IPS School System

IPS  School System Your Study is Our Goal.

16/08/2024
14/08/2024
22/06/2024

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔

*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔

*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،

*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔

*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔

*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔

*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔

*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔

*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔

*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔

*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔

*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میرے اہل بیت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔

*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔

*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔

: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت سے محبت کرنی عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔

20/06/2024

بہت پیاری تحقیق ہے اسے ذیادہ سے ذیادہ گروپ میں شیئر کریں ۔

آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع کی ریکارڈنگ

محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں آپ نے کہا ہے کہ فرانس کی ایک کمپنی آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، اور اب صرف آڈیو کوالٹی کو امپروو کرنے پر کام ہو رہا ہے، ممکنہ طور پر 2030 تک عوام آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی زبانِ مبارک سے خطبہ حجۃ الوداع سن سکے گی۔ عامۃ المسلمین کو جان لینا چاہیے کہ جس دور میں آپ رہ رہے ہیں وہ دورِ فتن ہے جس میں ہر چیز کو بلا دلیل و تحقیق مان لینا اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس لئے ناگزیر ہے کہ ہم قدم پھونک پھونک کر رکھیں اور کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے ہر پہلو پر غور کریں۔

بندہ ناچیز بحیثیت انجینئر یہ بات وثوق سے کہنا چاہتا ہے کہ ماضی کی آواز (صوتی لہروں) کی بازیافت کر کے حال میں اسے ریکارڈ کرنا ناممکن ہے۔ انسانی آواز یا صوتی لہریں مکینیکل لہریں ہوتی ہیں جو ہوا جیسے میڈیم کے ذریعے پھیلتی ہیں اور توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ ایک بار جب آواز کی لہریں سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے، تو یہ منتشر ہو جاتی ہے اور اس مکینیکل صورت میں باقی نہیں رہتی کہ کسی مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی نقطہ پر انکی دوبارہ بازیافت کر کے ریکارڈ کیا جا سکے۔ آج بھی انسانی آواز جو براڈکاسٹ کی جاتی ہے وہ ماڈولیشن کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے۔ مختلف قسم کی ماڈولیشن ٹیکنالوجی استعمال کر کے انسانی آواز یا صوتی لہروں کی ویولینتھ، فریکوئنسی اور انرجی کو تبدیل کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسیع علاقہ پر اس کی ریسیونگ ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے باوجود یہ ماڈولیٹڈ صوتی لہریں، جن کو مختلف ماڈولیشن ٹیکنالوجیز استعمال کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے، اور جس کے تمام پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) معلوم ہوتے ہیں، اور دنیا بھر میں ریسیونگ انٹینا انہی پیرامیٹز پر ٹیون بھی ہوتے ہیں، جب سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے تو دوبارہ ریکارڈ نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ماضی میں استعمال ہونے والا ٹی وی انٹینا یا موجودہ دور میں مستعمل سیٹلائٹ ٹی وی اینٹینا ایک ہی انفارمیشن کو بار بار دکھاتے، کیونکہ اس کے پاس کئی قسم کی صوتی و صوتی لہریں ریفلیکشن اور ٹرانسمیشن کے ذریعہ بلاواسطہ و بالواسطہ پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہم نے آج ایک ڈرامہ دیکھنے کے لئے ٹی وی آن کیا ہو اور اچانک ہم نے دیکھا کہ کل والا ڈرامہ پھر ٹی وی پر غلطی سے آ رہا ہے، حالانکہ کل والا ڈرامہ بھی آج والے ڈرامہ کے پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) پر ہی براڈکاسٹ کیا گیا ہوتا ہے، اور اس کی صوتی و صوری لہریں بدستور فضائے بسیط میں کہیں نہ کہیں معلق و موجود ہوتی ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود دنیا بھر میں کوئی ٹی وی اینٹنا ماضی کے سگنل کو کیوں نہیں دکھا پاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کی ٹرانسمٹ کی ہوئی صوتی و صوری لہریں فضائے بسیط میں ڈسٹارٹ ہو جاتی ہیں، اپنی اصلی ہیت کھو دیتی ہیں، مختلف میڈیم وغیر سے ٹکرا کر انکی انرجی اس قدر کم ہو جاتی ہے جو قابلِ محسوس یا اینٹینا کی ڈیٹیکشن کے قابل نہیں رہتی، سائنس کی زبان میں کہا جائے گا کہ انکی انرجی ایٹیونیٹ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کسی صورت بھی ممکن نہیں کے ماضی کی آواز جو سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر چکی ہے اسے حال یا مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ پر ریکارڈ کیا جا سکے۔ اب جو بات محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کہہ رہے ہیں، شاید ان کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ یہ بات پہلی بار نہیں ہو رہی۔ سب سے پہلے اس مفروضہ کو بطورِ خواہش پیش کرنے والا مرزا بشیر الدین مرتد قادیانی زنیم تھا۔ سورۃ نباء کی آیت نمبر 29 میں اللہ جل جلالہ کا فرمانِ عظیم الشان ہے کہ، "وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا"، مفہوم کہ، "اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے"۔ مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم اپنی ملحدانہ تفسیر کبیر میں اس آیت مبارکہ (قادیانی کتاب میں نمبر آیت 30 ہے) کے تحت یہ مفروضۃ پیش کرتا ہے کہ،

"مطلب یہ کہ وہ ایسی جگہ محفوظ ہیں جہاں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کوئی انسانی عمل ایسا نہیں جو ضائع ہو جاتا ہو بلکہ وہ ضرور کسی نہ کسی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے اس صداقت کو بہت بڑا ثبوت مہیا کر دیا ہے ہزاروں میل پر ایک شخص اپنی زبان سے کوئی لفظ نکالتا ہے تو فورا ہم تک پہنچ جاتا ہے اور ہم گھر بیٹھے ہزاروں ہزار میل دور کی آواز اس طرح سن لیتے ہیں جیسے وہ ہمارے پاس بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کوئی تعجب نہیں اگر یہ علوم ترقی کرتےکرتے اس حالت کو پہنچ جائیں کہ گزشتہ زمانہ کی آواززوں کو بھی ریکارڈ کیا جا سکے۔ اگر کوئی ایسا آلہ نکل آئے تو ہو سکتا ہے ہم رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ حدیثیں جو آج کتابوں میں پڑھتے ہیں خود رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے سن لیں۔ یہ بات موجودہ زمانہ کی ایجاد کو دیکھتے ہوئے اب ناممکن نظر نہیں آتی۔ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ممکن ہے آئندہ چل کر کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو جائے اور گزشتہ زمانہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لایا جا سکے۔ اس صورت میں ہمیں گزشتہ زمانہ کی آوازیں آسانی سے سنائی دینے لگیں گی۔ ہم جس صدی کے جس سال کی کوئی بات سننا چاہیں گے اس صدی کے اس سال پر اس آلہ کو نصب کر دیں گے اور آوازوں کو سننا شروع کر دیں گے کاش دنیا اس ترقی سے صداقت کی طرف آئے"۔

چنانچہ یہاں پر سب سے اہم بات جسے ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ آقاکریم سیدی عالم ﷺ کی آواز مبارک کو تلاش اور ریکارڈ کر کے مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم کا دنیا کو کس صداقت کی طرف بلانا مقصود ہے؟ بلاشبہ وہ قادیانی ارتدا ہی ہے۔ یاد رکھا جائے کہ یہ ملحدانہ کتاب (تفسیر کبیر) 1940 تا 1962 شائع ہوتی رہی۔ چنانچہ اس دور میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی میسر ہی نہ تھی جس سے کسی مرتد زنیم کے دماغ میں امکانات پر مبنی یہ تصورات ابھر سکیں کہ ماضی کی صوتی لہروں کو تلاش کیا جائے اور ان کو ریکارڈ کیا جائے، حتیٰ کہ آج کے دن بھی ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ ماضی کی فریکوئنسی یا صوتی لہر کو ریکارڈ کیا جا سکے۔ چنانچہ، یقین رکھا جائے کہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آوازِ مبارک کو ریکارڈ کرنے کا تصور پیش کرنا تب بھی پلانٹڈ تھا اور اب بھی یہ ریکارڈ کر لینے کا دعویٰ پلانٹڈ ہے، جس کی قبل از وقت عامۃ المسلمین میں کسی خاص مقصد کے ساتھ تشہیر کی جا رہی ہے۔ سائنس میں ایک فیلڈ ہے جس میں کسی بھی تاریخی مقام کی ہسٹوریکل اکاسٹک (تاریخی صوتیات) کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس تاریخی مقامات یا ماحول کی صوتیات کا مطالعہ کرکے، محققین بعض اوقات اس بارے میں محتاط اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماضی میں ان جگہوں پر کیسی آوازیں آتی رہی ہوں گی۔ پھر اس اندازہ کی بنیاد پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ان ماضی کی آوازوں سے ملتی جلتی آوازیں پیدا کی جاتی ہیں، جو کہ فی الحقیقت ماضی کی آوازیں یا صوتی لہریں نہیں ہوتی، بلکہ اس تاریخی مقام کے ماضی کے صوتیاتی پیٹرن کے مطالعہ پر جنریٹ کی گئی جدید آوازیں یا صوتی لہریں ہوتی ہیں۔ لہٰذہ یہی ٹیکنالوجی موجودہ (مذکورہ) صورتحال میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ کوئی امکانات موجود نہیں۔ چنانچہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کہانت کا ایک نیا باب کھلے گا جو آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے ساتھ بند ہو گیا تھا۔ طاغوت عامۃ المسلمین کو ان صوتی لہروں (آواز) بارے قائل کرے گا کہ (نعوذ باللہ) یہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی مبارک آواز ہے، اور پھر (نعوذ باللہ) ان صوتی لہروں میں مسلمانوں کو سینکڑوں جھوٹ سنائے گا، اور ان کو گمراہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔

لہٰذہ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ بارے عامۃ المسلمین کو باضابطہ تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ ان کو اس ممکنہ دجل سے بچایا جا سکے۔ فتنہ اپنی پلاننگ صدیوں کی کر کے بیٹھا ہے جبکہ اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے علمِ نبوت کے وارث کہنے والے علمائے اہلسنت بد قسمتی سے غیر سیاسی بن کے بیٹھے ہیں۔ اور غیر سیاسی اذہان جہالت کی آماجگاہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے جو عامۃ المسلمین کو ہر قسم کے نظریاتی شکاری کا آسان شکار بنا دیتے ہیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

نوٹ : اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ وائرل کریں تاکہ امّت ایک بڑے فتنہ سے خود بھی محفوظ رہے اور اپنی آنی والی نسل کے ایمان کو بھی محفوظ کرے🙏

*خوشی کیا ہے*؟   ترکی کے ایک مشہور شاعر نے اپنے مشہور مصور دوست سے ’خوشی‘ پر ایک پینٹنگ بنانے کی درخواست کی۔   لہٰذا، اس...
11/06/2024

*خوشی کیا ہے*؟

ترکی کے ایک مشہور شاعر نے اپنے مشہور مصور دوست سے ’خوشی‘ پر ایک پینٹنگ بنانے کی درخواست کی۔ لہٰذا، اس نے ٹوٹتے ہوئے بیڈ پر سکون سے سوئے ہوئے ایک خاندان کی پینٹنگ بنائی۔ *اس بستر کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی اور دو اینٹیں رکھ دی گئی تھیں۔ اس خستہ حال مکان کی چھت بھی ٹپک رہی تھی۔ گھر کا کتا بھی بستر پر سکون سے سو رہا تھا۔ اس کی یہ پینٹنگ امر ہو گئی۔ اس لافانی پینٹنگ کو گہرائی سے دیکھیں اور سوچیں کہ خوشی دراصل کیا ہوتی ہے!! دراصل اس تصویر کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ خوشی مسائل کا نہ ہونا نہیں بلکہ پریشانی کی صورتحال کو آسانی سے قبول کرنے میں ہے۔ آپ کے پاس جو بھی ہے اس میں اچھائی دیکھنے کی کوشش کریں، چاہے حالات کتنے ہی خراب ہوں۔ ایسی چیزوں کے بارے میں غمگین ہونا چھوڑ دیں، جو آپ کے اختیار میں نہیں ہیں۔ جب بھی آپ کا دل ڈوبنے لگے تو اس لازوال پینٹنگ کو دیکھیں۔ *ہمیشہ مطمئن رہیں اور سکون سے سوئیں* *

05/06/2024

*کیا آپ اکثریت کے پیچھے چل رہے ہیں؟ یا یہ بھی کہا جاتا ھے کہ دنیا کہاں جارھی ھے اور آپ پیچھے رھ گئے*

ایک بار حضرت عمر رضى الله بازار میں چل رہے تھے، وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو دعاء کر رہا تھا،

*"اے الله مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر، اے الله! مجھے اپنے چند لوگوں میں شامل کر"*

حضرت عمر رضى الله نے اُس سے پوچھا، یہ دعا تم نے کہاں سے سیکھی؟ وہ بولا، الله کی کتاب سے،

الله نے قرآن میں فرمایا ہے:

*"اور میرے بندوں میں صرف چند ہی شکر گزار ہیں۔"*
*(القرآن 34:13)*

حضرت عمر رضي الله عنه یہ سُن کر رو پڑے اور اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے بولے،

"اے عمر ! لوگ تم سے زیادہ علم والے ہیں، اے الله مجھے بھی اپنے اُن چند لوگوں میں شامل کر۔"

ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص سے کوئی گناہ کا کام چھوڑنے کا کہتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ اکثر لوگ کرتے ہیں۔ میں کوئی اکیلا تو نہیں۔

اگر آپ قرآن پاک میں *"اکثر لوگ"* سرچ کریں تو "اکثر لوگ"

*"اكثر لوگ نہیں جانتے"(7:187)*

*"اكثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے"(2:243)*

*"اكثر لوگ ایمان نہیں لائے"(11:17)*

اگر آپ *"زیادہ تر"* کو سرچ کریں، تو آپ کو ملے گا کہ زیادہ تر لوگ،


*"زیادہ تر شدید نافرمان ہیں"۔ (5:59)*

*"زیادہ ترجاہل ہیں" (6:111)*

*"زیادہ تر راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں۔" (21:24)*

*"زیادہ ترسوچتے نہیں۔" (29:23)*

*"زیادہ تر سنتے نہیں" (8:23)*

تو اپنے آپ کو *چند لوگوں* میں ڈالو جن کے بارے میں الله نے فرمایاِ،

*"میرے تھوڑے ہی بندے شکر گزار ہیں"(34:13)*

*"اور کوئی ایمان نہیں لایا سوائے چند کے"(11:40)*

*"مزے کے باغات میں پچھلوں میں زیادہ هيں اور بعد والوں میں تھوڑے" (56:12-14)*

*چند لوگوں میں اپنے آپ کو شامل کریں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اورکوئی اس راستے میں نہیں اور آپ اکیلے ہیں. اور آپ دنیا سے پیچھے رہ گئے ھیں۔۔۔۔۔*

كتاب الزھد: احمد بن حنبل رحمة الله*
المُصنف: ابن ابى شيبة رحمة الله*

04/06/2024

*ایک لاجواب اور اِنتہائ پر اثر تحریر*

میرا یہ یقین ہے کہ اگر ایک دفعہ اس تحریرکو آخر تک پڑھ لیں تو آپکی زندگی میں چھوٹا سااِنقلاب ضرور آئیگا ۔

ایک نوجوان نے درویش سے دعا کرنے کو کہا ...... درویش نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دُعا دی:
"اللّہ تجھےآسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے"

دعا لینے والے نے حیرت سے کہا:
حضرت! الحمد للّہ ہم مال پاک کرنے کے لیے ھر سال وقت پر زکاۃ نکالتے ہیں، بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں.... اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے، جس کی تعلیم کا خرچہ ہم نے اٹھا رکھا ہے، اللّہ کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے ہیں ۔۔۔

درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے اور میٹھے لہجے میں بولا:

"میرے بچے! پیسے، کھانا .یہ سب تو رزق کی مختلف قسمیں ہیں۔۔اور
یاد رکھو "رَازِق اور الرَّزَّاق" صرف اور صرف الله تعالٰی کی ذات ہے۔۔۔تم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ۔۔ تم جو کر رہے ہو، اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دو تو اللّہ تعالٰی کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے ، اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہو."

درویش نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں لیا اور پھر بولا:
میرے بچے! آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹناکسے کہتے ہیں.


🌹کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پے ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹا اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا..... آسانی ہے!

🌹اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ ودو کرنا .... آسانی ہے!

🌹 صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا۔۔۔یہ آسانی ہے!

🌹 اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا... یہ بھی آسانی ہے!

🌹غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا .... یہ بھی آسانی ہے!

🌹چاۓ کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بُلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بُلانا..... یہ بھی آسانی ہے!

🌹 گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا.یہ آسانی ہے!

🌹تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر ان سے ان کے بچوں کا حال پوچھنا..... یہ بھی آسانی ہے!
ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسّلی دینا ..... یہ بھی آسانی ہے!

🌹ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو ...... سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے!"

درویش نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ھاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جارے رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:
"بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے۔۔۔۔.!!!؟؟؟

🌹آج واپس جا کر باھر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کُھلنے تک انتظار کرنا.

🌹 آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو.
آج سے ماں کے پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پاس پہنچ جایا کرنا.... اب انھیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے.
آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا.

🌹 سالن اچھا نہ لگے تو دسترخوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا .کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خود استری درست کرلینا۔۔۔.


میرے بیٹے! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ، تم زندگی کے محتاج ہو ، منزل کی فکر چھوڑو، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ، ان شاء اللّہ تعالٰی منزل خود ہی مل جائے گی۔۔۔۔۔!!!!!!

*حاصل کلام*

*آئیں! صدقِ دِل سے دُعا کریں کہ اللّہ تعالٰی ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین ثم آمین یا رب العالمین.*


🌸✨🌸✨🌸✨🌸 Mukhlis Jee ✨🌸✨🌸✨🌸✨

23/05/2024

الفاظ🌼❤️🥀🤍🕊️
🥀❤️🥀



22/05/2024

*مفت کھانا کھائیں*

*جگہ جگہ یہ لکھا دیکھ کر خیال آتا ہے، ایسا بینر کہیں نہیں نظر آتا جس پر لکھا ہو:*

مفت ویلڈنگ سیکھیں
مفت پلمبرنگ سیکھیں
مفت گاڑی مستری بنیں
مفت انجینئرنگ سیکھیں
مفت کمپیوٹر سیکھیں
مفت چائینی، کورین، جاپانی، انگلش لینگویج کورس کریں
مفت درزی بنیں وغیرہ وغیرہ۔
خیرات کرنے والے قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں۔
دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں آپ تنخواہ پر ایک استاد رکھ لیں اور صرف ایک ہفتے کی ویلڈنگ لرننگ کلاس دیں اور آخر میں دس ہزار کی ایک ویلڈن مشین ہر سیکھنے والے کے حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا۔ اور تاحیات عزت کی روزی روٹی کمائے گا۔
قوم کو بھکاری نہیں ہنر مند بنائیں، یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے، آپ سے ایک ضرورت مند نے سوال کیا تو آپ نے اسے کلہاڑا لے کر دیا اور فرمایا جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو.

منقول..

14/05/2024

’’منہاج القرآن دورِ پُرفتن میں وہ سُپر سٹور ہے جس میں دینِ اسلام کی ہر پروڈکٹ ، قرآن و حدیث کے اعلیٰ ترین معیار پر دستیاب ہے‘‘

اگر دنیا کو ایک بازار تصور کیا جائے ، جہاں ہر روز کسی نہ کسی چیز کو بیچنے کے لئے دکانیں کھُلتی اور بند ہوتی رہتی ہیں ۔ دنیا کے اسی بازار میں جہاں گناہ اور معصیت بیچنے کی دکانیں کھُلی ہوئی ہیں اور اُن پر رش حد سے زیادہ ہے، وہیں مختلف مذاہب نے انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے نام پر بھی دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ان مذاہب میں سے دینِ اسلام کے پیروکاروں نے اپنے دین اور مذہب کی طرف سے اپنے پیروکاروں اور انسانیت کے لئے کئی دکانیں کھول رکھی ہیں۔ چونکہ اسلام ایک مذہب نہیں بلکہ دین ہے جس نے زندگی کے ہر شعبے اور گوشے کے لئے ایک الگ پروڈکٹ دی ہے، جن کی کوالٹی کا معیار مقرر کیا گیا ہے، وہ قرآن و سنت نبویﷺ ہے۔ یعنی جو دکاندار بھی کوئی پروڈکٹ اسلام کے نام پر رکھے گا، ضروری ہو گا کہ اسکا معیار قرآن و سنت میں دئے گئے معیار کے مطابق ہو۔

جب ہم بازار کے اس حصہ میں داخل ہوتے ہیں،جہاں سے اسلام کی پروڈکٹس کی دکانیں شروع ہوتی ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ زیادہ تر دُکانداروں نے صرف ایک ایک پروڈکٹ اپنی دُکان پر رکھی ہوئی ہے، اور سارے کا سارا مارکیٹنگ میٹریل اُسی ایک پروڈکٹ کو مکمل اسلام ثابت کرنے پر مشتمل نظر آتا ہے۔ کُچھ دُکانوں نے دو، دواور بہت کم دُکانوں نے تین یا چار پروڈکٹس رکھی ہوئی ہیں۔

یہاں تک تو بات قابلِ قبول نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں جب ہم ان دکانوں سے انکی پروڈکٹ خرید کر کھولتے ہیں تو اسی پیکنگ میں اسلام کی دوسری پروڈکٹس کی شان اور حقیقت کی یا تو کلیتاً نفی کی گئی ہوتی ہے یا قرآن و حدیث میں دی گئی انکی شان میں کمی کرکے پیش کرنے کی کوشش واضح نظر آتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی نے صرف توحید کی پروڈکٹ رکھی ہوئی ہے اور اسی کو مکمل اسلام کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، اُسی پیکنگ میں آپ کو شانِ رسالت مآب ﷺ میں کمی اور بعض اوقات اہانت بھی نظر آئے گی ، اسی پروڈکٹ کی پیکنگ میں آپ کو قرآن و حدیث کے عقیدے کے خلاف اولیائے کرام کا انکار نظر آئے گا۔

دوسری طرف کی کچھ دکانوں میں عشق مصطفیٰ ﷺ کے محض دعوے اور نعرے نظر آئیں گے، لیکن اصل پروڈکٹ آپ کو وہاں سے نہیں ملے گی۔ اسی طرح تصوف کے نام پر کھُلی ہوئی دُکانوں میں آپ کو محض رسومات اور بعض اوقات توہمات تو ملیں گی لیکن قرآن و حدیث کے مطابق زہد وروع، تزکیہ نفس و تصفیہ قلب کی پروڈکٹس نہیں ملیں گی۔

کچھ دکانوں پر حُبِ اہلِ بیت ؑ کی آڑ میں اہانتِ صحابہؓ اور کچھ پر ناموسِ صحابہؓ کے نام پر ادب و تعظیمِ اہلِ بیتؑ کی نفی بھی نظر آئے گی۔

ایسے دورِ پُر فتن میں اللہ اور اسکے رسولﷺ نے امتِ مسلمہ اور پاکستانی مسلمانوں پر خاص کرم کیا اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کو یہ توفیق نصیب ہوئی کہ انہوں نے اسی بازار کے ایک کونے میں منہاج القرآن کے نام سے ایک ایسا سُپر سٹور قائم کیا، جس میں دینِ اسلام کی ہر پروڈکٹ قرآن و حدیث کے اعلیٰ ترین معیار پر دستیاب ہے۔
کوئی پوچھے کہ منہاج القرآن کے سُپر سٹور پر کتنی پروڈکٹس دستیاب ہیں تو جواب ہوگا کہ وہ تمام پروڈکٹس جنکی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے، وہ سب اس ایک سُپر سٹور پر دستیاب ہیں۔

قرآن و سنت کے دلائل اور اعلیٰ ترین معیار پر پروڈکٹس مین سے درج ذیل نمایاں نظر آتی ہیں۔

1۔ عقیدہ توحید
2۔ عقیدہ رسالتﷺ
3۔ تعظیمِ اہلِ بیت اطہار ؑ
4۔ ادب و تعظیم صحابہ کرام ؓ
5۔ شان و طریقہ اولیاءِ کرام
6۔ اخلاقِ حسنہ
7۔ خدمتِ انسانیت
8۔ رجوع الی القرآن
9۔ باطل نظام کے خلاف جدوجہد
10۔ قرآن و حدیث کے مطابق جملہ عقائدِ صحیحہ
11۔ دعوتِ دین
12۔ اصلاحِ احوال

منہاج القرآن کے سپر سٹور پر موجود دینِ اسلام کی ان نمایاں پروڈکٹس اور دیگر اہم پروڈکٹس پر ان شاء اللہ ہم ایک ایک کرکے غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ اگلی پوسٹوں میں جاری رکھیں گے۔

آج کی تحریر کا پیغام:

اگر آپ حقیقت میں قرآن و حدیث کے مطابق دینِ اسلام کا مکمل اور حقیقی چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے طلبِ ہدایت کر کے صدقِ دِل سے منہاج القرآن کے سُپر سٹور میں داخل ہو جائیں اور ایک ایک پروڈکٹ پر خود تحقیق کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مشن اور ہدایت پر استقامت عطافرمائے ۔ آمین

Address

Lahr

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IPS School System posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category