The Holy Quran

The Holy Quran Quran for all

*کیا نامحرم سے بات کرنا سچ میں حرام ہے؟*ذرا قرآن و سنت کو پڑھ کر فیصلہ کریں!آج کل سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت عام ہے:"نام...
21/09/2026

*کیا نامحرم سے بات کرنا سچ میں حرام ہے؟*

ذرا قرآن و سنت کو پڑھ کر فیصلہ کریں!

آج کل سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت عام ہے:

"نامحرم سے بات کرنا ہی حرام ہے!"

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسلام نے ہر نامحرم سے ہر قسم کی گفتگو کو حرام قرار دیا ہے؟

اگر ایسا ہوتا تو قرآن ہمیں گفتگو کے آداب کیوں سکھاتا؟

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے فرمایا:

*﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾*

"گفتگو میں ایسی نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ لالچ میں پڑ جائے، اور معروف بات کرو۔"

سورۃ الأحزاب: 32

ذرا غور کریں!

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ مردوں سے بات ہی نہ کرو؛ بلکہ فرمایا کہ نرم اور دل لبھانے والے انداز میں بات نہ کرو، بلکہ معروف اور مناسب بات کرو۔

قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے۔ وہاں دو عورتیں اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں۔

موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا:

*﴿مَا خَطْبُكُمَا﴾*

"تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟"

انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتے جب تک چرواہے چلے نہ جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی۔

یعنی ضرورت کے تحت ایک نامحرم مرد و عورت کے درمیان گفتگو ہوئی، مگر گفتگو باوقار تھی، مقصد جائز تھا اور آگے بے حیائی یا تعلقات کا راستہ نہیں بنایا گیا۔

تو پھر حدود کیا ہیں؟

یہاں اصل بات سمجھنے کی ضرورت ہے:

نامحرم سے ہر گفتگو حرام نہیں،
لیکن ہر گفتگو جائز بھی نہیں۔

اگر ضرورت ہو، مثلاً:

کاروبار یا خرید و فروخت
تعلیم یا کسی علمی مسئلے کا سوال
علاج یا کسی ضروری کام کی بات
کسی جائز معاملے میں معلومات لینا دینا

تو گفتگو ضرورت کے مطابق، باوقار اور شرعی حدود میں ہو سکتی ہے۔

لیکن…
فضول اور لمبی چیٹنگ
دل لبھانے والی گفتگو
عشق و محبت والی باتیں
فحش یا شہوت انگیز گفتگو
ایک دوسرے کی تصاویر/ویڈیوز کا غیر ضروری تبادلہ
چھپ چھپ کر تعلقات بڑھانا
خلوت اور ایسی صورت اختیار کرنا جس میں فتنے کا اندیشہ ہو

یہ سب الگ مسائل ہیں اور ان سے بچنا ضروری ہے۔

❤️ اسلام حیا سکھاتا ہے، مصنوعی سختی نہیں

نبی ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ان کی شادی کے بارے میں پوچھا اور جب معلوم ہوا کہ انہوں نے بیوہ عورت سے شادی کی ہے تو فرمایا:

"تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی، تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔"

صحیح البخاری: 5367

اس حدیث سے کم از کم یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ازدواجی زندگی میں خوش مزاجی، ہنسی مذاق اور محبت کو برا نہیں سمجھتا۔

لہٰذا ہر ہنسی، ہر گفتگو اور ہر تعلق کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔

لیکن دوسری طرف یہ بھی یاد رکھیں!

یہ پوسٹ اس بات کی دعوت ہرگز نہیں کہ مرد و عورت سوشل میڈیا پر آزادانہ دوستی کریں، گھنٹوں چیٹ کریں یا محبت کے تعلقات بنائیں۔

اسلام نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، حیا کا حکم دیا، پاکدامنی کا حکم دیا اور فتنہ کے دروازے بند کیے۔

لہٰذا صحیح راستہ یہ ہے:

نہ دین میں اپنی طرف سے ہر جائز چیز کو حرام بناؤ،
اور نہ ہر حرام چیز کو "بس بات ہی تو ہے" کہہ کر جائز سمجھو۔

ایک اصول ہمیشہ یاد رکھیں:

جس چیز کو اللہ اور رسول ﷺ نے حرام کیا ہے، اسے حرام کہیں۔
جس چیز کو جائز رکھا ہے، اسے اپنی طرف سے حرام نہ بنائیں۔
اور جس میں شرعی حدود مقرر کی گئی ہیں، ان حدود کی پابندی کریں۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی ایک بات بیان کی کہ اگر کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کی تصدیق کے لیے گواہ طلب کیا، پھر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی دی۔
صحیح البخاری: 6245

یہ ہمیں ایک بڑا اصول سکھاتا ہے:

دین جذبات، معاشرتی رواج اور اپنی پسند کا نام نہیں؛
دین دلیل کا نام ہے۔

لہٰذا کسی بھی چیز کو "حرام، حرام، حرام" کہنے سے پہلے سوچیں:

قرآن میں اس کی کیا دلیل ہے؟
صحیح حدیث میں اس کا کیا حکم ہے؟

کیونکہ اللہ کے حلال کو حرام قرار دینا بھی معمولی بات نہیں۔

دین میں تقویٰ ضرور پیدا کریں،
مگر اپنی طرف سے دین میں ایسی سختی نہ پیدا کریں جو اللہ اور رسول ﷺ نے مقرر نہیں کی۔

✍️ تحریر: قاری عبد الصمد

*اللّٰہ آپ سب کے نصیب اچھے کرے نیک اور صالح ہمسفر دے**اللھم یسرلنا جلیسا صالحا* *آمین ثمّ آمین یارب العالمین...!!🤲🤲*❖❖──...
21/09/2026

*اللّٰہ آپ سب کے نصیب اچھے کرے نیک اور صالح ہمسفر دے*
*اللھم یسرلنا جلیسا صالحا*
*آمین ثمّ آمین یارب العالمین...!!🤲🤲*

❖❖─────────────

🌹 سيدنا أنس بن مالك رضي اللّٰه عنه بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : *« جس ...
21/09/2026

🌹 سيدنا أنس بن مالك رضي اللّٰه عنه بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

*« جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کے رزق میں فراخی کی جائے یا اس کے نقشِ قدم میں تاخیر کی جائے، یعنی اس کی عمر دراز ہو تو وہ اپنے اہلِ قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرے ».*

♦️ فائدة : امام ابن القيم رحمه الله فرماتے ہیں : رزق اور کاروبار میں فراخی کا مطلب اس کا زیادہ ہونا نہیں ہے، اور نہ عمر میں زیادتی کا مطلب مہینوں اور سالوں کا زیادہ ہونا ہے۔ رزق اور عمر میں کشادگی ان میں برکت کا ہونا ہے. (خواہ تھوڑے ہی ہوں)

📘 [ متفق عليه : ٢٠٦٧،٢٥٥٧ ]

20/09/2026

🌹*نمازِ جنازہ — موت کی یاد، میت کے حقوق اور ہمارے مردہ ہوتے احساسات*

🌹آج کی نماز کے بعد کے اذکار کی کلاس میں نمازِ جنازہ کے احکام اور میت سے متعلق بہت سی باتیں سنیں تو دل میں ایک بات بہت گہری اتری کہ *موت یقینی ہے، قبر یقینی ہے، جنازہ یقینی ہے، لیکن افسوس کہ ہمارا یقین حقیقتاً زندہ نہیں جتنا ہونا چاہیے۔*
ہم کسی کے اچانک فوت ہونے کی خبر سنتے ہیں، چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، شاید جنازے میں بھی شریک ہوجاتے ہیں، لیکن کیا کبھی اس خبر کو اپنے انجام کی خبر سمجھ کر سوچتے ہیں؟ آج نہیں تو کل، کبھی نہ کبھی ہماری خبر بھی کسی کے گھر اسی طرح پہنچنی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ *آج ہم کسی دوسرے کے جنازے کے ساتھ کھڑے ہیں، کل کوئی ہمارے جنازے کے ساتھ کھڑا ہوگا۔*
آج کی کلاس سے یہ بات بہت واضح ہوئی کہ *میت کے بھی حقوق ہیں اور اس کے کچھ آداب بھی ہیں۔* کسی کے انتقال کی خبر ملنے سے لے کر اس کے غسل، کفن، نمازِ جنازہ، تدفین اور اہلِ خانہ سے تعزیت تک ہر مرحلے میں ہمارے لیے شرعی رہنمائی موجود ہے۔ اسی طرح میت کے لواحقین کے ساتھ کھڑا ہونا، ان کے غم میں شریک ہونا اور ان کے حق کو ادا کرنا بھی ہماری ذمہ داری کا حصہ ہے۔ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی حقوق میں جنازے کے ساتھ چلنے کو بھی شمار فرمایا ہے۔
🌹*ہماری زبانیں خاموش اور ہمارے جذبات کمزور کیوں ہوگئے؟*
کلاس میں نبی ﷺ کی حضرت عائشہؓ کے لیے کی گئی دعا کا واقعہ بھی بہت خوبصورت انداز میں سامنے آیا۔ حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ کو خوش دیکھا تو اپنے لیے دعا کی درخواست کی، اور آپ ﷺ نے ان کے لیے نہایت محبت سے دعا فرمائی کہ اللہ ان کے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر گناہوں کو معاف فرمائے۔ اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ *محبت صرف دل میں رکھنے کی چیز نہیں؛ اچھے الفاظ کے ذریعے اس کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔*
یہاں سے دل میں ایک اور خیال آیا کہ آج ہم نے اپنے جذبات کا اظہار بھی کتنا مشکل بنا لیا ہے۔
*ہم اسٹیکرز کے زمانے میں رہنے لگے ہیں۔* کسی نے سلام کیا تو زبان سے *وعلیکم السلام* کہنا بھی ضروری نہیں سمجھتے، فوراً ایک sticker بھیج دیا۔ کسی کے ہاں وفات ہوئی تو کبھی دو رسمی الفاظ بھی مشکل محسوس ہوتے ہیں۔ تعزیت جو کبھی دل سے، زبان سے اور انسان کے پاس بیٹھ کر کی جاتی تھی، اب اکثر ایک مختصر message یا sticker تک محدود ہوگئی ہے۔مسئلہ صرف sticker کا نہیں؛ *مسئلہ یہ ہے کہ کہیں ہمارے اندر سے احساس ہی تو کم نہیں ہوگیا؟*
فوت ہونے والے کا گھر اور شادی والا گھر بعض اوقات ایک ہی طرح کا محسوس ہونے لگتا ہے، کیونکہ ہمارے جذبات دوسرے انسان کے دکھ سے اس طرح وابستہ نہیں رہے جیسے ہونے چاہییں۔ ہمیں موت یاد نہیں رہی، اس لیے جنازہ بھی بوجھ لگنے لگا، اور میت کے حقوق بھی صرف چند رسمی کام محسوس ہونے لگے۔
🌹*تعلیم بہت، لیکن دین کی بنیادی ذمہ داریوں سے ناواقفیت*
ایک واقعہ ذہن میں آتا ہے کہ ایک باپ کا انتقال ہوا۔ بیٹا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا، انجینئرنگ کی ڈگری، پی ایچ ڈی اور CA جیسی تعلیمی قابلیتیں رکھتا تھا، لیکن اپنے والد کی نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے اسے نہ دعا معلوم تھی اور نہ نمازِ جنازہ کا طریقہ۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ *دنیا کی اتنی ساری تعلیم حاصل کرلی، لیکن اپنے باپ کے آخری حق کی ادائیگی کے لیے ضروری دینی علم حاصل نہ کیا۔*
یہ کسی ایک شخص کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہمارے پورے معاشرے کے لیے سوال ہے:
*ہم اپنے بچوں کو دنیا کے ہر امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں، لیکن کیا انہیں اس دن کے لیے بھی تیار کرتے ہیں جب انہیں اپنے والدین کے جنازے کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا؟*
🌹 *میت کو غسل دینا اور تدفین کا طریقہ جاننا بھی علم ہے*
میرے لیے یہ بھی ایک بہت بڑی سعادت رہی کہ الحمدللہ مجھے اپنی والدہ کو غسل دینے کا موقع ملا، اپنی نانی کو بھی، اور اپنی خالہ کو بھی۔ میری والدہ کی یہ نصیحت بھی تھی کہ اگر ہم دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہو تو دوسرا اسے غسل دے۔جب والدہ کا انتقال ہوا تو ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی اور حتی المقدور سنت کے مطابق غسل دینے کا اہتمام کیا۔اس تجربے نے یہ احساس مزید گہرا کیا کہ *میت کے آخری مراحل سے واقف ہونا کوئی معمولی دینی علم نہیں۔* یہ وہ علم ہے جس کی ضرورت ہمیں زندگی میں شاید بہت کم محسوس ہو، لیکن جب ضرورت پیش آتی ہے تو یہی علم ہمارے لیے میت کی خدمت اور اس کے حق کی ادائیگی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
🌹*جنازہ بوجھ نہیں، میت کا حق اور ہمارے لیے اجر کا موقع ہے*
ہم میں سے بعض لوگ نمازِ جنازہ کو بھی ایک اضافی بوجھ سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی ﷺ نے جنازے میں شرکت اور تدفین تک ساتھ رہنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے جنازے کے ساتھ رہتا ہے، اس کے لیے دو قیراط اجر کا ذکر آیا ہے، اور جو صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آتا ہے، اس کے لیے ایک قیراط ہے؛ ہر قیراط اُحد پہاڑ کے مانند بتایا گیا ہے۔ پھر میت کے لیے لوگوں کی تعداد کی بھی اپنی فضیلت ہے۔ کہ اگر کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ میں چالیس ایسے مسلمان شریک ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت میت کے حق میں قبول فرماتا ہے۔
تو پھر جنازے میں شرکت کو ہم معمولی کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ *کسی کے جنازے میں ہمارا کھڑا ہونا صرف ایک رسم نہیں؛ شاید وہ میت کے لیے ہماری آخری گواہی، آخری دعا اور ہمارے اپنے لیے آخرت کی ایک بڑی یاد دہانی ہو۔*
🌹*موت دوسروں کی خبر نہیں، ہماری اپنی آنے والی حقیقت ہے*
آج کسی اور کے گھر سے موت کی خبر آتی ہے تو ہم کہتے ہیں:"فلاں فوت ہوگئے۔"
لیکن کبھی دل سے یہ بھی سوچیں:*ایک دن یہی جملہ میرے بارے میں بولا جائے گا۔* آج ہم کسی کے لیے غسل، کفن، جنازہ اور تدفین کا انتظام دیکھ رہے ہیں؛ ایک دن لوگ ہمارے لیے یہی سب کریں گے۔آج ہم کسی میت کے لیے دعا کر رہے ہیں؛ ایک دن ہمیں دوسروں کی دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔
*پھر کیوں نہ آج ہی اپنے لیے وہ علم حاصل کرلیں جو کل کسی اور کو ہمارے لیے استعمال کرنا ہوگا؟*
موت کا علم ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں، *زندگی کو درست کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔*
🌹*محاسبہ*
آج کی کلاس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں صرف نمازِ جنازہ کا طریقہ یاد نہیں کرنا؛ میت کے آداب جاننا ہیں۔غسل اور کفن کا طریقہ جاننا ہے۔
نمازِ جنازہ درست طریقے سے پڑھنا سیکھنا ہے۔تدفین کے آداب جاننے ہیں۔اہلِ میت کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا حق ادا کرنا ہے۔اور سب سے بڑھ کر *موت کو اتنا یقینی ماننا ہے کہ ہماری زندگی بدلنے لگے۔*
ہم اپنے بچوں کو ڈگریاں، skills اور دنیا کے ہنر ضرور سکھائیں، لیکن انہیں یہ بھی سکھائیں کہ *ماں باپ کے جنازے کے سامنے کیسے کھڑا ہونا ہے، میت کا حق کیسے ادا کرنا ہے، اور موت کے بعد انسان کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے۔*
کیونکہ شاید زندگی کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ نہیں کہ انسان نے دنیا کے بہت سے علوم حاصل کرلیے؛
*سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ اسے وہ دینی علم بھی حاصل ہو جو اسے اپنے والدین، اپنے عزیزوں اور ایک دن اپنے آپ کے آخری سفر کے لیے تیار کردے۔*

*ماخوذازلیکچر:نماز کے بعد کے اذکار*
🤍🤍
🩵🩶

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲ 🇵🇰 *آج کا کیلنڈر*  🌤🔖 *07 ربیع الثانی 1448ھ* 💎🔖 *20 ستمبر  2026ء*  💎🔖 *...
20/09/2026

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄

⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲
🇵🇰 *آج کا کیلنڈر* 🌤

🔖 *07 ربیع الثانی 1448ھ* 💎
🔖 *20 ستمبر 2026ء* 💎
🔖 *05 اسوج 2083ب* 💎
🌄 *بروز اتوار Sunday* 🌄

🌼 `مختلف رنگ اور مختلف مزاج`
🔹 *رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چناچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز۔“*🔹
📗«سنن ابو داؤد-4693»

❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙

*رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی،**دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے…؟*~🖤
19/09/2026

*رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی،*
*دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے…؟*

~🖤

لَا شَيْءَ يَدُومُ لِلأَبَدِکچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتاحَتَّى اللَّحَظَاتُ الصَّعْبَةُ لَهَا نِهَايَةٌحتیٰ کہ مشکل لم...
18/09/2026

لَا شَيْءَ يَدُومُ لِلأَبَدِ
کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا
حَتَّى اللَّحَظَاتُ الصَّعْبَةُ لَهَا نِهَايَةٌ
حتیٰ کہ مشکل لمحے بھی آخرکار ختم ہو جاتے ہیں

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا. ...

18/09/2026

Address

Peerzadastreet Sabrimohala
Lala Musa
50200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Holy Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share