04/02/2024
اعمش نے شقیق بن سلمہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : ان مصاحف ۔۔۔ اور کبھی کہا : قرآن ۔۔۔ کے ساتھ تجدید عہد کرتے رہا کرو ، کیونکہ وہ انسانوں کے سینوں سے بھاگ جانے میں اپنے پاؤں کی رسیوں سے نکل بھاگنے والے اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔ کہا : اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ۔’’ تم میں سے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ اسے بھلوا دیا گیا ہے ۔‘‘
صحیح مسلم #1842
قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور
Islam360
World biggest Quran & Hadith App
27/01/2024
نماز کی اہمیت:
نماز، جسے اسلام میں سلاۃ کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہرے اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی رسمیاتی پہلوؤں کے علاوہ، نماز ایک روحانی اینکر کا کردار ادا کرتی ہے، فرد اور اللہ کے درمیان تعلقات کو بڑھاتی ہے۔ یہ مضامین نماز کی روحانی، نفسیاتی، اور جماعتی پہلوؤں کو چھوڑتے ہیں۔
**1. روحانی تعلق:**
نماز کا بنیادی مقصد عبادت اور اللہ کے ساتھ سیدھا رابطہ بنانا ہے۔ یہ مومن کو ایک زیادہ بلند قوت کی تسلیمات یاد دلاتی ہے اور توحید کے تصور کو مضبوط کرتی ہے۔ نماز کے دوران کی ہرقتوں اور تلاوتوں نے ایک خاص روحانی تجربہ پیدا کیا ہے، جو مسلمانوں کو دنیوی چیزوں کو پار کرنے اور اللہ کے ساتھ منسلک ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
**2. نظم و ضبط اور خود کنٹرول:**
نماز صرف تکراری حرکات نہیں ہے؛ یہ ایک نظم و ضبط بھی ہے جو عزم اور خود کنٹرول کی ضرورت ہے۔ مسلمان مخصوص اوقات میں دنیا بھر میں نماز ادا کرتے ہیں، چاہے جو بھی حالت ہو۔ یہ رتبہ ان کو نظم و ضبط سکھاتا ہے، انہیں اپنا وقت منظم کرنے اور اپنی روحانی التزامات کو ترجیح دینے کی سکھ ہے۔ یہ نظم و ضبط کا دلیل نہیں ہے بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔
**3. نفسیاتی صحت:**
نماز کرنے کا عمل دنیا کی بھڑاس سے آرام فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔ نماز کے دوران حرکات کی تکراری نسبت اور گہری تفکر کے لمحے ہمتوں کو سکونیت اور سکون پیدا کرتے ہیں۔ یہ تکراری جسمانی حرکات دھیان دینے کے لحاظ سے دھیان ہونے اور تناؤ کو کم کرنے جیسے میڈیٹیشن کے ساتھ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نفسیاتی صحت پر دعوت نہیں بلکہ دعوتوں پر مبنی ہے جو دعوتوں پر دعوت دینے والی مختلف تحقیقاتوں پر بھی مبنی ہے۔
**4. تفکر اور شکریہ:**
نماز تفکر اور شکر کا وقت فراہم کرتی ہے۔ مسلمان نماز کے دوران قرآن کی آیات پڑھتے ہیں، الفاظ کے معنی پر غور کرتے ہیں اور اس کے میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ تفکر کا پہلو ان کو اپنی زندگی میں کیا معنی ہے اور ان کی اہمیت کو دوبارہ غور سے کرنے کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔
25/01/2024
نبی ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے ۔ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے ۔ لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوئی وہ پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے ۔ جب تکبیر بھی ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے ۔ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر فلاں بات یاد کر ۔ ان باتوں کی شیطان یاد دہانی کراتا ہے جن کا اسے خیال بھی نہ تھا اور اس طرح اس شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔
صحیح بخاری #608
کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں
25/01/2024
جب مسلمان ( ہجرت کر کے ) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے ۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی ۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا ۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا ( بگل ) بنا لو ، اس کو پھونک دیا کرو لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ( اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے ) فرمایا کہ بلال ! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے ۔
صحیح بخاری #604
کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں
20/01/2024
آپ نماز تکبیر تحریمہ سے شروع کرتے اور تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اٹھا کر لے جاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور «ربنا ولك الحمد» کہتے ۔ سجدہ کرتے وقت یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت اس طرح رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔
صحیح بخاری #738
کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں (صفة الصلوة
18/01/2024
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی ، اس وقت میں مکہ میں تھا ۔ پھر جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا ۔ پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا ۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا ۔ اس کو میرے سینے میں رکھ دیا ، پھر سینے کو جوڑ دیا ، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے ۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھولو ۔ اس نے پوچھا ، آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ جبریل ، پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ جواب دیا ، ہاں میرے ساتھ محمد ( ﷺ ) ہیں ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ کہا ، جی ہاں ! پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے ، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے ۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکراتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے ۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا ، آؤ اچھے آئے ہو ۔ صالح نبی اور صالح بیٹے ! میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں ۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں ۔ اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو ( رنج سے ) روتے ہیں ۔ پھر جبریل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو ۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے داروغہ کی طرح پوچھا پھر کھول دیا ۔ حضرت انس نے کہا کہ ابوذر نے ذکر کیا کہ آپ ﷺ یعنی نبی ﷺ نے آسمان پر آدم ، ادریس ، موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا ۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا ۔ البتہ اتنا بیان کیا کہ آنحضور ﷺ نے حضرت آدم کو پہلے آسمان پر پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر ۔ انس نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادریس علیہ السلام پر گزرے ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا ، انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا ۔ انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابوحبۃ الانصاری رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے ، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی ( جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی ) ابن حزم نے ( اپنے شیخ سے ) اور انس بن مالک نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں ۔ میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے ۔ کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے ۔ میں واپس بارگاہ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا ، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے ۔ پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوا ۔ پھر ایک حصہ کم ہوا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے ، کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی ، پھر میں بار بار آیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں ( عمل میں ) پانچ ہیں اور ( ثواب میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں ۔ میری بات بدلی نہیں جاتی ۔ اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے ۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے ۔ پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا ۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں ۔ اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا ، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے ۔
صحیح بخاری #349
کتاب نماز کے احکام و مسائل
16/01/2024
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ .
نبی کریم ﷺ جب غسل فرماتے تو آپ پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپ ﷺ وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے ۔
صحیح بخاری #248
Islam360
World biggest Quran & Hadith App
15/01/2024
میں ( ایک مرتبہ ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا ۔ تو آپ نے وضو کیا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے ۔ تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو وہ بڑھا لے ( یعنی وضو اچھی طرح کرے ) ۔
صحیح بخاری #136
کتاب وضو کے بیان میں