25/02/2026
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ
🇵🇰 اُردو ترجمہ
اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، اس دن کے آنے سے پہلے جس دن نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی سفارش۔ اور کافر ہی ظالم ہیں۔
🇬🇧 English Translation
O you who believe! Spend from what We have provided you before a Day comes in which there will be no trade, no friendship, and no intercession. And the disbelievers – they are the wrongdoers.
📚 تفسیر (آسان وضاحت)
1️⃣ خرچ کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ جو رزق، مال، دولت، صحت اور نعمتیں دی گئی ہیں ان میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں — جیسے:
زکوٰۃ
صدقہ
خیرات
ضرورت مندوں کی مدد
یہ خرچ کرنا دراصل آخرت کیلئے سرمایہ جمع کرنا ہے۔
2️⃣ قیامت کے دن کی حقیقت
آیت میں قیامت کے دن کی تین بڑی حقیقتیں بیان کی گئی ہیں:
🔹 نہ خرید و فروخت
اس دن کوئی شخص پیسے دے کر نجات نہیں خرید سکے گا۔
🔹 نہ دوستی
دنیا کی دوستیاں، رشتہ داریاں اور تعلقات وہاں فائدہ نہیں دیں گے اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو۔
🔹 نہ سفارش
کوئی کسی کی سفارش نہیں کر سکے گا مگر صرف وہی سفارش ہوگی جس کی اللہ اجازت دے گا۔
3️⃣ کافر ہی ظالم ہیں
جو لوگ اللہ کے احکام کو نہیں مانتے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، وہ دراصل اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔
✨ اہم سبق
مال اللہ کی امانت ہے، اسے صحیح جگہ خرچ کرنا ضروری ہے۔
نیکی کا موقع صرف دنیا میں ہے۔
قیامت کے دن صرف ایمان اور اعمال کام آئیں گے۔
دیر کرنے کے بجائے فوراً عمل کرنا چاہیے۔