Dar-ul-huda Institute

Dar-ul-huda Institute

Share

Dar-ul-Huda Institute offers online Quran classes for women and children.

We teach:
🔸Qaida (Beginner Level)
🔸Nazra Quran with proper pronunciation
🔸 Basic understanding of Quran

📌3 Days Free Trial Available
📱 Learn from home easily

23/05/2026

قرآن ہر دل پر ایک جیسا اثر نہیں کرتا۔۔۔

22/05/2026

"عشرہ ذی الحجہ کا جمعہ عام جمعوں سے زیادہ فضیلت والا ہے کیونکہ اس میں جمعہ کے ساتھ ساتھ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت بھی جمع ہو جاتی ہے۔"

[ فتح الباري لابن حجر : (٤٦٠/٢) ]

21/05/2026

🕋4th Dhul-Hijjah Takbeerat Reminder 🌙

ثقة تابعى میمون بن مہران رحمه اللّٰه علیه فرماتے ہیں:
”عشرہ ذی الحجہ میں صحابہ و تابعین اس قدر کثرت سے تکبیرات کہتے کہ گویا ان کی آوازیں سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی تھیں۔“
> (فتح الباري لابن رجب: ١١٢/٦)

خود بھی پڑھیں ، دوسروں کوبھی ترغیب دیں۔

`اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ`

21/05/2026

پہلے تین دن ختم ہو چکے ہیں اور دیکھیے، اب ہم ذی الحجہ کے چوتھے دن میں ہیں!
کیا آپ نے روزہ رکھا؟
کیا آپ نے صدقہ دیا؟
کیا آپ نے قرآن پاک کی تلاوت کی؟
کیا آپ نے تکبیر (اللہ اکبر) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ) پکارا؟
کیا آپ نے نوافل ادا کیے؟
یا پھر آپ کا یہ دن بھی پچھلے عام دنوں جیسا ہی گزرا؟
اس حقیقت کو سمجھیے کہ آپ اس وقت "دنیا کے بہترین دنوں" میں سانس لے رہے ہیں، جن سے آپ کے علاوہ بہت سے دوسرے لوگ محروم کر دیے گئے اور اللہ نے انہیں (اس عشرے سے پہلے ہی) اپنے پاس بلا لیا۔
اگر آپ نے ابھی تک (عبادت کا) آغاز نہیں کیا۔۔۔ تو وقت ابھی آپ کے پاس ہے! اب ٹال مٹول نہ کیجیے اور نیک اعمال کو کل پر مت چھوڑیے۔
اٹھیے اور اسی لمحے سے شروعات کیجیے!
اور اس (مبارک) عشرے سے اس طرح خالی ہاتھ مت نکلیے۔

20/05/2026

”جہاں تک ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی بات ہے تو لوگ ان میں بے حد غفلت برتتے ہیں، وہ یونہی گزر جاتے ہیں اور لوگ اپنی عادات و معمولات میں ویسے ہی مشغول رہتے ہیں، وہ نہ تو قرآن کی تلاوت میں کچھ اضافہ کرتے ہیں اور نہ ہی دیگر بندگی کے کام کرتے ہیں، حتی کہ بعض تو ان میں ایسے بھی ہیں جو تکبیر پڑھنے میں بھی بخل کرتے ہیں“



19/05/2026

نبی ﷺ نے فرمایا:
”اللّٰه کے نزدیک کوئی دن ایسے نہیں جن میں نیک اعمال ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہوں۔ لہٰذا ان دنوں میں کثرت سے
تہلیل (لا إله إلا اللّٰه)، تکبیر (اللّٰه أكبر)، اور تحمید (الحمد للّٰه) پڑھا کرو۔“
(مسند احمد)


17/05/2026

عشرہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن
یہ وہ دن ہیں جن کی فضیلت سب دنوں سے زیادہ ہے۔
دلوں کو صاف کر لیں، خود کو تیار کر لیں
عبادت، دعاؤں اور نیک کاموں کے لیے۔۔۔


13/05/2026

کون کہتا ہے کہ اسلام ماڈرن دین نہیں ہے۔۔۔؟؟


11/05/2026

”ایمان بڑھانے کے لیے بھی تو ایمان والوں کی ضرورت پڑتی ہے“


03/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الحمدللہ! ہم ایک مختصر حفظ کورس کا آغاز کر رہے ہیں جس میں
{سورۃ البقرہ کا آخری رکوع}
{سورۃ الکہف کی پہلی 10 آیات}
بمع تجوید حفظ کروائی جائیں گے ان شاء اللّٰه

✨ سورۃ الکہف کی پہلی 10 آیات ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم ہیں، جنہیں یاد کرنے کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
”جس نے سورۃ الکہف کی پہلی 10 آیات حفظ کر لیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے“۔۔۔ (صحیح مسلم)

✨ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کے بارے میں رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
”جو شخص رات کے وقت سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں“۔۔۔۔ (صحیح بخاری)

🤍 آئیں قرآنِ مجید کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس کے نور سے اپنی زندگیوں کو روشن کریں۔
📌 Limited seats available
📩 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں
جزاکم اللہ خیراً کثیراً

02/05/2026

قرآن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی "قوم" نہیں تھی!
اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کیسی بے مثال لسانی درستگی اور نفاست جلوہ گر ہے! ہم انبیاء کے قصص میں دیکھتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے اپنی قوم کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر مخاطب کیا۔
حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں:
(لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) "بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، تو انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [الاعراف: 59]
حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں:
(وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ)
"اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔" [ہود: 50]
اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
(وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ) [ہود: 61]
حضرت لوط علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے:
(وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ...) [الاعراف: 80]
یہی حال تمام انبیاء کا رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بہت سی آیات میں اپنی قوم کو "یا قومِ" کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے مراد "بنی اسرائیل" ہوتے ہیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔
لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ کیا ہے؟
حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کی طرف ہی مبعوث ہوئے تھے، مگر ان کا معاملہ مختلف ہے۔ پورے قرآن میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ہے جہاں لفظ "عیسیٰ" یا "مسیح" کو لفظ "قوم" کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔ وہ انہیں ہمیشہ "یا بنی اسرائیل" کہہ کر پکارتے تھے، بغیر قوم کا ذکر کیے۔
مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:
(وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ) [المائدہ: 72]
اور فرمایا:
(وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ) [الصف: 6]
پورے قرآن میں کہیں بھی "عیسیٰ کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا! واحد آیت جس میں حضرت عیسیٰ کے ساتھ لفظ "قوم" آیا ہے وہ یہ ہے:
(وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ) [الزخرف: 57]
یہاں "قَوْمُكَ" (آپ کی قوم) سے مراد حضرت عیسیٰ کی قوم نہیں، بلکہ حضرت محمد ﷺ کی قوم ہے، کیونکہ اس آیت میں خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے!
اس کا راز کیا ہے؟
حتیٰ کہ جب قرآن نے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا، تو انہیں ان کی قوم کی طرف منسوب کیا:
(فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ...) "پھر مریم اس (بچے) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لائیں۔" [مریم: 27]
مگر مسیح علیہ السلام کو قرآن میں کسی قوم کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی نسبت ہمیشہ اس کے باپ سے ہوتی ہے۔ باپ ہی کسی قبیلے، قوم یا ملک سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی بنا پر بیٹا بھی اسی قبیلے یا قوم کا حصہ کہلاتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اپنے باپ کی وجہ سے اپنی قوم سے تھے، اس لیے ان کی طرف منسوب ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ (آزر) کی وجہ سے اپنی قوم کی طرف منسوب ہوئے۔
لیکن مسیح علیہ السلام کا تعلق کس سے ہے؟
ظاہر ہے وہ کسی (نسبی) قوم سے تعلق نہیں رکھتے کیونکہ وہ ایک معجزے کے طور پر بغیر باپ کے اس دنیا میں تشریف لائے! اسی لیے لسانی طور پر یہ غلط ہوتا کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کو "یا قومِ" (اے میری قوم) کہہ کر پکارتے۔ ان کے لیے مناسب پکار "یا بنی اسرائیل" ہی تھی، اور قرآن نے یہی کیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا معاملہ
اگر اسی منطق کو دیکھیں تو حضرت آدم علیہ السلام، جو نہ باپ سے پیدا ہوئے نہ ماں سے بلکہ مٹی سے تخلیق ہوئے، کیا قرآن میں ان کی "قوم" کا ذکر ہے؟
یقیناً نہیں! پورے قرآن میں کہیں "آدم کی قوم" کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ "بنی آدم" (آدم کی اولاد) کا ذکر ملتا ہے۔ یہ قرآن کریم کی حیرت انگیز باریکی اور محکم ہونے کی دلیل ہے۔
پس، تمام انسانوں کی کوئی نہ کوئی قوم ہے سوائے دو برگزیدہ ہستیوں کے: آدم اور عیسیٰ علیہما السلام۔
کیا قرآن نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا؟
جی ہاں! قرآن نے اس مماثلت کو ایک ہی آیت میں سمو دیا ہے:
(إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ)
"بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے، اسے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا 'ہو جا' تو وہ ہو گیا۔" [آل عمران: 59]
پورے قرآن میں یہ واحد آیت ہے جہاں آدم اور عیسیٰ کے نام ایک ساتھ آئے ہیں۔ اس عظیم کتاب کی درستگی اور باریک بینی ملاحظہ فرمائیں!

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Online Classes – Available Worldwide
Lahore