25/08/2026
سرحد یونیورسٹی ایک واقعہ
زندگی کے سفر میں کئی بار ایسے غیر متوقع اور کشیدہ موڑ آتے ہیں جہاں انسان کے ضمیر، اس کی تربیت اور شخصیت کا سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔ بات جب عزت و آبرو کی ہو تو ہر مرد کے اندر کا غیرت مند انسان جاگ اٹھتا ہے۔ یہ انسان کا فطری اور بنیادی تقاضا ہے کہ جب کوئی اس کی بیوی، بہن یا بیٹی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے یا اسے تنگ کرے تو وہ ہرگز خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اس کا خون کھول اٹھتا ہے اور وہ اپنوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی (Sarhad University, Islamabad Campus) کے احاطے میں دوپہر کے وقت پیش آنے والے ایک واقعے نے اسی چیز اور حقیقت کو اجاگر کیا۔ جب ایک فوجی اپنی بیوی کے بچاؤ کے لیے آگے آیا تو ماحول بے حد کشیدہ ہو گیا۔ یونیورسٹی کے طلباء، اساتذہ اور وہاں موجود لوگوں کے ہجوم کے درمیان معاملہ بڑھ گیا۔
جب فوجی کی بیوی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس فوجی کا مشتعل ہونا اور غصے میں آنا سو فیصد لازمی تھا۔ کسی بھی شوہر کے لیے اپنی شریکِ حیات پر آنچ آتے دیکھنا برداشت سے باہر ہوتا ہے۔
لیکن یہیں پر اس پاکستانی فوجی کی اصل تربیت اور سوجھ بوجھ کی داد دینی پڑتی ہے۔ اگر وہ بروقت فیصلہ نہ کرتا تو اب تک مار کھا کے جا چکا ہوتا اس طلبہ کے ہجوم سے۔ غصے کے اس عالم میں، جہاں کوئی عام انسان یا عام شہری اپنا آپا کھو کر کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتا تھا یا خود اس ہجوم کے غصے کا شکار ہو جاتا، اس فوجی نے بے حد عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔
اس نے اپنی فوج سے ملی تربیت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔ اس کے ہاتھ میں موجود چھوٹی بندوق (پستول) سے اس نے کسی پر جان لیوا حملہ نہیں کیا، بلکہ صرف ہوا میں فائر کر کے اور ڈرا کر ہجوم کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
اس کا یہ عمل واضح طور پر محض "سیلف ڈیفنس" (Self Defense) یعنی اپنے دفاع کے لیے تھا۔
مشکل ترین حالات میں بھی اگر کوئی شخص اپنے غصے پر قابو رکھے اور اپنی پروفیشنل تربیت کا سمجھداری سے استعمال کرے، تو بڑے سے بڑے حادثے کو ٹالا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسے حساس ماحول میں وردی پہن کر آنا حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا تھا، لیکن اس فوجی نے جس تحمل اور عقلمندی کا ثبوت دیا، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔
یہ بھی لازم ہے فوجی کو اس کی اس حرکت کی سزا لازمی ملے گی کیونکہ فوج کا اپنا قانون ہے لیکن اس فوجی کو اس معاملے میں بری کر دیا جائے گا لیکن صرف فوج کا اصول توڑنے پر سزا ملے گی اس کو۔