31/08/2026
یہ2020 کی بات ہے۔ میں نے فیس بک میسنجر پر رابطہ کیا اور وہاں پر موبائل نمبر ز کا تبادلہ کیا۔ پھر گاہے بگاہے کبھی کبھی ہلکی پھلکی بات چیت ہوتی رہی جس کا محور تعلیمی میدان ہی رہا۔ چونکہ میری ان سے واقفیت بحثیت استاد ہوئی تھی اور ان کی تحریر و تقریر میں ایک استاد کا احترام کامل ہمیشہ غالب رہا۔ ٹیلی فونک بات چیت کا یہ سلسلہ 2023 تک چلتا رہا۔ میں تعلیمی میدان میں انکی حیران کن کامیابیوں سے کافی متاثر تھا۔ پھر ایک دن کال آئی کہ " سر کیا خیال ہے میرے پاس آجائیں استاد شاگرد اکٹھے کام کرتے ہیں " میں نے بغیر کسی توقف کے ( جیسے میں اسی چیز کا منتظر تھا ) فورآ کہہ دیا کہ ضرور اس پر بھی بات کر لیتے ہیں۔
پہلی میٹنگ ہوئی ۔ پھر لمبا وقفہ شاید ایک سال سے بھی زیادہ۔ 2024 جولائی میں میں نے انکا تعلیمی ادارہ جوائن کر لیا ۔ ادارہ بورڈ میں ماضی میں بھی پوزیشنز لیتا رہا تھا مگر 2024 میں ملتان بورڈ میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن لیکر ایک تاریخ ساز کارنامہ سر انجام دیا۔ بلا شبہ اس کے پیچھے ان کی قیادت کا سب سے بڑا کردار تھا۔ قائد ہی اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی ٹیم کو متحرک رکھتا ہے اور انہیں صحیح سمت گامزن رکھتا ہے۔ ایسی شخصیت کے ساتھ کام کرنا ہر ورکر کا خواب ہو تا ہے ۔ کیونکہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے کبھی " ناکامی" نہیں ہوسکتا " بہت مشکل ہے " اور
" شاید نہ ہو " جیسے حوصلہ پست الفاظ کبھی بھی سننے کو نہیں ملتے۔ بلکہ آگے بڑھنے اور کام کو جدید تقاضوں کے تحت کرنے کی صلاحیت جنم لیتی ہے۔ جی میری مراد ڈائریکٹر اینڈ اونر پنجاب کالج میلسی و بنیاد سکولز میلسی محمد امجد اختر سیال صاحب ہیں ۔ 2017 میں بطور ڈائریکٹر آغاز کرنے والے اس نوجوان نے ریکارڈ ساز تعلیمی کامیابیاں سمیٹی ہیں اور میلسی جیسے پسماندہ اور سہولیات سے عاری شہر میں کوالٹی ایجوکیشن کا ایسا مربوط نظام تعلیم وضع کیا کہ ہر سال ان کے ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ کی ایک قابل ذکر تعداد میڈیکل انجینیئرنگ اور آئ ٹی کے شعبےمیں جارہی ہے۔ میلسی میں انکی تعلیمی میدان میں بے مثال کارکردگی کی بناء پر انہیں بلاشبہ " محسن میلسی " " سر سید آف میلسی " جیسے القابات دیے جاسکتے ہیں اور جن کے وہ صحیح معنوں میں حقدار بھی ہیں۔ حال ہی میں میلسی میں نواز شریف سکول آف ایمینینس کے دونوں کیمپسز ( بوائز اینڈ گرلز ) کیلئے پنجاب حکومت کی طرف سے انکا انتخاب یقیناً تعلیمی میدان میں ان کے قابل ستائش مثبت کردار کا اعتراف ہے۔ ان کی سر براہی میں گزرے کم و بیش 2 سال میری پیشہ ورانہ کیریئر کے سب سے قیمتی سال ہیں۔ حال ہی میں جب کچھ ذاتی مجبوریوں کی بناء پر جب ان سے رخصت لی تو بلا شبہ میں ان کے استاد سے زیادہ "شاگرد" ہو نے کے جزبات سے معمور تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اداروں کو علم نافع کا سر چشمہ بنائے رکھے جہاں سے تشنگانِ علم اپنے اذہان و قلوب کو منور کرتے رہیں۔
اس بات کا ہمیشہ فخر رہے گا کہ تعلیمی میدان میں اتنی کامیاب شخصیت کے ساتھ کام کیا ہے۔
ڈھیر ساری دعائیں اور نیک تمنائیں امجد اختر صاحب کیلئے ۔