21/09/2026
*کیا نامحرم سے بات کرنا سچ میں حرام ہے؟*
ذرا قرآن و سنت کو پڑھ کر فیصلہ کریں!
آج کل سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت عام ہے:
"نامحرم سے بات کرنا ہی حرام ہے!"
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلام نے ہر نامحرم سے ہر قسم کی گفتگو کو حرام قرار دیا ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو قرآن ہمیں گفتگو کے آداب کیوں سکھاتا؟
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے فرمایا:
*﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾*
"گفتگو میں ایسی نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ لالچ میں پڑ جائے، اور معروف بات کرو۔"
سورۃ الأحزاب: 32
ذرا غور کریں!
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مردوں سے بات ہی نہ کرو؛ بلکہ فرمایا کہ نرم اور دل لبھانے والے انداز میں بات نہ کرو، بلکہ معروف اور مناسب بات کرو۔
قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے۔ وہاں دو عورتیں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں۔
موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا:
*﴿مَا خَطْبُكُمَا﴾*
"تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟"
انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتے جب تک چرواہے چلے نہ جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی۔
یعنی ضرورت کے تحت ایک نامحرم مرد و عورت کے درمیان گفتگو ہوئی، مگر گفتگو باوقار تھی، مقصد جائز تھا اور آگے بے حیائی یا تعلقات کا راستہ نہیں بنایا گیا۔
تو پھر حدود کیا ہیں؟
یہاں اصل بات سمجھنے کی ضرورت ہے:
نامحرم سے ہر گفتگو حرام نہیں،
لیکن ہر گفتگو جائز بھی نہیں۔
اگر ضرورت ہو، مثلاً:
کاروبار یا خرید و فروخت
تعلیم یا کسی علمی مسئلے کا سوال
علاج یا کسی ضروری کام کی بات
کسی جائز معاملے میں معلومات لینا دینا
تو گفتگو ضرورت کے مطابق، باوقار اور شرعی حدود میں ہو سکتی ہے۔
لیکن…
فضول اور لمبی چیٹنگ
دل لبھانے والی گفتگو
عشق و محبت والی باتیں
فحش یا شہوت انگیز گفتگو
ایک دوسرے کی تصاویر/ویڈیوز کا غیر ضروری تبادلہ
چھپ چھپ کر تعلقات بڑھانا
خلوت اور ایسی صورت اختیار کرنا جس میں فتنے کا اندیشہ ہو
یہ سب الگ مسائل ہیں اور ان سے بچنا ضروری ہے۔
❤️ اسلام حیا سکھاتا ہے، مصنوعی سختی نہیں
نبی ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ان کی شادی کے بارے میں پوچھا اور جب معلوم ہوا کہ انہوں نے بیوہ عورت سے شادی کی ہے تو فرمایا:
"تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی، تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔"
صحیح البخاری: 5367
اس حدیث سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ازدواجی زندگی میں خوش مزاجی، ہنسی مذاق اور محبت کو برا نہیں سمجھتا۔
لہٰذا ہر ہنسی، ہر گفتگو اور ہر تعلق کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی یاد رکھیں!
یہ پوسٹ اس بات کی دعوت ہرگز نہیں کہ مرد و عورت سوشل میڈیا پر آزادانہ دوستی کریں، گھنٹوں چیٹ کریں یا محبت کے تعلقات بنائیں۔
اسلام نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، حیا کا حکم دیا، پاکدامنی کا حکم دیا اور فتنہ کے دروازے بند کیے۔
لہٰذا صحیح راستہ یہ ہے:
نہ دین میں اپنی طرف سے ہر جائز چیز کو حرام بناؤ،
اور نہ ہر حرام چیز کو "بس بات ہی تو ہے" کہہ کر جائز سمجھو۔
ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں:
جس چیز کو اللہ اور رسول ﷺ نے حرام کیا ہے، اسے حرام کہیں۔
جس چیز کو جائز رکھا ہے، اسے اپنی طرف سے حرام نہ بنائیں۔
اور جس میں شرعی حدود مقرر کی گئی ہیں، ان حدود کی پابندی کریں۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی ایک بات بیان کی کہ اگر کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی تصدیق کے لیے گواہ طلب کیا، پھر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی دی۔
صحیح البخاری: 6245
یہ ہمیں ایک بڑا اصول سکھاتا ہے:
دین جذبات، معاشرتی رواج اور اپنی پسند کا نام نہیں؛
دین دلیل کا نام ہے۔
لہٰذا کسی بھی چیز کو "حرام، حرام، حرام" کہنے سے پہلے سوچیں:
قرآن میں اس کی کیا دلیل ہے؟
صحیح حدیث میں اس کا کیا حکم ہے؟
کیونکہ اللہ کے حلال کو حرام قرار دینا بھی معمولی بات نہیں۔
دین میں تقویٰ ضرور پیدا کریں،
مگر اپنی طرف سے دین میں ایسی سختی نہ پیدا کریں جو اللہ اور رسول ﷺ نے مقرر نہیں کی۔
✍️ تحریر: قاری عبد الصمد