02/02/2026
وراثت میں بیٹیوں اور بیوہ کا حق دبانا… کیا یہ صرف قانونی جرم ہے یا دینی بھی؟
پاکستان میں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جہاں باپ کے انتقال کے بعد جائیداد پر قبضہ تو ہو جاتا ہے، مگر بیوہ ماں اور بہنوں کا حق دبا دیا جاتا ہے۔ دکانیں، مکان، زمینیں اور کرایہ سب کچھ استعمال ہوتا رہتا ہے، لیکن جن کا شرعی اور قانونی حق ہے انہیں حصہ نہیں دیا جاتا۔
اسلامی قانونِ وراثت بالکل واضح ہے۔ بیوہ کو حصہ ملے گا۔ بیٹیوں کو حصہ ملے گا۔ بہنوں کو حصہ ملے گا۔ یہ کوئی احسان نہیں، یہ فرض ہے۔ قرآن مجید میں وراثت کے حصے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ “بھائی سنبھال رہے ہیں” یا “خاندان کی عزت کا مسئلہ ہے”۔
یاد رکھیں، وراثت دبانا صرف اخلاقی برائی نہیں بلکہ قانونی جرم بھی ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق عورتوں کو ان کے حصے سے محروم رکھنا قابلِ سزا جرم ہے۔ اسی طرح کسی جائیداد کو دھوکے سے اپنے نام منتقل کروانا سنگین قانونی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص دین کی بات کرے، تبلیغ کرے یا معاشرے میں نیکی کا درس دے، تو کیا اس پر اپنی ذاتی زندگی میں عدل کرنا لازم نہیں؟ اصل امتحان تقریر نہیں، کردار ہے۔ اصل دینداری اس وقت ثابت ہوتی ہے جب انسان کمزور کا حق ادا کرے، خاص طور پر اپنی ماں اور بہنوں کا۔
اگر کسی خاندان میں وراثت کا مسئلہ ہے تو اسے سوشل میڈیا کی لڑائی بنانے کے بجائے قانونی اور شرعی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ عدالتیں موجود ہیں، شرعی رہنمائی موجود ہے، اور مصالحت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ مگر خاموش رہ کر ظلم برداشت کرنا بھی درست نہیں۔
وراثت کا حق دینا احسان نہیں، انصاف ہے۔
اور انصاف ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط خاندان اور مضبوط معاشرہ قائم ہوتا ہے۔
14/01/2026
عورت کمائی کرے گی تو کیا ہوگا
کیا عورت کی کمائی اسلام میں جائز ہے
ذرا تصور کریں ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر مرد اور عورت اپنے خرچ کے لیے اپنی کمائی پر انحصار کرے، اور شوہر اور بیوی ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کریں اچھائی اور تقویٰ پر تعاون کی بنیاد پر۔ یہ صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت میں دی گئی رہنمائی پر مبنی عملی ماڈل ہے:
لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ
اور تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى
یہ نظام معاشرے میں کئی حیرت انگیز تبدیلیاں لا سکتا ہے:
1. مالی خودمختاری اور ذمہ داری میں اضافہ
جب ہر فرد اپنی کمائی سے خرچ اٹھائے گا، تو ہر کوئی مالی ذمہ داری سیکھے گا۔ عورتیں اپنے خرچ کے لیے محتاج نہیں رہیں گی، اور مرد اپنے حصے کا خیال رکھیں گے۔ فضول خرچی کم ہوگی، اور ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق زندگی گزارنا سیکھے گا۔
2. خاندانی تعاون اور محبت میں اضافہ
زوجین اگر تعاون برائے نیکی اور تقویٰ کے اصول پر عمل کریں، تو ہر مالی فیصلہ مشترکہ ہوگا۔ یہ نہ صرف جھگڑوں کو کم کرے گا، بلکہ گھر میں سکون اور محبت کو بڑھائے گا۔
3. بچوں کی بہتر پرورش
جب دونوں والدین اپنی آمدنی کے مطابق ذمہ داری اٹھائیں گے، تو بچوں کی تعلیم، صحت اور تربیت پر توجہ بہتر ہوگی۔ نابالغ بچے محتاج نہیں رہیں گے، اور ماں باپ دونوں کی محنت کا پھل بچے وصول کریں گے۔
4. معاشرتی انصاف اور برابری
ہر فرد اپنے خرچ کے لیے اپنی کمائی پر انحصار کرے گا، تو معاشرتی بے انصافی کم ہوگی۔ نہ مرد کسی پر ناز کرے گا، نہ عورت کسی پر محتاج ہوگی۔ ہر شخص اپنی محنت کے مطابق اپنا حق لے گا، اور دوسروں کے حقوق کا خیال بھی رکھے گا۔
5. خود اعتمادی اور کیریئر کے مواقع
خواتین جب مالی طور پر خودمختار ہوں گی، تو نہ صرف اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں گی بلکہ کیریئر کے مواقع بھی بہتر طور پر حاصل کر سکیں گی۔ مرد اور عورت دونوں کی پیشہ ورانہ ترقی ممکن ہوگی۔
6. غربت اور معاشی دباؤ میں کمی
جب زوجین ایک دوسرے کی مدد کریں اور ہر کوئی اپنی کمائی پر خرچ کرے، تو غربت کے اثرات خود بخود کم ہو جائیں گے۔ مالی دباؤ اور تنازعات کے بجائے مشترکہ کامیابی اور سکون کا ماحول پیدا ہوگا۔
نتیجہ:
یہ نظام صرف نظریہ نہیں، بلکہ عملی اور قرآنی اصولوں پر مبنی راستہ ہے۔
ہر فرد اپنی زندگی میں ذمہ دار اور خودمختار ہوگا۔
خاندان میں محبت، تعاون اور انصاف بڑھے گا۔
معاشرہ زیادہ متوازن، مضبوط اور خوشحال ہوگا۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ غربت، جھگڑوں اور مالی دباؤ سے آزاد ہو، تو ہمیں اپنی زندگی میں اس اصول کو اپنانا ہوگا: اپنی کمائی سے خرچ کرو، اور زوجین ایک دوسرے کی مدد کریں برائی اور تقویٰ پر۔
یہ اصول صرف زندگی کو آسان نہیں بناتا، بلکہ معاشرے کو قوت، انصاف اور سکون کی طرف لے جاتا ہے۔
معظم شعبان