Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin

Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin jamia rahimia rahmat tul lil alamin ragisterd ahlisunnat waljamat ki azeem aur qadeem deni dars gaah hy

08/08/2026

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے قیمتی ملفوظات اور رہنمائی پر مشتمل تعلیمات اب آپ مفت پڑھ سکتے ہیں۔
اس لنک پر چار سو سے زائد مستند اور فکر انگیز آرٹیکلز موجود ہیں،
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/mufti-taqi-usmani-words/
جہاں آپ کو دین، معیشت، اصلاحِ نفس، اخلاق، معاشرت اور عصرِ حاضر کے مسائل پر رہنمائی ملے گی۔
۔📖 خود بھی مطالعہ کریں
۔🔁 اور اس علمی خزانے کو دوسروں تک بھی پہنچائیں
تاکہ خیر عام ہو اور علم نفع دے۔
جزاکم اللہ خیراً۔

22 جولائی 2026 بروز بدھ  استاذ القراء حضرت مولانا قاری امیر الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نےجامعہ رحیمیہ رحمۃللعالمین ...
25/07/2026

22 جولائی 2026 بروز بدھ استاذ القراء حضرت مولانا قاری امیر الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نےجامعہ رحیمیہ رحمۃللعالمین مانا نوالا بیدیاں روڈ لاہور کا دورہ کیا
خصوصی میٹنگ میں جامعہ کے اساتذہ و دیگر علماء کرام نے شرکت کی، جن میں مدیر جامعہ حضرت مولانا قاری غلام مصطفی معاویہ صاحب، حضرت مولانا قاری محمد اقبال مدنی صاحب،حضرت مولانا محمد عرفان ثوری صاحب، حضرت مولانا عبدالرحیم میو صاحب حضرت مولانا قاری محمد کاشف صاحب، استاذ القراء حضرت مولانا قاری عبدالباسط صاحب صدر مدرس جامعہ ہذا، حضرت مولانا مزمل نواز صاحب، قاری محمد عثمان صاحب و دیگر علماء کرام نے شرکت کی
جامعہ ہذا کے شعبہ حفظ کے بچوں کا جائزہ لیا۔کثیرتعدادمیں بچوں کو نقد انعامات سے نوازا اور انتہائی خوشی اور اطمینان کا اظہار فرمایا
آخر میں حضرت نے منتظمین جامعہ،اساتذہ کرام ،طلباء عزیز ،معاونین مدرسہ عملہ اورکی کامیابی کے لیے خصوصی دعا فرمائی
اللہ تعالی قاری محمد امیر الدین صاحب کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر سلامت رکھے امین ثم آمین

کتاب:صلوات الرسول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جمیل الرحمن عباسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی صاحب رحمۃ اللہ علی...
19/07/2026

کتاب:صلوات الرسول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمیل الرحمن عباسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی صاحب رحمۃ اللہ علیہ[وفات 3 اپریل 2025] علمی حلقوں میں تعارف کے محتاج نہیں ہیں ،آپ کے والد گرامی حضرت مولانا محمد عبداللہ دھرم کوٹی صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند کے نامور فاضل بھی تھے اور حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدر خلیفہ مُجاز بھی ، خود حضرت مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی صاحب رحمہ اللہ بھی حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے قابلِ فخر تلامذہ میں سے بھی تھے،حضرت اقدس سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ مُجاز بھی تھے اور بزمِ احناف، بہارِ بوستان ،جنتِ ارضی،شرابِ طہور جیسی درجنوں کتب کے مصنف بھی ،جامعہ مدینۃ العلم بہاولپور میں شیخ الحدیث کے منصبِ جلیل پر فائز رہے ہیں اور 90 سال کی عمر میں بھی بڑی شان سے اور دل لگی کے ساتھ صحیح بخاری شریف کی دونوں جلدوں کی تدریس کرتے رہے تھے،
حضرت دھرم کوٹی رحمہ اللہ بہترین مدرس بھی تھے اور بحرِتصوف کے مایۂ ناز شناور بھی، نثر نگاری کے نامور شاہکار بھی تھے اور بہترین شاعر بھی،ولایت کےآفتاب بھی تھے اورتقویٰ کےماہتاب بھی، غرض ان گنت خوبیوں کےمالک تھے۔
زیرِ نظرکتاب "رسول اللہ ﷺ کی نمازیں'' کاتعارف کرانے کی تو ضرورت نہیں کہ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب،اس کتاب میں حضرات احناف رحمہم اللہ کی نماز فرائض، واجبات، سنن، نوافل اور باب الطہارۃ کو کلامِ الٰہی، حدیثِ نبوی اور اجماع و اقوالِ صحابہ کے استناد کے ساتھ باحوالہ پیش کیا گیا ہے
البتہ حضرت مؤلف کےتعارف پرمشتمل چندسطورنذرِقارئین ہیں جو میری ڈائری کےمختلف اوراق سے اخذکردہ ہیں
★…حضرت نے اپنے دادا محمد بخش صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کی بابت فرمایا
" تقسیمِ ہند کےموقع پر ہمارے دادا 'دھرم کورٹ' کے قریب ابوبکر نامی ایک پنڈ میں امامت کرایا کرتے تھے، ہم 'دھرم کوٹ' شہر آگئے تھے، ہمارے احوال دریافت کرنے کے لیے وہ دھرم کوٹ شہر تشریف لائے، ابھی ہماری رہائش گاہ تک پہنچ نہیں پائے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا،دادا جی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد تشریف لے گئے اور اذان دینا شروع کر دی، اذان دے ہی رہے تھے کہ اسی دوران سکھوں نے گولی مار کر انہیں شہید کر دیا تھا۔ہم ان کی تجہیز و تکفین بھی نہیں کر سکے تھے۔ بڑی مشکل سے ہم جان بچا کر وہاں سے نکل آنےمیں کامیاب ہوئےتھے۔
فرمایا : ہمارے دادا جان کو پنجابی نظموں کی کتابیں 'احوالِ آخرت' وغیرہ زبانی یاد تھیں۔
★…فرمایا : میرےوالدگرامی (حضرت مولانامحمد عبداللہ دھرمکوٹی رحمۃ اللہ علیہ) نے پندرہ سال کی عمرمیں دارالعلوم دیوبند سےدورہ حدیث کرلیاتھا، والدصاحب کادورہ حدیث کاامتحان حضرت مولاناشبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ نے لیا، حضرت عثمانی نے رپورٹ میں لکھا "اس پنجابی لڑکےکےحافظہ پرمجھےرشک آتاہے،چھوٹاساقد ہے،چھوٹی سی کھوپڑی ہے اورعلم بہت زیادہ ہے''
★… فرمایاکہ : میں نے 1960م میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سےدورہ حدیث کیا اور حضرت مولاناشاہ عبدالقادررائیپوری رحمۃ اللہ علیہ کاانتقال 1962م میں ہوا،جب حضرت رائیپوری کاانتقال ہواتو میں بھی متین صاحب کی کوٹھی میں لاہورمیں موجودتھا ، حضرت نےمیرےسامنےرحلت فرمائی۔
★… فرمایا : جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں داخلہ کے لیے مجھے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک سفارشی خط بنام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ لکھ دیا تھا لیکن بنوری ٹاؤن میں میرا داخلہ امتحان کی بنیاد پر ہو گیا اور خط دکھانے کی ضرورت نہیں پڑی
سال کے آخر میں حضرت رائے پوری کا خط میں نے حضرت بنوری کو دیا تو حضرت بنوری نے بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ اسے چوما، آنکھوں سے لگایا اور فرمایا مجھے پہلے کیوں نہیں دیا تھا؟ میں نے عرض کیا اس کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی
★…فرمایا : جب پاکستان بناتو میں قرآن مجیدکے 9 پارےحفظ کرچکاتھا،والد صاحب تدریس کےسلسلہ میں جگراواں ضلع لدھیانہ میں مولانامحمدابراہیم صاحب کےمدرسہ میں رہائش پذیرتھے میں نےبھی وہاں 9 پارےحفظ کیے ،تقسیم کےبعد مولاناابراہیم صاحب میاں چنوں آگیے، میں نے بقیہ پارے میاں چنوں میں ان کےمدرسہ میں ہی حفظ کیے۔
★…فرمایا : ہماراقصبہ "دھرمکوٹ'' لاہورسے ایک سو میل کےفاصلہ پرضلع فیروزپورمیں "موگہ'' سے آٹھ میل کےفاصلہ پرتھا،سناہے اب ٫ موگہ٬ ضلع بن گیاہے۔
★… فرمایا : میرےوالدصاحب 6 رمضان المبارک کوفوت ہوئے
{راقم الحروف جمیل الرحمن عرض کرتاہے کہ حضرت کےوالد گرامی حضرت مولانامحمد عبداللہ صاحب کی تدفین خوشاب میں حضرت کےچک میں ہوئی،ایک بارمیری بھی حضرت کے اورمفتی محمد امداداللہ انور صاحب کےہمراہ حاضری ہوئی اورحضرت کی قبرمبارک پرفاتحہ پڑھنےکی سعادت نصیب ہوئی، حضرت شیخ الحدیث کےبڑےبھائی حضرت مولاناعبدالرحیم دھرمکوٹی رحمہ اللہ بھی حیات تھے،اپنے چک کےنمبرداربھی وہی تھے،مولانا عبدالرحیم صاحب نے مظاہرالعلوم سہارنپورمیں 1942م میں حضرت شیخ الحدیث مولانامحمدزکریا صاحب کےپاس دورہ حدیث پڑھاتھا، میں نے مولاناعبدالرحیم صاحب سے اجازتِ حدیث کی درخواست کی تو فرمانے لگے : میں ناکارہ آدمی ہوں میرےاجازت دینےسےکیاہوگا؟"'
پھرحضرت شیخ الحدیث مولانافضل الرحمن صاحب نے سفارش کی تو حضرت نے تمام کتبِ حدیث کی مجھے اجازت عنایت فرمادی تھی۔الحمدللہ
★… حضرت دھرم کوٹی رحمہ اللہ نے دو اڑھائی سال تک جامعہ خیر المدارس ملتان میں درجہ کتب کی تعلیم حاصل کی پھر اڑھائی سال تک جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں پڑھا، درجہ موقوف علیہ(مشکوٰۃ شریف) دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں پڑھا اور دورہ حدیث جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے کیا،آپ نے وفاق المدارس العربیہ کے تحت دورہ حدیث کےامتحان میں پورے پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
★… حضرت کی اولادنہیں تھی، اپنی دینی خدمات ،جامعہ قاسمیہ ،جامع مسجد قاسمی و مدنی مسجد اوران گنت مریدین و تلامذہ بطورصدقہ جاریہ حھوڑے
★… آپ نے اپنی وراثتی زمین اپنی زندگی میں ہی فروخت کر کے اس کی قیمت جامع مسجد قاسمی کی جدید تعمیر میں صرف کردیاور مسجد کو عالی شان اور دیدہ زیب بنا دیا
★… 4 اپریل 2025 کوآپ کی جامع مسجد قاسمی خانقاہ شریف بہاولپورسےمتصل آپ کی تدفین ہوئی،
آپ نے اپنی حیات میں ہی اپنے بھتیجے قاری محمد عابد معاویہ صاحب کو اپنے مدرسہ و مساجد کامتولی بنادیاتھا۔
رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ
★… آپ کاتفصیلی تعارف ان شاء اللہ مجلہ "صفدر'' کی کسی خاص اشاعت میں شائع کیاجائےگا
۔۔۔۔۔۔۔ ٭٭٭ ۔۔۔۔۔۔۔
والسلام
جمیل الرحمن عباسی بہاولپور
03017790908
منجانب ۔۔۔۔۔
قاری غلام مصطفی معاویہ صاحب لاہور

مختصر سوانح حیات اسیر تحفظ ناموس ختم نبوت مجدد قرآت امام القراء فنا فی القران متبع سنت ولی کامل استاذ العرب والعجم سیدی ...
19/07/2026

مختصر سوانح حیات
اسیر تحفظ ناموس ختم نبوت مجدد قرآت امام القراء فنا فی القران متبع سنت ولی کامل استاذ العرب والعجم سیدی و مرشدی و مولائی استاذی حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ تعالی فاضل دارالعلوم دیوبند شاگرد رشید شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللّٰہ خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سابق صدر المدرسین شعبہ حفظ تجوید و قرات جامعہ خیر المدارس ملتان پاکستان تاریخ وفات 12 ذی الحجہ 1402ہجری بمطابق 30 ستمبر 1982 بروز جمعرات
نام و نسب
قاری رحیم بخش بن چوہدری فتح محمد بن حافظ رحم علی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ
ولادت باسعادت
علم قرات کا یہ نیر ستارہ پانی پت ضلع کرنال محلہ چورا کنواں انڈیا میں رجب المرجب 1314 ہجری کو طلوع ہوا ساڑھے تین برس کی عمر میں والد ماجد کا سایہ عاطفیت اٹھ گیا اور والدہ ماجدہ نے تعلیم دلانے کی سعی فرمائی
حفظ قران کریم
آپ فطرتاذہین وزکی اور طبعاً نظیف اور لطیف المزاج تھے چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا قاعدہ اور ناظرہ قران سے فراغت پر مدرسہ اشرفیہ پانی پت میں حفظ قران کریم کی ابتدا امام القرا حضرت الحاج مولانا قاری فتح محمد صاحب مہاجر مدنی رحمہ اللہ تعالی سے 1349 ہجری میں با عمر اٹھ سال کی اور عرصہ دو سال میں مکمل حفظ کر لیا
درس نظامی کی ابتدا
فارسی اور ابتدائی عربی کتب شرح جامی کنزالدقائق وغیرہ تک حضرت استاذمولانا قاری فتح محمد صاحب اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب مفتی پانی پت سے 1358ہجری تک پڑھی اسی اثناء میں
نکاح
28 محرم الحرام 1357 ہجری بعمر16 سال پہلا نکاح ہوا تکمیل علوم
تکمیل علوم کی غرض سے اٹھ ذیقعدہ 1358 ہجری کو معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند پہنچے اور چار سال رہ کربعمر 21 سال تمام علوم متداولہ سے فراغت حاصل کی
دارالعلوم میں آپ کے اساتذہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی شیخ الادب حضرت مولانا محمد اعزاز علی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا مفتی محمد ریاض الدین رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا قاری محمد اصغر علی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا سید اختر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی رحمہ اللہ تعالی حضرت مولانا فخر الحسن صاحب رحمہ اللہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ہیں
آغاز تدریس
پاکستان بننے سے چار سال قبل ذیقعدہ 1362 ہجری بمطابق 1942 میں بعمر 21 سال مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ کی دعوت پر جامعہ محمدیہ تعلیم القران مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان میں مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوئے
نکاح ثانی اور پانی پت واپسی پانی پت میں پہلی اہلیہ محترمہ کے انتقال کے بعد ذیقعدہ 1365 ہجری میں دوسرا نکاح ہوا اور ملتان تشریف لے ائے پھر ربیع الاول 1366 ہجری میں پانی پت تشریف لے گئے ہندو مسلم فساد اور تقسیم ہند کی تیاری کی بنا پر ریل وغیرہ کی آمد و رفت بند ہو گئی جس کی وجہ سے آپ نے مدرسہ فیض القران پانی پت میں ہی پڑھانا شروع کر دیا چھ ماہ کے بعد بر موقع امتحان سالانہ قاری ہند حضرت مولانا قاری ابو محمد محی الاسلام عثمانی نور اللہ مرقدہ نے آپ کے متعلق فرمایا کہ جب اللہ جل شانہ کام لینے پر آتے ہیں تو چھوٹے بچوں سے بھی لے لیتے ہیں اس بچے نے چھ ماہ میں مدرسے کی کایا پلٹ دی جو کام عرصہ دراز سے خراب چلا آتا تھا وہ سب درست ہو گیا سبحان اللہ
پاکستان واپسی
27رمضان المبارک 1366 ہجری کو پاکستان معرض وجود میں آیا حضرت اقدس پاکستان تشریف لے ائے اور حسب سابق مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے فرمان پر جامعہ محمدیہ مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان ہی میں مشغول تدریس ہو گئے جامعہ خیر المدارس ملتان میں بحیثیت صدر مدرس
مدرسہ محمدیہ کے جامعہ خیر المدارس میں مدغم اور ضم ہو جانے کی بنا پر استاد العلماء حضرت مولانا خیر محمد جالندھری صاحب رحمہ اللہ تعالی بانی خیر المدارس کی دعوت پر شوال 1367 ہجری میں عمر 26 سال جامعہ خیر المدارس ملتان میں بحیثیت صدر مدرس شعبہ حفظ و تجوید و قرات تدریسی خدمات انجام دینے لگے تاہم مسجد سراجاں بدستور ان کا مستقر اور ان کے فیوض و برکات کا مرکز رہی آپ نے زندگی بھر تعلیم کے ایام میں کبھی بھی مدرسے کا ناغہ نہیں کیا حتی کہ بیماری کے ایام میں بھی یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہا پابندی وقت
اوقات تدریس کی پابندی حضرت والا مرحوم کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی سردی گرمی موسمی تغیرات ضعیفی و کمزوری کوئی چیز ان کے سد راہ نہ تھی حتی کہ اسفار حج و عمرہ سے واپسی پر کراچی میں ایک رات کا قیام بھی گوارا نہ تھا ملتان پہنچتے ہی ایئرپورٹ یا اسٹیشن سے سیدھے خیرالمدارس اپنی درسگاہ میں تشریف لے جاتے اس کے خلاف کبھی نہیں ہوا تدریس کے 40 سال
آغاز تدریس 1366 اور اختتام تدریس 1402 ہجری ہے اس 40 سالہ دور تدریس میں آپ سے سینکڑوں قرآءاور ہزاروں حفاظ فیض یاب ہوئے جو صرف پاک و ہند ہی میں نہیں بلکہ حرمین شریفین میں اور اس کے علاوہ ممالک ایران افریقہ لندن کینیڈا وغیرہ میں بھی قرآن کریم اور فن تجوید اور قرات کی معیاری خدمات سر انجام دے رہے ہیں
حج و عمرہ
الحمدللہ آپ نے 10 حج اور متعدد عمرے بھی ادا فرمائے حضرت والا فی الواقع عشق خداوندی اور حب نبوی میں سر تا پا ڈوبے ہوئے تھے یہی وجہ تھی جو ان کو ہر سال مختلف امراض میں گھرے ہونے کے باوجود کشاں کشاں دربار خداوندی و بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر کر دیا کرتی تھی
تصنیف و تجویدی کارنامے
آپ نے قران مجید باالتجوید حفظ کرنے اور اس کی قرآت کو ازبر یاد کرنے کے لیے بالخصوص تدریس قرآن کے لیے ایسے قواعدو ضوابط طرق ایجاد کیے جن کی مدد سے قران کا پختہ حفظ اور اس کی قرات کا پڑھنا سہل تر ہو گیا اس کے لیے آپ نے تجویدی ارشادات و اقوال اور بہترین گراں مایہ تصانیف سے معلمین اور متعلمین قرآن و قرآت کی اصلاح کی آداب تلاوت مع طریقہ حفظ قرآن و حفظ قرآت تحفۃ الحفاظ المعروف بہ متشابہات القرآن العطایہ الوہبیہ شرح مقدمہ جزریہ تنویر شرح تیسیر اور رسائل قرآن جن میں اصول و فروع کو الگ الگ مرتب کر کے شروع قرآن سے آخر تک بالترتیب ان کا اجراء ہے تکمیل الاجر فی القرات العشر المہذبہ فی وجوہ الطبیہ المیراۃالنیرہ فی حل الطیبہ مقبول ترین اور فنی لحاظ سے نہایت بلند پایا کتابیں اس پر شاہد عدل ہیں قرآء و علمائے امت نے آپ کو بجا طور پر قرآت اور ان کی تدوین و تسہیل اور پھر ان کی تالیف و تدریس اور قرآن کریم کے معیاری حفظ میں اپ کی مجددانہ صلاحیتوں خدمات اور خداداد بصیرت کے پیش نظرامام بلکہ مجدد تسلیم کیا ہے آداب تلاوت میں حضرت مجددقرآت رحمہ اللّٰہ کی اولاد کا تذکرہ نہیں تھا جو سمجھ میں آیا میں نے شامل کر دیا
اولاد چار صاحبزادے چھ صاحبزادیاں
صاحبزادگان
1 حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد عبداللہ رحیمی صاحب رحیم اللہ تعالی فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان ماہر فن تجوید قرآت اور کم گو انسان تھے
10 پارے منزل قرآن مجید ایک ایک منزل حزب الاعظم ,دلائل الخیرات اور حزب البحر روزانہ کا معمول تھا اور شب بیدار تھے ایک مرتبہ فرمایا کہ 30 سال ہو گئے ہیں کبھی قرآن مجید کھول کر نہیں دیکھا کبھی غلطی نہیں آئی تا دم آخر جامع مسجد نور ساہیوال میں تدریس قرآن مجید حفظ قرآت میں مصروف رہے ہر سال 30 یا 40 حفاظ وقراء سند فراغت حاصل کرتے تھے تاجر ملازم پیشہ حضرات جو گھنٹہ دو گھنٹے پڑھنے آتے تھے ان کو بھی حفظ کرا دیتے تھے 17 ذوالحجۃ 1417 ہجری بمطابق 25 اپریل 1997 بروز جمعہ قصور سے ساہیوال واپسی پر چونیاں کے قریب گاڑی درخت سے ٹکرا گئی جس میں اہلیہ چھوٹی صاحب زادی نواسہ داماد جو ڈرائیورنگ کر رہے تھے شہید ہوئے 55 سال کی عمر میں حضرت بھی شہید ہو گئے انا للہ وانا الیہ راجعون
2حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد عبید اللہ رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی جامعہ خیرالمدارس کے فاضل تھے جوان عمر خوبرو ہنس مکھ انسان تھے مجدد قرآت کے وصال کے بعد جامعہ خیر المدارس میں حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ تعالی کی مسند پر شعبہ حفظ قرآت کے صدر المدرسین جانشین ہوئے عرصہ 10 سال جامعہ میں خدمت قرآن مجید میں مصروف رہے سینکڑوں حفاظ اور قراء تیار کیے آخر میں دو سال عارضہ قلب کی شکایت رہی مگر تعلیمی معاملات میں فرق نہیں آنے دیا انتقال کے دن 16 دسمبر 1992 بروز بدھ درسگاہ میں شدید درد ہوا نشتر ہسپتال ملتان میں لے جایا گیا 38 سال کی عمر میں زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے انا للہ وانا الیہ راجعون
3 -حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد اہل اللہ رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان انتہائی ملنسارخوش اخلاق شفقت سے بھرپور مہمان نواز مجدد قرآت کے تمام شاگردوں پر مضبوط چھپّر کی طرح سایہ کیے ہوئے تھے موصوف علم و عمل اور اخلاص سے خوب لبریز تھے مرحوم جامعہ کے مہتمم پیر طریقت رہبر شریعت جامع المعقول والمنقول شیخ الحدیث آیت الخیر حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد حنیف جالندھری دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلی وفاق المدارس پاکستان کےہم سبق تھے صاحب استعداد عالم تھے شعبہ کتب اپناتے تواستاذ الحدیث ہوتے انتہائی خوبصورت روانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے سلسلہ پانی پتی میں ان سے خوبصورت پڑھنے والا احقر قاری غلام مصطفی آف لاہور نے نہیں سنا جامعہ سے فراغت کے بعدفیصل آبادجامع مسجد ابراہیم میں امام خطیب مقرر ہوئے جہری نمازوں میں بالترتیب کئی قرآن مجید ختم کیے اور ساتھ بنات اور بنین کے لیے جامعہ فتح الرحیم ادارہ قائم کیا جو بحمدللہ تعالی پورے آب و تاب کے ساتھ خدمت قرآن مجید اور درس نظامی میں مصروف ہے آخر میں ہجرت کر کے علالت کی حالت میں مدینہ منورہ تشریف لے گئے جاتے ہوئے اپنے صاحبزادہ حضرت مولانا قاری سلیم اللہ رحیمی مدظلہ العالی سے فرمایا بیٹے پریشان نہیں ہونا میں نے مدینہ منورہ میں جا کر مرنا ہے انتقال سے 17 دن قبل احباب کو بتایا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنت البقیع میں جائے مدفن بھی دکھا دی ہے 12 صفر 11 جنوری 2011 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے مسجد نبوی میں جنازہ ہوا جنت البقیع میں دفن ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
4 ,-شہزادہ سلسلہ رحیمیہ محبوب القراء حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمد نصراللہ رحیمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فاضل جامعہ خیر المدارس ملتان الحمدللہ اللہ تعالی نے صاحبزادہ صاحب کو ظاہری باطنی علمی اخلاقی روحانی حسن وافر مقدار میں عطا فرمایا ہے موصوف علم قرآت میں اپنے والد ہمارے استاد جی مجدد قرآت صاحب رحمہ اللّٰہ کے آمین ہیں الحمدللہ صاحبزادہ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم ہے اللہ تعالی تا دیر حضرت کاسایہ سلامت رکھے آمین جامعہ سے فراغت کے بعد فیصل آباد میں جامعہ رحیمیہ دارالقرآت ادارہ قائم کیا تاحال اس میں علم قرآت و حفظ قرآن مجید کی خدمت کر رہے ہیں اللہ تعالی دن دگنی رات چگنی ترقی نصیب فرمائے آمین
داماد
1 قاری حافظ محمد صدیق صاحب رحمہ اللّٰہ گھوٹکی صوبہ سندھ جو انتہائی نیک سیرت متقی اور کاروباری آدمی تھے
2حضرت مولانا قاری محمد یاسین صاحب رحمہ اللہ تعالی دارالعلوم نانک واڑہ کراچی میں استاذ الاساتذہ شاطبی وقت حضرت مولانا قاری فتح محمد پانی پتی رحمہ اللہ تعالی کی مسند پرتا دم آخر خدمت قرآن مجید انجام دیتے رہے
3.شیخ القراء،عاملِ قرآن،فنافی القرآن، پیکرِاخلاص، *مولانا قاری محمد طاہر رحیمی* رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تعالی عرصہ دراز تک جامعہ قاسم العلوم ملتان میں خدمت حفظ قرآن مجید و تجوید و قرآت اور استاذ الحدیث رہے مجدد قرآت حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ تعالی کے علم و تقوی کے جانشین سمجھے جاتے تھے تجوید و قرآت اور احادیث پر کافی کتب لکھی بندہ غلام مصطفی جب مسجد نبوی کے اوپر لائبریری میں گیا پوری لائبریری میں بندہ کو اردو میں لکھی ہوئی کوئی کتاب نہیں ملی صرف اور صرف حال کے سنٹر میں ٹیبل پر رکھی اردو میں لکھی ایک ضخیم کتاب ملی(قلمی نسخہ) جو کہ قاری محمد طاہر رحیمی صاحب رحمہ اللہ تعالی کی تھی اور وہ آپ رحمہ اللّٰہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تجوید و قرآت میں تھا انداز حفظ قرآن بہت عظیم تھا اتنا یاد کرا دیتے کہ اکثر شاگرد الٹا قرآن مجید بھی پڑھ لیتے تھے آپ کے اہم ترین شاگردوں میں ایک بڑا نام مجاہدِ راہِ حق ،
پیکرِ اخلاص و استقامت، آبروئے دیوبند
قائد ملت اسلامیہ مرکزی امیر جمیعت علمائے اسلام پاکستان*حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب* دامت برکاتھم العالیہ ہیں
حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ سے مولانا فضل الرحمان صاحب نے قرآن مجید کی تصحیح و تجوید اور شعبہ درس نظامی کی کئ کتب پڑھیں۔
آخر میں حضرت والا مستقل مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اللہ تعالی نے وہاں ان سے بہت کام لیا وہیں انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون
4۔ حضرت مولانا قاری محمد یاسین رحیمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فیصل آباد باغ والی مسجد اور دارالقرآن ادارہ چلا رہے ہیں حفظ تجوید و قرآت اور دورہ حدیث تک تعلیم ہو رہی ہے ماشاءاللہ حضرت قاری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا فیض پوری دنیا میں پہنچ رہا ہے
5 حضرت مولانا قاری احمد رضا شاہ صاحب مدظلہ فیصل آباد سمندری میں جامعہ فیض عام کے نام سے بہت خوبصورت عالیشان ادارہ قائم کیا ہوا ہے حفظ تجوید و قرآت دورہ حدیث تک تعلیم جاری ہے اس کے علاوہ بھی کئی ادارے ان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں
6 حضرت مولانا قاری محمد فاروق صاحب مدظلہ بہاولپوری جامعہ خیر المدارس کے فاضل ہیں عرصہ دراز سے مدینہ منورہ میں خدمت قرآن مجید انجام دے رہے ہیں
وصال
چھ ذی الحجہ بروز جمعہ حسب معمول تعلیم قرآن کریم میں مسجد سراجاں میں مصروف تھے کے بعد نماز مغرب کان میں شدید درد ہوا اور اس کے معابعد بے ہوش ہو گئے اسی حالت میں نشتر ہسپتال لے جائےگئے وہاں کم و بیش پانچ دن تک بے ہوشی کے عالم میں رہے بالاخر 12 ذوالحجہ 1402 ہجری بمطابق 29 ستمبر 1982 بشب پنچ شنبہ 10 بج کر 36 منٹ پر بحالت استغراق دو بار زبان سے اللہ اللہ نکلا اور اس کے بعد اپنے خالق کے حضور پہنچ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون
جنازے کا حال
آپ کے سانحہ ارتحال کی خبر اخباری تعطیل اور مقامی ریڈیو اسٹیشن کے عدم تعاون کے باوجود پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دور دور سے آپ کے تلامذہ اور دین دار مسلمانوں کی بھاری تعداد آخری زیارت اور جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ملتان پہنچی اور ملتان تو تقریبا سارا ہی امڈآیا ہجوم اس قدر تھا کہ جنازے کی چارپائی کے ساتھ بانس باندھنے کی ضرورت پیش آئی نماز جنازہ قاسم باغ قلعہ کہنہ پر مبلغ اسلام ولی کامل حضرت مولانا محمد اسلم صاحب رحمہ اللہ خطیب و امام جامع مسجد نشتر کالج ملتان نے پڑھائی تدفین 12 ذوالحجہ 1402 ہجری بمطابق 30 ستمبر 1982 بروز جمعرات غروب آفتاب سے ذرا قبل جامعہ خیر المدارس ملتان میں خیر العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب رحمہ اللہ تعالی اور مجاہد ملت و مفکر اسلام حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے درمیان علم و عمل تقوی اور تصوف کا وہ روشن ستارہ غروب ہوا جس کی روشنی اور تابناکی سے تقریبا نصف صدی تک علم قرآت کا ایوان جگمگاتا رہا اور جس کی ضیاءپاشیوں سے ہزاروں تشنگان علم تجوید و قرات مستفیض ہوئے حق سبحانہ و تعالی سے دعا ہے کہ ہمارےحضرت اقدس سرہ کی روح پاک رحمت کے قدسی فیوض سے ہمیشہ سرشار اور شاداب رہےاور ان کی قبر مبارک آفتاب کرم کی ضوءفشانی سے ہمیشہ بقعہ نور بنی رہےاور ان کا تعلق نورانی چہرہ سراپا نور ہو

بحوالہ مجدد قرآت کی کتاب آداب تلاوت منجانب جانشین مجدد قرآت المقری حضرت مولانا صاحبزادہ قاری محمدعبید اللہ رحیمی پانی پتی رحمہ اللہ تعالی
صدر المدرسین شعبہ تجوید و قرآت جامعہ خیر المدارس ملتان

کاوش مجدد قرأت کا ادنی شاگرد
قاری غلام مصطفی معاویہ خادم القرآن جامعہ رحیمیہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور

سیدنا عثمان غنی کو بارہا جنت کی بشارت ملی اور آپ کے لقب ذو النورین کا             مطلب کیا ہے         #ذوالنورین        ...
03/06/2026

سیدنا عثمان غنی کو بارہا جنت کی بشارت
ملی اور آپ کے لقب ذو النورین کا
مطلب کیا ہے
#ذوالنورین

*مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت آنکھوں دیکھا حال* از: قاری غلام مصطفیٰ معاویہ 1970کی دھائی ہم...
29/05/2026

*مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت آنکھوں دیکھا حال*
از: قاری غلام مصطفیٰ معاویہ
1970کی دھائی ہمارے لئے انتہائی بابرکت اور خوش قسمتی کی گزری ہے جس میں ہم نے بڑے بڑے اکابر علماء، اولیاءاللہ،شیوخ الحدیث اور نامور خطباء کو خوب سنا اور زیارات سے فیض یاب ہوۓ۔ سب کے نام لکھے جائیں تو بہت بڑی فہرست بن جائیگی جبکہ الحمدللہ تقریباً ہر ایک سے ہمارا نیاز مندی اور قلبی تعلق تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ دھائی علماء کے وقار اور شان و شوکت کی تھی۔ بڑے بڑے حکومتی ذمہ داران،دنیا دار، زمیندار اورجاگیردار حضرات علماء کی زیارت کو سعادت، خوش قسمتی، فخر اور اعزاز سمجھتے تھے اسمیں ہر خاص وعام مسلمان شامل تھا۔ داڑھی ٹوپی والے کیلۓ لوگ اپنا سر نیچے کرکے راستہ چھوڑ دیتے تھے۔گاڑی میں لوگ حافظ صاحب سے آگے والی سیٹ پر نہیں بیٹھتے تھے کہ حافظ صاحب کو پیٹھ نہ ہو، حافظ قرآن کو اگلی سیٹ پر بٹھاتے تھے۔ ہر طرف ہر روز تنظیم اہلسنت، جمیعت علمائے اسلام، ختم نبوت اور احرار اسلام کے اکابرین، نامور خطباء و مشائخ العظام کے جلسے اور اصلاحی پروگرام ہوتے تھے۔ لوگ دور دور کا سفر اور مشقتیں برداشت کرکے بڑے شوق سے شرکت کرتے تھے۔ پنجاب اور کراچی ہمارے سامنے ہے،سرحد اوربلوچستان بھی پیچھے نہیں تھا۔ جیسے اب لوگ کالج یونیورسٹی میں پڑھنے کیلۓ پیسہ لگاتے ہیں سفر کرتے ہیں اس وقت علم دین حاصل کرنے کیلۓ کرتے تھے۔ ہر بڑے آدمی کا ذوق ہوتا تھا ہمارا بچہ بڑا عالم بڑا قاری صاحب ہو تاکہ بچے کی وجہ سے جنت میں بڑا مقام ملے، مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تھی۔ یہ سلسلہ ہر دینی حوالے سے عروج پر تھا اس ساری مشق میں بندہ بھی شامل تھا۔ 1976 میں پاکستان قومی اتحاد بنا جس میں پاکستان کی اہم بڑی مذہبی اور سیاسی 9 جماعتیں شامل تھیں جسکی قیادت وصدارت قائد ملت اسلامیہ شیخ التفسیر والحدیث،میراث واسماالرجال اور دینی علوم کے امام سمجھے جانے والے مفتی اعظم پاکستان استاذ العلماء مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ االلہ علیہ کو سونپی گئ،مفتی صاحب کی قیادت میں تحریک نظام مصطفی چلی جسکو مفتی صاحب کی قیادت نے چار چاند لگا دیئے۔کراچی سے خیبر تک نظام مصطفی پاکستان، قومی اتحاد اور ھل چلے گا ھل چلے گا کی آواز گونجتی تھی۔ ھل پاکستان قومی اتحاد کا انتخابی نشان تھا قائدین قومی اتحاد اور مفتی صاحب پورے پاکستان کے دورے کر رہے تھے۔ دورے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا تھا کہ کراچی سے عوامی ایکسپرس یا کسی ریلوے گاڑی پر سوار ہوتے اور پشاور تک چلے جاتے۔ راستہ میں ہر بڑے اسٹیشن پر جب گاڑی رکتی قائدین خطاب کرتے۔ پورےپروگرام کی تفصیل ایک دو دن پہلے اخبارات مثلاً روز نامہ امروز، جنگ، نوائے وقت، جسارت اور دیگر اخبارات میں آ جاتی کہ کونسی گاڑی میں کس ٹائم کس کس اسٹیشن پر خطابات ہونگے۔دیے گۓ وقت پر ہر اسٹیشن پر کثیر تعدادمیں لوگ جمع ہو جاتے یوں یہ سلسلہ پشاور تک پہنچ جاتا۔میں نے کہیں امیر شریعت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلق بھی پڑھا ہے وہ بھی اسی طرح ملک بھر کے دورے کرتے تھے۔بالکل اسی طرح 1970کی دہائی میں جمیعت علمائے اسلام کے زیر اہتمام بڑے بڑے جلسے اور کانفرنسیں ہوتی تھیں جن میں اکثر حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رح سے پہلے خطیب پاکستان حضرت مولانا ضیاء القاسمی رح کا خطاب ہوتا تھا۔ایک وجہ تو یہ تھی قاسمی صاحب رح شاندار خطیب، دلیر اورعلماء کے بہترین ترجمان تھے۔ دوسری وجہ پنجاب جمیعت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور جمیعت کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے تھے۔اسی طرح جمیعت کے زیر اہتمام ملتان میں قاسم باغ قلعہ پر عظیم الشان بہت بڑی کانفرنس ہوئ اکابر علما اسٹیج پر موجود تھے دائیں طرف حضرت مفتی محمود صاحب بائیں طرف حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمۃ اللّٰہ علیہ جن کے چہرے سے حیا کا نور ٹپکتا تھا۔ درمیان میں امام الخطباء حضرت مولانا ضیاء القاسمی رح خطابت کے موتی تقسیم کر رہے تھے۔ بولتے بولتے وجد میں آکر دائیں طرف مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پاؤں سے جوتا نکالا اور جوتے کو اسٹیج پر لہراتے ہوئے للکار کر فرمایا "او اپنے آپ کو حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز سمجھنے والو! سردارو! چوہدریو! زمیندارو! جاگیردارو! دنیا دارو! تم اپنے آپ کو کچھ سمجھو رب کعبہ کی قسم ضیاء القاسمی تمہیں مفتی محمود کے اس جوتے کی نوک کے برابر بھی نہیں سمجھتا" اس پر کافی دیر تک نعرے لگتے رہے مفتی محمود زندہ باد جمیعت علمائے اسلام زندہ باد ضیاء القاسمی زندہ باد۔ ہم نے اس دور میں پنجاب اور کراچی میں سب سے زیادہ جنون اور عشق کی حد تک حضرت مفتی محمود صاحب رح کے شاندار جاندار علمی اور سیاسی بصیرت والے بہت زیادہ بیانات سننے کیلۓ دور دراز کے سفر بھی کۓ۔
*مفتی صاحب کی کرامت*
1978 میں بندہ جامعہ خیر المدارس ملتان مجدد قراات حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پاس گردان کر رھا تھا ممتاز آباد جامع مسجد الخیر مولانا محمد اسحاق صاحب رح جو آیت الخیر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کے پھو پھا تھے انکے ہاں سالانہ جلسہ تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللّٰہ علیہ مہمان خصوصی تھے۔مجدد قراات حضرت قاری صاحب رح کی کلاس کو باہر جانے کی سخت پابندی تھی اور میرا صبح سے حضرت مفتی صاحب کی زیارت کیلۓ دل مچل رہا جیسے کیسے عشاء کے بعد پیدل بندہ مسجد الخیر پہنچ گیا۔جلسہ عروج پر تھا حضرت مفتی صاحب کافی دیر بعد تشریف لاۓ۔ ہم رضا کار حضرت کو گاڑی سے اتار کر اسٹیج پر لے گۓ حضرت مفتی صاحب جب اسٹیج پر پہنچے دیکھا تو جیب کٹ چکی تھی۔ بہت پریشان ہوۓ فرمایا پیسوں کے ساتھ بہت اہم کاغذات تھے۔ ظاہر ہے اھم لوگوں کے کاغذات بھی اہم ہوتے ہیں سب علماء اور رضا کار بہت پریشان ہوئے۔ آخرکار مفتی صاحب نے فرمایا اعلان کرو چور صاحب پیسے رکھ لیں کاغذات واپس کردیں ہم کچھ نہیں کہیں گے،کافی دیر بعد چور صاحب خود ہی تشریف لے آۓ، معذرت کی،رقم اور کاغذات واپس کر دۓ اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا یہ مفتی محمود صاحب ہیں۔ مفتی صاحب نے چور صاحب کے سر پر شفقت والا ہاتھ پھیرا اور پیار سے واپس بھیج دیا۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی وسیع الظرفی اور اپنے وعدے کی پاسداری اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اکابر کے نقشِ قدم پر چلائے
اسی مسجد الخیر میں وفات سے دو چار دن پہلے شیخ القران حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کا آخری خطاب سنا۔ شیخ القران کا قرآن مجید سے عشق اور تقریر کے اثرات آج 46 سال بعد بھی ترو تازہ ہیں
اللہ تعالیٰ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ، شیخ القران حضرت مولانا غلام اللہ خان اور خطیب پاکستان حضرت مولانا ضیاء القاسمی سمیت تمام اکابر علماء، مشائخِ عظام اور اسلافِ امت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین، ثم آمین۔

25/05/2026

*اکابرین اہلسنت والجماعت *
پارٹ 2
ان مبارک بستیوں کی شبانہ روز محنت سے بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ دین و تبلیغ کا کام آج تک جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا

قربانی کی کھالیں جامعہ  رحیمیہ رحمۃ للعالمینمانا نوالا اسٹاپ، بیدیاں روڈ، لاہور کینٹآپ کی قربانی — طلبۂ دین کے روشن مست...
25/05/2026

قربانی کی کھالیں
جامعہ رحیمیہ رحمۃ للعالمین
مانا نوالا اسٹاپ، بیدیاں روڈ، لاہور کینٹ
آپ کی قربانی — طلبۂ دین کے روشن مستقبل کی ضمانت
جامعہ رحمۃ للعالمین میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی دینی تعلیم، رہائش، کھانا، کتب اور دیگر تعلیمی ضروریات کے لیے
قربانی کی کھالیں کے ذریعہ معاون بنیں
📚 جامعہ کے شعبہ جات
شعبہ حفظ و گردان
شعبہ درسِ نظامی مع عصری تعلیم
(تمام شعبہ جات میں تعلیم بالکل مفت ہے)
📌 قربانی کی کھالیں جمع کروانے کا طریقہ
آپ اپنی قربانی کی کھال خود جامعہ میں پہنچا سکتے ہیں
یا
📞 کال کریں — جامعہ کا نمائندہ آپ کے گھر سے قربانی کی کھال وصول کر لے گا
🤲 آپ کا تعاون صدقۂ جاریہ ہے
آپ کی دی ہوئی قربانی کی کھال
دین کے طالب علموں کے لیے سہارا
اور آپ کے لیے آخرت کا سرمایہ بن سکتی ہے۔
📞 رابطہ نمبر
03004121541
03154121541
اللہ تعالیٰ آپ کی قربانی اور تعاون کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین

24/05/2026

*اکابرین اہلسنت والجماعت*
ان مبارک بستیوں کی شبانہ روز محنت سے بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ دین و تبلیغ کا کام آج تک جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا

آئیے اشاعت دین میں شرکت کیجئےجامعہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور کینٹ میں پوراسال غذائی ضرورت کو پوراکرنے کے ...
26/04/2026

آئیے اشاعت دین میں شرکت کیجئے

جامعہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور کینٹ میں پوراسال غذائی ضرورت کو پوراکرنے کے لئے 180 من گندم کی ضرورت ہے۔
مدارس دینیہ سے محبت کرنے والوں اور علم دین کی اہمیت کو سمجھنے والے احباب جن کو اللہ تعالی نے وسعت عطافرمائی ہےان سے حسب توفیق خصوصی تعاون کی اپیل ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی ناصر ہو آمین یا رب العالمین
الداعی:قاری غلام مصطفی
03004121541
میزان بینک اکاؤنٹ بنام غلام مصطفیٰ
02250102547186

Address

Jamia Rahimia Rahmat Ul Lil Alamin
Lahore

Telephone

+923004121541

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin:

Shortcuts

Share

Category