AIOU Past paper s

AIOU Past paper s

Share

AIOU Past paper or job ads available at this page

27/04/2021

Welcome to all members

03/04/2021
OIS Capital - The revolution is here! 1 BTC lottery + 10$ for registration. 07/02/2021

https://youtu.be/Q1sIUBLF2zY

Joining link
https://ois.capital/?upline=15805

Get 10$ free bonus after registration

نیو سائٹ لانچ ہونے والی ہے
رجسٹر ہو جایئں ۔۔
اپ کا یوزر نام پسوورڈ اور ریفرل لنک gmail مل جائے گا

Just link py click kren or email add kren apna...apko email py username or password send krdengy..website abhi launch nh hui..inshaAllah aj launch hogi

OIS Capital - The revolution is here! 1 BTC lottery + 10$ for registration. OIS Capital PTY LTD (ACN: 647 342 710)25 Restwell Street, Sydney, NSW 2200Australian profit making company, APRA approved.The revolution is here. Cryptocurre...

Photos from AIOU Past paper s's post 03/02/2021

BZU MULTAN
Date sheet for MA/MSC part 1 supplementary exam 2019 & annual exam 2020 commencing 13.02.3.2021

01/02/2021

پاکستان sui gas میں جاب کا بڑا اعلان ہو چکا ہے خواہشمند حضرات جو قابلیت رکھتے ہوں اپلائی کریں

اس پیج کو لائیک اور شئیر کرنا ہر گز نا بھولیں

01/02/2021

پاکستان آرمی میں "ملٹری انجینرنگ سروسز" میں جاب کا بڑا اعلان ہو چکا ہے خواہشمند حضرات جو قابلیت رکھتے ہوں اپلائی کریں

اس پیج کو لائیک اور شئیر کرنا ہر گز نا بھولیں

31/01/2021

Well com to all

31/01/2021

👆must watch and act upon please

27/01/2021

حضرت لعل شہباز قلندرؒ سرکار تشریف لے جا رہے تھے تو ایک ریچھ کو نچانے والا نظر آیا۔ پوچھا تم کون ہو تو بولا قلندر۔ اس دور میں ریچھ نچانے والے کو بھی قلندر کہتے تھے۔

آپؒ بے اختیار مسکرا دیے۔ یہ بات اس ریچھ والے کو پسند نہی آئ۔ کہنے لگا آپ کون ہیں۔ فرمایا میں بھی قلندر ہوں۔ کہنے لگا آپ کیسے قلندر ہیں نا آپ کے پاس ریچھ نہ ڈگڈگی تو تماشہ کیسے دکھائیں گے۔ فرمایا پہلے تم دکھاؤ پھر میں دکھاتا ہوں۔

ریچھ والے نے ڈگڈگی بجائ اور ریچھ کھڑا ہو کر ناچنے لگا۔ اس نے کہا اب آپکی باری۔

حضرت لعل شہباز قلندر رح دو درختوں کی ٹہنیوں پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا نیچے سے گذر جاؤ مگر یاد رکھنا آگے جانا مگر واپس کبھی مت آنا۔

جیسے ہی وہ نیچے سے گذرا ماحول ہی بدل گیا۔ نہ وہ سورج کی گرمی نہ گرد و غبار جہاں تک نظر دیکھے خوبصورت پہاڑ سبزا وادیاں۔ نہ موسم گرم نہ ٹھنڈا۔ ابھی اسی سوچ میں ہی تھا کے دیکھا ایک عظیم لشکر سپاہیوں کا گھوڑوں پر سوار تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ گھبرا گیا کے آج تو جان گئ۔

پاس پہنچ کر لشکر رکا اور سپہ سالار آگے بڑھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ۔

سپہ سالار بولا: بادشاہ سلامت آپ کہاں غائب ہو گئے تھے۔آپ کی سلطنت آپکا انتظار کر رہی ہے اور ملکہ عالیہ کارو رو کے برا حال ہے۔

اب وہ حیران پریشان شاہی گھوڑے پر سوار ہو کر ساتھ چل دیا۔ جب محل پہنچا تو عظیم الشان امارت دیکھ کرحیران۔ اندر داخل ہوا تو خوب صورت ملکہ گلہ شکوہ کرتی لپٹ گئ۔ کہاں رہ گئے تھے آپ۔سب بھول کر نہا دھو کے شاہی پوشاک پہن کر تخت پر بیٹھ گیا۔

سالوں گذر گئے۔بچے ہوئے پھر شہزادے بڑے ہو گئے۔ بڑھاپا آ گیا جسم سے جان منہ سے ذائقہ چلا گیا۔ ایک دن اپنی سلطنت میں دریا کے کنارے بیٹھے خیال آیا کہ آخر ہوا کیا تھا۔

اسی جستجو میں وہیں پہنچا جہا پر لشکر تھا تو دیکھا وہ درخت اب بھی موجود ہیں۔ سوچا چلو دیکھتے ہیں کیا اور درخت کے بیچ سے گذرا۔ ماحول بدل گیا۔وہی وقت وہی مقام سامنے اسکا ریچھ اور ڈگڈگی پڑی ہے وہی گرمی وہی گرد و غبار۔

پیچھے دیکھا تو حضرت لعل شہباذ قلندرؒ سرکار کھڑے تھے۔ اس کی حالت غیر ہو گئ بولا جناب میری سلطنت میری ملکہ میرے شہزادے۔۔ تو آپ نے فرمایا سب تماشہ تھا۔

💦💦💦💦 💦💦

Want your school to be the top-listed School/college?

Telephone