07/08/2019
پشاور گرلز ڈگری کالج میں تھرڈ ائیر کی طالبہ انوشہ ریاض کو پرسوں کالج جاتے ہوئے راستے میں ایک دو بائیک سواروں نے زبردستی روکنے کی کوشش کی جس پر انوشہ نے شور مچانا شروع کیا ہی تھا کہ انہوں نے بائیک کی ٹکر سے اسے روڈ کنارے گرا کر زخمی کر دیا جس پر وہ بیہوش ہو گئی، پاس سے گزرنے والے ایک رکشہ ڈرائیور نے انوشہ کو وہاں سے اٹھایا اور سیدھا ہسپتال کی ایمرجنسی لیکر گیا جہاں ناکافی سہولیات کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسے LRH ہسپتال منتقل کرنے کا بولا، رکشہ ڈرائیور نے نہایت ہی تیز رفتاری سے LRH ہسپتال کا رخ کیا لیکن شاید قدرت کو ابھی انوشہ کا مزید امتحان لینا مقصود تھا، ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے کے بعد پرچی پہ انگریزی میں چند دوائیں لکھیں اور رکشہ والے کو تھما دیں، اس دوران انوشہ کو ہوش میں لانے کی کوشش شروع کر دی گئی، ڈرائیور بھاگتا بھاگتا میڈیکل سٹور گیا پرچی دکاندار کو دی جس پر لکھا تھا کہ اس چودہ اگست کو اپنی بائیک کے سائلنسر اتارنے، پٹرول اور سی این جی پہ پیسہ ضائع کرنے کے بجائے سب پشاوری اپنے اپنے والدین، دوست، معشوقہ، بیوی، بچے کسی کے نام کا بھی درخت لگائیں اور پشاور کو دوبارہ سے ہرا بھرا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، رہی بات انوشہ کی تو وہ ایک فرضی کردار ہے ابھی پشاور کے لڑکے اتنے بیغیرت بھی نہیں ہوئے کہ اس طرح راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ سرعام بدتمیزی شروع کر دیں یہ تصویر بنگلور انڈیا کی ایک لڑکی ترپٹی کی ہے جسے میں نے ٹوئٹر سے اٹھایا اور سوچا شاید اسے دیکھ کر تم لوگ زیادہ پوسٹ کو پڑھنے کی کوشش کرو گے اور اس نیک کام میں حصہ ڈالو گے اور صرف ری ریکٹ نہیں اس پوسٹ پہ کمنٹ بھی کرو گے🙂
Sent by member