24/04/2025
Star online and home tution
For education. for best future . what's app only.
24/04/2025
For examples,-Use of Can
Can is used to show ability or your choice of doing something. For example, you have the ability to drive a car. You can say: I can drive a car. But at the same time, if you are not willing to drive, you can say: I can’t drive at the moment.
Structure: Subject + Can + Verb (i) + Object
I can speak English.
I can buy a lot of things.
I can buy some pencils.
I can write a story.
I can read a book.
Now, use different verbs for a healthy practice. For instance, learn, cook, play, jump, teach, see, watch, paint, break, run, go, come, eat, drink. For complete series, kindly visit the link below.
I can paint ______________________________.
I can break ______________________________.
I can drink ______________________________.
I can see ______________________________.
I can watch ______________________________.
Spoken English Activity
It is also used for permission [informal]. Use first form and construct the dialogue. For example, can I sit/go/speak/eat/meet etc.
A: Can I meet Mr. John?
B: _____________________.
A: Can I help you?
B: _____________________.
A: Can you tell me?
B: _____________________.
A: Can you go with me?
B: _____________________.
A: Can you cook something for me?
B: _____________________.
A: Can I speak to you?
B: _____________________.
A: Can I ask a question?
B: _____________________.
A: Can you suggest something to me?
B: _____________________.
انگریزی ایک زبان ہے اور صرف مشق سے سیکھی جا سکتی ہے۔ بچے زبان سیکھنے کی تیز ترین عمر میں ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے نازک دور میں ہوتے ہیں۔ 7 سے 14 سال کی عمر تک، وہ متعدد زبانیں سیکھ سکتے ہیں لیکن زیادہ تر والدین انہیں زبان کے مواد کو حفظ کرنے میں مشغول رکھتے ہیں۔ انہیں زبانیں بطور ہنر سکھائی جائیں۔
English is a language and can only be learnt by practice. Kids are at the fastest age of learning a language as they are in their critical period. From the age 7 to 14, they can learn multiple languages but most of the parents engage them in memorizing language content. They should be taught languages as a skill.
معزز_اساتذہ_کرام /طلباء/والدین قابل احترام پبلک فوری متوجہ ہوں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔
پنجاب بورڈز نے اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔براہ کرم نوٹ فرما لیں۔
1.پہلے میٹرک کے امتحان میں تین مضامین میں فیل کو مکمل فیل تصور کیا جاتا تھا۔اور طالب علم کو نہم اور دہم دونوں کے سارے پرچے واپس دینا پڑتے تھے۔جبکہ اس بار وہ جتنے بھی مضامین میں فیل ہے وہ ان کا سپلی میں پیپر دے سکتا ہے۔
2.سپلی کا داخلہ بھیجنے کی آخری تاریخ 12 ستمبر 2022 ہے۔جو لوگ داخلہ بھیجنا چاہتے ہیں وہ آن لائن بورڈ کی ویب سائٹ سے داخلہ بھیجیں اور فارمز کا پرنٹ لے کے،حبیب بنک کی کسی بھی شاخ میں فیس جمع کرائیں۔ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر سے تصدیق کرا کے فارم بورڈ کے پتے پر بھیج دیں۔(پتہ فارم پر درج ہو گا)
3.سپلی کے ایگزامز میں فیل ہونے والے طلبا 2023 سالانہ اور پھر 2023 کے سپلی میں دوبارہ اپنے فیل شدہ پیپر کلئیر کر سکتے ہیں۔البتہ ان تین چانسز میں وہ پیپر کلئیر نہیں کر پاتے تو انہیں نہم دہم کے سارے پرچے واپس دینا ہوں گے۔
4.. سپلی کے امتحانات کو اب second annual exams کا نام دیا گیا ہے۔اب ان میں فریش طلبا یعنی جنہوں نے کبھی نہم دہم کے پیپر نہیں دئیے وہ بھی پیپر دے سکتے ہیں۔
5.سپلی کے پیپرز کا آغاز 6 اکتوبر 2022 سے ہو رہا ہے۔تو جو لوگ داخلہ بھیجنا چاہتے ہیں،بھیج دیں اور ایک ماہ میں اپنی تیاری مکمل کر لیں۔اگر آپ پیپر پیٹرن کو مد نظر رکھ کے تیاری کریں تو ایک ماہ میں باآسانی تیاری کی جا سکتی ہے۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
23/06/2022
Class 10 ka Koi b students aaj practical first batch me ni aya ..Jis b school k students hain wo kindly govt high school fatehpur centre pay contact karen ??
[سٹوڈنٹس اور اساتذۂ کرام پوسٹ لازمی پڑھیں اور پوسٹ کے متعلق اپنی رائے سے آگاہ ضرور کریں]
💠 صرف پڑھائی شڑھائی کسی کام کی نہیں ہوتی
💠 میرے سامنے ایک نہیں بے شمار مثالیں ہیں۔ ساری زندگی اولاد کو بتایا گیا کہ بیٹا پڑھو گے تو اچھی زندگی گزارو گے، اچھی نوکری ملے گی، اچھا مستقبل ہو گا،
بڑی گاڑی ہو گی، عیاشی ہو گی،
مٹی تے سواہ! ........
بچے نے بی اے کیا، ایم اے کیا، ایم فل کر لیا اور بعض اوقات تو پی ایچ ڈی کر کے بھی جو نوکری حاصل کی اس میں اتنی تنخواہ نہیں بنی کہ صرف گھر کے بل ہی ادا ہو جائیں۔
لمبی چوڑی گپوں کی بجائے سیدھی بات یہ کہ پڑھائی کے اس وقت دو لیول ہیں۔
ایک وہ جو غریب کا بچہ حاصل کرتا ہے، دوسرا وہ جو امیر ترین ماں باپ افورڈ کر سکتے ہیں۔ بہت ہی کوئی آسمانی کرم ہو توغریبوں کی پڑھائی انہیں وہ سب کچھ دلا سکتی ہے جس کا خواب ان کے ماں باپ دیکھتے اور دکھاتے ہیں ورنہ ککھ نہیں ملتا سوائے ڈپریشن کے۔
آپ کسی بھی سرکاری یونیورسٹی سے ایم اے کر کے کیا لگ سکتے ہیں؟ جو بھی لگے اور جہاں بھی لگے، کتنی تنخواہ ہو گی؟ کیا اس میں گھر چلا سکیں گے؟ ہاں ویسے ہی روتے دھوتے، جیسے پچانوے فیصد پاکستانی چلاتے ہیں۔
امیر کا بچہ ادھر فُل انگریزی تعلیم تو لے گا ہی اور اس پر آخری مہر لگوانے امریکہ یا برطانیہ میں کسی ورلڈ کلاس یونیورسٹی کا منہ کرے گا۔
زیادہ تر تو وہیں نوکری کر لیں گے، جو ادھر لینڈ کریں گے ان کے ماں باپ، چاچا، ماما انہیں پہلے سے ہی سیٹ کرانے کا بندوبست کر چکے ہوں گے۔
وہ سیدھا جا کے ہیڈ آف فنانس، ایچ آر ہیڈ، ہیڈ آف کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ یا کوئی بھی ایسی سیٹ سنبھال لیں گے جہاں بیٹھ کر اپنے سے جونیئر پچاس، پچاس سال کے بابوں کی پریزنٹیشنز سنیں اور جو اچھی لگے اسے اپنا فیصلہ بنا کے آگے بڑھا دیں۔
ایسا صرف آپ کے یہاں نہیں ہو رہا، دنیا کا یہی دستور ہے۔ پڑھائی اگر اعلیٰ ترین لیول کی ہے تو ساتھ سفارش بھی تگڑی ہونی چاہیے ورنہ کوئی حسین اتفاق ہی آپ کو خوابوں کی نوکری دلوا سکتا ہے،
یا پھر بیس، پچیس سال رگڑا کھانے کے بعد جب خواہش نہیں رہتی تو چیزیں خریدنے کے پیسے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔
وہ بیس سال کہاں سے آئیں گے جو عمر کے بہترین سال تھے اور جو دیسی ڈگریاں لینے والے نے خواریاں کاٹ کے گزار دیے؟
اب آپ نے مثالیں دینی شروع کر دینی ہے ۔۔۔
سی ایس ایس کرنے والوں کی،
کسی ماہر معیشت دان کی،
کسی نوٹ چھاپ استاد کی، ایک آدھے کماؤ مصنف کی، پندرہ بیس کامیاب ٹی وی اینکروں کی،
دو تین سو ٹاپ بینکروں کی، ٹھیک ہے۔
ایسے لوگ کتنے ہوں گے؟ بائیس کروڑ میں سے دس ہزار؟ بیس ہزار؟ اور پھر ان میں سے کتنے ہوں گے جو اردو میڈیم اور سرکاری اداروں میں ساری زندگی پڑھا اور پھر کسی اچھی کمائی والی سیٹ تک پہنچ گئے؟
ایسے نہیں ہوتا یار۔
نوکریاں دینے والے تھال میں لے کے نوکریاں نہیں بانٹتے اور اسی طرح نوکریاں چاہنے والے عام بچے اتنے قابل نہیں ہوتے کہ وہ سیدھے کسی اچھی جگہ جا کر معزز قسم کی تگڑی تنخواہ والی نوکری حاصل کر سکیں۔
اس کا حل کیا ہے؟
سب سے پہلا حل تو یہ کہ بچے کے دماغ میں ڈالیں کہ بیٹا پڑھائی کے ساتھ اپنا کوئی بھی کام شروع کرو۔ کچھ بھی کرو۔ کسی کپڑا بیچنے والے کی دکان پر جا کے بیٹھو، موٹر سائیکل والے کی ورکشاپ میں پارٹ ٹائم مفت نوکری کرو، پیسے مت لو بس کام سیکھو، کچھ نہیں ہے تو کریانے کی دکان چلانے کا تجربہ لو،
کسی ریڑھی والے کے ساتھ ڈیوٹی دو کہ تمہیں پھل فروٹ یا سبزیاں بیچنے کی ڈائنامکس سمجھ آ جائیں،
دودھ دہی کے کام کی سائنس سمجھو،
کمپیوٹر یا موبائل ٹھیک کرنا سیکھو، گاڑیوں کا کام سیکھو، کچھ بھی کرو اتنا سیکھ لو کہ کل کو اپنا کام شروع کر سکو۔
بچیاں ہیں تو مہنگی فیشن ڈیزائنگ کی بجائے خواتین درزنوں کے پاس کام سیکھیں، بیوٹی پارلر کے سستے کورسز لیں، آن لائن کام کرنا سیکھیں، پراپرٹی ڈیلنگ سیکھیں، شوروم کا کام سیکھیں،
گھر میں کھانے بنانے آتے ہوں تو انہیں دفتروں میں لنچ ٹائم پر بھیجنے کا بزنس سوچیں،
کپڑوں کی ڈیزائنگ کر کے انہیں آگے بیچیں، اور کچھ نہیں تو ڈرائیونگ سیکھ لیں، اوبر، کریم بھی کچھ نہ کچھ پیسے دے جاتی ہیں۔ یہ سب کیوں کریں؟ قسم خدا کی، عام بی اے، ایم اے کیا ہوا بچہ ہرگز اس قابل نہیں ہوتا کہ مقابلے بازی کے اِس دور میں کسی اچھی جگہ فٹ ہو جائے۔
قصور اس کا نہیں ہوتا، مسئلہ تعلیم کے اعلیٰ ترین معیار سیٹ ہونے کا ہے۔
کورس کی کتابیں کم از کم مجھے آج تک کچھ نہیں سکھا پائیں۔ چاند میری زمیں پھول میرا وطن یاد ہے۔ ون کلاس والا شی از سارا خان، ہی از ہادی، شی از ٹال، ہادی از شارٹ یاد ہے۔ دس تک پہاڑے یاد ہیں، غالب اور مینائی کی مشکل شاعری یاد ہے، مسٹر چپس کا ناول یاد ہے، قانون تقلیل افادہ مختتم، ذواضعاف اقل اور عاد اعظم یاد ہے ۔۔۔۔
لیکن کیا یہ سب علم کوئی ایسی نوکری دلا سکتا ہے جو قابل ذکر ہو؟ جس میں گھر چلتا ہو؟ اگلے آکسفورڈ اور کیمبرج کے جدید ترین کورس پڑھ کے آئے ہوتے ہیں، اردو میڈیم سرکاری ادارے کے بچے کو آخر کوئی کیوں پوچھے گا بھائی؟
اس کی عزت نفس مرنے سے پہلے اسے ایک ہنر کا تحفہ ضرور دیں۔ کسی بجلی والے سے پوچھ لیں ماشاللہ ایک سیزن میں کتنے پیسے کماتا ہے اور اس کے بعد دماغ جگہ پر لائیں۔
ایک جواب یہ ہوتا ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کے اچھا آدمی بنے گا۔ کیا ہوتا ہے اچھا آدمی؟ مہذب؟ تہذیب یافتہ؟ سوری! کورس کی کتابیں ہرگز وہ نہیں بناتیں۔ وہ کام یا تو گھر کی تربیت سے ہوتا ہے یا صرف لٹریچر پڑھنے کے نتیجے میں بندہ تھوڑا تمیزدار ہو جاتا ہے۔
تمیزدار بھی کیا، اصل میں ادب یا لٹریچر انسان کو ڈرپوک بنا دیتا ہے۔ وہ کچھ کرنے کی بجائے اس کے فلسفوں میں الجھا رہتا ہے، پریکٹیکل نہیں رہتا۔ ان پڑھ کیا اچھے آدمی نہیں ہوتے؟ اور کیا اچھے آدمی سے مراد آپ صرف بیبا بندہ لیتے ہیں یا وہ انسان جو چوکھے نوٹ کمانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو؟ اچھا آدمی آخر معاشی طور پر مطمئن بھی تو ہونا چاہیے نا؟
تو بی اے، ایم اے ضرور کرائیں بچوں کو, لیکن ان کے دماغ میں ڈالیں کہ اپنا کام کرو۔ کچھ بھی کرو۔ سوئی دھاگے اور بٹن بیچو یا قصائی بن کے گوشت بیچو۔
سب سے بڑا ظلم پتہ ہے کہاں ہوتا ہے؟ باپ کی ورکشاپ ہے، بیٹا کہتا ہے میں پڑھ کے یہ کام کروں؟ کپڑے گندے کروں؟ باپ تمباکو کا کام کرتا ہے، بیٹے کو کپڑوں میں بو آتی ہے۔ باپ مچھلی منڈی کا بیوپاری ہے، ماں کہتی ہے بیٹے سے بھی یہی بساند آئے گی۔
باپ قصائی ہے، شہر کے مرکز میں دکان ہے، بیٹا نہیں سنبھالتا کہ گھن آتی ہے۔ باپ کباڑیا ہے، لوہے کے سکریپ کا بزنس کرتا ہے، بیٹا پڑھ لکھ کے سفید قمیص پہننے کے نشے میں رہتا ہے۔
باپ کی نرسری ہے، بیٹے کو باپ مالی لگتا ہے، مٹی سے کام لینے والا میلا آدمی لگتا ہے۔ ابے ناشکرو، اس سے تمہارا گھر چلتا تھا، تمہاری شادیاں ہوئیں، تمہارے گھر کے اے سی چلتے ہیں، یہ زمین جس پر بیٹھے ہو یہ اسی کاروبار سے آئی، تم لوگ اس سے بھاگتے ہو؟ ساری زندگی بھی نوکریاں کرتے رہو تو لاکھ میں سے ایک ہو گا جو اتنا کمائے گا جتنا باپ اب کماتا ہے۔ بندے بنو یار قسمے!
دیکھیں خواب دیکھنے کا حق سب کو ہے۔ بچوں کو پڑھائیں، لکھائیں لیکن ان کے ہاتھ مت توڑیں۔ بچے کا اور اپنا دماغ ریٹائر مت کریں۔ اسے بچپن سے بتاتے رہیں کہ پتر کام سیکھے گا تو ہی سکون میں رہے گا ورنہ دھکے ہیں۔
پڑھائی شڑھائی میں کچھ نہیں رکھا بس اردو انگلش پڑھنے جوگی سیکھ لے، تھوڑی بہت بولنی آتی ہو، انٹرنیٹ سے کام لینا آتا ہو، بہت کافی ہے۔ ضرورت پڑے گی تو بزنس کے لیے چائنیز بھی سیکھ لے گا۔
اب جو مرضی آئے کریں۔ اپنے تو سفید بالوں کا نچوڑ یہی تھا۔، یہ ایک شیشی۔ دو دو روپے، دو دو روپے، دو دو روپے..
وسلام۔۔۔
19/06/2022
Clarification /University stance
The malicious campaign by some quarters regarding affiliation is strongly refuted. In fact in the said letter some deficiencies were pointed out which have been fulfilled. The affiliations have been confirmed by a Sub Committee of syndicate chaired by Justice (Rtd) Younas Taheem (representative of PHC) and comprising members from HED and Establishment department. The syndicate approved the recommendations in its meeting held on May 20, 2022. Moreover, the alerts issued are fake and the University reserves right to take legal action against them. Spokesman university of lakki marwat
21/05/2022
paper cancel 2nd time physics
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Chak 98 ML Tehsil Karor District Layyah
Layyah