پاکستانی باتیں

پاکستانی باتیں Kuch Nahi Bs Yahan Yunhi.

جو بندہ مولا علی کے نام پہ جھوٹ بولے  نہ اس کا باپ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے نہ کتاب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے  کہ یہ کہاں لکھا ہے ا...
05/09/2026

جو بندہ مولا علی کے نام پہ جھوٹ بولے
نہ اس کا باپ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے نہ کتاب ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہ یہ کہاں لکھا ہے
اس کو پکا حرامی سمجھنے کی ضرورت ہےمتعا کی پیداوار
😎😎😎😎😎

بارہ ربیع الاول اور خرافات : خوشی کا یہ کون سا انداز ہے؟آج کا دن ہر سال ایک خاص عقیدت اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ آتا ...
26/08/2026

بارہ ربیع الاول اور خرافات : خوشی کا یہ کون سا انداز ہے؟
آج کا دن ہر سال ایک خاص عقیدت اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ آتا ہے۔ صبح سے فضا میں ایک ہلچل سی ہوتی ہے، چراغاں ہوتا ہے اور درود و سلام کی صدائیں گونجتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی سورج ڈھلا اور میں مغرب کے بعد بچوں کو لے کر باہر نکلا، تو جو مناظر دیکھنے کو ملے، انہوں نے دل کو ایک عجیب سی اداسی اور خلش میں مبتلا کر دیا۔
عادت کے مطابق کبھی کبھار میاں بیوی اکیلے سکون کا ایک راؤنڈ لگانے نکلتے ہیں، مگر آج سوچا کہ بچوں کو بھی ساتھ لے چلیں تاکہ وہ بھی باہر کی چہل پہل اور رونق دیکھیں۔ بچوں کی معصوم نظریں ہر نئی چیز پر اٹھتی تھیں اور وہ سوال کرتے تھے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ لیکن سچ کہوں تو ان کے سوالوں کا جواب دینا میرے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ بازار گئے، بچوں کو پہاڑیاں اور سجاوٹ دکھائی، مگر اس کے ساتھ ہی اردگرد جو کچھ ہو رہا تھا، اسے دیکھ کر زبان سے بار بار "استغفراللہ" ہی نکلتا رہا۔
آگے بڑھے تو نظر ایک ایسے منظر پر پڑی جو اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی دھجیاں اڑا رہا تھا۔ مرد و عورت کھلے عام بے پردگی کی حالت میں موجود تھے، فل ٹائم مخلوط اکٹھ تھا۔ اور یہ تو بس ایک جھلک تھی۔ جب مزید آگے کا رخ کیا تو ایک نامور سیاسی گھرانے کے باہر بڑا سا ساؤنڈ سسٹم (ڈیک) لگا ہوا تھا۔ وہاں نعتیں چل رہی تھیں اور لوگ اس کی دھن پر بھنگڑے ڈال رہے تھے، ناچ رہے تھے۔ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں، بلکہ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا جشنِ میلادِ مصطفیٰ کا مقصد یہی کچھ رہ گیا ہے؟ آج کے دن اگر دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ننانوے فیصد نہیں تو کم از کم نوے فیصد کام وہ ہوئے جن کا شریعت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ بمشکل دس فیصد کام ہی شرعی دائرے میں یا سنت کے مطابق ہوئے ہوں گے۔ عورتوں کا فل میک اپ کر کے بے پردہ ہو کر باہر نکلنا، اونچی آواز میں لاؤڈ سپیکر لگانا، بے ہودہ رقص کرنا اور مخلوط محفلیں سجانا—کیا سیرتِ طیبہ ہمیں یہی سکھاتی ہے؟
آپ ان خرافات کو اپ خود جانتے ہیں، روزمرہ کا مشاہدہ ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کس سمت نکل پڑے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت تو سراسر رحمت، سکون اور اخلاقیات کا درس لے کر آئی تھی۔ اس مبارک موقع پر خوشی منانے کے نام پر جو تماشا آج کل لگایا جاتا ہے، اسے دیکھ کر تو خاموش ہو کر بیٹھ جانا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے بجائے کہ یہ بیہودہ حرکات کی جائیں۔
خوشی کا یہ کون سا انداز ہے جہاں محبتِ رسول کے نام پر اخلاقی حدود ہی پھلانگ دی جائیں؟ کیا کبھی ہم نے سنجیدگی سے یہ سوچا ہے کہ ہم اپنے آنے والے بچوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
ایسے ہی ایک ویڈیو اج فیس بک پر بھی دیکھی وہ تو دن کے ٹائم کی تھی کسی نے اپلوڈ کی تھی اس کے نیچے بھی لوگوں نے اس ویڈیو والے بندے کو ہی طرح طرح کی باتیں سنائی ہوئی تھی حالانکہ جو ویڈیو میں جو الٹا کام تھا وہ سب کو نظر ارہا تھا لیکن پھر بھی کچھ بندے ڈھیٹ بن کر اُن چیزوں کو سپورٹ کر رہے تھے بجائے اس میں غلطی ماننے کے۔
اور اگر کبھی کوئی بندہ ان خرافات پر انگلی اٹھا دے تو اس کو کافر ابلیس کا ساتھی اور پتہ نہیں کن القابات سے نوازتے ہیں
خیر اللہ سب کو ہدایت سے نوازے اور ایمان پر موت عطا فرمائے گناہوں سے بچائے خاص طور پر اس طرح کی خرافات سے جن کو ہم دین کا حصہ سمجھ بیٹھے ہوں ۔ آمین

سرحد یونیورسٹی  ایک واقعہزندگی کے سفر میں کئی بار ایسے غیر متوقع اور کشیدہ موڑ آتے ہیں جہاں انسان کے ضمیر، اس کی تربیت ا...
25/08/2026

سرحد یونیورسٹی ایک واقعہ
زندگی کے سفر میں کئی بار ایسے غیر متوقع اور کشیدہ موڑ آتے ہیں جہاں انسان کے ضمیر، اس کی تربیت اور شخصیت کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ بات جب عزت و آبرو کی ہو تو ہر مرد کے اندر کا غیرت مند انسان جاگ اٹھتا ہے۔ یہ انسان کا فطری اور بنیادی تقاضا ہے کہ جب کوئی اس کی بیوی، بہن یا بیٹی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے یا اسے تنگ کرے تو وہ ہرگز خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اس کا خون کھول اٹھتا ہے اور وہ اپنوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی (Sarhad University, Islamabad Campus) کے احاطے میں دوپہر کے وقت پیش آنے والے ایک واقعے نے اسی چیز اور حقیقت کو اجاگر کیا۔ جب ایک فوجی اپنی بیوی کے بچاؤ کے لیے آگے آیا تو ماحول بے حد کشیدہ ہو گیا۔ یونیورسٹی کے طلباء، اساتذہ اور وہاں موجود لوگوں کے ہجوم کے درمیان معاملہ بڑھ گیا۔
جب فوجی کی بیوی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس فوجی کا مشتعل ہونا اور غصے میں آنا سو فیصد لازمی تھا۔ کسی بھی شوہر کے لیے اپنی شریکِ حیات پر آنچ آتے دیکھنا برداشت سے باہر ہوتا ہے۔
لیکن یہیں پر اس پاکستانی فوجی کی اصل تربیت اور سوجھ بوجھ کی داد دینی پڑتی ہے۔ اگر وہ بروقت فیصلہ نہ کرتا تو اب تک مار کھا کے جا چکا ہوتا اس طلبہ کے ہجوم سے۔ غصے کے اس عالم میں، جہاں کوئی عام انسان یا عام شہری اپنا آپا کھو کر کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتا تھا یا خود اس ہجوم کے غصے کا شکار ہو جاتا، اس فوجی نے بے حد عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔
اس نے اپنی فوج سے ملی تربیت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔ اس کے ہاتھ میں موجود چھوٹی بندوق (پستول) سے اس نے کسی پر جان لیوا حملہ نہیں کیا، بلکہ صرف ہوا میں فائر کر کے اور ڈرا کر ہجوم کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
اس کا یہ عمل واضح طور پر محض "سیلف ڈیفنس" (Self Defense) یعنی اپنے دفاع کے لیے تھا۔
مشکل ترین حالات میں بھی اگر کوئی شخص اپنے غصے پر قابو رکھے اور اپنی پروفیشنل تربیت کا سمجھداری سے استعمال کرے، تو بڑے سے بڑے حادثے کو ٹالا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے حساس ماحول میں وردی پہن کر آنا حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا تھا، لیکن اس فوجی نے جس تحمل اور عقلمندی کا ثبوت دیا، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔

یہ بھی لازم ہے فوجی کو اس کی اس حرکت کی سزا لازمی ملے گی کیونکہ فوج کا اپنا قانون ہے لیکن اس فوجی کو اس معاملے میں بری کر دیا جائے گا لیکن صرف فوج کا اصول توڑنے پر سزا ملے گی اس کو۔

بس اویں ای،انجوائے کرو۔  لاہور میں اترا "بوم بوم" کا طوفان: جب تھور نے شاہد آفریدی سے پنگا لیا! 🏏💥آج لاہور کی سڑک پر جو ...
21/08/2026

بس اویں ای،

انجوائے کرو۔

لاہور میں اترا "بوم بوم" کا طوفان: جب تھور نے شاہد آفریدی سے پنگا لیا! 🏏💥
آج لاہور کی سڑک پر جو کچھ ہوا، وہ دیکھ کر تو بڑے بڑے ایکشن ہیروز کے بھی پسینے چھوٹ جائیں!
ہوا کچھ یوں کہ شاہد آفریدی صاحب، جو ویسے ہی کسی بات پر تھوڑے "گرم" اور غصے میں لگ رہے تھے، اپنی کرکٹ کی کٹ پہنے مصروف سڑک پر سے گزر رہے تھے۔ اتنے میں ولایت کے نامور "تھور" صاحب (ہتھوڑے والے دیوتا) اپنے شاہی لباس میں وہاں نمودار ہوئے اور شاید غلط فہمی میں آفریدی کو کوئی عام انسان سمجھ بیٹھے۔
تھور نے سینہ چوڑا کر کے، اپنے ہتھوڑے کو ہوا میں گھماتے ہوئے ایک انتہائی "بچکانہ" اور طنزیہ مذاق کیا، کچھ ایسا: "اوئے پاکستانی بلے باز! لگتا ہے تیرے پاس یہ کھلونا (بیٹ) ہے، لیکن میرے پاس اصلی 'مار دھاڑ' والی مشین ہے۔ ذرا اپنی اس چھوٹی سی لکڑی کو میرے ہتھوڑے سے ٹکرا کر دیکھ، تیری پینٹ گیلی ہو جائے گی!"
بس پھر کیا تھا! آفریدی نے غصے میں دیکھا نہ تاؤ، سیدھا "بوم بوم" والا موڈ آن کیا اور تھور کی طرف ایک بجلی کی سی تیزی سے لپکے۔ پہلا مکا تو ایسا رسید کیا کہ تھور کے ولایتی دانت تو ہلے ہی، ساتھ ہی وہ ہتھوڑا بھی ہاتھ سے چھوٹ کر زمین میں بری طرح دھنس گیا۔
تھور نے بیچارے نے بجلی کڑکانے کی کوشش کی، لیکن آفریدی کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ کلاسک کرکٹر فائٹنگ پوز میں ایک کے بعد ایک زوردار کِک مار کر آفریدی نے تھور کا سارا غرور اور اوور کانفیڈنس خاک میں ملا دیا۔ تھور، جسے خدا سمجھا جاتا تھا، آخرکار ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے پر مجبور ہو گیا اور سمجھ گیا کہ بھائی، کرکٹ کے اس شاہین سے پنگا لینا اس کے بس کی بات نہیں!
سچی بات ہے، اب مارول والے بھی سوچ رہے ہوں گے کہ اگلی فلم میں تھور کو ریٹائر کر کے آفریدی کو ہی اس کا مستقل متبادل بنا لیا جائے۔ 😉🔥
آپ کا کیا خیال ہے، اس تاریخی شکست کے بعد تھور کو کیا کرنا چاہیے؟

زندگی میں کبھی کبھار ایسے خوفناک حادثات پیش آ جاتے ہیں جو انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ صرف نقصان کا وقت نہیں...
17/08/2026

زندگی میں کبھی کبھار ایسے خوفناک حادثات پیش آ جاتے ہیں جو انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ صرف نقصان کا وقت نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس بات کا بھی امتحان ہوتا ہے کہ ہمارا واسطہ کیسے لوگوں سے پڑتا ہے۔ چند روز قبل ہمارے گھر کا موٹر والا آٹومیٹک اچانک شدید شارٹ سرکٹ کی نذر ہو گیا،

جیسا کہ آپ ساتھ والی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔ منظر واقعی لرزہ خیز تھا میرے لیے اچانک سے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے شعلوں نے سب کچھ لپیٹ میں لے لیا تھا، مگر اللہ کا شکر ہے کہ بروقت قابو پا لیا گیا ورنہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔

حادثے کے بعد سب سے بڑا کٹھن مرحلہ اس جلے ہوئے نظام کو درست کروانا تھا۔ کاریگر کو بلانے کے لیے کتنی منتیں کرنا پڑیں، اور جیسا کہ عام طور پر دستور ہے، کاریگروں کے اپنے ہی ناز نخرے اور بہانے ہوتے ہیں۔ لیکن جب آخر کار وہ تشریف لائے اور انہوں نے کام شروع کیا، تو
اندازہ ہوا کہ دنیا ابھی خالی نہیں ہوئی اور ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔

شروع کرنے سے پہلے اس اللہ کے بندے نے صاف کہہ دیا کہ آپ کا زیادہ خرچہ نہیں ہوگا؛ اتنی ہماری طے شدہ مزدوری ہے، اور اگر اس کے اوپر کسی سامان یا پرزے کی ضرورت پڑی تو اس کی قیمت آپ کی ہوگی۔
جب انہوں نے سارا نظام کھول کر باریک بینی سے چیک کیا، تو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اصل خرابی موٹر میں تھی ہی نہیں! موٹر بالکل محفوظ تھی، اصل مسئلہ صرف تاروں کا تھا جو جل چکی تھیں۔ انہوں نے پوری دیانت داری سے ہمیں بتایا کہ موٹر کو بدلنے یا چھیڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم صرف خراب تاریں بدل دیتے ہیں کام بن جائے گا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی کہ اس دنیا میں آج بھی اچھے, کھرے اور ایماندار لوگ موجود ہیں۔ اگر وہ کاریگر بددیانت یا دو نمبر ہوتے، تو وہ موقع غنیمت جانتے ہوئے بڑی آسانی سے کہہ سکتے تھے کہ آپ کی موٹر جل چکی ہے، اس میں یہ بڑا نقصان نکلا ہے اور اس کی مرمت کے اتنے ہزار روپے بنیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ انہوں نے نہ صرف حق بات سچ سچ بتائی بلکہ جو اجرت پہلے طے ہوئی تھی، بس وہی وصول کی اور رخصت ہو گئے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بتا دیتا ہے کہ مصیبتیں کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اگر نیتیں صاف ہوں اور زندگی میں راست باز اور ایماندار لوگ مل جائیں، تو پریشانیاں خود بخود آدھی رہ جاتی ہیں۔

یہ میرا پہلا بلاگ اور تجربہ ہے جو میں شیئر کر رہا ہوں یہاںدیکھیں جی، بات یہ ہے کہ میں کوئی پبلیسیٹی نہیں کر رہا اور نہ ہ...
16/08/2026

یہ میرا پہلا بلاگ اور تجربہ ہے جو میں شیئر کر رہا ہوں یہاں

دیکھیں جی، بات یہ ہے کہ میں کوئی پبلیسیٹی نہیں کر رہا اور نہ ہی میرا ایسا کوئی چکر ہے۔ بس جو کھایا، جیسا لگا، وہ آپ کے سامنے رکھ دیا—اب اچھا ہے یا برا، یہ آپ لوگوں نے ڈیسائیڈ کرنا ہے!
ویسے تو میں گجومتہ میں ہی ہوتا ہوں، اور وہاں بھی کراچی بریانی اور ڈھاکہ بھیا بریانی کے بڑے چرچے ہیں (حالانکہ میں وہاں سے عام طور پر بریانی زیادہ کھاتا بھی نہیں ہوں، میری پہلی پسند تو دال چاول ہیں!)۔ لیکن آج جب بازار کا چکر لگا، زوروں کی بھوک لگی اور بچے بھی ساتھ تھے، تو دل مچل گیا۔
دو جگہ دال چاول بھی نظر ائے دل کی دال چاول کھا لیں لیکن پھر موڈ بدل گیا۔
سوچا دال چاول چھوڑ کر کیوں نہ یہیں ہاتھ صاف کیا جائے، اور اگر کبھی مستقبل میں کسی کے ساتھ یہاں آنا پڑ جائے، تو کم از کم یہ تو معلوم ہو کہ جگہ کیسی ہے۔
اور سچ پوچھیں تو کاہنہ نو بازار کی اس کراچی بریانی نے تو مزہ ہی کرا دیا؛ اب تک جہاں سے بھی کراچی بریانی کھائی تھی، اس کے سامنے سب فیل ہیں!
تصویر میں پلیٹ کا حشر دیکھ کر آپ اندازہ لگا ہی چکے ہوں گے کہ بندہ کس قدر سنجیدہ ہے۔ حال یہ ہے کہ کانٹا اور چمچ بیچارے خود حیران بیٹھے ہیں کہ "بھائی، تھوڑا سانس تو لے لو!" اب اپ کہو گے ایک پلیٹ ہی تو ہے کچھ زیادہ تو نہیں لیکن میرے لیے یہ بھی بہت ہے۔
پر کہانی میں ایک "ٹوسٹ" ہے!
دیکھیں جی، مجھے ذاتی طور پر بریانی میں آلو بالکل پسند نہیں ہے۔ میں بتانا بھول گیا، اور وہ بیچارے شوق سے ساتھ آلو بھی لے آئے۔ اب بھلا بریانی میں آلو آ جائے تو بندہ کیا کرے؟ آدھی بریانی پیٹ میں اتارنے کے بعد جادوئی طور پر چاولوں کے نیچے سے وہ چھپا ہوا آلو برآمد ہوا! ورنہ سچ تو یہ ہے کہ کھانے سے پہلے ہی واپس کر دیتا۔ پر چلو، قسمت میں تھا تو ہضم ہو گیا!
کیوں ہے یہا خاص؟
جوسی پن کا لیول: ایسی رسیلی کہ گلا سوکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور مزے کی بات یہ ہے کہ تیل کا طوفان بھی نہیں ہے۔
مصالحوں کا جادو: ایک ایک چاول بولتا ہے کہ بھائی، ہم نے اصل کراچی والے مصالحوں کی ٹرین مس نہیں کی۔
بغیر بتائے آنے والا آلو: جو بلایا نہیں تھا، پر چپکے سے نیچے چھپ کر بیٹھ گیا تھا!
مختصر یہ کہ میرا پہلا تجربہ تو زبردست رہا۔ تو اگلی بار آپ کا بھی ادھر چکر لگے، تو سیدھے اس دکان کا رخ کریں (بس آرڈر دیتے وقت آلو کا خصوصی خیال رکھیے گا!) اور پلیٹ کا صفایا کر کے ثبوت خود پیش کریں۔
بریانی کھاؤ، خوش رہو—کیونکہ زندگی اتنی چھوٹی نہیں کہ صرف دال چاول پر گزاری جائے! 😉✨

14/08/2026

اج ہمارے علاقے میں بچوں نے زیلی نکالی سکول والوں نے 14 اگست کے حوالے سے ۔
اس میں جو کام مجھے اچھا لگا وہ یہ تھا کہ وہ اس پاس کے گھروں میں جو سکول کے نزدیک تھے ایک ایک گھر کے اگے جا رہے تھے اور ایک ایک پودا دے رہے تھے ۔
ہر گھر میں اس سے کچھ ہوگا یا نہیں، اگر انہوں نے 100 گھروں میں ایک ایک پودا دیا ہے تو اگر 10 گھر بھی وہ پودا لگا لیں تو وہ فائدے کی بات ہے یہ ایک چھوٹی سی کوشش ہے جو ہم کر سکتے ہیں تو قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے لیکن یہ بہت اچھے کاوش ہے جو انہوں نے ایک ایک گھر میں پودا دیا ہے

اج کل کچھ ویڈیوز وائرل ہوئی پڑی ہیں فضا نام کی لڑکی کی ہمیں نہیں پتہ کیا معاملہ ہے لیکنمجھے تو یہ بلیک میل والا کیس لگتا...
07/08/2026

اج کل کچھ ویڈیوز وائرل ہوئی پڑی ہیں فضا نام کی لڑکی کی ہمیں نہیں پتہ کیا معاملہ ہے لیکن
مجھے تو یہ بلیک میل والا کیس لگتا ہے اگر وہ اتنا ہی اس کے خلاف تھے تو کبھی اس کو پڑھنے نہ دیتے باہر نہ نکلنے دیتے
اور گھر میں کوئی نہ کوئی مسائل ہوتے ہیں کسی میں زیادہ کسی میں کم یہ تو ماں باپ کرتے ہی ہیں اب یہ پتہ نہیں پڑھ کے اپنے اپ کو کیا سمجھنے لگ گئی ہے جو میرا اندازہ ہے۔
اپ لوگوں کو کیا لگتا ہے جو گھر والے اس کو پڑھنے کے لیے باہر بھیج سکتے ہیں یونیورسٹی بھیج سکتے ہیں وہ اس کو جوب نہیں کرنے دے سکتے جو اس کی پڑھائی پہ خرچہ کر سکتے ہیں وہ اس سے کمائی نہیں کروا سکتے یہ صرف بلیک میلنگ کا کیس ہے

میں نے اس کے دو تین ویڈیوز دیکھی ہیں تو اور جیسے اس نے بتایا ہے کچھ اس میں بہت زیادہ ایڈوانس اس نے بتا دیا ہے جسے بڑا چڑھا کے بات کرتے ہیں کہیں پہ واقعی لگ رہی ہے کہ بہت زیادہ اس پہ تشدد ہو رہا ہے یقین کرنا پڑتا ہے جب ایک چیز سامنے ہو لیکن اوور ال ایک چیز دیکھی جائے تو یہ بلیک میلنگ ہے سمپل۔

06/08/2026

*_تم جس سے مانگ رہے ہو، وہ ربّ ہے؛ جس کے خزانے لا محدود ہیں، جس کی رحمت بے حساب ہے اور جس کی قدرت ایسی ہے کہ وہ کن کہہ دے… تو نا ممکن بھی ممکن ہو جائے۔_*

> *_اللّٰـــہ وہ ذات ہے… جو تمہارے دل کی کیفیت جانتا یے، تمہاری خاموش فریاد سنتا ہے… تمہارے بے رنگ آنسو گنتا ہے… اور تمہاری ہر اس دعا کو محفوظ کر لیتا ہے، جو تم نے کسی روتی ہوئی رات میں… ٹوٹے ہوئے دل سے مانگی تھی۔_*

*_تم دنیا والوں سے امید باندھتے ہو، تو مایوسی ملتی یے، لیکن جب تم اللّٰـــہ سے مانگتے ہو، تو یا تو وہ وہی چیز عطا کر دیتا ہے، یا اس سے بہتر…کیونکہ وہ جانتا ہے، تمہارے حق میں کیا بہتر ہے، اور کب بہتر ہے۔_*

01/08/2026

*`خوشی کسی بڑی چیز میں نہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوتی ہے۔`*
*جو انسان چھوٹی نعمتوں پر شکر کرنا سیکھ لے،*
*وہی اصل میں مطمئن زندگی گزارتا ہے۔*

*Agree 👍💯*

Address

Kahna Nau
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاکستانی باتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category