10/05/2026
ریسکیو 1122 لکی مروت
ضروری اطلاع!
(پی ٹی سی ایل) PTCL لائن میں تکنیکی خرابی کے باعث 1122 ہیلپ لائن پر رابطے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
لہٰذا کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں درج ذیل نمبر پر فوری رابطہ کریں:
📞 0330-5461122
عوام الناس سے گزارش ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں بروقت اطلاع دے کر ریسکیو 1122 سے تعاون کریں۔..
10/05/2026
🕋 الملف التفاعلي لمسائل الحج لعام 1447ھ للشيخ أد. خالد المصلح
📌 يحتوي على مواد متنوعة:
▪️شروط وجوب الحج.
▪️أحكام الحج والعمرة.
▪️ نوازل الحج.
▪️فتاوى الحج.
▪️محاضرات الحج.
▪️دروس الحج العلمية.
▪️برامج إذاعية وإعلامية.
▪️مسائل في حج النساء.
🖇 يمكن تحميله عبر الرابط التالي:
https://www.almosleh.com/ar/index-ar-library-50.html
10/05/2026
*بخدمت جناب:*
وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی
وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، حکومتِ پاکستان
اسلام آباد
*موضوع: حج تمتع و قران کے دم کی سرکاری سطح پر جبری وصولی سے پیدا ہونے والے شرعی، آئینی و فقہی مسائل اور ان کا فوری ازالہ*
محترم جناب!
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
آئینِ پاکستان کی دفعہ 2 اور 227 کے تحت ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو انفرادی و اجتماعی طور پر قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ مگر وزارت کی جانب سے دمِ تمتع و قران کی رقم کی جبری وصولی سے پاکستان کے کروڑوں حنفی المسلک حجاج کے لیے شرعی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ چند حقائق آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
*اولاً: شرعی و فقہی اشکالات مع حوالہ جات*
1. *ترتیبِ اعمال کی خلاف ورزی:*
فقہ حنفی میں یوم النحر کے اعمال کی ترتیب واجب ہے: رمی، ذبح، حلق۔ [ہدایہ، کتاب الحج، باب الجنایات ج1 ص158]
اگر ذبح رمی سے پہلے ہو جائے تو *دمِ جنایت واجب* ہو جاتا ہے۔ سرکاری اجتماعی قربانی میں حاجی کو وقت کا علم نہیں ہوتا، جس سے ہزاروں حجاج کے ذمہ اضافی دم لازم آ رہا ہے۔
2. *ایامِ نحر کی تحدید:*
احناف کے نزدیک ایامِ نحر صرف 3 ہیں: 10، 11، 12 ذوالحجہ۔ [فتاویٰ عالمگیری ج1 ص297، در مختار مع رد المحتار ج6 ص316]
جب کہ سعودی "مشروع المملکۃ للإفادة من الهدي" کے تحت 13 ذوالحجہ کو بھی ذبح ہوتا ہے۔ حنفی حاجی کی قربانی اگر 13 کو ہوئی تو *سرے سے ادا ہی نہیں ہوگی۔*
3. *شرعی رخصت کا خاتمہ:*
قرآن مجید کا حکم ہے: $فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ$ [البقرہ: 196]
عدمِ استطاعت والے حاجی سے زبردستی رقم لینا *نصِ قرآنی کے صریح خلاف* ہے۔
4. *غیر واجب کا بوجھ:*
حج افراد کرنے والے پر دمِ شکر واجب نہیں، صرف مستحب ہے۔ [بدائع الصنائع ج2 ص164]
ان سے بھی یکساں رقم لینا شرعاً و عقلاً درست نہیں۔
*ثانیاً: آئینی و انتظامی پہلو*
1. *آئین کی خلاف ورزی:* آئین کی دفعہ 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دیتی ہے۔ حنفی حاجی کو اس کے فقہ کے خلاف عمل پر مجبور کرنا آئینی حق کی نفی ہے۔
2. *وکالت و نیابت کا فقدان:* شرعاً ذبح کے وقت موکل کی نیت اور وکیل کا علم ضروری ہے۔ اجتماعی نظام میں یہ شرط فوت ہو رہی ہے۔ [شامی ج6 ص318]
3. *اعتماد کا بحران:* 95% پاکستانی حجاج حنفی ہیں۔ انہیں مجبور کرنے سے حکومت پر سے اعتماد اٹھنے کا اندیشہ ہے۔
*مؤدبانہ مطالبات*
آپ سے پُرزور استدعا ہے کہ:
1. *فوری ریلیف:* رواں سال جن حجاج سے دم کی رقم لی گئی ہے، انہیں *7 یوم کے اندر رقم واپسی کا اختیار* دیا جائے تاکہ وہ اپنے اعتماد کے مطابق قربانی کا انتظام کریں۔
2. *مستقل پالیسی:* آئندہ حج پالیسی میں دمِ تمتع و قران کی ادائیگی کو *"مکمل اختیاری"* قرار دیا جائے اور اس پورے عمل کی *اسلامی نظریاتی کونسل سے پیشگی منظوری* کو لازمی قرار دیا جائے۔
3. *مقامی علماء کی شمولیت:* ہر ضلع کی سطح پر *مقامی جید علماء و مفتیان کرام کو حج تربیت اور ناظمین حج کے طور پر شامل* کیا جائے، تاکہ حاجی اپنے مسلک کے مطابق تربیت حاصل کر کے علماء کی نگرانی میں حج کرے۔
4. *شفافیت:* سرکاری قربانی کی صورت میں ہر حاجی کو SMS کے ذریعے ذبح کا دن، وقت اور ویڈیو لنک فراہم کیا جائے، تاکہ ترتیب کا یقین ہو سکے۔
جناب والا! حجاج بیت اللہ کے مہمان ہیں اور ریاست ان کی خادم ہے۔ خادم کا کام مہمان کو سہولت دینا ہے، تنگی میں ڈالنا نہیں۔ امید واثق ہے کہ آپ اس دینی، آئینی اور ملی مسئلہ کا فوری نوٹس لے کر حنفی المسلک حجاج کی مشکل آسان فرمائیں گے۔
جزاکم اللہ خیراً
*درخواست گذار: حجاج کرام مسلمانان پاکستان*
*بتائید و تصدیق: مفتی ابو الخیر عارف محمود گلگتی*
دارالافتاء مدرسہ فاروقیہ گلگت
تاریخ: 8 مئی 2026
*کاپی برائے اطلاع و فوری کارروائی:*
1. محترم وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعظم سیکرٹریٹ، اسلام آباد
2. سیکرٹری، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، اسلام آباد
3. چیئرمین، سینٹ قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور، پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد
4. چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلام آباد
5. سربراہان تمام دینی جماعتیں و وفاق المدارس
6. *خصوصاً: امیر محترم، جمعیت علماء اسلام پاکستان*
7. چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان - برائے نوٹس
16/02/2026
17 فروری بروز منگل پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 3 منٹ پر (5:03)پر رمضان المبارک کے نئے چاند کی پیدائش ہوگی،تاھم سورج سے تقریبا ساڑھے تین منٹ پہلے غروب ہو جائے گا جس کی بنا پر سعودیہ عربیہ سمیت تقریبا دنیا کے کسی بھی ملک میں چاند نظر آنا ممکن نہ ہوگا،
البتہ 18 فروری بروز بدھ شام کو غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر زیادہ ہوگی ، دیگر احوال بھی کامل ہوں گے،اور غروب آفتاب کے بعد تقریبا پورے ایک گھنٹے تک افق پر کھڑا رہے گا،اور ہر عام وخاص کو کھلی آنکھ سے دیکھائی دے گا
یو امید کی جاسکتی ہے کہ ان شاء اللہ 19 فروری بروز جمعرات کل اسلامی دنیا میں رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہوگا۔
16/04/2025
(کوئی جہاد کے لیے نہیں جانا چاہتا یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہوسکتا ہے مگر کسی صاحبِ علم پر زبانِ طعن دراز کرنے کے لیے دلیل و منطق کا سہارا تو بنتا ہے)
فکری دیوالیہ پن
کاش... ترازو سب کے لیے ایک سا ہوتا۔
ڈاکوؤں اور قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دینے والا جج قابل ستائش ہے حالانکہ وہ خود مجرموں کو پکڑنے نہیں جاتا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دینے والے وزراء محب وطن ہیں حالانکہ وہ خود جا کر دہشتگردوں سے نہیں لڑتے۔ کرپٹ لوگوں اور لینڈ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرنے والے وزارت داخلہ کے افسران بڑے فرض شناس ہیں حالانکہ وہ خود صرف کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کرنے والا وزیراعظم قوم کا بہادر سپوت ہوتا ہے جبکہ وہ خود بندوق بھی نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کو جہاد کا فتویٰ دینے والا مفتی غلط ہے کیونکہ وہ خود میدان میں نہیں نکلتا۔
لبرل منافقت
نوٹ: تحریر کسی اور کا کمال ہے، مگر کیا خوب تحریر ہے!