Quran Seekers Lounge

Quran Seekers Lounge

Share

Our community helps you understand the Quran in its true meaning.

Take out time for the most precious book, learn Allah’s guidance, and see how easy and beautiful the Quran really is.

16/11/2024

‏ " تمسَّكْ بالدُّعاء
کأنَّكَ لا تعرفُ علاجاً غيره !"

‏“دعا کیساتھ ایسا جُڑ جائیں کہ گویا دعا کے علاوہ کوئی علاج آپ جانتے ہی نہیں”

16/11/2024

ارشادِ نبوی ہے :
الله تعالی اپنے بعض بندوں کو اس لیے نعمتوں سے نوازتا ہے کہ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائیں ، اور تب تک نعمتوں کو باقی رکھتا ہے جب تک وہ لوگوں میں انہیں خرچ کرتے ہیں، پس جب وہ لوگوں کو فائدہ دینے سے رک جاتے ہیں، وہ ان سے نعمتیں چھین کر دوسروں کو دے دیتا ہے۔(السلسلة الصحيحة 1692)

17/04/2024
11/04/2024

خلاصہ سورۃ ابراہیم

سورۃ ابراہیم مکی سورت ہے اسمان سے 72 نمبر پر سورہ نوح کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں چودھویں نمبر پر ہے۔

ربط:
»» سورۃ رعد میں اہم مسئلہ نفی شرک فی الدعا کا اور سورۃ ابراہیم میں ترغیب فی التبلیغ
»» سورۃ رعد آیت نمبر 14 میں مشرک کی پکار کی مثال تو سورۃ ابراہیم میں ایت نمبر 18 میں مشرک کے عمل کی مثال کے وہ تباہ ہے
»» سورۃ رعد میں ایت نمبر 17 میں توحید کے مسئلے کے لیے مثال تو سورۃ ابراہیم میں ایت نمبر 22 میں مثال توحید کے مسئلے کی موحد کے دل میں
»» سورۃ رعد ایت نمبر 11 یہ بیان کے تب تک ان کی حالت نہیں بدلتی جب تک اللہ کے احکام میں بدلاؤ نہ کرلیں اور سورۃ ال ابراہیم میں ان کی مثال جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کو بدل دیا
»» سورہ رعد میں نفی شرک فی الدعا کا تو سورۃ ابراہیم میں انجام ان لوگوں کا جنہوں نے اس سے انکار کیا۔

امتیازات:
○تبلیغ کے بیان پر اور منکرین کے حالات پر جب تم بیان کرو گے
○ابراہیم علیہ السلام کے واقعے پر بیوی اور بچوں کو بیاباں میں چھوڑنے پر
○آیت نمبر 46 میں تمام انبیاء کی تکلیف کے بیان پر اجمالا
○آیت نمبر 39 میں ابراہیم علیہ السلام کا شکر کے بیان پر
○آیت نمبر 22 میں ابلیس کے بیان پر جو وہ قیامت کے روز سب سے اونچی جگہ بیٹھ کر اپنے تابعداروں کو کہے گا۔

مقصد:
ترغیب فی تبلیغ
تبلیغ کا شوق دلایا جاتا ہے اور ساتھ اللہ کی نعمتوں کی یاد دہانی بھی کروا کرواتے جاؤ اور بتاؤ ان کو کہ جنہوں نے پیغمبروں کی بات نہیں مانی تھی تو ان کا کیا حال ہوا۔

تقسیم: پانچ باب
١:آیت نمبر 1 تا 8
○بطور تمہید
○حالات مبلغ کے

٢:آیت نمبر 9 تا 18
○چوتھا لفظ الم
○ہر باب الم کے ساتھ
○دیدار المشرکین مع انبیاء(انبیاء کے مسئلہ بیان کرنے پر مشرکین کا رد عمل)

٣:آیت نمبر 19 تا 23
○جدار المشرکین
○مشرکوں کا اپس میں جھگڑا جہنم میں

٤:آیت نمبر 24 تا 27
○تیسرا لفظ الم
○مثالیں دو فرقوں کی (ایک اچھا اور ایک برا)

٥:آیت نمبر 28 تا 52
○زجر مشرکوں کو اور بشارت تبلیغ کرنے والوں کو
○دلائل عقلیہ
○ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ

10/04/2024

خلاصہ سورۃ رعد
سورۃ رعد مدنی سورت ہے اسمان سے نزول میں 96 نمبر پر سورہ محمد کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں تیرھویں نمبر پر ہے

ربط:
»» سورۃ یوسف میں مسئلہ توحید دلائل کے ساتھ تو سورۃ رعد میں وضاحت مثال کے ساتھ ایت نمبر 17 میں

»» سورۃ یوسف ایت نمبر 105 میں بیان کہ یہ اوپر اور نیچے اللہ کے دلائل کو نہیں دیکھتے اور سورۃ رعد میں ان دلائل کی ایت نمبر دو میں وضاحت

»» سورۃ یوسف میں ابتدا ترغیب القران کے ساتھ اور سورۃ رعد میں بھی ابتدا ترغیب الی القران کے ساتھ

»» سورۃیوسف میں نفی شرک فی العلم اور نفی شرک فی تصرف کا تو سورۃ یوسف میں نفی شرک فی دعا کا

»» سورۃ یوسف میں ایت نمبر 40 میں بیان کے مشرک کے پاس اپنی شرک پر کوئی دلیل نہیں تو سورۃ رعد میں توحید پر دلائل بیان کیے جاتے ہیں

»» سورۃ یوسف میں دنیاوی صبر کا ذکر ہے یوسف علیہ السلام کے واقعے پر اور دنیاوی انجام اور سورۃ رعد میں انجام اخرت میں صبر کرنے والوں کا

امتیازات:
○آیت نمبر 17 میں مثال توحید کے مسئلے کے لیے
○آیت نمبر 28 میں دل کے علاج کا بیان
○آیت نمبر 13 میں رعد کے فرشتے کی تسبیح پر جو بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے
○آیت نمبر 14 میں مشرک کی مثال

مقصد:
نفی شرک فی الدعا
یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ دعا کے لائق، غائبانہ پکار کے لائق صرف اللہ ہے اور یہ دعوی آیت نمبر 14، 30 اور 36 میں بیان کیا جاتا ہے

تقسیم:
چار حصے
1: پہلا حصہ»»آیت نمبر ایک تا 14
○پانچ قسم کے دلائل
»»آیت نمبر 1 تا 7 اللہ ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے
»»آیت نمبر 8 تا 10 ہر چیز کا علم رکھنے والا صرف اللہ ہے
»»آیت نمبر 11 ہر چیز کی حفاظت کرنے والا صرف اللہ ہے
»»آیت نمبر 12 ہر چیز کا اختیار صرف اللہ کو ہے
»»آیت نمبر 13 سب میرے محتاج ہیں یہاں تک کہ فرشتے بھی۔
پھر ایت نمبر 14 میں اس سورت کا دعوی تفریح کیا جاتا ہے لہ دعوۃ الحق کے ساتھ نفی شرک پہ دعا کو تفریح کیا جاتا ہے اور پھر مشرک کیشے شرک کی مثال بہت پیارے انداز میں بیان کی جاتی ہے۔

2: دوسرا حصہ»»آیت نمبر 15 تا 25
○دو قسم کے دلائل
»» سارے ہیں ساجد اور میں ہوں مسجود یعنی اللہ فرماتے ہیں کہ سب میرے اگے سجدہ کرتے ہیں
»» سب ہیں مخلوق اور میں ہوں رب یعنی کہ سب کو میں پالنے والا ہوں

3: تیسرا حصہ»»آیت نمبر 26 تا 32
○ایک دلیل
»» میں ہوں رازق اور سب میرے ہیں مرزوق یعنی سب کو رزق دینے والا میں ہوں

4: چوتھا حصہ»»آیت نمبر 33 تا 43
○مزید دلائل
»» میں ہمیشہ سے ہمیشہ تک قائم ہوں اور سب میرے محتاج ہیں
»» میں عالم ہوں میں سب جانتا ہوں

09/04/2024

خلاصہ سورۃ یوسف
سورۃ یوسف مکی سورہ ہے اسمان سے نزول میں 53 نمبر پر سورہ ہود کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں بارویں نمبر پر ہے۔

ربط:
»» سورۃ ھود میں نفی علم غیب کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام سے تو سورۃ یوسف میں نفی علم غیب کا حضرت یعقوب علیہ السلام , نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے۔
»» سورۃ ھود میں توحید کے بیان پر چار انبیاء کی تقریر تو سورۃ یوسف میں توحید کے بیان پر حضرت یوسف علیہ السلام کی تقریر
»» سورۃ ھود کے اخر میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ اللہ پر توکل کرو تو سورۃ یوسف میں اللہ پر توکل کا نمونہ یوسف علیہ السلام کی شکل میں
»» سورۃ ھود میں آیت نمبر 120 میں انبیاء کے واقعات دل کی مضبوطی کے لیے تو سورۃ یوسف میں دل کی مضبوطی کے لیے واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کا
»» سورۃ ھود میں ابتدا ترغیب الی القران کے ساتھ تو سورۃ یوسف میں بھی ترغیب القران کے ساتھ

امتیازات:
○حضرت یوسف علیہ السلام کی سیاسی بصیرت پر
○عورتوں کے مکر کے بیان پر
○دو قسم کی محبتوں کے بیان پر (جائز اور ناجائز)
○یوسف علیہ السلام کے خواب کے بیان پر
○یوسف علیہ السلام کی تقریر کے بیان پر (جو جیل خانے میں کی تھی)

مقصد:
تسلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوسف علیہ السلام کے حالات پر
حالک کحال یوسف
١: میرے نبی اپ کا حال یوسف علیہ السلام کی طرح ہے اور ان کی طرف یوسف علیہ السلام کی نسبت کی جاتی ہے کہ جیسے یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی وجہ سے اپنے ہی علاقے سے نکالے گئے تھے ایسے ہی اپ اپنے رشتہ داروں کی وجہ سے اپنے ہی علاقے سے نکالے جاؤ گے۔

٢: جیسے یوسف علیہ السلام نے تین دن اور تین راتیں کنویں میں گزاری تھی میرے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپ بھی تین دن اور تین راتیں غار ثور میں گزارو گے

٣: جیسے یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے جانے کے بعد خوف میں اور پریشانی کے ساتھ قافلے کے ساتھ اگے جا رہے ہیں کہ نہ جانے اگے کیا ہوگا ایسے ہی میں نے محبوب تم غار ثور سے پریشانی کے ساتھ نکلو گے کہ اگے کیا ہوگا۔

٤: جیسا کہ یوسف علیہ السلام مصر میں پہلے ہی دن سے معزز ہو گئے تھے اور اس کو وزیر نے خرید لیا تھا مہنگے داموں اور گھر میں اپنے بیٹے کی طرح پالا تو میرے محبوب اپ بھی مدینے میں پہلے ہی دن سے معزز بن جاؤ گے کوئی کہے گا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوں اور کوئی کہے گا کہ یہ میرے مہمان ہوں گے اور پھر ایسا بھی ہوا تھا اور میزبان رسول حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بنے اور تقریبا چھ ماہ میزبانی ان کو ملی۔

٥: جیسے یوسف علیہ السلام پر محبت کرنے والوں کی طرف سے تہمت لگائی گئی ایسے ہی میرے محبوب مدینے میں اپ کے چاہنے والے کچھ ایسے بھی ہوں گے جن کی طرف سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر تہمت لگے گی۔

٦: جیسے اخر میں یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بن گئے ایسے ہی میرے محبوب اپ اخر میں مدینے کے بادشاہ بن جاؤ گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پھر بادشاہ بنے بھی تھے اور قصری اور روم کو پھر خط بھی لکھا کرتے تھے قصری کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خط ملا تو اس نے اس کی بے عزتی کی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگا اور ویسے ہی ہوا اور روم کے بادشاہ نے خط کی عزت کی اس خط کو سونے کے ڈبے میں رکھا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ملک کی حفاظت اللہ کرے گا لہذا اس ملک کی حفاظت ہمیشہ ہوتی رہی۔

٧: یوسف علیہ السلام کی صفائی ان عورتوں نے دی تھی اسی طرح اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر لگا بہتان قران ختم کرے گا۔

٨: جیسے اخر میں یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے قدموں میں گرائے گئے ایسے ہی میرے محبوب اپ کے خلاف رشتہ دار بھی اپ کے قدموں میں گرائے جائیں گے اور ایسا ہوا بھی تھا

٩: جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے معافی مانگنے پر یوسف علیہ السلام نے ان کو معاف کر دیا یوں ہی مکہ کے لوگوں کو اپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کر دیں گے۔

تقسیم:
اس سورت کی تقسیم نہیں ہے یہ شروع سے اخر تک ایک ہی واقعہ ہے۔مگر ہمارے عظیم اساتذہ کرام ذکر کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ سات مرحلوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
١: پہلا مرحلہ»»آیت نمبر 1 تا 10
○یوسف علیہ السلام کا خواب دیکھنا
○خواب کو اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے ذکر کرنا
○حضرت یعقوب علیہ السلام کا خواب کو بھائیوں سے بیان کرنے سے منع کرنا
○یوسف علیہ السلام کے خواب کا بھائیوں کو علم ہو جانا

٢: دوسرا مرحلہ»»آیت نمبر 11 تا 20
○یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا کنواں کھودنا
○یوسف علیہ السلام کا کنویں میں پھینکنا
○پھر قافلے کے ہاتھوں فروخت کر دینا

٣: تیسرا مرحلہ»»آیت نمبر 21 تا 35
○یوسف علیہ السلام کا مصر کے بازار میں فروخت کیا جانا
○عزیز مصر کی بیوی کا یوسف علیہ السلام کو خریدنا
○عزیز مصر کا یوسف علیہ السلام کو بیٹا بنانا
○عزیز مصر کی بیوی کے دل میں شیطان کا انا
○یوسف علیہ السلام پر تہمت کا لگنا
○یوسف علیہ السلام کا جیل میں جانا

٤: چوتھا مرحلہ»»آیت نمبر 36 تا 57
○یوسف علیہ السلام کے جیل کے ساتھیوں کا خواب دیکھنا
○یوسف علیہ السلام کی بتائی گئی تعبیر کا سچ ہونا
○بادشاہ کا خواب دیکھنا اور یوسف علیہ السلام کا تعبیر بتانا
○بادشاہ کا یوسف علیہ السلام سے تعارف ہونا
○یوسف علیہ السلام کو وزارت دینا

٥: پانچواں مرحلہ»»آیت نمبر 58 تا 68
○یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا انا اور غلہ لے کر جانا
○یوسف علیہ السلام کا ان کو اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کا حکم دینا

٦: چھٹا مرحلہ»» آیت نمبر 59 تا 98
○یوسف علیہ السلام کے بھائی بنیامین کا انا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائی سے ملنا
○بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کا پہچاننا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو اپنی قمیض دینا
○بھائیوں کا واپس ا کر اپنے باپ کو خوشخبری سنانا

٧: ساتواں مرحلہ»»آیت نمبر 99 تا 111
○سب کا مصر میں اکٹھا ہو جانا
○سب کا خوشحال زندگی گزارنا

08/04/2024

آپ میں سے کون کون یہ دعا صبح و شام پڑھتا ہے؟؟؟اگر آپ کے معمول میں ہے تو بہترین ہے اگر نہیں ہے تو اس کو اپنے روزمرہ معمول میں شامل کر لیں۔۔

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے عمدہ استغفار یہ ہے۔۔۔.
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔*
ترجمہ!
اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده/ بندی ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا/چاہتی ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا/کرتی ہوں اور اپنے گناه کا اعتراف کرتا / کرتی ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا.

آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے صبح ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا تو وه جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے۔
(صبح و شام ایک بار)
(📚🖌➖ صحیح البخاری: 6306)

04/04/2024

خلاصہ سورۃ ھود

سورۃ ھود مکی سورت ہے اسمان سے نزول میں 52 نمبر پر سورہ یونس کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں یہ گیارہویں نمبر پر ہے۔

ربط:
»» سورۃ یونس میں ابتدا میں ترغیب الی القران تو سورۃ ھود میں بھی ابتدا میں ترغیب القران ہے
»» سورۃ یونس میں اختتام شرک فی الدعا اور شرک فی التصرف کے ساتھ ہوا تو سورۃ ھود میں مزید دو اشراک کا رد کیا جاتا ہے
»» سورۃ یونس میں دعوی ثابت کیا گیا دلائل کے ساتھ تو سورۃ ھود میں اس دعوے کو اگے پہنچانے کا حکم
»» سورۃ یونس میں اثبات توحید دلائل عقلیہ کے ساتھ تو سورۃھود میں اثبات توحید دلائل نقلیہ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے
»» سورۃ یونس میں واقعہ نوح علیہ السلام کا مختصرا بیان کیا جاتا ہے تو سورۃ ھود میں یہ واقعہ تفصیلا بیان کیا جاتا ہے بطور دلائل نقلی
»» سورۃ یونس میں اخری ایت کہ اللہ کی تابعداری کرو سورۃ ھود میں تسلی دی جاتی ہے کہ اس میں بہت سی مشکلات ائیں گی مگر تسلی رکھنی ہے.

امتیازات:
○مسائل اربع کے بیان پر
○حضرت نوح علیہ السلام کے تفصیلی واقعے پر
○آیت نمبر 91 پر کے شعیب علیہ السلام کو قوم دھمکی دیتی ہے
○آیت نمبر 13 میں جس میں کفار سے 10 سورتوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے ورنہ ایک سورت کا مطالبہ کیا جاتا ہے
○حضرت لوط علیہ السلام کی دعا پر (کہ کاش میں مضبوط ہوتا میرے ساتھ میری قوم ہوتی تو یہ لوگ میرے ساتھ یوں نہ کرتے) کیونکہ ان کے بیٹے بھی ان کے ساتھ نہیں تھے.

مقصد:
بیان مسائل اربع کا

دو کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ہے اور یہ اصل ہے باقی دو مسائل اس کے تابع ہیں۔
العبادۃ للہ وحدہ اور نفی شرک فی العلم(ان کا تعلق ایمانیات کے ساتھ ہے اور یہ اصل ہے)
ترغیب تبلیغ اور تسلی دی جاتی ہے (یہ دونوں مسائل ایمانیات کے تابع ہیں)

ان چاروں مسائل پر انبیاء کرام علیہ السلام کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔
پہلے مسئلے(العبادۃ للہ وحدہ) پر چار پیغمبروں کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جنہوں نے العبادۃ للہ وحدہ کا بیان کیا ہے کہ عبادت خالص اللہ کی کرو اور کسی کی نہ کرو۔
١: حضرت نوح علیہ السلام
٢: حضرت ہود علیہ السلام
٣: حضرت صالح علیہ السلام
٤: حضرت شعیب علیہ السلام

دوسرے مسئلے(شرک فی العلم) پر دو پیغمبروں کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ پیغمبر بھی المن غیب نہیں تھے گیپ کین صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے.
١: حضرت ابراهيم علیہ السلام
٢: حضرت لوط علیہ السلام
کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کو نہیں پہچانا بلکہ ڈر گئے تھے اور یوں ہی حضرت لوط علیہ السلام نے بھی فرشتوں کو نہیں پہچانا بلکہ تنگ پڑ گئے تھے تب پیغمبر عالم الغیب نہیں تھے تو کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے۔

تیسرے مسئلے(ترغیب فی تبلیغ) پر ایک پیغمبر کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے
١: حضرت موسی علیہ السلام
کہ حضرت موسی علیہ السلام نے بھی ترغیب فی تبلیغ کے لیے کتنی محنت کی اور اس میں ان کی راہ میں کتنی مشکلات پیش ائی مگر وہ ڈٹے رہے۔

چوتھے مسئلے (تسلی کے لیے) پر ایک پیغمبر کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے.
١: حضرت موسی علیہ السلام
حضرت موسی علیہ السلام نے غصہ نہیں کیا تو تم بھی غصہ نہیں کرنا بلکہ تبلیغ جاری رکھنا۔

پہلا مسئلہ»» (العبادۃ للہ وحدہ)سات مرتبہ
١:آیت نمبر 2»» بندگی صرف اللہ کی کرنی ہے

٢:آیت نمبر14»» اللہ کے علاوہ کوئی حاجت روا نہیں

٣:آیت نمبر26»» اللہ کے علاوہ کسی کی بندگی نہیں کرنی۔

٤:آیت نمبر 50»» حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو کہ کوئی اور حاجت سوا نہیں

٥:آیت نمبر 61»» حضرت صالح علیہ السلام نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو کوئی اور حاجت روا نہیں

٦:آیت نمبر 84»» شعیب علیہ السلام نے کہا کہ بندگی کرو خاص اللہ کی نہیں ہے کوئی اور حاجت روا

٧:آیت نمبر 123»» تو بندگی کرو خاص اللہ کے لیے.

دوسرا مسئلہ»» (نفی شرک فی العلم) 9 مرتبہ
١:آیت نمبر5»» جانتا ہے اللہ وہ جو یہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں

٢:آیت نمبر6»» اور اللہ جانتا ہے اس کے مستقل ٹھکانے کو اور عارضی ٹھکانے کو۔

٣:آیت نمبر 31»» میں نہیں کہتا کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے علم کے اور نہ میں عالم الغیب ہوں

٤:آیت نمبر 47»» نوح علیہ السلام نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں تجھ پر کہ میں وہ پوچھوں کہ نہ ہو میرے پاس کوئی علم

٥:آیت نمبر 49»» یہ جو واقعہ بیان ہوا یہ غیب کی خبروں میں سے ہے وحی کی اس کی ہم نے اپ کو اور نہ تھے اپ اس کو جاننے والے

٦:آیت نمبر 57»» بے شک رب میرا ہر چیز پر نگہبان ہے

٧:آیت نمبر 70»» ابراہیم علیہ السلام سے نفی علم الغیب کی

٨:آیت نمبر 77»» حضرت لوط علیہ السلام سے نفی علم الغیب کی

٩:آیت نمبر 123»» اور اللہ ہی کے لیے علم ہے اسمانوں اور زمینوں کا

تیسرا مسئلہ»»(ترغیب فی تبلیغ) آٹھ مرتبہ
١:آیت نمبر 2»» بے شک میں ہوں تمہارے لیے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا

٢:آیت نمبر17»» وہ جو ہو دلیل پر اور پڑھتا ہوں اللہ کی کتاب

٣:آیت نمبر 27 اور 28»» نوح علیہ السلام نے ایا تم نہیں دیکھتے کہ میں ہوں اللہ کی دلیل پر اور دی گئی ہے مجھے رحمت اللہ کی طرف سے

٤:آیت نمبر 57»» بس اگر تم مڑ گئے تو تحقیق کے ساتھ میں نے پہنچا دیے کمات وہ جس پر میں بھیجا گیا تھا تم لوگوں کی طرف

٥:آیت نمبر 63»» کہاں صالح ہے علیہ السلام نے ایا خبر دو مجھے اے میری قوم اگر ہوں میں اپنے رب کی طرف سے دلیل بنو دی گئی ہے مجھے مہربانی

٦:آیت نمبر 88»» کہا شعیب علیہ السلام نے اے میری قوم خبر دو مجھے اگر ہوں میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر

٧:آیت نمبر 117»» اور نہیں ہے رب تمہارا ہلاک کرنے والا کسی بھی قوم کو ان کے شرک کے سبب ایسی حالت میں کہو ان میں بیان کرنے والے

٨:آیت نمبر 123»» اور اللہ کی کتاب کو بیان کرو اور تسلی رکھو اور توکل کرو اللہ پر

چوتھا مسئلہ »»(تسلی) چھ مرتبہ
١:آیت نمبر 12»» شاید کہ کچھ مسائل پر تمہارا سینہ تنگ پڑے اور تم چھوڑنا چاہو تو سینہ نہ تنگ کیجیے اللہ اپ کے ساتھ ہے

٢:آیت نمبر 27»» تو کہا نوح علیہ السلام کی قوم کے امیروں نے کہ ہم نہیں دیکھتے اپ کو مگر بندہ ہم جیسا اور تمہارے ساتھی غریب ہیں اور ہمارے ساتھی بادشاہ ہیں اور نہیں دیکھ کے تم پر کوئی فضل

٣:آیت نمبر 62»» کہا انہوں نے ایا تو منع کرتے ہو ہمیں اس کی عبادت سے جس کے پیروکار ہمارے آباؤ اجداد تھے تم تو اب تک بہت اچھے تھے مگر تم تو کوئی اور ہی مسائل بیان کرنے لگ گئے ہو۔

٤:آیت نمبر110»»تحقیق کے ساتھ دی تھی ہم نے موسی علیہ اسلام کو کتاب مگر اس میں بھی اختلاف ہوا تھا اور اگر نہ گزرا ہوتا حکم تمھارے رب کا تو خوامخواہ فیصلہ ہو چکا ہوتا انکے درمیان۔

٥:آیت نمبر115»» اور صبر کرنا اور اللہ ضائع نہیں کرتا اجر نیکوکاروں کا

٦:آیت نمبر 12»» اور اسی اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو صبر رکھو

03/04/2024

خلاصہ سورۃ یونس

سورۃ یونس مکی سورت ہے اسمان سے نزول میں 51 نمبر پر سورہ بنی اسرائیل کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں دسویں نمبر پر ہے

امتیازات:
»»آیت نمبر 18 میں مشرکوں کے شبہ ( کہ ہم ان لوگوں کو خدا نہیں سمجھتے بلکہ یہ تو ہمارے سفارشی ہیں) کا رد
»» یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہونے کا بیان
»» دلائل عقلیہ کے بیان پر
»» مقاصد اربع عالیہ کے بیان پر
»»آیت نمبر 90 میں فرعون کی توبہ قبول نہ ہونے کا بیان
»»آیت نمبر 62 اور 63 میں اولیاء کا درجہ،ان کی تعریف اور ان کی کرامات کا بیان
»»آیت نمبر 88 میں موسی علیہ السلام کی بددعا کا بیان جو انہوں نے فرعون کی تباہی کے لیے مانگی تھی
»»آیت نمبر 71 مین نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو چیلنج کیا کہ مجھ پر ایسے ہی الزامات نہ لگاؤ ان طریقوں پر تم مجھے منع نہیں کر سکتے بلکہ میری موت کا بندوبست کرو اور مجھے بھی بتا دو کیونکہ تم مجھے مار کر ہی اس سے روک سکتے ہو۔
»»آیت نمبر 15 میں منکرین کے قران کے متعلق بہانے ذکر کیے جاتے ہیں
»»آیت نمبر 83 میں موسی علیہ السلام پر ظاہرا ایمان نوجوان لے کر ائے تھے۔
»»آیت نمبر 57 اور 58 میں قران کریم کی پانچ صفات

مقصد:
مقاصد اربع عالیہ کا مرارا
١:اثبات توحید
٢:صداقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
٣:صداقت الکتاب
٤:ایمان بالاخرہ
ان کو مقاصد عقلیہ بھی بولا جاتا ہے اور ان کا بیان بار بار کیا جاتا ہے اور انجام بیان کیا جاتا ہے مخالفین کو ڈرانے کے لیے۔
اس سورت کو تفریح کیا گیا ہے پچھلی سورتوں پر کہ جہاد کرو گے تو اس مسئلے کے لیے کرو گے نام و نہادکے لیے نہیں کرو گے۔۔

تقسیم:
سورۃ یونس دو حصوں میں تقسیم ہے۔

پہلا حصہ»»آیت نمبر 1 تا 70
○بیان مقاصد اربع کا
○آیت نمبر 18 میں مشرکوں کے مشہور شبہ کا رد (کہ ہم ان کا خدا تو نہیں بولتے بلکہ یہ تو ہمارے سفارشی ہیں)

دوسرا حصہ»»آیت نمبر 71 تا 109
○واقعات انبیاء کرام کے
○بیان فرقہ ثلاثہ کا (قوم نوح, موسی علیہ اسلام/فرعون اور مدین والے)
○تفریح کیا جاتا ہے پہلے حصے کے مضمون پر
○جن قوموں نے ان مقاصد کو مانا تھا ان کا کیا انجام ہوا اس پر واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا
○دو واقعات تخویف کے لیے بیان کیے جاتے ہیں کہ جنہوں نے ان مقاصد کو نہیں مانا تو ان کا کیا انجام ہوا
١: نوح علیہ السلام کی قوم کا انجام
٢: فرعون کا انجام

شروع شروع میں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے بھی یہ مقاصد نہیں مانے تھے لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ حق پیغمبر ہیں تو انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کو قبول کیا۔

02/04/2024

خلاصہ سورۃ توبہ

سورۃ توبہ مدنی سورت ہے آسمان سے نزول میں 113 نمبر پر سورۃ مائدہ کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں نویں نمبر پر ہے

شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کیوں نہیں؟؟؟
پہلی وجہ : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں ہے تو انہوں نے جواب دیا:نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب ایک سورت ختم ہونے پر دوسری سورت شروع کرتے تو سب سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتے تھے مگر سورہ توبہ کو شروع کرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بسم اللہ نہیں پڑھی تو کاتب وحی نے بھی سورۃ توبہ سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی۔

دوسری وجہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتائی وہ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ میں رحم ہے بہت زیادہ اور اس سورت میں کافروں اور منافقوں پر بالکل رحم نہیں ہوا بلکہ قتال کا حکم ہے۔

تیسری وجہ: بعض صحابہ کرام نے وجہ بیان کی ہے کہ یہ سورۃ الانفال اور سورۃ توبہ ایک سورت ہے ان کا مضمون ایک ہے (جہادفی سبیل اللہ/ قتال فی سبیل للہ) اس وجہ سے بسم اللہ سورۃ توبہ کے شروع میں نہیں ہے..۔۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد غالبا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سورت سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھا توصحابہ کرام دو طرح کے ہو گئے۔
»» ایک وہ جو کہہ رہے تھے کہ سورہ انفال اور سورہ توبہ ایک ہی سورت ہے کہ دونوں کا مضمون ایک جیسا ہے
»» دوسرے وہ جو کہہ رہے تھے کہ یہ الگ سورت ہے۔
وہ جو کہہ رہے تھے کہ یہ دو سورتیں ہیں تو اللہ نے ان کی بات بھی رکھی کہ بسم اللہ دو سورتوں کے درمیان جدائی کے لیے آتا ہے۔
وہ جو کہہ رہے تھے کہ یہ ایک ہی سورت ہے تو ان کے لیے اللہ نے سورۃ کا نام الگ کر دیا تھا کہ سورہ انفال ابتدائی سورتوں میں سے اور سورہ توبہ اخری سورتوں میں سے ہے۔

اس سے حنفی مسلک اور مواحدین کی دو باتیں بھی ثابت ہوتی ہیں۔
امام شافع رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہر سورت کی آیت اور جز ہے جبکہ امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہر سورت کا جز نہیں ہے ہاں مگر تبرک اور تفریق کے لیے ہر سورت سے پہلے پڑھنی چاہیے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ ہر سورت کا جز ہوتا تو پھر سورہ توبہ سے پہلے بھی بسم اللہ موجود ہوتی بے شک یہ قران کی ایت ہے مگر ہر سورت کا جز نہیں ہے۔

سورہ نمل میں ہے کہ ملکہ بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو خط لکھا تھا تو ملکہ وہ خط اپنی قوم کو پڑھ کر سناتی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ قران کی آیت ہے مگر ہر سورت کا جز نہیں ہے۔
دوسری بات یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور صحابہ کرام نے لکھی نہیں۔۔۔تو (معاذ اللہ) بسم اللہ پڑھنا کیا گناہ ہے؟؟
بالکل بھی نہیں۔۔۔بلکہ جب اپ سورہ انفال کی تلاوت کر رہے تھے اور سورہ توبہ شروع ہو گئی تو اپ بسم اللہ نہیں پڑھو گے مگر شروع ہی اگر سورہ توبہ سے کر رہے ہو تو بسم اللہ پڑھنی ہے کیونکہ اس کی تو بہت برکات ہیں اور فضائل ہیں مگر لکھی اس لیے نہیں گئی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا مگر بدعتی کی طرف آئیں تو وہ کہتے ہیں کہ سب کاموں میں برائی ہی کیا ہے یا دیگ بنوانے،چہلم،میلاد النبی منانے میں برائی کی کیا ہے؟ تو ان سے پوچھیں کہ بسم اللہ پڑھنا اچھا ہے یا برا ہے؟
تو وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ برا ہے پھر ان سے کہیں کہ اگر برا نہیں ہے تو سورہ توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں؟تو وہ فورا کہیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا ہی نہیں.
تو یہ سب کام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں کیے تو تم کیوں کرتے ہو پھر؟؟؟

سورہ توبہ کے مزید نام
»» سورۃ توبہ (غزوہ تبوک میں صحابہ نے جانے سے سستی کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سخت ناراض ہوئے تو 40 روز بات نہیں کی تو ان کی توبہ اور قبولیت کا بیان ہے)
»» سورۃ برات (اس کے شروع میں ہی مشرکوں سے بائیکاٹ کا بیان ہے)
»» سورۃ مخزیہ(منافقوں کی دھول اڑائی گئی ہے)
»» سورۃ مشردہ(مشرقوں اور منافقوں کو بھگایا گیا ہے)
»» سورۃ حافرہ(کھودنا مطلب مشرکوں کو ٹھیک سے کھودا گیا ہے)
»» سورۃ مبعسرہ(شرمانا مطلب مشرکوں کو شرم دلائی گئی ہے)
»» سورۃ فازھہ(رسوا اور ذلیل کرنا)
»» سورۃ مقشقشہ(اضطراب دلانا)
»» سورۃ منقلہ(داغ لگانا)
»» سورۃ مدمدمہ(الٹ پلٹ کرنا)

امتیازات:
١: میدان جہاد کے فرقہ اربع کا بیان
٢: مشرکوں کی اقسام کا بیان
٣: منافقوں کی 63 صفات
٤:آیت نمبر 17 کے مشرک بھلا کیوں مسجدیں آباد کریں گے؟جب انکے اعمال ہی شرکیہ ہیں تو ان کی مسجدیں بھلا کیا فائدہ دیں گی؟
٥: غزوہ حنین کے بیان پر
٦: آیت نمبر 19 میں مشرکوں کی خیراتوں کا بیان
٧:أیت نمبر 34 میں علماء سوء کا بیان
٨:آیت نمبر 40 میں غار ثور کا بیان
٩:آیت نمبر 60 میں مصارف زکوۃ کا بیان
١٠: آیت نمبر 107 میں مسجد ضرار کا بیان
١١: شروع میں بسم اللہ نہیں
١٢:آیت نمبر 84 میں منافق کے جنازہ نہ کرنے کا بیان

مقصد:
قتال فی سبیل اللہ اور بیان فرقہ اربع کا
پہلا فرقہ»» مشرکین
دوسرا فرقہ»» اہل کتاب
تیسرا فرقہ»» منافقین
چوتھا فرقہ»» مومنین
مومنین باقی تین فرقوں کے ساتھ جنگ کریں گے۔

1:مشرکین(تین طرح کے)
○معاہدین»» جن کے ساتھ وعدہ ہوا ۔
✓مخالفین۔۔۔۔۔جن کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوا مگر وہ جنگ کرتے ہیں
○محاربین»» جن کے ساتھ جنگ جاری ہے
○مستامنین»» جنہوں نے امن لیا ہوا ہے

2: اہل کتاب (دو اقسام)
○یہود»» بظاہر موسی علیہ السلام کے ماننے والے
○نصاری»» عیسائی|انہوں نے اس علیہ السلام کی مدد کی

3: مومنین (تین اقسام)
○معذورین»» جو جہاز سے جسمانی یا مالی عذر کی وجہ سے رہ گئے
○متکاسلین»» جو جہاد سے سستی کی وجہ سے رہ گئے
○مجاہدین»» جو جہاد کے لیے نکلے

4: منافقین (ان کی 63 صفات بیان کی جاتی ہیں)

تقسیم:
چار حصے/چار مضامین
١:آیت نمبر 1 تا 28
○مشرکوں کا بیان
○مشرکوں کی اقسام
○مشرکوں کے لیے احکام
○مشرقوں کے ساتھ جنگ کی وجہ

٢:آیت نمبر 29 تا 37
○اہل کتاب کا بیان
○اہل کتاب کے ساتھ جنگ کی وجہ

٣:آیت نمبر 38 تا 90
○منافق کی اقسام (اعتقادی اور عملی)
○منافق کی 63 صفات

٤:آیت نمبر 91 تا 139
○مومنوں کا بیان
○مومنوں کی تین اقسام

01/04/2024

خلاصہ سورۃ انفال
سورۃ انفال مدنی سورت ہے نزول 88 نمبر پر سورہ بقرہ کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں یہ آٹھویں نمبر پر ہے۔۔۔

امتیازات:
»» آیت نمبر 1 جس میں تین اوامر بیان کیے جاتے ہیں

»»آیت نمبر 2 اور 3 مومنوں کے اوصاف خمسہ پر

»»آیت نمبر 7 فار دس میں اس وعدے کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ کیا تھا کہ دو گروہ ہیں جس گروہ پر آپ کہیں گے اس گروہ پر آپ کو فتح دوں گا۔

»»آیت نمبر 30 پر کہ جو قبائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے ارادے سے اکٹھے ہوئے تھے مگر کامیاب نہ ہوئے

»»آیت نمبر 32 پر جس میں مشرکین مکہ کی دعاؤں کا بیان ہے

»»آیت نمبر 33 پر جس میں دو امنوں کا بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں (ذات رسول اور استغفار)

»»آیت نمبر 35 پر اس میں ذکر ہے کہ اللہ کے نزدیک مشرکوں کی نماز کی کوئی حیثیت نہیں

»»آیت نمبر 41 پر جس میں غنیمت کی تقسیم کا بیان ہے

»»آیت نمبر 43 پر جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اللہ رب کریم نے خواب میں کافر تھوڑے دکھائے تھے

»»آیت نمبر 70 پر جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قیدیوں کو جو بیان تھا وہ ذکر کیا جاتا ہے۔

»» میدان جہاد کے فائدوں پر

مقصد: "قتال فی سبیل اللہ"
جہاد عام ہے قتال خاص ہے۔جہاد کی کئی اقسام ہیں مگر قتال تلوار کے ساتھ کر کے کفار کو ختم کیا جاتا ہے۔
سورۃ کا یہ دعوہ آیت نمبر 39 میں بیان کیا جاتا ہے۔اللہ رب کریم فرماتے ہیں:
"اور جنگ کرو ان کے ساتھ یہاں تک کہ نہ رہے شرک یا غلبہ کافروں کا اور ہو جائے دین خاص اللہ کے لیے"

جہاد کی تین منازل ہیں
١: ابتدائی منزل (میدان جہاد سے پہلے)
٢: درمیانی منزل (میدان جنگ میں)
٣: آخری منزل (فتح یا شکست کے بعد)

ابتدائی منزل کا بیان اب تک کی تمام سورتوں میں ہوا۔
سورۃ البقرۃ (ابتدائی منزل کے لیے تین باتوں کا بیان)
»» مجاہد کی ٹریننگ
»» ملک کی اصلاح
»» مجاہد کے گھر کی اصلاح
سورۃ ال عمران (تنظیم کا بیان اور پانچ اصول)
سورۃ النساء (جہاد کی ابتدائی منزل کے احکام)
سورۃ المائدہ (حلال اور حرام کا مسئلہ مجاہد کی تربیت کے لیے)
سورۃ انعام (جہاد توحید کے لیے کیا جائے گا/دلائل عقلیہ)
سورۃ الاعراف (دلائل نقلیہ توحید کے بیان پر)

جہاد کی دوسری منزل (میدان جنگ میں) کا بیان سورۃ انفال, سورۃ توبہ اور سورۃ الاحزاب میں کیا جاتا ہے۔
سورۃ انفال»» میدان جہاد میں مجاہد کے لیے کیا کیا ضروری ہے اس کے چھ قاعدے ذکر کیے جاتے ہیں

آیت نمبر 1 »» تین اوامر
١: فاتقوا الله(اللہ سے ڈرو)
٢: و اصلحو(اپنے مابین تعلق کو درست کرو)
٣:واطيعو(اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو)

آیت نمبر 2 تا 3 »» اوصاف خمسہ کا بیان
»» واقعہ غزوہ بدر کا تسلی کے لیے

»»میدان جہاد کے چھ قاعدے
١:آیت نمبر 15 »» مجاہد پیٹھ نہیں پھیرے گا
"قاعدہ مومنوں کی پہلی صفت پر تفریح کیا جاتا ہے کہ مومن جب اللہ کا کلام سنتے ہیں تو یہ صرف اللہ سے ہی ڈرتے ہیں پھر یہ میدان جہاز سے بھاگتے نہیں"

٢:آیت نمبر 20 »» اطاعت اللہ اور اس کے پیغمبروں کی کرو گے۔
"مومنوں کی دوسری صفت پر تفریح کیا جاتا ہے کہ جب یہ اللہ کی ایات سنتے ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے ایمان کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے تو یہ اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں"

٣:آیت نمبر 24»» امیر کی اطاعت کرو گے۔
"مومنوں کی تیسری صفت پر تفریح کیا جاتا ہے کہ اگر امیر کہے کہ سو پر حملہ کرو تو یہ 100 پر حملہ کرتا ہے کیونکہ یہ اللہ پر توکل رکھتا ہے اور موت سے نہیں ڈرتا"

٤:آیت نمبر 27 »» خیانت نہیں کرو گے۔
"مومنوں کی چوتھی صفت پر تفریح کیا جاتا ہے مومن نماز جاری کرتے ہیں اور جو نماز پڑھتا ہے وہ خیانت نہیں کر سکتا"

٥:آیت نمبر 29 »» ڈرو گے صرف اور صرف اللہ سے۔
"مومنوں کی پانچویں صفت پر تفریح کیا جاتا ہے کہ مومن اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس وجہ سے اللہ ان کے دل سے تمام ڈر اور خوف نکال دیتا ہے"

٦:آیت نمبر 70»» پچھلے تمام قاعدوں پر تفریح کیا جاتا ہے کہ امیر میدان جہاد کے بعد تقریر کرے گا۔

تقسیم: دو حصے
١:آیت نمبر 1 تا 40
مال غنیمت کی تقسیم اللہ کے حکم کے مطابق
٢: آیت نمبر 41 تا 75
جہاد کے قانون/نفی تصرف کا

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Lahore
54000