Copied from the wall of Syed Anas Takreem
تعلیمی سیشن یکم ستمبر سے شروع کرنے کی تجویز اور درپیش پیچیدگیاں
سرکاری اسکولوں کا تعلیمی سیشن یکم ستمبر سے شروع کرنے کی تجویز نے تعلیمی حلقوں میں کافی بے چینی، تشویش اور عملی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ تعلیمی پالیسی سازی ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے فیصلے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بعد کیے جائیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ایسے باوقار، باصلاحیت اور زمینی حقائق سے واقف افراد کریں جو درست، غیر جانبدار اور عملی رائے دے سکیں—محض افسران کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے نہیں۔
خیبرپختونخوا میں تعلیمی سیشن کا اپریل سے آغاز کوئی اتفاقی فیصلہ نہیں تھا۔ اس کی بنیاد 1935 میں رکھی گئی جب ٹی سی آرگل (T.C. Orgil) نے بطور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن صوبے کے لیے تعلیمی کیلنڈر مرتب کیا۔ اس کا مقصد پورے صوبے میں نظامِ تعلیم کو یکساں، منظم اور مقامی حالات کے مطابق بنانا تھا۔ چونکہ اس خطے میں شدید موسمی تغیرات، گرمی اور بارشوں کا خاص اثر رہا ہے، اس لیے تعلیمی سال مارچ یا اپریل سے شروع کرنا ایک عملی اور موسمی حالات سے ہم آہنگ فیصلہ تھا۔
موجودہ حالات میں بھی پورا تعلیمی نظام اسی ترتیب پر استوار ہے۔ اسکولوں کے سالانہ امتحانات عموماً مارچ کے آخر میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے ساتھ ہی اسکولوں کے اندرونی امتحانات بھی اسی تسلسل میں ہوتے ہیں۔ جیسے ہی ایک کلاس اگلی جماعت میں منتقل ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں نیچے والی کلاس کے لیے جگہ بنتی جاتی ہے، اور یوں پورا نظام ایک زنجیر کی طرح جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح دسویں جماعت کے نتائج جولائی میں آتے ہیں۔ اپریل اور مئی میں کالج امتحانات منعقد ہوتے ہیں، جن کے نتائج عموماً اگست میں آ جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ فرسٹ ایئر کے داخلے شروع ہوتے ہیں۔ سیکنڈ ایئر کے طلبہ اسی دوران ایم ڈی کیٹ کی تیاری کرتے ہیں اور اگست یا ستمبر میں امتحان دیتے ہیں، جس کے بعد نومبر میں میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کی میرٹ لسٹیں جاری ہوتی ہیں۔
یہ پورا نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے صرف ابتدائی یا اسکولی سطح پر سیشن تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اگر تعلیمی سال میں تبدیلی مطلوب ہے تو اسے صرف آٹھویں جماعت یا اسکول کی سطح تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے ازسرِنو جامع منصوبہ بندی اور وسیع مشاورت درکار ہوگی، جس میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، تمام بورڈز، کالجز، یونیورسٹیز اور پروفیشنل ادارے، خصوصاً میڈیکل کالجز، سب کو شامل کرنا ہوگا۔
بغیر مکمل مشاورت اور جامع منصوبہ بندی کے اس نوعیت کی تبدیلی نہ صرف انتظامی مسائل پیدا کرے گی بلکہ طلبہ، والدین، اساتذہ اور اداروں کے لیے مزید بے یقینی اور مشکلات کا سبب بنے گی۔
سید انس تکریم کاکاخیل
Mash'al School Official
The Mashal School is a higher secondary school with the aim of providing quality education to the people of this area.
The purpose of this page is sharing school notifications, educational and motovational videos.
Copied from the wall of Syed Anas Takreem
سمر کیمپ پر غیر ضروری شور اور منفی پروپیگنڈا حقیقت کے برعکس ہے۔ یہ اقدام بچوں کے تعلیمی نقصان کو کم کرنے، بنیادی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور لرننگ تسلسل برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا ہے، نہ کہ روایتی نصابی بوجھ بڑھانے کیلئے۔
حکومت نے پورا دن نہیں بلکہ صرف صبح 7 سے 10 بجے تک محدود اوقات رکھے ہیں تاکہ شدید گرمی سے بھی بچا جا سکے۔ دنیا بھر میں تعطیلات بنیادی طور پر طلبہ کیلئے ہوتی ہیں، جبکہ سرکاری ملازمین اپنی ذمہ داریوں کے مطابق پورے سال خدمات انجام دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ طویل تعطیلات سے سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو ہوتا ہے، کیونکہ ہر والدین مہنگی اکیڈمیز یا ٹیوشنز کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ سمر کیمپ Activity Based Learning، ریڈنگ، رائٹنگ، کمیونیکیشن اور بنیادی مہارتوں کی بہتری کا ایک مثبت تعلیمی اقدام ہے۔
بدقسمتی سے چند مخصوص عناصر ذاتی سہولت یا غیر ضروری تعطیلات کیلئے ہر اصلاحی اقدام کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ والدین، نجی تعلیمی ادارے اور بڑی تعداد میں ذمہ دار اساتذہ تعلیمی بہتری کے ایسے اقدامات کو بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔
سید انس تکریم کاکاخیل
سرکاری محکمے کے ایک بڑے افسر کا یہ کہنا کہ “اگر یہ ادائیگی نہیں کر سکتے تو پرائیویٹ سکول بند کر دیں” نہ صرف افسوسناک بلکہ تعلیم دشمن سوچ کی عکاسی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست خود آئینی و قانونی طور پر 16 سال تک معیاری اور مفت تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے، اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 45 لاکھ بچے ابھی بھی سکولوں سے باہر ہیں، ایسے بیانات صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھاتے ہیں۔
صوبے میں تقریباً 35 لاکھ بچے سرکاری سکولوں جبکہ 35 لاکھ بچے نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں، مگر افسوس کہ ان کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان پر مختلف غیر متعلقہ محکموں کی جانب سے ریونیو کے نام پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی ادارے ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ ہیں یا قوم کے مستقبل کی تعمیر کا مرکز؟
خیبر پختونخوا میں صنعتوں کی بندش، بے روزگاری اور معاشی بحران کے بعد متعدد سرکاری ادارے، جہاں ایک کام کے لیے کئی کئی افراد تعینات ہیں، اب نجی تعلیمی اداروں پر بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ مختلف ریگولیٹری باڈیز اور محکموں کی یلغار نے تعلیمی شعبے کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
اگر یہی روش برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف نجی تعلیمی اداروں بلکہ لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور پورے تعلیمی نظام پر مرتب ہوں گے۔ تعلیم کو سہولت اور ترجیح بنانے کے بجائے اگر اسے بوجھ بنایا گیا تو اس کے نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گے۔
سید انس تکریم کاکاخیل
ایک منظم منصوبے کے تحت پہلے خیبر پختون خواہ اور پھر پنجاب کے سرکاری سکولوں کو تباہ کیا گیا۔ اب چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے تا کہ صرف اشرافیہ کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ اصل سٹیک ہولڈرز یعنی والدین عدم شعور کی وجہ سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ہم پرائیویٹ سکول والے تو اپنے ہی چند پرائیویٹ سکول کے دوستوں کے رویوں کی وجہ سے معاشرے میں مافیہ کی شہرت رکھتے ہیں، ہماری کون سنے گا؟
لاکھوں بچوں کا مستقبل 10 سالوں میں تباہ کر دیا گیا ہے اور اب کروڑوں کے مستقبل سے کھلواڑ جاری ہے. لیکن کسے پرواہ ہے؟ تعلیم یا شعور کی اس معاشرے میں کیا اہمیت؟
انتظامیہ
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے فرنٹ لائن پر کھڑا ہے 🌡️🇵🇰
ہم نہ سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں، نہ سب سے امیر ہیں...
لیکن جب سیلاب آتا ہے، گلیشیئر پگھلتا ہے، گرمی 50°C چھوتی ہے، تو پہلا وار ہم پر ہی ہوتا ہے۔
کیا ہو رہا ہے؟
2022 کا سیلاب: ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا، 1700+ جانیں گئیں، 30 ارب ڈالر کا نقصان۔
گلیشیئر پگھل رہے ہیں: ہمالیہ، ہندوکش، قراقرم کے گلیشیئر 65٪ زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ حسن آباد، گلگت میں گاؤں سیلاب کے خطرے میں ہیں۔
شدید گرمی: کراچی، سبی، جیکب آباد میں ہیٹ ویو اب معمول بن گئی ہے۔ کھیت جل رہے ہیں، لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔
بارش کا پیٹرن بگڑ گیا: کہیں خشک سالی، کہیں ایک رات میں پورے مہینے کی بارش۔
سب سے بڑا المیہ؟
پاکستان دنیا کی کل گرین ہاؤس گیسوں کا 1٪ سے بھی کم خارج کرتا ہے،
لیکن نقصان اٹھانے والوں کی فہرست میں ہمیشہ ٹاپ 10 میں ہوتا ہے۔
حل کیا ہے؟
1. درخت لگاؤ — ہر گھر ایک درخت۔
2. پانی بچاؤ — گلیشیئر ہمارا قدرتی ذخیرہ ہیں۔
3. آواز اٹھاؤ — حکومتوں سے پوچھو: پلان کیا ہے؟
4. چھوٹی عادتیں بدلو — پلاسٹک کم، سولر زیادہ۔
موسمیاتی تبدیلی "مستقبل" کا مسئلہ نہیں رہی۔
یہ آج کا سیلاب ہے، آج کی گرمی ہے، آج کی بھوک ہے۔
اگر ہم اب نہ جاگے، تو اگلی نسل ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
Weather Guru
انگریز برصغیر سے چلے گئے لیکن بر صغیر کے لوگوں کے ڈی این اے میں ان کی مرعوبیت اور غلامی آج تک شامل ہے۔
نیچے شئیر کی جانے والی تحریر سکند حیات صاحب کی ہے۔
میں چھوٹی بچیوں کے میک اپ کے خلاف کیوں ہوں؟
دوہزار پانچ میں میرا اک پی سی او ہوا کرتا تھا ،نوجوانوں کے لئیے بتادوں کہ پی سی او اس شاپ کو کہا جاتا تھا جہاں مختلف بوتھ بنے ہوتے تھے اور ان میں لینڈ لائن فون لگا ہواکرتا تھا
اہستہ اہستہ موبائل عام ہونا شروع ہوئے تو میں نے وقت کی ضرورت کے مطابق موبائل ایکسسریز کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا بھی رکھنا شروع کردیں
میری شاپ پاکستان کے سب سے بڑے ٹرک اسٹینڈ کراچی قائد اعظم ٹرک اسٹینڈ میں تھی اور ہمارا سارا لین دین مسافر ڈرائوروں کے ساتھ تھا
جب دکان بڑھائی تو لامحالہ طور پر کاسمیٹکس کا سامان بھی رکھنا شروع کردیا جو ایک سیلر اپنی بائک پر لایا کرتا تھا اور ہم اس سے خرید کر بیچا کرتے تھے
ایک دن کسی نے بتایا کہ آپ بولٹن مارکیٹ سے اگر خود لائیں تو کافی بچت ہوگی
میں نے بولٹن مارکیٹ کا چکر لگایا اور مجھے چکر آگئے
کاسمیٹکس کے تمام بڑے برینڈز کا سامان وہیں تیار ہوتا اور پورے ملک میں سپلائی ہوتا ہے اور آج بھی اگر آپ چلے جائیں تو تقریبا کوڑیوں کے بھاؤ وہاں سے مل جاتا ہے
پیکجنگ اورپرںٹنگ کا معیار ایسا کہ خود اصلی برینڈ والے بھی دو آئیٹم رکھ کر فیصلہ نہ کرپائیں کہ کونسا اصلی ہےاور کونسا نقلی
جبکہ مارجن اتنا ہے کہ بیس روپے والی چیز پر پرنٹ شدہ قیمت سات اٹھ سو ہوتی ہے
ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات تک دونمبر عام ہیں اور ہر سال ہم پڑھتے ہیں کہ کتنے لوگ اس سے ہلاک ہوگئے
جبکہ ادویات کے معاملے میں تمام تر نالائقی کے باوجود تھوڑی بہت سختی ضرور پائی جاتی ہے
ایسے میں کاسمیٹکس کو پوچھنے والا یہاں کون ہے؟
اور چلیں آپ فرض کرلیں کہ آپ کسی اچھے برانڈ کی پروڈکٹ اصلی والی حاصل کر بھی لیتے ہیں تو ذرا خود تحقیق کیجیے کہ ان کے اثرات خواتین کے لئیے کتنے گھاتک ثابت ہوتے ہیں
اور پھر چھوٹی بچیوں کے لئیے تو یہ سراسر زہر ہے
کیا آپ اس دھندے کے سب سے بڑے نقصان سے واقف ہیں؟
ہماری بچیوں کے نفسیاتی طور پر شخصیت کا مکمل مسخ ہوجانا
جس بچی کا رنگ ذرا سانولا ہو وہ خوبصورت ناموں والی عجیب کریمیں چہرے پر تھوپ دیتی ہیں اور ان تجربات سے سکن کی مختلف بیماریوں میں گرفتار ہوکر نئی مصیبت کا الگ سے شکار ہوجاتی ہیں
یہ کہنا کہ سات دن میں رنگ گورا کئجیے انسانیت کے خلاف جملہ ہے اور شدید ترین توہین یے
ہزاروں مستد سائنسی ریسچ پیپر موجود ہیں ،جن میں کاسمیٹکس کی تباہ کاریوں پر بے دریغ رائے دی گئی ہے
لیکن ہم احساس کمتری کے مارے ہوئے جب تک بچیوں کو سفید پاوڈر سے چہرے کو چونا لگانے کی اجازت نہ دیں ہماری نام نہاد روشن خیالی کو تسکین نہیں ملتی
ہر چیز کو قدامت اور جدت کا مسئلہ بنا کر نہ سوچا کریں
ان کے سماجی نفسیاتی نفع نقصان کو بھی دیکھ لیا کریں
شکریہ
سکندر حیات
Copied from the wall of Syed Anas Takreem
نہ جنگ ہے، نہ ہم تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں، اور نہ ہی دنیا بھر میں تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے، مگر شاید پاکستان واحد ملک ہے جہاں اس کا آسان حل سکول بند کرنا سمجھا جاتا ہے۔
اگر کسی قوم کی حالت دیکھنی ہو جس کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو مگر وہ تعلیم اور تربیت کو اہمیت نہ دیتی ہو، تو پاکستان کو دیکھ لیجیے۔ بڑے شہروں میں بھتہ خوری، موبائل، موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی سنیچنگ، جبکہ چھوٹے شہروں میں دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، خاندانی دشمنیاں اور ڈاکو راج — یہ سب اسی معاشرتی بگاڑ کی نشانیاں ہیں جس کی جڑ تعلیم اور تربیت سے غفلت ہے۔
معاشرے تعلیم اور تربیت سے مہذب، باشعور اور ذمہ دار بنتے ہیں، اور مہذب و باشعور قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا سمجھ چکی ہے، مگر شاید ہم اب بھی اس کا ادراک نہیں کر پا رہے۔
وفاقی حکومت نے تعلیمی اداروں کی دو دن بندش کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور پھر جیسے سب کچھ بھول گئی۔ پہلے کورونا میں ادارے بند رہے، اب عالمی تنازعات اور تیل کی قیمتوں کے نام پر دوبارہ بندشیں۔ ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی دنیا سے دہائیوں پیچھے ہے، اگر یہی روش جاری رہی تو ہم مزید صدی پیچھے چلے جائیں گے۔
تیل مہنگا ہے تو ہم پیدل چلے جائیں گے، سائیکل یا تانگے میں سفر کر لیں گے، مگر خدا کے لیے تعلیمی ادارے دو دن مزید کھول دیجیے۔ اب بس بھی کریں۔
سید انس تکریم کاکاخیل
09/05/2026
آج اس شخصیت کی دسویں برسی ہے جس کی محنت کے طفیل میں یہ سطریں لکھ پا رہا ہوں۔
میں اور مجھ جیسے سینکڑوں طالب علم اگر آج فخر سے سر اٹھا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہیں، تہذیب یافتہ ہیں، اور اپنے اپنے شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں، تو اس کی بنیاد رکھنے والی شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ مشعل پبلک اسکول کے بانی پرنسپل محترم ارشد اللہ خان صاحب ہیں۔
ہر سال ان کے بارے میں ایک روایتی پوسٹ شیئر کی جاتی ہے، لیکن آج ان کی شخصیت کے چند ایسے پہلو سامنے لانا چاہتا ہوں جن کا شاید پہلے کبھی ذکر نہیں ہوا۔
سب سے پہلی بات یہ کہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہیں اپنی ذات کی کوئی فکر نہیں تھی۔ انہوں نے اپنا آرام، اپنا سکون، اپنی زندگی، سب کچھ اپنے معاشرے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی بھلائی کے لیے قربان کر دیا تھا۔ انہوں نے ایسے وقت میں اس ادارے کی بنیاد رکھی، اور ایسی سوچ کے ساتھ رکھی، کہ اُس دور میں شاید لوگ ایسی سوچ رکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
نائنٹین نائنٹیز میں concept-based learning متعارف کروانا، ٹیوشن کلچر کی مخالفت کرنا، co-education system کو ایک مہذب اور باوقار انداز میں چلانا، اور الحمدللہ بتیس سال میں ایک بھی اسکینڈل سامنے نہ آنا, یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی محنت، ایک ایسی دیانت، اور ایک ایسی قربانی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔
انہوں نے نہ بنگلے بنائے، نہ جائیدادیں، نہ کوٹھیاں۔ بتیس سال ادارہ چلانے کے باوجود ادارہ آج بھی کرائے کی عمارت میں ہے۔ اس ایک حقیقت سے ہی ان کی legacy کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ ان کا مقصد پیسہ نہیں تھا۔ ان کا مقصد اس پسماندہ علاقے کے بچوں کی سوچ بدلنا تھا۔
آج اگر میں یہ لکھ پا رہا ہوں، اگر میں صرف میٹرک تک حاصل کیے گئے علم کی بنیاد پر بیچلرز تک پڑھا سکتا ہوں — جبکہ کالج اور یونیورسٹیوں کا حال سب جانتے ہیں کہ وہاں انسان کو کتنا سکھایا جاتا ہے اور کتنا نہیں — تو اس میں اس عظیم شخصیت کا کردار ہے۔
مشعل کے سابقہ students اگر mathematics میں مضبوط ہیں، اگر ان میں critical thinking موجود ہے، تو یہ اس جینئس انسان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ مجھ جیسے سینکڑوں لوگ جو آج medical، engineering، science، research، arts ، درس و تدریس اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں اور اپنے میدانوں میں کام کر رہے ہیں، اس کے پیچھے اس عظیم انسان کی محنت شامل ہے۔
یہ وہ شخصیت تھی جس نے کبھی اپنے ذاتی آرام اور سکون کا نہیں سوچا۔ جنہوں نے ہمیشہ اپنے students اور teachers کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچا۔ جنہوں نے پتھر تراش کر ہیرے بنائے۔
اور درد کی بات یہ ہے کہ زندگی کے آخری لمحات میں بھی انہیں اسکول کی فکر تھی۔ بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے بھی ان کا آخری پیغام اسکول کے حوالے سے تھا، جو میرے ہی ہاتھوں ایک ٹیچر تک پہنچایا گیا۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ نہ معاشرے نے انہیں وہ عزت دی جس کے وہ حق دار تھے، اور نہ حکومتی سطح پر ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ انہیں ایسے فراموش کر دیا گیا جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔
اگر ان کی زندگی میں کوئی خاموش دکھ تھا، جس کا وہ اظہار نہیں کرتے تھے، تو وہ اپنی ناقدری کا تھا۔ جب انسان کو دولت، آسائشوں اور مادہ پرستی سے کوئی دلچسپی نہ ہو، تو وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے، اس کی تذلیل نہ کی جائے۔
لیکن ہمارا معاشرہ ہیروں کو تراشنا نہیں جانتا، ہیروں کو تباہ کرنا جانتا ہے۔
جن پتھروں کو انہوں نے تراش کر ہیرے بنایا، وہی ہیرے بعد میں انہیں کاٹنے لگے۔ اور جب انسان خلوص سے کام کرے، اور اس خلوص کا بدلہ منافقت اور بے اعتنائی کی صورت میں ملے، تو اس درد کو صرف ایک حساس انسان ہی محسوس کر سکتا ہے۔
اس معاشرے میں حساس ہونا جرم ہے۔ لوگوں سے مختلف سوچ رکھنا جرم ہے۔
؎
"ایک ہم ہی نہیں، ہماری طرح کے اور بھی لوگ
عذاب میں تھے جو اوروں سے سوچتے تھے الگ"
شاید یہی آگہی کا عذاب تھا جس نے انہیں مسلسل اذیت میں رکھا۔
آج کم از کم ہم، ان کے former students، جنہوں نے براہِ راست ان سے سیکھا، یہ فرض ضرور ادا کریں کہ ان کے لیے دعا کریں۔ میں خود سات آٹھ سال ان کا طالب علم رہا ہوں، اور آج میری جتنی mathematics، جتنی critical thinking، اور جتنا شعور ہے، اس میں اس ادارے اور اس شخصیت کا بنیادی کردار ہے۔
انہوں نے تو اپنے حصے کی مشعل جلا دی تھی۔
اب یہ ہم سینکڑوں طالب علموں کا فرض ہے کہ ہم مزید مشعلیں جلائیں، لوگوں کی مدد کریں، اور اس روشنی کو آگے بڑھائیں۔
بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ انہوں نے کتنے students کو university level تک مالی اور اخلاقی support دی۔ اس لیے ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے وسائل کے مطابق اس شمع کو آگے بڑھائیں۔ شاید یہی وہ واحد کام ہے جو انسان کو حقیقی روحانی سکون دے سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مشعل پبلک اسکول کے بانی پرنسپل محترم ارشد اللہ خان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم بھی وہی دیانتداری، وہی باضمیر کردار، اور وہی اخلاص اپنے اندر پیدا کر سکیں جس کا درس انہوں نے ہمیں دیا تھا۔
آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
28350
Opening Hours
| Monday | 07:30 - 16:00 |
| Tuesday | 07:30 - 16:00 |
| Wednesday | 07:30 - 16:00 |
| Thursday | 07:30 - 16:00 |
| Friday | 07:30 - 14:00 |
| Saturday | 07:30 - 16:00 |