بخاری انہی کی آل میں سے ہیں۔ مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی جسے پیر مہر چاہ آف حویلی کورنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیالم ہراج، سرگانہ اور ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کردیا۔
مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخر امام کے پڑدادے کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتلِ عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد اور ایک مربع اراضی عطا کی گئی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857ء کی جنگ آزادی کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نود جاگیر سالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے آٹھ چاہات جن کی سالانہ آمدنی ساڈھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی مزید یہ کہ 1860 ء میں وائسرائے ہند نے بیگی والا باغ عطا کیا مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے معاوضہ کے طور پر وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
یہی تو ہیں ہمارے ملک چلانے والے غدار حکمران ۔۔۔۔۔
کل کے مخبر ۔۔۔۔ اور آج کے رہبر۔
15/05/2020
۔ !!!
اور پھر ہندوستان کےآخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔
یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا۔ شاہی خاندان کے35مرد اور خواتین بھی تاج دارہند کےساتھ تھیں۔ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔
وہ بندر گاہ پہنچا۔
اس نے بادشاہ اور اسکے حواریوں کو وصول کیا۔ رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا۔
نیلسن پریشان تھا۔
بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا کہ وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا۔ وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا۔
نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا۔
نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا۔
بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا۔
بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل
"لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘
"کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"
اور
"کتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘
"دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،
اسی گیراج میں لکھی تھی۔
یہ آج7 نومبر کا خُنَک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔ بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی۔ اندر سے اردلی نے بَرمی زُبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی بَرمی میں جواب دیا۔
ظِلّ سُبحانی کا سانس اُکھڑ رہا ہے۔
اردلی نے جواب دیا۔
صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں۔ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا۔
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔
اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی۔ وہ غصے میں باہر نکلا۔
خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی۔ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کےلیے گیراج کی کھڑکی کُھلوانا چاہتی تھی۔
بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھُلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا۔
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا۔ گارڈز کو ساتھ لیا۔ گیراج میں داخل ہو گیا۔
بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بَدبُو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا۔
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔
نیلسن آگے بڑھا۔
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر۔ اُسکا ننگا سر تکیےپر تھالیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی۔آنکھوں کےڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سےباہر اُبل رہےتھے۔گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھّیاں بِھنبھِنا رہی تھیں۔ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی۔
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا۔
وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس۔
جی ہاں.......
صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔
کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا۔
زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی۔
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا۔
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا۔
لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اسکا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘ وہ دونوں آئے۔ انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا۔ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی۔
نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا۔
قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ۔
گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے جب دہلی کے لال قلعےمیں 62برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا۔
ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سَر پر سَجَا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا۔
نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘
فوجی سالار تلواریں بجانے لگے
اور
رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دِلّی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صُبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔
استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس نے جوتے اتارے۔
بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا
اور
سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی۔
حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے۔ یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز۔
کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریبُ الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے۔
یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے۔
یہ کچی زمین پر سوتی ہے۔ ننگے پاؤں پھرتی ہے۔ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے۔
مگر یہ لوگ اس کَسمَپُرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں۔
یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ لوگ‘
یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟
یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں۔ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا۔
یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے۔ اسکے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی۔
بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘
ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا
اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘
دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘
عوام کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ تھی‘
مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘
خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی۔
سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘
ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘
شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کےدانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا۔
طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔
شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی۔
عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے۔ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے۔
یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔
انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا۔ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں۔
ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا۔
لوگ کہتےتھے ہمارےلیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں۔
مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔
بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا۔ یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہوکر لڑی جانےوالی جنگوں کا نکلتا ہے۔ شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جبکہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا۔
بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا۔ گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے۔
یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے۔
" جو بادشاہ اپنی سلطنت، اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے، جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں۔"
یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیں۔
لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی۔
یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں۔
~وائے ناکامئ متائے کارواں جاتا رھا۔
کارواں کے دل سے احساس زیاں ہوتا رہا۔
مرد ھوّس کا پجاری ---- BANO QUDSIA
جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے۔ اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے
پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔
باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔
اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے
واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے
ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے
اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے
اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''
لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے
اور کیوں نا ھو؟
کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے۔
جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں
ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے
"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو
ھم نے سرِبازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"
مرد
میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا آپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاؤں گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔
میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔
( بانو قدسیہ)
10/02/2020
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Mandi Bahauddin
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 14:00 |
| Tuesday | 08:00 - 14:00 |
| Wednesday | 08:00 - 14:00 |
| Thursday | 08:00 - 14:00 |
| Friday | 08:00 - 12:30 |
| Saturday | 08:00 - 14:00 |