General Knowledge All in ONE

General Knowledge All in ONE Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from General Knowledge All in ONE, Education, Chak No. 4/A, Tehsil Liaquatpur, District Rahim Yar Khan, Liaquatpur.

In This Page We Share General_Knowledge of All Types like NTS,FPSC,PPSC,PTS, Islamic info,Health info, Pakistan Affairs,Current Affairs and Useful Tips & Tricks For Mobile,SiM and Mobile Account's.

”صحت کے متعلق اھم معلومات “جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہ...
19/05/2022

”صحت کے متعلق اھم معلومات “
جب کچھ کھاتے ہوئے غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنس جاتا ہے جس سے سانس لینا یا بات کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور سانس کی نالی بند ہوتی محسوس ہوتی ہے __ ایک سال سے کم عمر بچے اور بوڑھے اس طرح کی صورتحال سے جلد دوچار ہوجاتے ہیں__ اور بعض اوقات یہ صورت حال جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے

اسے طبی اصطلاح میں Throat Choking کہتے ہیں اور اس کے دو درجے ہیں

(١) جزوی طور پہ گلہ بند ہونا : اس صورت میں غذا کا ٹکڑا گلے میں پھنسنے کی صورت میں گلہ جزوی طور پہ بند ہوجاتا ہے، انسان بمشکل بول اور سانس لے سکتا ہے...آپ نے مدد کیسے کرنی ہے؟
متاثرہ شخص کو زور زور سے کھانسنے کا کہیں تاکہ پھنسا ہوا ٹکڑا باہر نکل آئے یا اُسے جھُکا کے اُس کی پِیٹھ پہ عین گلے والی جگہ پہ اپنی ہتھیلی کی مدد سے پانچ دفعہ رگڑنے کے انداز میں تھپڑ لگائیں ( مُکے نہیں مارنے) اور ساتھ ساتھ اُسے کھانسنے کا کہیں........ سیدھا کھڑا کرکے یہ کوشش نہ کریں ورنہ پھنسا ہوا ٹکڑا مزید نیچے چلا جائے گا اور نہ ہی متاثرہ شخص کو پانی پلائیں، قوی امکان ہوتا ہے کہ پانی ناک کے راستے باہر آئے گا اور مزید تکلیف کا باعث بنے گا

اگر آپ اکیلے ہیں اور آپ اس صورت حال سے دوچار ہوجائیں اور آس پاس کوئی مددگار نہ ہو تو کُرسی کی پشت پہ کھڑے ہوکے اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پہ باندھ کے اپنے وزن کے ساتھ اپنے پیٹ پہ دباؤ ڈالیں
( طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے)

(٢) گلہ مکمل طور پہ بند ہوجانا : غذا کا بڑا ٹکڑا گلے میں پھنس جانے کی صورت میں گلہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے اور گلے سے آکسیجن کی آمدورفت بھی رُک جاتی ہے .... یہ کنڈیشن زیادہ خطرناک اور زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے... متاثرہ شخص بول نہیں سکتا، بات نہیں کرسکتا، کھانس نہیں سکتا.... ہونٹ اور ناخن نیلے ہوجاتے ہیں...
آپ نے مدد کیسے کرنی ہے 👇

متاثرہ شخص کو سیدھا کھڑا کرکے اُس کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اور اُسے پیچھےسے جپھی ڈال کے اُس کی ناف اور پسلیوں کے درمیان اپنے دونوں ہاتھ اوپر نیچے باندھ کے اُسے اٹھانے کے انداز میں پانچ یا اس سے زائد دفعہ جھٹکے دیں. اور تب تک کرتے رہیں جب تک گلے میں پھنسی چیز باہر نہ آجائے (طریقہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے) اگر مریض بے ہوش ہوجائے تو ریسکیو کال کریں اور پروفیشنلز کے پہنچنے تک CPR کرتے ہوئے مریض کا سانس بحال کرنے کی کوشش کریں... لیکن CPR صرف اُس صورت میں مفید ہوگا جب گلہ صاف ہوچکا ہوگا..

ایک سال سے کم عمر بچوں میں تھراٹ چووکنگ کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بچے اپنی فطرت کے مطابق ہاتھ میں آنے والے کوئی بھی چیز منہ میں ڈالتے ہیں...اگر خدا نخواستہ آپ کے بچے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ ہوجائے تو...
بچے کو اپنی کلائی پہ اُلٹا لِٹا کے بچے کا چہرہ اپنے ہاتھوں پہ رکھیں اور دوسرے ہاتھ سے بچے کی پُشت کو اپنی ہتھیلی سے ہلکا سے دباتے ہوئے سَر کی طرف رگڑیں (طریقہ نیچے تصویر میں) اگر یہ طریقہ کارآمد نہ ہو تو بچے کو سیدھا لِٹا کے اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے تھوڑا اوپر اُٹھا کے اپنی انگلی کی مدد سے بچے کے حلق میں پھنسی ہوئی چیز کو احتیاط سے نکالنے کی کوشش کریں، کچرا نکل جانے کے بعد بھی اگر بچے کا سانس بحال نہیں ہوتا تو ریسکییو کال کریں اور ٹیم پہنچنے تک بچے کا ناک بند کرکے اُسے اپنے منہ سے سانس دیتے ہوئے اُس کا سانس بحال کرنے کی کوشش کرتے رہیں-

انسان کا مقام فرشتوں سے بھی آگے ہے۔ اور یہ کیسے ہیں ؟ اگر اس راز کو کھول دیا جائے تو ایک جھگڑا شروع ہو جائے گا۔۔انسان چو...
19/05/2022

انسان کا مقام فرشتوں سے بھی آگے ہے۔ اور یہ کیسے ہیں ؟ اگر اس راز کو کھول دیا جائے تو ایک جھگڑا شروع ہو جائے گا۔۔

انسان چونکہ ایک راز ہے یہ راز جس پر بھی کھلا اُس نے آگے کسی پر نہیں کھولا۔۔

پہچانوتو میں کون ہوں کیا ہوں
میں حضرتِ انساں ہوں

میں معٰنیِ رحماں ہوں
میں عالمِ فرقاں ہوں
میں ناطقِ قراں ہوں

جب سے انسان کی بات شروع ہوئی اس کائنات میں تب سے جھگڑا شروع ہو گیا ۔۔ جنات ، فرشتے ، اور فرشتوں کا سردار ابلیس ۔ ان سب نے مخالفت کی۔ لیکن فرشتے بازی لے گئے ۔

جس کو دیکھا گیا تھا صبحِ ازل
اُس کا جلوہ دیکھا دیا میں نے

کیونکہ انسان کے اندر جو ذات جلوہ فرما ہے فرشتوں نے دیکھ لی اور سجدہ کر دیا۔ لیکن ابلیس کو نظر نہیں آئی ۔ اس نے بس ظاہری مٹی کا بُت دیکھا انسان کا۔ اور انکار کر بیٹھا۔

انسان ، ابلیس ، اور فرشتے اس واقع میں بڑے راز پوشیدہ ہیں۔۔ الله پاک کی ذات نے جس کو یہ بات سمجھا دی کہ انسان کون ہے ۔۔ مطلب ایک طرف انکار کرنے والا تھا یعنی ابلیس ۔ جس نے انسان کے صرف ظاہری بُت کو دیکھا اور دوسری طرف فرشتے جنہوں نے انسان کے باطن کو دیکھا اور اسے ہی سجدہ کیا۔

جیسے کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا۔

تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑنا ۔



اب یہ راز جو فرشتوں پر کھلا تھا اگر انسانوں کی دنیا میں کسی پر کھل جائے جو کہ بہت سارے لوگوں پر کھلا بھی ہے الله کے حکم سے۔ کہ اصل بات کیا ہے۔۔

کہ پہلے تو بات Direct تھی یعنی سیدھا سیدھا الله کو ماننا۔ لیکن جب بات Indirect ہوئی تو ابلیس confusion میں پڑ گیا ۔ کہ اللہ نے فرمایا اب انسان سے ہو کر میری طرف آنا ہے۔۔

قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنایا
راز اس کی نگاہ سے چھُپایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھُلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے



اب دیکھا جائے تو اگر کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی محبت میں فناء ہو جائے ۔۔ یعنی عاشق محبوب میں ۔ تو کہاں دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کا ساتھ دیا ہو۔ اُلٹا مخالفت ہوتی ہے اس کی۔ مار دیا گیا ، کھال اتار دی، فتوے لگائے گئے ۔۔

جسے انسان کی سمجھ آ گئی انسانیت بھی اسی کے اندر نظر آئے گی۔۔

نتیجہ یہ ہی نکلا کہ جو انسان کو دھوکہ دے رہا ہے حقیقت میں وہ اللہ کو دھوکہ دے رہا ہے مطلب کوئی بھی ایسا کام جس میں کسی انسان کی توہین ہو ری ہے تو وہ معاملہ Indirectly اللہ کی طرف ہی جا رہا ہے۔۔کیونکہ اللہ کے بعد اگر کسی کا مقام سب سے زیادہ ہے تو وہ انسان کا مقام ہے۔

تو اس لئے میاں صاحب رح بھی اس بات کو پوشیدہ ہی رکھنا چاہتے ہیں کہ اگر انسان کے راز کو کھول دوں تو ایک نیا جھگڑا شروع ہو جائے گا۔۔ کیونکہ راز دو کے درمیان ہوتا ہے اگر تیسرا آ جائے تووہ راز راز نہیں رہتا۔۔

اے الله یہ عقل سمجھ نہ سکی کہ کون ہوں میں

جبرائیلؑ کو بھیج میری معرفت کے لئے

پیغامِ عشق

مکمل روزہہر مسلمان، بالغ، عورت و مرد پر، ثواب اور ایمان، کی "نیت" سے روزہ رکھنا لازم ہے۔ اگر کوئی ساری زندگی روزہ نہیں ر...
02/04/2022

مکمل روزہ

ہر مسلمان، بالغ، عورت و مرد پر، ثواب اور ایمان، کی "نیت" سے روزہ رکھنا لازم ہے۔ اگر کوئی ساری زندگی روزہ نہیں رکھ سکتا تو اُس پر فدیہ دینا لازم ہے یعنی 30 روزوں کا فدیہ 30 فطرانے کی رقم کے برابر ہو گا، غلطی سے روزہ توڑ دیا تو قضا اور جان بوجھ کر توڑ دیا تو کفارہ ہے۔ اب اس پیرے کو سمجھتے ہیں اور جس کو سمجھ نہ آئے وہ کمنٹ سیکشن میں سوال کر سکتا ہے:

بالغ: لڑکی کو حیض کا خون اور لڑکے کو اح**ام اُس کے بالغ ہونے کی نشانی ہے اوراُسی وقت سے ان پر نماز، روزہ، زکوۃ اور حج فرض ہو جاتا ہے۔

نیت: اللہ کریم کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے روزہ رکھا جاتا ہے اور یہ نیت روزانہ دل میں کرنی چاہئے کہ یا اللہ تیرا قرب اور اجر و ثواب پانے کے لئے روزہ رکھنے لگا ہوں۔ روزہ رکھنے کی کوئی نیت حدیث میں نہیں آئی۔

مفہوم: روزہ رکھنے کا مطلب ہے کہ میں فجر کے وقت سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک نہ تو اپنے پیٹ میں کچھ جانے دوں گا اور اگر شادی شدہ ہو تواپنی بیوی سے صحبت نہیں کرے گا۔ البتہ اگر روزے میں نماز و تراویح ادا نہ کیں تو فرض و واجب چھوڑنے پر سخت گناہ گار ہو گا مگر روزہ ہو جائے گا۔

غور: اذان سے پہلے فجر کا وقت ختم ہو جاتا ہے جیسے مغرب کی اذان سے پہلے روزے کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اسلئے سائرن کی آواز پر روزہ بند نہ کیا اور اذان کے دوران کھاتا رہا تو روزہ نہیں ہو گا۔

بیوی: آسان انداز میں سمجھیں کہ روزے میں بیوی کو گلے لگانا، چومنا، پیار کرنا جس سے بندہ فارغ ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، اپنے ہاتھ سے اپنی شرم گاہ سے پانی نکالے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

کھانا پینا: ایسی خوراک جو معدے میں جائے تو اُس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ علماء نے سمجھایا کہ منہ، کان، ناک، آنکھیں، پیشاب اور پاخانہ کے سوراخ ہوتے ہیں اور ان کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح معدے سے ہے جیسے:

منہ: کھانے کا سوراخ ہے، اسلئے وضو کا پانی یا کوئی بھی شے، اس رستے سے اندر جائے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

ناک: ناک کا سوراخ بھی منہ سے ہوتا ہوا نیچے جاتا ہے، اسلئے وکس انہیلر، اگر بتی، وضو کا پانی، کوئی بھی چیز جان بوجھ کر کھینچ کر اندرلے جائیں گے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

کان: کان کے سوراخ کا تعلق معدے سے نہیں ہے، اسلئے اس میں دوائی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کان میں نہاتے ہوئے پانی اندر چلا بھی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

آنکھ: آنکھ کا تعلق بھی ناک اور منہ والے سوراخ سے ہے، اسلئے بہتر ہے کہ آنکھ کی دوائی بھی روزے کے دوران نہ ڈالی جائے، اگر ڈالنا بہت ضروری ہو تو نبی اکرم نے سرمہ ڈالنے کی اجازت دی ہے، اسلئے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے ڈال لیں مگر بچنا بہت بہتر ہے۔

پیشاب و پاخانہ: معدے سے فضلہ پاخانے کے سوراخ سے نکلتا ہے، اسلئے علماء نے عورت کو پیشاب اور پاخانے کے دوران پانی سے ظاہری کھال دھونے کا حُکم دیا ہے اور مرد کو بھی پاخانے کا سوراخ ظاہری کھال دھونے کا حکم دیا ہے تاکہ کوئی بھی چیز معدے تک نہ جائے۔

انجیکشن: کچھ علماء کہتے ہیں کہ پٹھے یا رگ میں انجیکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ پٹھے اور رگ کا ڈائریکٹ معدے سے نہیں ہے مگر بہتر یہی ہے کہ شدید ضرورت کے تحت یہ انجیکشن لگوائے جائیں کیونکہ روزے کا مقصد کمزور ہونا ہے اور ٹیکوں میں طاقت دینے والے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔

بیمار: جس کو قابل ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ اب تم ساری زندگی روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہو وہ روزہ رکھنے کی بجائے کسی مسلمان کو روزے کا ’’فدیہ‘‘ دے سکتا ہے۔ (2) وہ بیمار جسے ڈاکٹر کہہ دے کہ اس رمضان کے روزے نہ رکھو بعد میں رکھ سکتے ہو وہ ’’فدیہ‘‘ نہیں دے گا بلکہ بعدمیں روزے رکھے گا۔ (3) وہ بیمار جس کو علم نہیں تھا مگر’’فدیہ‘‘ دے دیا توروزے پھر بھی رکھنے پڑیں گے۔ (4) بیمار اگر گرمیوں کے روزے نہیں رکھ سکتا تو سردیوں میں روزے رکھے لیکن’’فدیہ‘‘ دینا جائز نہیں ہو گا۔

افطار کی دُعا: نبی کریم ﷺ روزہ افطار کرنے کی دعا کچھ کھا پی کر پھر مانگا کرتے تھے،اس لئے ’’سنت‘‘ بعد میں دعا کرنا ہے۔ اسی طرح کھانے کے دوران مغرب کی اذان کا جواب بھی نہ دیا جائے تو ’’جائز‘‘ ہے کیونکہ روزہ افطار کیا جا رہا ہے۔

قضا اور کفارہ
رمضان المبارک کا’ روزہ‘‘ توڑنے پر کفارہ ہے اور روزہ بڑی چیز سے نہیں بلکہ تِل کے برابر کوئی چیز منہ میں رکھ کرچبائی جس کا ذائقہ حلق میں محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

قضا: کا مطلب ہے کہ ایک روزے کے بدلے میں دوسرے کسی ماہ میں ایک روزہ رکھنا۔

کفارہ: روزے میں جان بوجھ کر، خود بخود، سوچتے سمجھتے ہوئے، کھا پی لیا یا عورت سے صحبت کر لی تو ایک روزہ کی قضا کے ساتھ ساتھ، دو مہینے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔

روزہ کی قضا اور کفارہ کے اصول

1۔ منہ کی راہ سے پیٹ اور دماغ میں ایسی دواء یا غذاء کا پہنچنا جس سے بدن میں طاقت پیدا ہو اس سے کفارہ لازم آئے گااور اگر ایسی چیز کھائی جس سے بدن میں طاقت پیدا نہ ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا مگر قضا لازم آئے گی مثلاً منہ کے راستے غذا یا کوئی دواء کھائی تو “کفارہ‘‘ اور اگر کنکر پتھر نگلا تو ’’قضا‘‘۔

2۔ جان بوجھ کر ایسی غذا کھانے سے جس کی طرف رغبت ہو تو کفارہ لازم آئے گا اور جس کی طرف رغبت نہ ہو اس کے کھانے سے قضا لازم آئے گی جیسے (i) گوشت کھانے سے ’’کفارہ‘‘ اور جلا ہوا بدبودارگوشت کھانے سے’’قضا‘‘ (ii) پیر کا چبایاہوا لقمہ کھانے سے’’ کفارہ‘‘ اوراپنے منہ کا نکال کر کھانے سے ’’قضا‘‘ (iii) قے آئی علم تھا کہ روزہ نہیں ٹوٹا مگر کھانا کھایا تو’’کفارہ‘‘ علم نہیں تھا اور کھا لیا تو’’ قضا‘‘ (iv) خربوزہ یا تربوز کھانے پر’’ کفارہ‘‘ اور اس کا چھلکاسڑا ہوا کھانے پر’’ قضا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

3۔ عورت سے ج**ع میں رغبت ہوتی ہے اس لئے ’’کفارہ‘‘ اور اپنے ہاتھ سے منی نکالی تو’’قضا‘‘۔

اہم بات: اگر غلط کام کی عادت سے محبت ہو جیسے مٹی یا کنکر کھانا، سڑے ہوئے پھل یا اس کے چھلکے کھانا، ہتھ رسی یا مشت زنی کو شوق سے کرنا تو پھر مسئلہ ’’قضا ‘‘سے’’ کفارہ‘‘ میں بدل جائے گا۔

جن کاموں سے روزہ نہیں ٹوٹتا

1۔ گندی فلم دیکھنا یا کسی کو ننگا دیکھنا حرام و نا جائز ہے اور ایسے ہے جیسے اپنی ماں بہن کو ننگا دیکھنا مگر اس کو دیکھنے سے اگر مرد اور عورت کوخود بخود انزال ہو جائے تو روزہ نہیں جاتا۔

2۔ روزہ یاد نہیں تھا اور غرغرہ کر لیا، ناک میں پانی چلا گیا، روٹی کھا لی، پانی پی لیا تو اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹتا مگر اگر روزہ یاد تھا اور احتیاط نہ کی تو روزہ نہیں ہوتا۔

3۔ اسی طرح (۱) پھول یا مشک عنبر یا عطر سونگھنے سے (۲) حجامت بنوانے سے (۳) زکام میں رطوبت اندر لے جانے سے (۴) کلی کے بعد منہ میں تری رہنے سے (۵) ہونٹ پر زبان پھیرنے سے (۶) گرد و غبار کا منہ میں خود بخود جانے سے (۷) بدن یا بالوں میں تیل لگانے سے (۸) نہانے سے (۹) خون دینے، نکلوانے یا ٹیسٹ کروانے سے (۱۰) روزے کے دوران قے (اُلٹی) بار بار آئے چاہے منہ بھر کر آنے سے (۱۱) اح**ام ہو جانے سے(۱۲) غیبت ، جھوٹ یا بہتان لگانا حرام ہے مگر ان تمام اعمال سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

چند اہم مسائل

1۔ روزے میں صبح اٹھ کر اگر ناپاکی کی حالت ہو اور وقت کم ہو تو ایسی صورت میں پہلے کھانا کھائے اور غسل بعد میں کرے لیکن نماز قضا نہ ہونے پائے۔ غسل میں ایک فرض ہے یعنی سارے جسم پر پانی بہانا اور باقی کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے مگر پانی اندر نہ جائے۔

2۔ روزے میں مسواک کے علاوہ ٹوتھ پیسٹ کے بغیر خالی برش بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اگرمسواک یا برش کرنے سے خون نکل آتا ہو اورسرخی مائل خون نکل کرپیٹ میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ٹوتھ پیسٹ کے اجزاء حلق میں جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اسلئے ٹوتھ پیسٹ سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے کر لینی چاہئے۔

3۔ قمری مہینہ 29 یا 30 کا ہوتا ہے۔اس لئے بیرون ملک سے آنے والا پاکستان آئے اور اس کے 30 روزے ہو چکے ہوں تو یہاں پر ابھی رمضان کا ایک دن باقی ہو تو وہ 31واں روزہ رکھے گا اور مقامی ملک کے مطابق عید کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی پاکستان سے سعودی عرب جاتا ہے اور اس کے 28 روزے ہو چکے ہیں لیکن وہاں عید ہے تو ان کے ساتھ عید منا کر بعد میں روزہ پورا کر لے۔

4۔ تراویح کی نمازعورت و مرد پر 20 رکعت پڑھنا’’سنت موکدہ‘‘ ہے۔ جس کو چھوڑنے والا گناہگار ہے۔ اگر روزہ ’’مجبوری‘‘ سے نہیں رکھا گیا تو تراویح پھر بھی’’ ضروری‘‘ ہے۔ اگر’’تراویح‘‘ کسی وجہ سے نہیں پڑھی گئی تو ’’روزہ‘‘ رکھنا پھر بھی ضروری ہے۔

عام آدمی تراویح کی نماز اپنے حالات، کام، Job یا پیشہ دیکھتے ہوئے گھر میں بھی ’’چھوٹی چھوٹی سورتیں ‘‘ملا کرپڑھ سکتا ہے کیونکہ ج**عت سے ’’تراویح‘‘ کی نماز ’’سنت علی الکفایہ‘‘ ہے یعنی محلے میں سے ایک بھی ’’ج**عت‘‘ سے پڑھ لے گا تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گی۔

5۔ روزوں کے آخری دس دنوں میں ’’لیلۃ القدر‘‘ کی تلاش کرنا بھی ’’عبادت‘‘ ہے لیکن ’’مزدور‘‘ آدمی اگرفجر اور عشاء کی نماز’’گھر‘‘ میں نہیں بلکہ ’’ج**عت‘‘ سے پڑھ لے، دوسرا ’’تراویح‘‘ اور ’’تہجد‘‘ نہ چھوڑے تو ایسے مسلمان کو بھی ’’لیلۃ القدر‘‘ سے وافر حصہ ضرور مل جاتا ہے۔(بحوالہ موطا امام مالک)

6۔ اعتکاف بھی سنت علی الکفایہ ہے یعنی محلے میں سے ایک بھی ’’اعتکاف‘‘ مسجد میں بیٹھ جائے گا تو سب کی طرف سے ادا ہو جائے گا۔ اعتکاف ’’نیت‘‘ کے ساتھ رمضان کے آخری دس دن دنیاوی تعلقات، مصروفیت چھوڑ کر اور’’ روزہ‘‘ رکھ کر ’’مسجد‘‘ میں قیام (مجاہدہ) کرنے کو کہتے ہیں، جس پر معتکف کو دو حج اور دو عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ اس لئے’’ مُعتکف‘‘ کے لئے عورت کو چھونا اور مباشرت کرنا منع ہے اس کے علاوہ مسجد سے باہر ’’بیمار پُرسی‘‘ اور’’ جنازہ پڑھنے‘‘بھی نہیں جائے گا۔
اس لئے اصول یہ بنا کہ کسی وجہ سے اگر معتکف نے “روزہ‘‘ قضا کیا، مسجد کی مقرر کردہ حدود سے باہر نکل گیا، نیت ہی اعتکاف کی نہیں تھی اس لئے دنیا داری میں مشغول رہا تو ’’اعتکاف‘‘ نہ ہوا۔البتہ اپنے منہ کو ڈھانپ کر رکھنا یا پردے لگا کر رکھنا’’اعتکاف‘‘ میں قطعاً ضروری نہیں ہے۔عورت بھی اپنے گھر کے ایک کمرے میں اعتکاف کر سکتی ہے لیکن اگر حیض یاMenses آگئے تو ’’اعتکاف‘‘ ختم ہو جائے گا۔

7۔ شو ال میں چھ نفلی روزوں کا’’ ثوا ب‘‘ پو رے سا ل کے روزے رکھنے کے برابر ہے مگر یہ روزے عید کے دوسرے دن رکھنا لا زمی نہیں بلکہ شوال کے شروع،درمیان اور آخر جب مرضی رکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں تراویح کی نمازنہیں ہوتی ہے بلکہ احادیث پر عمل کرنے سے روحانی خوشی (عید) ہوتی ہے ۔جس کے’’ فر ض‘‘ روزے قضا ہوں وہ پہلے ’’فرض‘‘ روزوں کی’’ قضا‘‘ کرے پھر’’ نفلی روزے‘‘ رکھے تو ’’قبول‘‘ ہوتے ہیں۔

8۔ رمضان کے روزوں میں’’ صدقۂِ فطر‘‘ نمازِ عید پڑھنے سے پہلے پہلے یا اس کے بعد بھی ہر’’بالغ‘‘، ’’مالدار‘‘ پر “واجب‘‘ ہوتا ہے۔مالدار وہ ہے جس کے گھر میں ساڑھے باون تولے کی چاندی کے برابر اشیاء پڑی ہیں اور وہ آسانی کے ساتھ مہینے کا خرچہ نکال کر’’فطرانہ‘‘ دے سکتا ہو۔

فطرانہ سوا دو سیرتقریباً دو کلو 100 گرام (2.099.52 Kg ) کے برابر چاول، گندم وغیرہ یا ان کی قیمت کے برابر گھر کا ہربالغ فرد اپنا اپنا دے گا لیکن اکٹھا کر کے کسی ایک غریب رشتے دار، دوست اور ہمسایہ کو دے سکتے ہیں ۔ نابالغ کافطرانہ اس کے باپ کی طرف سے ہو گا۔مہمان اپنا فطرانہ خود دے گا۔

مردے کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں ۔۔۔ !!!شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت ...
04/12/2021

مردے کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں ۔۔۔ !!!
شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت کا خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو روتا، نہاتا، گرہ لگاتا اور قبر پر اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے
جب وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ چیختا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ نہیں سنتا، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتا ہے اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کرتا ہے۔ وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے "برے خواب" سے جاگتا ہے۔ پہلے تو وہ خوش اور شکر گزار ہوتا ہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا ، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو چھونے لگتا ہے ، جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت سے سوال کرتا ہے "میری قمیض کہاں ہے
"میں کہاں ہوں ، یہ جگہ کہاں ہے ، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا کیوں ہے ، میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟" پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے ، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا ہے ، پکارتا ہے: اس کے رشتہ دار جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے:
اسے کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ پھر یاد کرتا ہے کہ اس وقت اللہ ہی واحد امید ہے۔ وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
"یا اللہ! یا اللہ! مجھے معاف کر دے یا اللہ ... !!!
وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اگر وہ ایک اچھا انسان ہے تو مسکراتے ہوئے چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے ، پھر اس کی بہترین خدمت کریں گے،
اگر وہ برا شخص ہے تو دو فرشتے اس کے خوف کو بڑھا دیں گے اور اس کے بدصورت کاموں کے مطابق اسے اذیت دیں گے۔
اے اللہ میرے اور میرے ماں ، باپ ، بیوی ، بچوں اور میرے خاندان اور دوستوں کے گناہ معاف فرما 🙏🏻
اور ہمیں ایمان پر موت نصیب فرما۔۔۔ آمین

قیمتی معلومات  ایک آدمی کی طرف سے خارج ہونے والی منی کی مقدار میں 200 ملین سپرمیٹوزوا ہوتا ہے۔  لہذا، منطق کے مطابق، اگر...
13/11/2021

قیمتی معلومات

ایک آدمی کی طرف سے خارج ہونے والی منی کی مقدار میں 200 ملین سپرمیٹوزوا ہوتا ہے۔
لہذا، منطق کے مطابق، اگر سپرم کی اس مقدار کو رحم میں جگہ مل جائے تو 200 ملین بچے پیدا ہوں گے!!
200 ملین نطفے ماں کے پیٹ کی طرف پاگل ہو جاتے ہیں، ان میں سے صرف 50 باقی رہ جاتے ہیں، اور باقی راستے میں تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔
آخر میں، ان سب میں سے، ایک ہی سپرم ایک انڈے کو کھاد ڈالنے کے قابل ہے۔
وہ خوش قسمت نطفہ آپ ہیں آپ کی چربی اور آپ کے گوشت کے ساتھ
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟!
جب تم بھاگے "تمہاری آنکھیں نہیں تھیں، ہاتھ نہیں تھے، پاؤں نہیں تھے، سر نہیں تھا، لیکن تم جیت گئے تھے۔
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس ڈگری نہیں تھی، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ جیت گئے۔
جب آپ بھاگے تو آپ کی کوئی تعلیم نہیں تھی اور کسی نے آپ کی مدد نہیں کی لیکن آپ جیت گئے.
جب آپ بھاگے تو آپ کی ایک منزل تھی، اور آپ ایک دماغ کے ساتھ دوڑے، یہاں تک کہ آپ اپنی منزل پر پہنچ گئے اور آپ آخر میں جیت گئے۔
بہت سے نوزائیدہ بچے ماں کے پیٹ میں ہی مر جاتے ہیں۔ لیکن تم بچ گئے...
بہت سے بچے پیدائش کے وقت مر جاتے ہیں، لیکن آپ بچ گئے۔
زندگی کے پہلے پانچ سالوں میں بہت سے بچے مر گئے لیکن آپ بچ گئے۔
بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔
اور اب تم یہاں ہو...
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ گھبرا جاتے ہیں۔
تم مایوس ہو جاؤ...
*لیکن کیوں؟!
آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے ہیں؟!
آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا؟!
تم نے امید کیوں کھو دی؟!
آپ کے دوست، بہن بھائی، تعریفیں، سب کچھ ہے۔
آپ کے ہاتھ، پاؤں اور حواس ہیں۔
آپ کی تعلیم ہے..
آپ کے پاس منصوبہ بندی کرنے کا دماغ ہے۔
آپ کے پاس مدد کرنے کے لیے لوگ ہیں...
اکیلے تھے تو لڑے..
جب آپ نے ہمت نہیں ہاری تو میں یہاں آیا ہوں۔
اب آپ بھاگنا کیوں چھوڑ رہے ہیں؟!
تم کیوں کہتے ہو کہ میں جینا نہیں چاہتا؟
تم کیوں کہتے ہو کہ تم نے سب کچھ کھو دیا؟!

یہ سب مایوسی کیوں ہے اور خدا آپ کو دیکھتا ہے، آپ کی حفاظت کرتا ہے، اور آپ کا ہر وقت خیال رکھتا ہے؟!... تو اس پر بھروسہ رکھیں..❤🙏

08/10/2021

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

31/03/2021

*دلچسپ معلومات*

1۔۔ جسم کے وہ کون سے عضو ہیں جو پیدائش سے وفات تک بڑھتے رہتے ہیں ۔۔؟؟

*آنکھ 👁 اور کان 👂🏻*

2۔۔ ایک انسان کے چلّانے 🗣 کی آواز کتنی دور تک سنائی 👂🏻🗣 دیتی ہے۔۔۔؟؟

*کم از کم 180 میٹر*

3۔۔ انسان کا بچہ 👼🏻 پیدائش کے کتنے دن بعد ہنسنا 🤗 سیکھتا ہے۔۔؟؟

*1 مہینے بعد*
_*چھوٹے بچے دن میں لگ بھگ 300 بار ہنستے ہیں*_ 😊😇🤗

4۔۔ انسانی جسم کا وہ کونسا حصہ یا عضو ہے جو مضبوط عضلات سے بنا ہوا ہے ۔۔؟؟

*زبان 👅*

5۔۔ ایک عورت اپنی پوری زندگی میں کتنے بچوں کو جنم دے سکتی ہے ۔۔؟؟

*40 بچوں کو*

6۔۔ وہ کونسا جاندار ہے جو اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی بچوں کو پیدا کرتا ہے اور ساتھ ہی مرجاتا ہے ۔۔؟؟

*مادہ بچھو 🦂*
_*یہ جیسے ہی بچوں کو جنم دیتی ہے اسی وقت اسکے بچے اسکو کھا جاتے ہیں*_

7۔۔ وہ کونسا پھل ہے جسمیں 25 فیصد ہوا کرتی ہے ۔۔؟؟

*سیب 🍎*
_(سیب کو پانی میں ڈالنے پر وہ پانی پر تیرتا ہے)_

8۔۔ وہ کونسا جانور ہے جو کبھی کود (jump) نہیں سکتا۔۔۔؟؟

*ہاتھی 🐘*

9۔۔ رات میں آسمان پر سب سے زیادہ چمکنے والا تارا کونسا ہے ۔۔؟؟

*Sirius Star*
*_اسکو دیکھنے کے لیے سردی کے موسم میں رات کے اوقات میں شمال کی جانب دیکھئے_*

اپ پورا منہ شیشے کے سامنے کھول کر دیکھے تو حلق نظر آتا ہے. انگریزی میں اسکو uvula کہتے ہے. گوشت کے اس عجیب لٹکتے لوہتھڑے...
04/03/2021

اپ پورا منہ شیشے کے سامنے کھول کر دیکھے تو حلق نظر آتا ہے. انگریزی میں اسکو uvula کہتے ہے. گوشت کے اس عجیب لٹکتے لوہتھڑے کو سمجنے میں سائنس نے بہت عرصہ لیا.اسکا کام یہ ہے جب ہم کھانا کھاتے ہے تو نگلتے وقت یہ اوپر اٹھ کر سانس کی نالی nasal cavity کو بند کر دیتا ہے.خوراک کے جانے کے بعد یہ کھل جاتا ہے.اگر اس خوراک کا کوئی بڑا ذرہ اس نالی میں چلا جائے تو سانس بند ہو جائے گی.پھر بھی کبھی کچھ ذرات چلے جائے تو پیھپڑے ہوا کا تیز پریشر بنا کر باہر نکال دیتے ہے.جسے ہم چھینک کہتے ہے. اور اسی نظام اور امکانی خطرے سے بچاؤ پر ہم الحمدللہ کہتے ہے یعنی ہر قسم کی تعریف الله کے لیے ہے۔

16/01/2021

*انسانی خون اور اسکے اجزا*

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
‏السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

انسان کا خون جسم کی ہڈیوں کےاندر موجود گودے بون میرو Bone marrowمیں موجود خاص قسم کے اسٹم سیلز stem cells سے بنتا ہے. خون کے بنیادی طور پر دو حصے یعنی ایک وہ حصہ جو مائع یا پلازما Plasma اور دوسرا حصہ اس مائع میں موجود مختلف خلیات ہیں۔

پلازما Plasma :
پلازما ایک شفاف اورپیلاہٹ مائل پانی ہوتا ہے جس میں شوگر, چربی , پروٹین اور نمک کا سلوشن ہوتا ہے. اس کے ذریعے ہی خون میں موجود خلیے پورے جسم میں چکر لگاتے Circulate کرتے ہیں. پلازما میں تقریبا ً 90 فیصد پانی اور 10 فیصد خون کو جمانے والے پروٹین اور دیگر مادے ہوتے ہیں۔ پلازما میں تین طرح کے خلیات پائے جاتے ہیں۔سرخ ذرات Red blood cells, پلیٹیلیٹس Platelets, سفید ذرات White blood cells

سرخ ذرات Red blood cells:
خون کے سرخ خلیوں میں ایک خاص قسم کا جز ّ ہیموگلوبن ہوتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہ ہیموگلوبن آئرن(Haem) اور پروٹین(Globin) پر مشتمل ہوتا ہے۔خون میں آئرن Heam کی کمی ہی دراصل اینیمیا Anaemia یا خون کی کمی کہلاتی ہے۔

خون کے سرخ ذرات اوسطاً 120 دن تک زندہ رہتے ہیں. اسکے بعد بعد خون کے ذرات Reticuloendothelial System میں داخل ہو جاتے ہیں جو جگر، تلی(جسے سرخ خلیوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے) اور ہڈیوں کے گودے(Bone Marrow) پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ سسٹم ان خلیات کی توڑ پھوڑ کے بعد ان سے حاصل ہونے والے بعض مادوں کو دوبارہ استعمال میں لے آتا ہے اور بعض کو جسم سے خارج کر دیتا ہے۔

پلیٹیلیٹس platelets :
چوٹ یا اسکن کے پھٹنے کی صورت میں جب زخم سے خون بہنا شروع ہوتا ہے تو خون میں شامل خاص قسم کے خلئے خون کو روکنے کا باعث بنتے ہیں انہیں پلیٹیلیٹس platelets یا clotting cells کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ اور سفید ذرات سے سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں ,ان سیلز کا نیکلیس نہیں ہوتا اور یہ 8 سے 9 دن زندہ رہتے ہیں اور اس کے بعد یہ جگر اور تلی کے سیلز ان کو ختم کر دیتے ہیں.جسکی جگہ نئے سیلز لیتے ہیں جسم میں انکا خاص ratio برقرار رہتا ہے.

ان ذرات کا نارمل سے بڑھ جانا thrombocytosis کہلاتا ہے. جسکی وجہ سے خونیکی شریانیں خون جمنے سے بند ہو جاتی ہیں. خون میں ان کی نارمل تعداد 150,000 سے 450,000 فی مائکرو لیٹر خون ہوتی ہے. خون میں ان ذرات کی کمی thrombocytopenia بہت سی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے مثلا’’ مسوڑھوں سے خون آنا، جسم کے مختلف حصوں سے خود بخود خون کا بہنا وغیرہ۔

سفید ذرات White blood cells
خون کے سفید ذرات پانچ اقسام کے ہوتے ہیں جن کا بنیادی کام بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان میں سے بعض ذرات اینٹی باڈیز بناتے ہیں، بّعض ذرات بیکٹیریا، دوسرے خوردوبینی جانداروں اور ضعیف خلیوں کو نگل لیتے ہیں، بعض ذرات وائرس اور طفیلیوں(parasites) کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں اور بعض ذرات الرجی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خون کے سفید ذرات کا بنیادی کام جسم کے اندر بیماریوں سے لڑنا اور ان کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ سو خون میں سفید ذرات کا زیادہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ جسم میں کسی انفیکشن (بیماری) سے لڑ رہے ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے زیادہ تعداد میں پیدا ہو رہے ہیں یعنی یہ کہ جسم میں کوئی انفیکشن چل رہی ہے جس کی وجہ سے سفید ذرات زیادہ ہیں۔

خون میں سفید خلیوں کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے اور جسم مختلف اقسام کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایڈز کے مرض میں ایچ آئی وی وائرس جسم کے سفید خلیوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کی شدید کمی کا باعث بنتا ہے۔ اس طرح جسم کی قوتِ مدافعت تقریبا’’ختم ہو جاتی ہے ۔ خون کے سفید خلیوں کا دورانیہ حیات خون میں چند گھنٹے یا ایک دن ہے۔ بعض ذرات ٹشوز میں داخل ہو جاتے ہیں اور وہاں سال بھر زندہ رہتے ہیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

12/01/2021

اب نیٹ پیکج ختم ہونےپربھی بیلنس نہیں کٹےگا
پیکج نہ بھی ہواور ڈیٹا اَن ہوتب بھی بیلنس نہیں کٹےگا
Jazz *275 #
Warid *869 #
Zong *4004 #
Ufone *3344 #
Telenor *7799 #
وسعت ظرفی کامظاہرہ کرتےہوئےاپنےدوست احباب کیساتھ بھی شیئر کیجئےتاکہ وہ بھی اِس سےفائدہ اُٹھاسکیں.

28/12/2020

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

*دفعہ 295-A کسی مذہب کی توھین کرنا
*دفعہ 295-B قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C توھین رسالت
*دفعہ 298-A توھین صحابہ
* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔*

Address

Chak No. 4/A, Tehsil Liaquatpur, District Rahim Yar Khan
Liaquatpur
64000

Telephone

00923062119074

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when General Knowledge All in ONE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to General Knowledge All in ONE:

Shortcuts

Share

Category