24/09/2026
چند دن پہلے ہمارے شہر کی جامع مسجد میں سکھر سے مدرسے کے ایک سفیر آئے تھے، چہرے پر داڑھی ، سر پر پگڑی، 40 سال تک ان کی عمر تھی
چہرے سے لگتا تھا کہ حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔
عموماً سفیر حضرات مدرسے کی اسناد وغیرہ دکھا کر مدرسے ہی کے لیے چندے کی اپیل کرتے ہیں، مگر انہوں نے ہمارے خیال کے برخلاف کھڑے ہو کر اپنا دکھڑا سنانے لگے کہ: ’’میرے گھر میں بیٹیاں ہیں جو شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی ہیں ، میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں
میری ماہانہ تنخواہ 12 ہزار ہے حالات بہت تنگ ہیں، مجھے اپنی بیٹیوں کی شادی کروانی ہے میری مدد کیجیے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص سالوں سے مدرسے میں خدمت انجام دے رہا ہے، اس نے اپنی عمر اسی میں گنوادی ، مہتمم کے بچوں کو بھی پڑھا کر عالم بنادیا ، مگر اس مہنگائی کے زمانے میں بھی اس کی تنخواہ صرف
12 ہزار ؟
کیا اس کے بچے نہیں ہیں ؟ بیوی نہیں ہے ؟ بیماری ، شادی ، اور میل جول نہیں ہے ؟
اس کی خواہشات نہیں ہیں ؟ اگر ہیں تو وہ ان بارہ
ہزار سے سب کیسے پورا کرے ؟
اس کے علاوہ ایسے لوگوں کا اپنا کوئی کاروبار یا کوئی اور ذریعۂ معاش بھی نہیں ہوتا۔
ایسے لوگ اپنی ساری عمر مدرسے کو دے دیتے ہیں، پھر مدارس کے مہتممین ایسے لوگوں کا خیال کیوں نہیں رکھتے؟
خود وہ اور ان کی اولادیں تو بڑی عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں
مگر ان کے مدرسہ کا استاذ اس عمر میں بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے
اگر مہتممین ان غریب مدرسین کے لیے اچھی تنخواہ کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر ضروریات کا بھی مناسب انتظام کریں تو ان لوگوں کو در در کے دھکے کھانے نہ پڑیں ۔
یہ صرف ایک سفیر اور مدرس کی کہانی تھی
اور نہ جانے کتنے حافظ اور مولوی ہوں گے جو آٹھ، دس ہزار پر زندگی کے ستم سہہ رہے ہوں گے۔
اگر آپ کے اردگرد بھی ایسے لوگ رہتے ہوں تو ان کی ضرور مدد کیجیے
اس سے اللہ تعالیٰ آپ کو بڑھا کر دے گا
یہ لوگ اپنے حال اور اپنے مستقبل کو قربان کرتے ہیں، ہمارے بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کیلیے ،
جب اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے ان اہل علم کا ضرور خیال رکھیے ۔
فاروق احمد جتوئی
چوہڑ جمالی