20/01/2026
ہال میں ایک وقت تھا
جہاں علم، کردار اور وقار کو سراہا جاتا تھا،
Best Student of the Year اور Position Holders ہمارے رول ماڈل ہوتے تھے،
اور Speech Competitions ذہنوں کی تربیت کیا کرتی تھیں۔
مگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے
کہ یہی تعلیمی ادارے اخلاقی زوال کی مثال بنتے جا رہے ہیں۔
ہم سب گواہ ہیں کہ
پشاور کی یونیورسٹیوں میں اس سے پہلے
اساتذہ کی جانب سے طالبات کے ساتھ شرمناک جرائم جیسے واقعات سامنے آ چکے ہیں،
جہاں اعتماد کو روند دیا گیا،
اور تعلیمی رشتے کو پامال کیا گیا۔
جب تعلیمی اسٹیج پر
بےحیائی، ماڈلنگ اور غیر اخلاقی نمائش کو عام کیا جائے گا،
جب طالبات کو ایسے ماحول میں دھکیلا جائے گا،
تو پھر یہی ماحول
بیمار ذہنوں، غیر ذمہ دار اساتذہ اور بگڑے ہوئے طلبہ کو
مزید حوصلہ دے گا۔
یہ بات تلخ ہے،
مگر سچ ہے کہ
بے راہ روی کا آغاز اسٹیج سے ہوتا ہے،
اور انجام جرائم کی صورت نکلتا ہے۔
Upsonians اور Ex-Upsonians!
ہم ناکام ہوئے کہ ہم نے
اپنے محبوب اداروں کی عزت، غیرت اور تعلیمی تقدس کی حفاظت نہیں کی۔ 💔
یہ ادارے فیشن شوز یا نمائش گاہیں نہیں،
یہاں کردار بنتے ہیں، خواہشات نہیں۔
خدارا!
تعلیم کو تعلیم رہنے دیں،
اور جامعات کو اخلاقی تجربہ گاہ نہ بنائیں۔
— ایک درد مند شہری / سابق طالبعلم
(تناظر: University of Peshawar)