26/08/2026
بیوقوف چور اور بولنے والا گھڑا
بہت پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک گاؤں میں ایک چالاک نائی رہتا تھا جو اپنی حاضر دماغی کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ ایک رات ایک چور اس کے گھر میں گھس آیا، اس نیں۔ سارا گھر چھان مارا لیکن اسے کوئی قیمتی چیز نہ ملی، سوائے باورچی خانے میں رکھے ہوئے مٹی کے ایک بڑے گھڑے کے، جس کے بارے میں نائی نے افواہ پھیلا رکھی تھی کہ یہ "جادو کا بولنے والا گھڑا" ہے چور نے سوچا کیوں نہ اس گھڑے کو ہی چرا لیا جائے، شائد اس کے اندر کوئی بڑا خزانہ ہو۔ وہ گھڑا اٹھا کر چپکے سے بھاگنے لگا۔ نائی کی آنکھ کھل گئی، اس نے چور کو دیکھ لیا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بستر پر لیٹے لیٹے ہی ایک ترکیب سوچی نائی نے زور زور سے بولنا شروع کیا: "ارے بیوی! سنو تو! ہمارے گھر میں ایک عجیب جادو کا گھڑا ہے، اگر کوئی چور اسے چرا کر لے جائے تو یہ گھڑا خود بخود بولنا شروع کر دیتا ہے اور چور کا سارا نام، پتہ اور اس کی نشانی اونچی آواز میں پورے گاؤں کو بتا دیتا ہے چور یہ سن کر وہیں جم گیا! اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اس نے گھڑے کو کان لگا کر سنا کہ کہیں یہ بولنے تو نہیں لگا۔نائی نے مزید کہا: "اور ہاں! یہ گھڑا صرف اس وقت چپ رہ سکتا ہے جب چور خود ڈر کر اپنا نام بتائے اور اس گھڑے کو یہیں چھوڑ کر الٹے پاؤں بھاگ جائے، ورنہ صبح تک اس کا سارا کچا چھٹا سب کے سامنے آ جائے گا! چور ڈر کے مارے کانپ اٹھا۔ اس نے فوراً وہ گھڑا وہیں زمین پر رکھا، ہاتھ جوڑے اور گھڑے کے سامنے ہی بڑبڑاتے ہوئے بولا: "معاف کر دے بھائی گھڑے! میں چور ہوں، میرا نام گاموں ہے، میں آج کے بعد کبھی چوری نہیں کروں گا!" یہ کہہ کر گاموں چور اندھیرے میں الٹے پاؤں دوڑ گیا اور پھر کبھی اس محلے کا رخ نہیں کیا۔ صبح ہوئی تو نائی نے ہنستے ہوئے وہ گھڑا اٹھایا اور اپنے کام میں لگ گیا۔
اخلاقی سبق: بڑی سے بڑی مشکل یا خطرے کا مقابلہ طاقت سے زیادہ عقل، حکمت اور حاضر دماغی سے کیا جا سکتا ہے۔جھوٹ اور لالچ کا ڈر: جو شخص غلط راستے پر ہوتا ہے، اس کا اپنا ضمیر اور خوف ہی اسے ناکام بنا دیتا ہے، جبکہ سچائی اور دانشمندی انسان کو ہر موڑ پر سرخرو کرتی ہے۔