National College

National College

Share

National College of Professional Studies is currently building the nation through coaching in the fi

25/02/2022

Congratulations Muhammad Rizwan student of Professional Diploma in Hotel Management for Successful completion.

17/02/2022
28/01/2022

ساری لڑائیاں، سارے جھگڑے اور ساری ناراضگیاں آپ کی چلتی سانسوں تک ہیں. آج پتا چل جائے کہ آپ زندگی کی آخری سانسوں پر ہیں، آپ کو لاحق کوئی جان لیوا بیماری اپنی آخری اسٹیجز پر ہے تو آپ کے سارے ناراض رشتہ دار، دوست احباب بھاگے چلے آئیں گے۔ ساری لڑائیاں ہوا ہو جائیں گی۔ ساری ناراضگیاں بھول جائیں گی اور آپ سب سے مقدم ہو جائیں گے.

کبھی میت کے اردگرد بین کرتے اور اونچی آواز سے روتے ہوئے افراد دیکھے ہیں، ان میں اکثر وہ ہوتے جو میت کو خون کے آنسو رلاتے رہتے ہیں، لیکن مرتے ہی سارے جھگڑے ختم اور میت کے لئے آنسو جاری ہو جاتے ہیں.

حقیقی مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟ عرف عام ہے کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا احساس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا نہیں پچھتاووں کا آغاز ہوتا ہے.

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جیسے جذبات اور احساسات کسی کے مرنے کے بعد ہمارے دل میں اس کے لئے پیدا ہو جاتے ہیں وہ اس کے زندہ ہوتے ہوئے ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائیں. کسی کے بستر مرگ پر پڑے ہوئے جو معافیاں اس سے مانگی جاتی ہیں وہ اس کی زندگی میں ہی اپنی غلطیوں پر اس سے معافی مانگ لی جائے.
سوچیئے ذرا!

19/01/2022

اس تعلیمی سال کا دورانیہ 31 مئی تک ہوگا
# محکمہ تعلیم سکولز پنجاب

09/01/2022


قانون کی پاسداری میں دو محرکات کا اہم کردار ہوتا ہے، احساسِ ذمہ داری اور سزا کا خوف.

اگر احساس ذمہ داری غالب محرک ہو گا تو معاشرہ میں امن اور سکون بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ ہر شخص خود اپنا محاسب ہو گا۔ اس سے دیگر مثبت رجحانات بھی فروغ پائیں گے جیسا کہ ایمانداری، تحمل، بردباری وغیرہ۔ یوں معاشرت بھی بہتر ہو گی اور معیشت بھی۔

جبکہ جہاں سزا کا ڈر زیادہ غالب ہو گا وہاں قانون کا نفاذ جس قدر اور جتنی مدت کے لیے ہو گا حالات بظاہر ٹھیک رہیں گے۔ تاہم جب بھی ڈنڈا سر سے ہٹے گا، معاشرہ پہلے سے بھی زیادہ وحشی اور غیر مہذب ہو چکا ہو گا.

ان دونوں محرکات کے معاشرتی نفسیات پر بھی دلچسپ نتائج مرتب ہوتے ہیں. احساس ذمہ داری کی صورت اپنی غلطیوں اور ان کی بروقت اور حقیقی اصلاح پر بھی نظر رہے گی. جبکہ سزا والی نفسیات میں غلطی ہمیشہ کسی اور کی ہو گی ... کیونکہ سچ اور اصلاح کی نسبت سزا سے بچنا زیادہ بڑی ترجیح ہو گی۔
بشکریہAsim Allahbkhsh

07/01/2022

امریکہ کا مشہور ترین صدر ابراہم لنکن جب منتخب ہو کر پہلے دن صدارتی آفس آیا تو ایک بزرگ قانون دان جس سے یہ کامیابی ہضم نہیں ہو رہی تھی. اس نے کہا لنکن تمہیں شائد یاد نہ ہو تمہارا والد میرے جوتے بناتا تھا. لنکن نے مسکرا کر کہا مجھے کیسے یاد نہ ہوگا. میرا والد بہترین جوتے بناتا تھا. کیونکہ اُسے اپنے کام سے محبت تھی. لوگوں کو اس کے کام سے محبت تھی. میں نے بھی جوتے بنانے ان سے سیکھے. آپ کے جوتے میں اگر کوئی مسئلہ ہو تو میں درست کر سکتا ہوں. لیکن اگر یہ میرے والد کا بنایا جوتا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں اس میں مسئلہ ہو.

ضروری نہیں ہوتا کہ آپ میں ہی مسئلہ ہو. آپ کے آس پاس کے لوگ بھی مختلف مسائل کے شکار ہوتے ہیں. ان میں زخمی انا والے ہوں گے، زندگی سے مایوس لوگ ہوں گے, عزت کے مفہومِ سے نہ آشنا لوگ ہوں گے. آپ نے بس ان کے مسائل کا خریدار نہیں بننا ہوتا. جب آپ یہ سیکھ لیتے ہیں تو آپ کو اپنے مسائل کم لگتے ہیں اور آپ یکسوئی سے اپنے معاملات درست کرتے چلے جاتے ہیں.

06/01/2022

*کُچھ جَدید اِصطِلاحات کے اردو نام*

●ڈرائیور =گاڑی بان
●اَیش ٹرے=راکھ دان
●ٹیُوب لائٹ=سَلاخِ تاباں/روشن نلکی
●بلب = قندیل
●پرُوف ریڈَر=عَیب جُو
●ٹَول پلازہ=راہداری عمارت
●چیک پوسٹ=مقامِ تَفتیش
●موبائل فون=جوال/محمُول
●چارجر =بَرقِیہ
●کیلکولیٹَر=شُمارِکنندہ
●کمپیوٹر=حاسبہ
●کی بورڈ =تختہ کلیدی
●ایپلیکیشَن=نِظامِیہ
●فونٹ Font=رَسمُ الخَط
●اَپ-ڈیٹUpdate= تَجدید
●ڈاؤنلوڈ =اُتارنا
●اپ-لوڈ = چڑھانا
●فیس بُک=رخِ کِتابِ
●یُوٹوپِ = خَیالِستان
●شئیرshare=اِشتَراک
●ایس-ایم-ایس=پَیَامچہ
●پوسٹ=مُراسلہ
●ڈیلِیٹ =حَذَف کَرنا
●کاپی = نَقل
●پیسٹ =چَسپاں کَرنا
●وال =بام
●ہارڈ کاپی=وَرقی نَقل/نُسخہ
●سافٹ کاپی =بَرقی نَقل/نُسخہ
●فوٹو کاپی= عَکسی نَقل
●اِن باکس/مَیسِنجَر=نامہ دان
●سکرین شاٹ =عَکسِیہ
●آن لائن= بِالّرابطہ
●آف لائن =بلارابطہ
●پینٹِنگ=نَقشی تَصویر
●فوٹو =عَکسی تَصویر
●پِنسَل سکیچ =سکہئی خاکہ
●سپرے=چھڑکاؤ
●ٹَیگ کَرنا= نَتھی کَرنا
●پَبلِک پلیس=جائے عامہ
●ریفریجریٹر =خانہ یخ بستہ
●ڈیپ فریزر=گہرامنجمدخانہ
●گراؤنڈ فلور=مَنزِلِ فَرشی
●ٹَیلی ویژن =دُور دَرشَن
●سپیڈ بریکر =رفتارکُش
●پرِنٹِنگ پریس= چَھاپہ خانہ
●سِلوَر جُوبلی=جَشنِ چَندَن /نَقرہ
●گولڈَن جُوبلی=جَشنِ سونا / کُندَن
●پلاٹینَم جُوبلی=جَشنِ موتی
●ڈائمَنڈ جُوبلی =جَشنِ ہیرا
فولڈَر =خانہ
●ایبریوئیشَنabbreviation=مُخَفَّفِ لَفظی
●لائٹَر lighter= آتِش اَنگیز
●فِنگَر پرِنٹ=نشانات انگلی
●پلَیٹ فارم = قابُوس
●ٹائم لائن =روزنامچہ
●پاس وَرڈ=کَلیدی بول
●ای میل=بَرقی ڈاک
●اِن باکس=نامہ دان/تَخلِیہ
●لاگ اِن=دَخُول/ داخلہ
●لاگ آؤُٹ=خَرُوج/اخراج
مِلَّینِئَم Millennium=اَلفِیہ
گراؤنڈ فلور=مَنزِلِ فَرشی
ٹاپ فلور/پینٹ ہاؤس=مَنزِلِ عَرشی
فائل =مِثل
برین ڈرین= ہِجرَتِ اَذہان

06/01/2022

- ایک عربی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے اس نے کہا پھر کہاں جائیں گے ؟

کہا گیا کہ اللہ کے پاس !!

عربی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ھے اللہ کے یہاں سے پائی ھے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا

کس قدر بہترین حسنِ ظن ھے اپنے اللہ سے -

- ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟

بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ھے -

کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے -

ابن عباسؓ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟

آپ نے فرمایا کہ " اللہ "

رب کعبہ کی قسم پھر تو ھم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا -

کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے اپنے رب سے -

ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی -

نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟

ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی -

اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ھے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا ؟

کیا ھی بہترین گمان ھے اپنے رب کے بارے میں -

اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ھے ،

{ *وخشعت الأصوات للرّحمٰن* - سورة طه آية 108}
" اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمان کے سامنے"

اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ " جبار " کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا آسرا دیا ھے
*یا اللہ ہمیں دنیا، قبر، حشر اور آخرت میں ہمیشہ اپنے فضل و کرم کے سائے میں رکھنا* ۔ آمین یا رَبَّ آلعَالَمِین

05/01/2022

آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے!😣

غالباً1995 کی بات ہے. میرے ایک دوست نے مجھے ایک عظیم خوشخبری سنائی کہ 3.5 ایم بی کی ہارڈ ڈسک مارکیٹ میں آگئی ہے 😲

مجھے یاد ہے ہم سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔

کیونکہ! آج 100 جی بی والی ڈسک بھی چھوٹی لگتی ہے. وہ پینٹیم فور جو سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا, آج کسی کو یاد ہی نہیں.

حالانکہ صرف چھ سات سال پہلے ہم میں سے اکثر کے پاس ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھے, آئے دن پاور فیل ہو جاتی تھی‘ سی ڈی روم خراب ہو جاتی تھی. اُن دنوں کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے ’انجینئرز‘ کہلاتے تھے‘ آج کل مکینک کہلاتے ہیں.

تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو فلاپی ڈسک کے بغیر کام نہیں چلتا تھا‘ فلاپی اپنی مرضی کی مالک ہوتی تھی‘ چل گئی تو چل گئی ورنہ میز پر کھٹکاتے رہیں کہ شائد کام بن جائے.

یہ سب کچھ ہم سب نے اپنی آنکھوں کے سامنے تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھا.

موبل آئل سے موبائل تک کے سفر میں ہم قدیم سے جدید ہوگئے.
لباس سے کھانے تک ہر چیز بدل گئی لیکن نہیں بدلا تو میتھی والے پراٹھے کاسواد نہیں بدلا.

شہروں میں زنگر برگر اور فاسٹ فوڈ کی اتنی دوکانیں کھل گئی ہیں کہ آپ اگر مکئی کی روٹی اور ساگ کھانا چاہیں تو ڈھونڈتے رہ جائیں.

گھروں میں بننے والی لسی اب ریڑھیوں پر آگئی ہے.

شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جس میں سب لوگ ایک ہی وقت میں دستر خوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کرکھانا کھاتے ہوں. فریج میں ہر چیز پڑی ہے‘ جس کا جب جی چاہتا ہے نکالتا ہے اور گرم کر کے کھا لیتا ہے. البتہ باہر جا کر کھانا ہو تو یہ روایت اب بھی برقرار ہے.

جن گھروں کے دروازے رات آٹھ بجے کے بعد بند ہو جایا کرتے تھے, وہ اب رات گیارہ بجے کے بعد کھلتے ہیں اورپوری فیملی ڈنر کھا کر رات ایک بجے واپس پہنچتی ہے.

پورے دن کے لیے واٹر کولر میں دس روپے کی برف ڈالنے کی اب ضرورت نہیں رہی. اب ہر گھر میں فریج ہے‘ فریزر ہے لیکن برف پھر بھی استعمال نہیں ہوتی کیونکہ پانی ٹھنڈا ہوتاہے.

فریج آیا تو ’چھِکو‘ بھی گیا.

اب تندور پر روٹیاں لگوانے کے لیے پیڑے گھر سے بنا کر نہیں بھیجے جاتے.

اب لنڈے کی پرانی پینٹ سے بچوں کے بستے نہیں سلتے‘ مارکیٹ میں ایک سے ایک ڈیزائن والا سکول بیگ دستیاب ہے.

بچے اب ماں باپ کو امی ابو سے زیادہ ’یار‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں.

بلب انرجی سیور میں بدل گئے اور انرجی سیور ایل ای ڈی میں.

چھت پر سونا خواب بن گیا ہے, لہذا اب گھروں میں چارپائیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں.

ڈبل بیڈ ہیں اور ان پر بچھے موٹے موٹے گدے. مسہری اور پلنگ گھر کی سیٹنگ سے میچ نہیں کرتے.

اب بچے سائیکل سیکھنے کے لیے قینچی نہیں چلاتے, کیونکہ ہر عمر کے بچے کے سائز کا سائیکل آچکا ہے.

جن سڑکوں پر تانگے دھول اڑاتے تھے وہاں اب گاڑیاں دھواں اڑاتی ہیں.

کیا زمانہ تھا جب گھروں کے دروازے سارا دن کھلے رہتے تھے, بس آگے ایک بڑی سی چادر کا پردہ لٹکا ہوا ہوتا تھا.

اب تو دن کے وقت بھی بیل ہو تو پہلے سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھنا پڑتا ہے.

شہر سے باہر کال ملانا ہوتی تھی تو لینڈ لائن فون پر پہلے کال بک کروانا پڑتی تھی اور پھر مستقل وہیں موجود رہنا پڑتا تھا. گھنٹے بعد کال ملتی تھی اور کئی دفعہ درمیان میں آپریٹر بھی مداخلت کر دیتا تھا کہ تین منٹ ہونے والے ہیں.

سعودیہ وغیرہ سے کوئی عزیز پاکستان آتا تھا, تو گفٹ کے طور پر ’گھڑیاں‘ ضرور لے کر آتا تھا.

واک مین بھی ختم ہوگئے‘ پانی کے ٹب میں موم بتی سے چلنے والی کشتی بھی نہیں رہی.

پانی کی ٹینکیوں کا رواج چلا تو گھر کا ہینڈ پمپ بھی ’بوکی‘ سمیت رخصت ہوا.

واش بیسن آیا تو’ کھُرے‘ بنانے کی بھی ضرورت نہیں رہی.

چائے پیالی سے نکل کر کپ میں قید ہوگئی.

سگریٹ آیا تو حقے کا خاتمہ کر گیا‘ اب شائد ہی کسی گھر میں کوئی حقہ تازہ ہوتا ہو.

میں نے ہمیشہ ماں جی کو پرانے کپڑوں اور ٹاکیوں کو اکھٹا کرکے تکیے میں بھرتے دیکھا.

تب ایسا ہی ہوتا تھا. اب نہیں ہوتا‘ اب مختلف میٹریلز کے بنے بنائے تکیے ملتے ہیں اور پسند بھی کیے جاتے ہیں.

پہلے مائیں خود بچوں کے کپڑے سیتی تھیں‘ بازار سے اون کے گولے منگوا کر سارا دن جرسیاں بنتی تھیں‘ اب نہیں... بالکل نہیں‘ ایک سے ایک جرسی بازار میں موجود ہے‘ سستی بھی‘ مہنگی بھی۔
پہلے کسی کو اُستاد بنایا جاتا تھا‘ اب اُستاد مانا جاتا ہے.

پہلے سب مل کر ٹی وی دیکھتے تھے‘ اب اگر گھر میں ایک ٹی وی بھی ہے تو اُس کے دیکھنے والوں کے اوقات مختلف ہیں. دن میں خواتین Repeat ٹیلی کاسٹ میں ڈرامے دیکھ لیتی ہیں‘ شام کو مرد نیوز چینل سے دل بہلا لیتے ہیں.

معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے.

چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا.

زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی.

گداگروں کو پورا محلہ جانتا تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے.

گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکئے سے خط پڑھواتے تھے. ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد* شمار ہوتا تھا ‘ خط لکھ بھی دیتا تھا‘ پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل پر یہ جا وہ جا.

امتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو ’نصر من اللہ وفتح قریب‘ پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے.

یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر ’’اوکے‘‘ نہیں ’’ٹھیک ہے‘‘ کہا کرتے تھے.

موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتے تھے اور خوشی والے گھر میں حقیقی قہقہے لگاتے تھے.

ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی.

میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں... حلوہ، زردہ چاول اور کھیر.

آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی جو میوزک نہیں بجاتی تھیں.

گلی گلی میں سائیکل کے مکینک موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے ‘ پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا.

نیاز بٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کا ہوتا تھا.

ہر دوسرے دن کسی نہ کسی گلی کے کونے سے آواز آجاتی ’’کڑیو‘ منڈیو‘ شے ونڈی دی لے جاؤ‘۔ اور آن کی آن میں بچوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا اور کئی آوازیں سنائی دیتیں ’’میرے بھائی دا حصہ وی دے دیو‘.

دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں‘ پہلے تو لوگ ’بھانے‘ سے دودھ لینے جاتے تھے.

گفتگو ہی گفتگو تھی‘ باتیں ہی باتیں تھیں‘ وقت ہی وقت تھا.
گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں‘ محلے کے بابے حقے پی رہے ہیں اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان ہورہے ہیں.

جن کے گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے.

مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا.
لیکن... پھر اچانک سب کچھ بدل گیا.

ہم قدیم سے جدید ہوگئے.

اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا.

کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا. دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو.

منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفر میں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے لیکن! پتا نہیں کیوں اس قدر سہولتوں کے باوجود
ہمیں...
گھر میں
ایک ایسا ڈبہ
ضرور رکھنا پڑتا ہے
جس میں
ڈپریشن‘ سردرد‘
بلڈ پریشر‘ نیند اور وٹامنز
کی گولیاں
ہر وقت موجود ہوں۔۔۔!!
Copied

04/01/2022

(محمد موسی بھٹو کی تحریر کا اقتباس )
ایک سائنسی سروے اور تجزیے کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا چوتھا فرد ڈپریشن یا مایوسی اور افسردگی کا شکار ہے۔ ڈپریشن کا مطلب ذہنی عدم توازن کا شکار ہونا ہے۔ یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ ڈپریشن دراصل اس بات کی علامت ہے کہ فرد داخلی طور پر شدید بحران کا شکار ہے۔ اس کا شعور، لاشعور سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہے۔

ڈپریشن کے ظاہری اسباب کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:

مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر، جس نے لوگوں سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے۔
شہروں سے لے کر قصبوں تک بے روزگار نوجوانوں کے غول پھر رہے ہیں۔
شہر، محلّے سے لے کر قومی سطح تک سرمایہ داروں اور مال داروں کی طرف سے مفلوک اور مسکینوں کی دست گیری کے نظام کا نہ ہونا اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی تک کے انتظام کا نہ ہونا۔
قومی وسائل کے بڑے حصے کا لُوٹ مار، رشوت اور غبن وغیرہ کے ذریعے دوچار فی صد افراد کے قبضہ میں چلے جانا اور عام لوگوں کو قومی وسائل میں شریک کرنے کا انتظام نہ ہونا۔
خواہشات کا بنیادی ضرورت کی صورت اختیار کرنا، جب خواہشات پر مبنی ضروریات کے حصول کی صورت پیدا نہیں ہوتی تو افسردگی کا شکارہونا۔
خوش حال طبقات کی طرف سے زندگی کا جو مصنوعی معیار قائم کیا گیا ہے، اس کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے دل گرفتگی کا ہونا۔
خوش حال اور مال دار طبقوں میں ہونے والے ڈپریشن میں مال کی بڑھتی ہوئی ہوس کا ہونا۔ یہ مال چونکہ اکثر یا تو ناجائز طریقوں سے حاصل ہوتا ہے، یا عوام کو مہنگائی کی بلا میں مبتلا کرنے کی صورت میں، اس لیے مال کی یہ ہوس آگ کی صورت میں خوش حال افراد کے دلوں کو جلانے کا باعث بنتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مال دار افراد ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ڈپریشن خواص میں ہو یا عوام میں، اس کا بنیادی سبب انسانی شعور اور عمل کا آپس میں ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ شعور بھٹکتا پھرتا ہے تو اسے زندگی بے معنی نظر آتی ہے۔ ایسی زندگی جس کا کوئی پاکیزہ مقصد نہ ہو، جو دل اور روح کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہو، جو محبت کے حقیقی تقاضے سے عدم مطابقت رکھتی ہو، اس طرح کی زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور مایوسی کا ذریعہ بھی۔
یہ ایسی قابلِ رحم حالت ہے، جس پر درد مند افراد خون کے آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پاکستانی ملت کے اگر کروڑہا افراد اس بیماری، یعنی ڈپریشن کا شکار ہوں تو اجتماعی زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔

محمد موسی بھٹو، دسمبر ترجمان القرآن
بشکریہ اطہر وقار

03/01/2022

ایک بار جب میں پاکستان سے رخصت لے کر دہلی گیا اور پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ مجھ سے کہا تھا کہ جوش صاحب! پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔
لیکن ابھی کچھ دن ہوئے کہ میں پاکستان گیا اور وہاں یہ دیکھا کہ میں تو شیروانی اور پاجامہ پہنے ہوئے ہوں لیکن وہاں کی گورنمنٹ کے تمام افسر، سو فیصد، انگریزوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔

مجھ سے انگریزی بولی جا رہی ہے اور انتہا یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں ایڈریس بھی دیا جا رہا ہے۔ مجھے اس صورتِ حال سے بے حد صدمہ ہوا اور میں سمجھ گیا کہ "اردو، اردو، اردو" کے جو نعرے ہندوستان میں لگائے گئے تھے وہ سارے اوپری دل سے اور کھوکھلے تھے۔
ایڈریس کے بعد جب میں کھڑا ہوا تو میں نے اس کا اردو میں جواب دے کر سب کو حیران و پشیمان کر دیا اور یہ بات ثابت کر دی کہ مجھے اردو سے ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ محبت ہے۔ اور جوش صاحب معاف کیجئے، آپ نے جس اردو کے واسطے اپنے وطن کو تج دیا ہے۔ اس اردو کو پاکستان میں کوئی منہ نہیں لگاتا۔ اور جائیے پاکستان۔

میں نے شرم سے آنکھیں نیچی کر لیں۔ ان سے تو کچھ نہیں کہا لیکن ان کی باتیں سن کر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا۔ میں نے پاکستان کے ایک بڑے شاندار منسٹر صاحب کو جب اردو میں خط لکھا اور ان صاحب بہادر نے انگریزی میں جواب مرحمت فرمایا تو میں نے جواب الجواب میں یہ لکھا تھا کہ جنابِ والا میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
جوش ملیح آبادی کی کتاب "یادوں کی برات" سے اقتباس

Want your school to be the top-listed School/college in Mandi Bahauddin?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

National College Of Professional Studies
Mandi Bahauddin
50400

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 09:00 - 16:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 16:00