03/11/2025
مدنی ماں گھر میں بچوں کو سیرت کے واقعات سناتی رہتی تھی۔ ایک دن بچے نے ضد کی کہ مجھے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملانے کے لیے لے جائیں۔ ماں سمجھ رہی تھی کہ شاید یہ روضہ اقدس پر جانے کا کہہ رہا ہے۔ لیکن جب مسجد نبوی کے صحن میں پہنچ کر خاتون نے اسے بتایا کہ وہ سامنے والے گیٹ سے گزر کر آقائے کریمؐ کی قبر مبارک پر سلام پیش کریں گے۔ یہ سننا تھا کہ بچہ بلک بلک کر رونے لگا کہ میرے آقا کی وفات ہو چکی ہے؟ آپ نے ابھی تک مجھے بتایا ہی نہیں۔ وہ تو سمجھ رہا تھا کہ آنحضرتؐ کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کروں گا۔ مگر..... باقی ماں اور عشق رسالت کے ننھے پروانے کا مکالمہ سن لیجئے۔ واقعی، آقائے دوجہان علیہ افضل الصلوات و التسلیمات کی محبت ہر بچے کی فطرت کا حصہ اور دل میں جاگزیں ہے۔
*کبھی اے عنایتِ کم نظر ترے دل میں یہ بھی کسک ہوئی*
*جو تبسمِ رخِ زیست تھا اسے تیرے غم نے رلا دیا🥺*