31/05/2026
Copied from the wall of Syed Anas Takreem
تعلیمی سیشن یکم ستمبر سے شروع کرنے کی تجویز اور درپیش پیچیدگیاں
سرکاری اسکولوں کا تعلیمی سیشن یکم ستمبر سے شروع کرنے کی تجویز نے تعلیمی حلقوں میں کافی بے چینی، تشویش اور عملی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ تعلیمی پالیسی سازی ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے فیصلے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بعد کیے جائیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ایسے باوقار، باصلاحیت اور زمینی حقائق سے واقف افراد کریں جو درست، غیر جانبدار اور عملی رائے دے سکیں—محض افسران کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے نہیں۔
خیبرپختونخوا میں تعلیمی سیشن کا اپریل سے آغاز کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں تھا۔ اس کی بنیاد 1935 میں رکھی گئی جب ٹی سی آرگل (T.C. Orgil) نے بطور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن صوبے کے لیے تعلیمی کیلنڈر مرتب کیا۔ اس کا مقصد پورے صوبے میں نظامِ تعلیم کو یکساں، منظم اور مقامی حالات کے مطابق بنانا تھا۔ چونکہ اس خطے میں شدید موسمی تغیرات، گرمی اور بارشوں کا خاص اثر رہا ہے، اس لیے تعلیمی سال مارچ یا اپریل سے شروع کرنا ایک عملی اور موسمی حالات سے ہم آہنگ فیصلہ تھا۔
موجودہ حالات میں بھی پورا تعلیمی نظام اسی ترتیب پر استوار ہے۔ اسکولوں کے سالانہ امتحانات عموماً مارچ کے آخر میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے ساتھ ہی اسکولوں کے اندرونی امتحانات بھی اسی تسلسل میں ہوتے ہیں۔ جیسے ہی ایک کلاس اگلی جماعت میں منتقل ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں نیچے والی کلاس کے لیے جگہ بنتی جاتی ہے، اور یوں پورا نظام ایک زنجیر کی طرح جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح دسویں جماعت کے نتائج جولائی میں آتے ہیں۔ اپریل اور مئی میں کالج امتحانات منعقد ہوتے ہیں، جن کے نتائج عموماً اگست میں آ جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ فرسٹ ایئر کے داخلے شروع ہوتے ہیں۔ سیکنڈ ایئر کے طلبہ اسی دوران ایم ڈی کیٹ کی تیاری کرتے ہیں اور اگست یا ستمبر میں امتحان دیتے ہیں، جس کے بعد نومبر میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کی میرٹ لسٹیں جاری ہوتی ہیں۔
یہ پورا نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے صرف ابتدائی یا اسکولی سطح پر سیشن تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اگر تعلیمی سال میں تبدیلی مطلوب ہے تو اسے صرف آٹھویں جماعت یا اسکول کی سطح تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے ازسرِنو جامع منصوبہ بندی اور وسیع مشاورت درکار ہوگی، جس میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، تمام بورڈز، کالجز، یونیورسٹیز اور پروفیشنل ادارے، خصوصاً میڈیکل کالجز، سب کو شامل کرنا ہوگا۔
بغیر مکمل مشاورت اور جامع منصوبہ بندی کے اس نوعیت کی تبدیلی نہ صرف انتظامی مسائل پیدا کرے گی بلکہ طلبہ، والدین، اساتذہ اور اداروں کے لیے مزید بے یقینی اور مشکلات کا سبب بنے گی۔
سید انس تکریم کاکاخیل