19/07/2026
مختصر سوانح حیات
اسیر تحفظ ناموس ختم نبوت مجدد قرآت امام القراء فنا فی القران متبع سنت ولی کامل استاذ العرب والعجم سیدی و مرشدی و مولائی استاذی حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فاضل دارالعلوم دیوبند شاگرد رشید شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللّٰہ خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سابق صدر المدرسین شعبہ حفظ تجوید و قرات جامعہ خیر المدارس ملتان پاکستان تاریخ وفات 12 ذی الحجہ 1402ہجری بمطابق 30 ستمبر 1982 بروز جمعرات
نام و نسب
قاری رحیم بخش بن چوہدری فتح محمد بن حافظ رحم علی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
ولادت باسعادت
علم قرات کا یہ نیر ستارہ پانی پت ضلع کرنال محلہ چورا کنواں انڈیا میں رجب المرجب 1314 ہجری کو طلوع ہوا ساڑھے تین برس کی عمر میں والد ماجد کا سایہ عاطفیت اٹھ گیا اور والدہ ماجدہ نے تعلیم دلانے کی سعی فرمائی
حفظ قران کریم
آپ فطرتاذہین وزکی اور طبعاً نظیف اور لطیف المزاج تھے چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا قاعدہ اور ناظرہ قران سے فراغت پر مدرسہ اشرفیہ پانی پت میں حفظ قران کریم کی ابتدا امام القرا حضرت الحاج مولانا قاری فتح محمد صاحب مہاجر مدنی رحمہ اللہ تعالی سے 1349 ہجری میں با عمر اٹھ سال کی اور عرصہ دو سال میں مکمل حفظ کر لیا
درس نظامی کی ابتدا
فارسی اور ابتدائی عربی کتب شرح جامی کنزالدقائق وغیرہ تک حضرت استاذمولانا قاری فتح محمد صاحب اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب مفتی پانی پت سے 1358ہجری تک پڑھی اسی اثناء میں
نکاح
28 محرم الحرام 1357 ہجری بعمر16 سال پہلا نکاح ہوا تکمیل علوم
تکمیل علوم کی غرض سے اٹھ ذیقعدہ 1358 ہجری کو معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند پہنچے اور چار سال رہ کربعمر 21 سال تمام علوم متداولہ سے فراغت حاصل کی
دارالعلوم میں آپ کے اساتذہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی شیخ الادب حضرت مولانا محمد اعزاز علی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا مفتی محمد ریاض الدین رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا قاری محمد اصغر علی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا سید اختر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا فخر الحسن صاحب رحمہ اللہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ہیں
آغاز تدریس
پاکستان بننے سے چار سال قبل ذیقعدہ 1362 ہجری بمطابق 1942 میں بعمر 21 سال مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ کی دعوت پر جامعہ محمدیہ تعلیم القران مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان میں مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے
نکاح ثانی اور پانی پت واپسی پانی پت میں پہلی اہلیہ محترمہ کے انتقال کے بعد ذیقعدہ 1365 ہجری میں دوسرا نکاح ہوا اور ملتان تشریف لے ائے پھر ربیع الاول 1366 ہجری میں پانی پت تشریف لے گئے ہندو مسلم فساد اور تقسیم ہند کی تیاری کی بنا پر ریل وغیرہ کی آمد و رفت بند ہو گئی جس کی وجہ سے آپ نے مدرسہ فیض القران پانی پت میں ہی پڑھانا شروع کر دیا چھ ماہ کے بعد بر موقع امتحان سالانہ قاری ہند حضرت مولانا قاری ابو محمد محی الاسلام عثمانی نور اللہ مرقدہ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ جب اللہ جل شانہ کام لینے پر آتے ہیں تو چھوٹے بچوں سے بھی لے لیتے ہیں اس بچے نے چھ ماہ میں مدرسے کی کایا پلٹ دی جو کام عرصہ دراز سے خراب چلا آتا تھا وہ سب درست ہو گیا سبحان اللہ
پاکستان واپسی
27رمضان المبارک 1366 ہجری کو پاکستان معرض وجود میں آیا حضرت اقدس پاکستان تشریف لے ائے اور حسب سابق مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے فرمان پر جامعہ محمدیہ مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان ہی میں مشغول تدریس ہو گئے جامعہ خیر المدارس ملتان میں بحیثیت صدر مدرس
مدرسہ محمدیہ کے جامعہ خیر المدارس میں مدغم اور ضم ہو جانے کی بنا پر استاد العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھری صاحب رحمہ اللہ تعالی بانی خیر المدارس کی دعوت پر شوال 1367 ہجری میں عمر 26 سال جامعہ خیر المدارس ملتان میں بحیثیت صدر مدرس شعبہ حفظ و تجوید و قرات تدریسی خدمات انجام دینے لگے تاہم مسجد سراجاں بدستور ان کا مستقر اور ان کے فیوض و برکات کا مرکز رہی آپ نے زندگی بھر تعلیم کے ایام میں کبھی بھی مدرسے کا ناغہ نہیں کیا حتی کہ بیماری کے ایام میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہا پابندی وقت
اوقات تدریس کی پابندی حضرت والا مرحوم کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی سردی گرمی موسمی تغیرات ضعیفی و کمزوری کوئی چیز ان کے سد راہ نہ تھی حتی کہ اسفار حج و عمرہ سے واپسی پر کراچی میں ایک رات کا قیام بھی گوارا نہ تھا ملتان پہنچتے ہی ایئرپورٹ یا اسٹیشن سے سیدھے خیرالمدارس اپنی درسگاہ میں تشریف لے جاتے اس کے خلاف کبھی نہیں ہوا تدریس کے 40 سال
آغاز تدریس 1366 اور اختتام تدریس 1402 ہجری ہے اس 40 سالہ دور تدریس میں آپ سے سینکڑوں قرآءاور ہزاروں حفاظ فیض یاب ہوئے جو صرف پاک و ہند ہی میں نہیں بلکہ حرمین شریفین میں اور اس کے علاوہ ممالک ایران افریقہ لندن کینیڈا وغیرہ میں بھی قرآن کریم اور فن تجوید اور قرات کی معیاری خدمات سر انجام دے رہے ہیں
حج و عمرہ
الحمدللہ آپ نے 10 حج اور متعدد عمرے بھی ادا فرمائے حضرت والا فی الواقع عشق خداوندی اور حب نبوی میں سر تا پا ڈوبے ہوئے تھے یہی وجہ تھی جو ان کو ہر سال مختلف امراض میں گھرے ہونے کے باوجود کشاں کشاں دربار خداوندی و بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر کر دیا کرتی تھی
تصنیف و تجویدی کارنامے
آپ نے قران مجید باالتجوید حفظ کرنے اور اس کی قرآت کو ازبر یاد کرنے کے لیے بالخصوص تدریس قرآن کے لیے ایسے قواعدو ضوابط طرق ایجاد کیے جن کی مدد سے قران کا پختہ حفظ اور اس کی قرات کا پڑھنا سہل تر ہو گیا اس کے لیے آپ نے تجویدی ارشادات و اقوال اور بہترین گراں مایہ تصانیف سے معلمین اور متعلمین قرآن و قرآت کی اصلاح کی آداب تلاوت مع طریقہ حفظ قرآن و حفظ قرآت تحفۃ الحفاظ المعروف بہ متشابہات القرآن العطایہ الوہبیہ شرح مقدمہ جزریہ تنویر شرح تیسیر اور رسائل قرآن جن میں اصول و فروع کو الگ الگ مرتب کر کے شروع قرآن سے آخر تک بالترتیب ان کا اجراء ہے تکمیل الاجر فی القرات العشر المہذبہ فی وجوہ الطبیہ المیراۃالنیرہ فی حل الطیبہ مقبول ترین اور فنی لحاظ سے نہایت بلند پایا کتابیں اس پر شاہد عدل ہیں قرآء و علمائے امت نے آپ کو بجا طور پر قرآت اور ان کی تدوین و تسہیل اور پھر ان کی تالیف و تدریس اور قرآن کریم کے معیاری حفظ میں اپ کی مجددانہ صلاحیتوں خدمات اور خداداد بصیرت کے پیش نظرامام بلکہ مجدد تسلیم کیا ہے آداب تلاوت میں حضرت مجددقرآت رحمہ اللّٰہ کی اولاد کا تذکرہ نہیں تھا جو سمجھ میں آیا میں نے شامل کر دیا
اولاد چار صاحبزادے چھ صاحبزادیاں
صاحبزادگان
1 حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد عبداللہ رحیمی صاحب رحیم اللہ تعالی فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان ماہر فن تجوید قرآت اور کم گو انسان تھے
10 پارے منزل قرآن مجید ایک ایک منزل حزب الاعظم ,دلائل الخیرات اور حزب البحر روزانہ کا معمول تھا اور شب بیدار تھے ایک مرتبہ فرمایا کہ 30 سال ہو گئے ہیں کبھی قرآن مجید کھول کر نہیں دیکھا کبھی غلطی نہیں آئی تا دم آخر جامع مسجد نور ساہیوال میں تدریس قرآن مجید حفظ قرآت میں مصروف رہے ہر سال 30 یا 40 حفاظ وقراء سند فراغت حاصل کرتے تھے تاجر ملازم پیشہ حضرات جو گھنٹہ دو گھنٹے پڑھنے آتے تھے ان کو بھی حفظ کرا دیتے تھے 17 ذوالحجۃ 1417 ہجری بمطابق 25 اپریل 1997 بروز جمعہ قصور سے ساہیوال واپسی پر چونیاں کے قریب گاڑی درخت سے ٹکرا گئی جس میں اہلیہ چھوٹی صاحب زادی نواسہ داماد جو ڈرائیورنگ کر رہے تھے شہید ہوئے 55 سال کی عمر میں حضرت بھی شہید ہو گئے انا للہ وانا الیہ راجعون
2حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد عبید اللہ رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی جامعہ خیرالمدارس کے فاضل تھے جوان عمر خوبرو ہنس مکھ انسان تھے مجدد قرآت کے وصال کے بعد جامعہ خیر المدارس میں حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ تعالی کی مسند پر شعبہ حفظ قرآت کے صدر المدرسین جانشین ہوئے عرصہ 10 سال جامعہ میں خدمت قرآن مجید میں مصروف رہے سینکڑوں حفاظ اور قراء تیار کیے آخر میں دو سال عارضہ قلب کی شکایت رہی مگر تعلیمی معاملات میں فرق نہیں آنے دیا انتقال کے دن 16 دسمبر 1992 بروز بدھ درسگاہ میں شدید درد ہوا نشتر ہسپتال ملتان میں لے جایا گیا 38 سال کی عمر میں زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون
3 -حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد اہل اللہ رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان انتہائی ملنسارخوش اخلاق شفقت سے بھرپور مہمان نواز مجدد قرآت کے تمام شاگردوں پر مضبوط چھپّر کی طرح سایہ کیے ہوئے تھے موصوف علم و عمل اور اخلاص سے خوب لبریز تھے مرحوم جامعہ کے مہتمم پیر طریقت رہبر شریعت جامع المعقول والمنقول شیخ الحدیث آیت الخیر حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد حنیف جالندھری دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلی وفاق المدارس پاکستان کےہم سبق تھے صاحب استعداد عالم تھے شعبہ کتب اپناتے تواستاذ الحدیث ہوتے انتہائی خوبصورت روانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے سلسلہ پانی پتی میں ان سے خوبصورت پڑھنے والا احقر قاری غلام مصطفی آف لاہور نے نہیں سنا جامعہ سے فراغت کے بعدفیصل آبادجامع مسجد ابراہیم میں امام خطیب مقرر ہوئے جہری نمازوں میں بالترتیب کئی قرآن مجید ختم کیے اور ساتھ بنات اور بنین کے لیے جامعہ فتح الرحیم ادارہ قائم کیا جو بحمدللہ تعالی پورے آب و تاب کے ساتھ خدمت قرآن مجید اور درس نظامی میں مصروف ہے آخر میں ہجرت کر کے علالت کی حالت میں مدینہ منورہ تشریف لے گئے جاتے ہوئے اپنے صاحبزادہ حضرت مولانا قاری سلیم اللہ رحیمی مدظلہ العالی سے فرمایا بیٹے پریشان نہیں ہونا میں نے مدینہ منورہ میں جا کر مرنا ہے انتقال سے 17 دن قبل احباب کو بتایا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنت البقیع میں جائے مدفن بھی دکھا دی ہے 12 صفر 11 جنوری 2011 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے مسجد نبوی میں جنازہ ہوا جنت البقیع میں دفن ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
4 ,-شہزادہ سلسلہ رحیمیہ محبوب القراء حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد نصراللہ رحیمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان الحمدللہ اللہ تعالی نے صاحبزادہ صاحب کو ظاہری باطنی علمی اخلاقی روحانی حسن وافر مقدار میں عطا فرمایا ہے موصوف علم قرآت میں اپنے والد ہمارے استاد جی مجدد قرآت صاحب رحمہ اللّٰہ کے آمین ہیں الحمدللہ صاحبزادہ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم ہے اللہ تعالی تا دیر حضرت کاسایہ سلامت رکھے آمین جامعہ سے فراغت کے بعد فیصل آباد میں جامعہ رحیمیہ دارالقرآت ادارہ قائم کیا تاحال اس میں علم قرآت و حفظ قرآن مجید کی خدمت کر رہے ہیں اللہ تعالی دن دگنی رات چگنی ترقی نصیب فرمائے آمین
داماد
1 قاری حافظ محمد صدیق صاحب رحمہ اللّٰہ گھوٹکی صوبہ سندھ جو انتہائی نیک سیرت متقی اور کاروباری آدمی تھے
2حضرت مولانا قاری محمد یاسین صاحب رحمہ اللہ تعالی دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں استاذ الاساتذہ شاطبی وقت حضرت مولانا قاری فتح محمد پانی پتی رحمہ اللہ تعالی کی مسند پرتا دم آخر خدمت قرآن مجید انجام دیتے رہے
3.شیخ القراء،عاملِ قرآن،فنافی القرآن، پیکرِاخلاص، *مولانا قاری محمد طاہر رحیمی* رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تعالی عرصہ دراز تک جامعہ قاسم العلوم ملتان میں خدمت حفظ قرآن مجید و تجوید و قرآت اور استاذ الحدیث رہے مجدد قرآت حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ تعالی کے علم و تقوی کے جانشین سمجھے جاتے تھے تجوید و قرآت اور احادیث پر کافی کتب لکھی بندہ غلام مصطفی جب مسجد نبوی کے اوپر لائبریری میں گیا پوری لائبریری میں بندہ کو اردو میں لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں ملی صرف اور صرف حال کے سنٹر میں ٹیبل پر رکھی اردو میں لکھی ایک ضخیم کتاب ملی(قلمی نسخہ) جو کہ قاری محمد طاہر رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی کی تھی اور وہ آپ رحمہ اللّٰہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تجوید و قرآت میں تھا انداز حفظ قرآن بہت عظیم تھا اتنا یاد کرا دیتے کہ اکثر شاگرد الٹا قرآن مجید بھی پڑھ لیتے تھے آپ کے اہم ترین شاگردوں میں ایک بڑا نام مجاہدِ راہِ حق ،
پیکرِ اخلاص و استقامت، آبروئے دیوبند
قائد ملت اسلامیہ مرکزی امیر جمیعت علمائے اسلام پاکستان*حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب* دامت برکاتھم العالیہ ہیں
حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ سے مولانا فضل الرحمان صاحب نے قرآن مجید کی تصحیح و تجوید اور شعبہ درس نظامی کی کئ کتب پڑھیں۔
آخر میں حضرت والا مستقل مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اللہ تعالی نے وہاں ان سے بہت کام لیا وہیں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون
4۔ حضرت مولانا قاری محمد یاسین رحیمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فیصل آباد باغ والی مسجد اور دارالقرآن ادارہ چلا رہے ہیں حفظ تجوید و قرآت اور دورہ حدیث تک تعلیم ہو رہی ہے ماشاءاللہ حضرت قاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا فیض پوری دنیا میں پہنچ رہا ہے
5 حضرت مولانا قاری احمد رضا شاہ صاحب مدظلہ فیصل آباد سمندری میں جامعہ فیض عام کے نام سے بہت خوبصورت عالیشان ادارہ قائم کیا ہوا ہے حفظ تجوید و قرآت دورہ حدیث تک تعلیم جاری ہے اس کے علاوہ بھی کئی ادارے ان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں
6 حضرت مولانا قاری محمد فاروق صاحب مدظلہ بہاولپوری جامعہ خیر المدارس کے فاضل ہیں عرصہ دراز سے مدینہ منورہ میں خدمت قرآن مجید انجام دے رہے ہیں
وصال
چھ ذی الحجہ بروز جمعہ حسب معمول تعلیم قرآن کریم میں مسجد سراجاں میں مصروف تھے کے بعد نماز مغرب کان میں شدید درد ہوا اور اس کے معابعد بے ہوش ہو گئے اسی حالت میں نشتر ہسپتال لے جائےگئے وہاں کم و بیش پانچ دن تک بے ہوشی کے عالم میں رہے بالاخر 12 ذوالحجہ 1402 ہجری بمطابق 29 ستمبر 1982 بشب پنچ شنبہ 10 بج کر 36 منٹ پر بحالت استغراق دو بار زبان سے اللہ اللہ نکلا اور اس کے بعد اپنے خالق کے حضور پہنچ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون
جنازے کا حال
آپ کے سانحہ ارتحال کی خبر اخباری تعطیل اور مقامی ریڈیو اسٹیشن کے عدم تعاون کے باوجود پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دور دور سے آپ کے تلامذہ اور دین دار مسلمانوں کی بھاری تعداد آخری زیارت اور جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ملتان پہنچی اور ملتان تو تقریبا سارا ہی امڈآیا ہجوم اس قدر تھا کہ جنازے کی چارپائی کے ساتھ بانس باندھنے کی ضرورت پیش آئی نماز جنازہ قاسم باغ قلعہ کہنہ پر مبلغ اسلام ولی کامل حضرت مولانا محمد اسلم صاحب رحمہ اللہ خطیب و امام جامع مسجد نشتر کالج ملتان نے پڑھائی تدفین 12 ذوالحجہ 1402 ہجری بمطابق 30 ستمبر 1982 بروز جمعرات غروب آفتاب سے ذرا قبل جامعہ خیر المدارس ملتان میں خیر العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمہ اللہ تعالی اور مجاہد ملت و مفکر اسلام حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے درمیان علم و عمل تقوی اور تصوف کا وہ روشن ستارہ غروب ہوا جس کی روشنی اور تابناکی سے تقریبا نصف صدی تک علم قرآت کا ایوان جگمگاتا رہا اور جس کی ضیاءپاشیوں سے ہزاروں تشنگان علم تجوید و قرات مستفیض ہوئے حق سبحانہ و تعالی سے دعا ہے کہ ہمارےحضرت اقدس سرہ کی روح پاک رحمت کے قدسی فیوض سے ہمیشہ سرشار اور شاداب رہےاور ان کی قبر مبارک آفتاب کرم کی ضوءفشانی سے ہمیشہ بقعہ نور بنی رہےاور ان کا تعلق نورانی چہرہ سراپا نور ہو
بحوالہ مجدد قرآت کی کتاب آداب تلاوت منجانب جانشین مجدد قرآت المقری حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمدعبید اللہ رحیمی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی
صدر المدرسین شعبہ تجوید و قرآت جامعہ خیر المدارس ملتان
کاوش مجدد قرأت کا ادنی شاگرد
قاری غلام مصطفی معاویہ خادم القرآن جامعہ رحیمیہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور