19/03/2026
📢 رجسٹریشن جاری ہے!
🌹 حفاظ ایجوکیشن سسٹم
📍 جامعہ شیخ الہند، نزد الخدمت چوک لیہ
👈 کیا آپ کا بچہ حافظِ قرآن ہے؟
اور آپ چاہتے ہیں کہ وہ:
✔ عربی اور انگلش جیسی عالمی زبانوں میں مہارت حاصل کرے؟
✔ قرآنِ کریم کا ترجمہ خود سمجھنے کے قابل بنے؟
✔ سینکڑوں احادیث مبارکہ یاد کرے؟
✔ قرآن کریم کی تجوید و تلفظ میں مہارت حاصل کرے؟
✔ دینی تعلیم کے ساتھ میٹرک (سائنس) بھی مکمل کرے؟
✔ جدید کمپیوٹر اسکلز سیکھے؟
✔ اردو، عربی اور انگلش میں پُراعتماد تقریر کر سکے؟
💫 تو پھر انتظار کس بات کا؟
🎯 حفاظ ایجوکیشن سسٹم آپ کے بچے کو
دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج فراہم کرتا ہے
اور اسے ایک کامیاب، باکردار اور باصلاحیت انسان بناتا ہے۔
📞 رجسٹریشن کے لیے ابھی رابطہ کریں:
03006361013
01/12/2025
کتنی محرومی کی بات ہے کہ پورا دن دوسروں کے ساتھ گپ شپ، کھانے پینے، دوستوں سے کال میسج پر بات کرنے، دعوتیں اڑانے، میچ ، ڈرامے اور فلمیں دیکھنے، صبح سے شام تک مزدوری کرنے، گھر کے برتن اور کپڑے دھونے، شاپنگ کرنے، آفس ورک اور فیملی کے مسائل میں مصروف گزر جائے اور قرآن کی ایک آیت بھی نہ پڑھ سکیں۔
کیسے سمجھاؤں کہ یہ کتنا بڑا خسارہ ہے؟ اپنے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے؟ خیر و برکت سے کتنی دوری ہے؟
قرآن کریم کے ساتھ گزرا ہر لمحہ نور ہے، ہر آیت دل کو زندہ کر سکتی ہے، ہر جملہ درد کو مٹا سکتا ہے، ہر لفظ یقین اور ہمت پیدا کر سکتا ہے، ہر زبر زیر پیش ٹھہری ہوئی زندگی میں حرکت پیدا کر سکتی ہے۔ تو پھر یہ دوری کیسی؟
کیا آپ کو
روح کی زندگی
دل کی روشنی
اعمال میں ثابت قدمی
تنہائی میں خوفِ خدا
عبادت میں احسان
معاملات میں تقوی
غموں میں دلاسہ
ناامیدی میں امید
مشکلات میں سیدھا راستہ
انبیاء کرام کی صحبت
ربِ محبت کی معرفت
زندگی کے معاشرتی آداب
تربیتِ اولاد
دین و دنیا میں توازن
دین کی اصل تصویر
شرور سے پناہ
خیر سے آگاہی
آخرت کی تیاری
صبر و شکر کی حقیقتیں
اللہ کی معیت و محبت
حقوق العباد کی سمجھ
دعا کا سلیقہ
شیطان کی نفسیات
زندگی کا ویژن
اور اس طرح کے سینکڑوں اعمال نہیں چاہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی زندگی ایسے گزرے جیسے ربِ محبت چاہتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آج ہی سے قرآن کو اپنا لائف پروجیکٹ بنائیں۔ یہ آپ کو اتنی برکت دے گا کہ صبح شام آپ کی جھولی خیر سے ہری اور بھری رہے گی۔
محمد اکبر
یکم دسمبر 2025ء
27/11/2025
1- علم کے لیے وقار، سکون، اطمینان، تدبر اور غور و فکر لازمی صفات ہیں۔ جلد بازی، ہیجان انگیزی اور بے کار کاموں/ باتوں میں مشغولیت کے ساتھ انسان علم کے صحیح ذوق سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔
2- سمارٹ فون موجودہ دور میں علم کے لیے بڑی آفتوں میں سے ایک ہے۔ رسمی طالب علمی کے زمانے میں جس کسی نے خود کو سمارٹ فون کے استعمال سے بچا کر پوری توجہ سے تحصیلِ علم اور مطالعہ و تحقیق میں لگائے رکھا، وہ اس دور کے خوش قسمت ترین انسانوں میں سے ہے۔
3- طالبِ علم جس ادارے میں زیر تعلیم ہو، اگر اس کے قواعد و ضوابط کی رو سے سمارٹ فون کا استعمال ممنوع ہو تو شرعاً بھی اس ضابطے پر عمل کرنا لازم ہوگا۔
4 - رسمی طالب علمی کے بعد بھی اس کا استعمال بہت سمجھ داری کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے بے ہنگم بہتے دریا میں اپنے ذوق و مزاج کو گدلا ہونے سے بچانے کی فکر مندی ہر وقت ہمارے دل و دماغ میں ہونی چاہیے۔ انسان کے مزاج و مذاق پر یہاں کی فرینڈ لسٹ اور فالونگ لسٹ کی صحبت کا اثر بہت تیزی کے ساتھ غیر محسوس طریقے سے ہوتا ہے، اسے پتا نہیں چلتا اور اس کی شخصیت کی تشکیل ایسے انداز سے ہو رہی ہوتی ہے جو اس کے مقاصد سے میل نہیں کھاتی، جس کا نتیجہ شاہ راہِ علم گم کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
الله تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
( عبد الله ولی )
26/11/2025
اس دور میں ایسے جوانوں کی ضرورت ہے جو:-
1 - دعوتِ دین اور علمِ دین کی نشر و اشاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں۔
2 - سیرت و صورت دونوں میں نبی کریم صلی الله علیه وسلم، صحابۂ کرام رضوان الله علیہم اجمعین اور اپنے اسلاف و اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی پوری کوشش کریں اور اس کے لیے الله تعالیٰ سے مانگیں۔
3 - غیر ضروری طور پر اختلافات، بحث مباحثوں اور ادھر ادھر کے بے کار کاموں میں اپنی صلاحیتیں خرچ نہ کریں۔
4 - اپنے زمانے کے حالات، تقاضوں اور کام کے اسلوب سے واقف ہوں۔ نیز شستہ اور شائستہ لب ولہجہ میں بات کرنے اور لکھنے کا ہنر جانتے ہوں۔
5 - امتِ مسلمہ کے مسائل اور کمزوروں کی داد رسی ان کی ترجیحات میں نمایاں ہو۔
6- مختلف حالات، کیفیات اور مشکلات ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکیں۔
7 - خود نمائی کے دل دادہ نہ ہوں۔
8 - دولت، شہرت اور تعلقات کی رنگینیاں ان کے دینی تشخص اور وقار کو مجروح نہ کر سکیں۔
9 - اپنے اسلاف کے ساتھ مضبوط علمی، ذہنی اور قلبی وابستگی رکھتے ہوں اور آئے روز پیدا ہونے والے بیانیوں اور مدعیوں کی اقتدا نہ کرتے ہوں۔
الله تعالیٰ ہم سب کو ایسا بنادے اور اپنی رضا کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(عبد الله ولی)
18/11/2025
پیارے بھائی مولانا ابوذر صاحب کی طرف سے محبت و خلوص کا تحفہ
12/10/2025
اللہامی تعلیمی فلسفہ – مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانیؒ کے افکار کی روشنی میں
✍️: مولانا جاوید عمران عزیز
فاضل: جامعہ دارالعلوم کراچی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کا تاج پہنا کر اشرف المخلوقات بنایا۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کی پہلی وحی کا آغاز "اقرأ" سے ہوا، یعنی تعلیم ہی انسانی کمال کی بنیاد ہے۔
حضرت مفتی محمد رفیع عثمانیؒ فرمایا کرتے تھے کہ:
"تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں، بلکہ انسان کی شخصیت کی تکمیل اور اس کے اندر خوفِ خدا اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔"
اگر تعلیم سے انسان کے اندر عدل، دیانت، قربانی، اخوت اور بندگی پیدا نہیں ہوتی،
تو وہ تعلیم نہیں، محض معلومات کا انبار ہے۔
نصاب میں تبدیلی کی ضرورت
آج کے اداروں میں علم کا محور مارکیٹ ویلیو بن چکا ہے،
جبکہ اسلامی تصورِ تعلیم میں اصل محور اللہ کی رضا ہے۔
حضرت مفتی صاحبؒ فرماتے تھے کہ:
"ہمارے نصاب میں ایسی تبدیلی درکار ہے جو عقل و فکر کے ساتھ قلب و روح کی اصلاح کرے۔"
یعنی تعلیم میں توازن ہو:
عقل اور وجدان کا،
سائنس اور شریعت کا،
دنیا اور آخرت کا۔
مشترکہ مسلم تعلیمی نصاب کی اہمیت
جب ۲۸ مسلم ممالک کے اعلیٰ افسران ایک جگہ جمع ہوں
اور تعلیم کے فلسفے پر گفتگو ہو،
تو یہی احساس پیدا ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کو ایک مشترکہ فکری سمت درکار ہے۔
حضرت مفتی رفیع عثمانیؒ کے نزدیک
"مسلمان ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسا نصاب مرتب کریں
جو قرآن و سنت کی بنیاد پر جدید علوم کو اسلامی اقدار کے ساتھ جوڑ دے۔"
این ڈی یو جیسے ادارے اگر اس روح کو سمجھ لیں،
تو یہ صرف دفاعی نہیں، فکری محاذ بھی بن جائیں گے۔
تعلیم کا اصل مقصد
قوم کو مسلمان بنانا ہے،
یعنی ایسا انسان جو علم کو امانت سمجھے اور اسے بندگیِ الٰہی کے لیے استعمال کرے۔
اسلامی تعلیم کا فلسفہ یہ ہے کہ علم کا مقصد انسان کی تربیت، روح کی تطہیر، اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا حصول ہے۔
نصاب میں تبدیلی کا مطلب محض موضوعات کی تبدیلی نہیں بلکہ روحِ تعلیم کی بحالی ہے۔
20/08/2025
🌟 دین دار، ہنر مند – روشن مستقبل 🌟
ادارہ میں بچوں کو صرف دینی اور عصری تعلیم ہی نہیں بلکہ کمپیوٹر کورس کی عملی تربیت بھی دی جارہی ہے۔
تاکہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک بہترین مسلمان اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیاب فرد بن سکیں۔
📚 دینی و عصری تعلیم
💻 کمپیوٹر مہارت
🌍 کامیاب مستقبل
🎯 ہمارا مقصد🎯
ایسے رجال کار تیار کرنا جو دورِ جدید کے تقاضوں کا بھرپور سامنا کرسکیں
اور رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔
اسلامی ماحول میں طلبہ کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر
اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی اور ترجمانی کرسکیں۔