09/04/2024
خلاصہ سورۃ یوسف
سورۃ یوسف مکی سورہ ہے اسمان سے نزول میں 53 نمبر پر سورہ ہود کے بعد نازل ہوئی اور قران کی ترتیب میں بارویں نمبر پر ہے۔
ربط:
»» سورۃ ھود میں نفی علم غیب کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام سے تو سورۃ یوسف میں نفی علم غیب کا حضرت یعقوب علیہ السلام , نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے۔
»» سورۃ ھود میں توحید کے بیان پر چار انبیاء کی تقریر تو سورۃ یوسف میں توحید کے بیان پر حضرت یوسف علیہ السلام کی تقریر
»» سورۃ ھود کے اخر میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ اللہ پر توکل کرو تو سورۃ یوسف میں اللہ پر توکل کا نمونہ یوسف علیہ السلام کی شکل میں
»» سورۃ ھود میں آیت نمبر 120 میں انبیاء کے واقعات دل کی مضبوطی کے لیے تو سورۃ یوسف میں دل کی مضبوطی کے لیے واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام کا
»» سورۃ ھود میں ابتدا ترغیب الی القران کے ساتھ تو سورۃ یوسف میں بھی ترغیب القران کے ساتھ
امتیازات:
○حضرت یوسف علیہ السلام کی سیاسی بصیرت پر
○عورتوں کے مکر کے بیان پر
○دو قسم کی محبتوں کے بیان پر (جائز اور ناجائز)
○یوسف علیہ السلام کے خواب کے بیان پر
○یوسف علیہ السلام کی تقریر کے بیان پر (جو جیل خانے میں کی تھی)
مقصد:
تسلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوسف علیہ السلام کے حالات پر
حالک کحال یوسف
١: میرے نبی اپ کا حال یوسف علیہ السلام کی طرح ہے اور ان کی طرف یوسف علیہ السلام کی نسبت کی جاتی ہے کہ جیسے یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کی وجہ سے اپنے ہی علاقے سے نکالے گئے تھے ایسے ہی اپ اپنے رشتہ داروں کی وجہ سے اپنے ہی علاقے سے نکالے جاؤ گے۔
٢: جیسے یوسف علیہ السلام نے تین دن اور تین راتیں کنویں میں گزاری تھی میرے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپ بھی تین دن اور تین راتیں غار ثور میں گزارو گے
٣: جیسے یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے جانے کے بعد خوف میں اور پریشانی کے ساتھ قافلے کے ساتھ اگے جا رہے ہیں کہ نہ جانے اگے کیا ہوگا ایسے ہی میں نے محبوب تم غار ثور سے پریشانی کے ساتھ نکلو گے کہ اگے کیا ہوگا۔
٤: جیسا کہ یوسف علیہ السلام مصر میں پہلے ہی دن سے معزز ہو گئے تھے اور اس کو وزیر نے خرید لیا تھا مہنگے داموں اور گھر میں اپنے بیٹے کی طرح پالا تو میرے محبوب اپ بھی مدینے میں پہلے ہی دن سے معزز بن جاؤ گے کوئی کہے گا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوں اور کوئی کہے گا کہ یہ میرے مہمان ہوں گے اور پھر ایسا بھی ہوا تھا اور میزبان رسول حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بنے اور تقریبا چھ ماہ میزبانی ان کو ملی۔
٥: جیسے یوسف علیہ السلام پر محبت کرنے والوں کی طرف سے تہمت لگائی گئی ایسے ہی میرے محبوب مدینے میں اپ کے چاہنے والے کچھ ایسے بھی ہوں گے جن کی طرف سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر تہمت لگے گی۔
٦: جیسے اخر میں یوسف علیہ السلام مصر کے بادشاہ بن گئے ایسے ہی میرے محبوب اپ اخر میں مدینے کے بادشاہ بن جاؤ گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پھر بادشاہ بنے بھی تھے اور قصری اور روم کو پھر خط بھی لکھا کرتے تھے قصری کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خط ملا تو اس نے اس کی بے عزتی کی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگا اور ویسے ہی ہوا اور روم کے بادشاہ نے خط کی عزت کی اس خط کو سونے کے ڈبے میں رکھا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ملک کی حفاظت اللہ کرے گا لہذا اس ملک کی حفاظت ہمیشہ ہوتی رہی۔
٧: یوسف علیہ السلام کی صفائی ان عورتوں نے دی تھی اسی طرح اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی پر لگا بہتان قران ختم کرے گا۔
٨: جیسے اخر میں یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے قدموں میں گرائے گئے ایسے ہی میرے محبوب اپ کے خلاف رشتہ دار بھی اپ کے قدموں میں گرائے جائیں گے اور ایسا ہوا بھی تھا
٩: جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے معافی مانگنے پر یوسف علیہ السلام نے ان کو معاف کر دیا یوں ہی مکہ کے لوگوں کو اپ صلی اللہ علیہ وسلم معاف کر دیں گے۔
تقسیم:
اس سورت کی تقسیم نہیں ہے یہ شروع سے اخر تک ایک ہی واقعہ ہے۔مگر ہمارے عظیم اساتذہ کرام ذکر کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ سات مرحلوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
١: پہلا مرحلہ»»آیت نمبر 1 تا 10
○یوسف علیہ السلام کا خواب دیکھنا
○خواب کو اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے ذکر کرنا
○حضرت یعقوب علیہ السلام کا خواب کو بھائیوں سے بیان کرنے سے منع کرنا
○یوسف علیہ السلام کے خواب کا بھائیوں کو علم ہو جانا
٢: دوسرا مرحلہ»»آیت نمبر 11 تا 20
○یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا کنواں کھودنا
○یوسف علیہ السلام کا کنویں میں پھینکنا
○پھر قافلے کے ہاتھوں فروخت کر دینا
٣: تیسرا مرحلہ»»آیت نمبر 21 تا 35
○یوسف علیہ السلام کا مصر کے بازار میں فروخت کیا جانا
○عزیز مصر کی بیوی کا یوسف علیہ السلام کو خریدنا
○عزیز مصر کا یوسف علیہ السلام کو بیٹا بنانا
○عزیز مصر کی بیوی کے دل میں شیطان کا انا
○یوسف علیہ السلام پر تہمت کا لگنا
○یوسف علیہ السلام کا جیل میں جانا
٤: چوتھا مرحلہ»»آیت نمبر 36 تا 57
○یوسف علیہ السلام کے جیل کے ساتھیوں کا خواب دیکھنا
○یوسف علیہ السلام کی بتائی گئی تعبیر کا سچ ہونا
○بادشاہ کا خواب دیکھنا اور یوسف علیہ السلام کا تعبیر بتانا
○بادشاہ کا یوسف علیہ السلام سے تعارف ہونا
○یوسف علیہ السلام کو وزارت دینا
٥: پانچواں مرحلہ»»آیت نمبر 58 تا 68
○یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا انا اور غلہ لے کر جانا
○یوسف علیہ السلام کا ان کو اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کا حکم دینا
٦: چھٹا مرحلہ»» آیت نمبر 59 تا 98
○یوسف علیہ السلام کے بھائی بنیامین کا انا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائی سے ملنا
○بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کا پہچاننا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو معاف کرنا
○یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوں کو اپنی قمیض دینا
○بھائیوں کا واپس ا کر اپنے باپ کو خوشخبری سنانا
٧: ساتواں مرحلہ»»آیت نمبر 99 تا 111
○سب کا مصر میں اکٹھا ہو جانا
○سب کا خوشحال زندگی گزارنا