Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin

Jamia Rahimia Rahmat ul lil Alamin

Share

jamia rahimia rahmat tul lil alamin ragisterd ahlisunnat waljamat ki azeem aur qadeem deni dars gaah hy

29/05/2026

*مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت آنکھوں دیکھا حال*
از: قاری غلام مصطفیٰ معاویہ
1970کی دھائی ہمارے لئے انتہائی بابرکت اور خوش قسمتی کی گزری ہے جس میں ہم نے بڑے بڑے اکابر علماء، اولیاءاللہ،شیوخ الحدیث اور نامور خطباء کو خوب سنا اور زیارات سے فیض یاب ہوۓ۔ سب کے نام لکھے جائیں تو بہت بڑی فہرست بن جائیگی جبکہ الحمدللہ تقریباً ہر ایک سے ہمارا نیاز مندی اور قلبی تعلق تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ دھائی علماء کے وقار اور شان و شوکت کی تھی۔ بڑے بڑے حکومتی ذمہ داران،دنیا دار، زمیندار اورجاگیردار حضرات علماء کی زیارت کو سعادت، خوش قسمتی، فخر اور اعزاز سمجھتے تھے اسمیں ہر خاص وعام مسلمان شامل تھا۔ داڑھی ٹوپی والے کیلۓ لوگ اپنا سر نیچے کرکے راستہ چھوڑ دیتے تھے۔گاڑی میں لوگ حافظ صاحب سے آگے والی سیٹ پر نہیں بیٹھتے تھے کہ حافظ صاحب کو پیٹھ نہ ہو، حافظ قرآن کو اگلی سیٹ پر بٹھاتے تھے۔ ہر طرف ہر روز تنظیم اہلسنت، جمیعت علمائے اسلام، ختم نبوت اور احرار اسلام کے اکابرین، نامور خطباء و مشائخ العظام کے جلسے اور اصلاحی پروگرام ہوتے تھے۔ لوگ دور دور کا سفر اور مشقتیں برداشت کرکے بڑے شوق سے شرکت کرتے تھے۔ پنجاب اور کراچی ہمارے سامنے ہے،سرحد اوربلوچستان بھی پیچھے نہیں تھا۔ جیسے اب لوگ کالج یونیورسٹی میں پڑھنے کیلۓ پیسہ لگاتے ہیں سفر کرتے ہیں اس وقت علم دین حاصل کرنے کیلۓ کرتے تھے۔ ہر بڑے آدمی کا ذوق ہوتا تھا ہمارا بچہ بڑا عالم بڑا قاری صاحب ہو تاکہ بچے کی وجہ سے جنت میں بڑا مقام ملے، مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تھی۔ یہ سلسلہ ہر دینی حوالے سے عروج پر تھا اس ساری مشق میں بندہ بھی شامل تھا۔ 1976 میں پاکستان قومی اتحاد بنا جس میں پاکستان کی اہم بڑی مذہبی اور سیاسی 9 جماعتیں شامل تھیں جسکی قیادت وصدارت قائد ملت اسلامیہ شیخ التفسیر والحدیث،میراث واسماالرجال اور دینی علوم کے امام سمجھے جانے والے مفتی اعظم پاکستان استاذ العلماء مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ االلہ علیہ کو سونپی گئ،مفتی صاحب کی قیادت میں تحریک نظام مصطفی چلی جسکو مفتی صاحب کی قیادت نے چار چاند لگا دیئے۔کراچی سے خیبر تک نظام مصطفی پاکستان، قومی اتحاد اور ھل چلے گا ھل چلے گا کی آواز گونجتی تھی۔ ھل پاکستان قومی اتحاد کا انتخابی نشان تھا قائدین قومی اتحاد اور مفتی صاحب پورے پاکستان کے دورے کر رہے تھے۔ دورے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا تھا کہ کراچی سے عوامی ایکسپرس یا کسی ریلوے گاڑی پر سوار ہوتے اور پشاور تک چلے جاتے۔ راستہ میں ہر بڑے اسٹیشن پر جب گاڑی رکتی قائدین خطاب کرتے۔ پورےپروگرام کی تفصیل ایک دو دن پہلے اخبارات مثلاً روز نامہ امروز، جنگ، نوائے وقت، جسارت اور دیگر اخبارات میں آ جاتی کہ کونسی گاڑی میں کس ٹائم کس کس اسٹیشن پر خطابات ہونگے۔دیے گۓ وقت پر ہر اسٹیشن پر کثیر تعدادمیں لوگ جمع ہو جاتے یوں یہ سلسلہ پشاور تک پہنچ جاتا۔میں نے کہیں امیر شریعت رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلق بھی پڑھا ہے وہ بھی اسی طرح ملک بھر کے دورے کرتے تھے۔بالکل اسی طرح 1970کی دہائی میں جمیعت علمائے اسلام کے زیر اہتمام بڑے بڑے جلسے اور کانفرنسیں ہوتی تھیں جن میں اکثر حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رح سے پہلے خطیب پاکستان حضرت مولانا ضیاء القاسمی رح کا خطاب ہوتا تھا۔ایک وجہ تو یہ تھی قاسمی صاحب رح شاندار خطیب، دلیر اورعلماء کے بہترین ترجمان تھے۔ دوسری وجہ پنجاب جمیعت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور جمیعت کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے تھے۔اسی طرح جمیعت کے زیر اہتمام ملتان میں قاسم باغ قلعہ پر عظیم الشان بہت بڑی کانفرنس ہوئ اکابر علما اسٹیج پر موجود تھے دائیں طرف حضرت مفتی محمود صاحب بائیں طرف حضرت مولانا عبیداللہ انور رحمۃ اللّٰہ علیہ جن کے چہرے سے حیا کا نور ٹپکتا تھا۔ درمیان میں امام الخطباء حضرت مولانا ضیاء القاسمی رح خطابت کے موتی تقسیم کر رہے تھے۔ بولتے بولتے وجد میں آکر دائیں طرف مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پاؤں سے جوتا نکالا اور جوتے کو اسٹیج پر لہراتے ہوئے للکار کر فرمایا "او اپنے آپ کو حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز سمجھنے والو! سردارو! چوہدریو! زمیندارو! جاگیردارو! دنیا دارو! تم اپنے آپ کو کچھ سمجھو رب کعبہ کی قسم ضیاء القاسمی تمہیں مفتی محمود کے اس جوتے کی نوک کے برابر بھی نہیں سمجھتا" اس پر کافی دیر تک نعرے لگتے رہے مفتی محمود زندہ باد جمیعت علمائے اسلام زندہ باد ضیاء القاسمی زندہ باد۔ ہم نے اس دور میں پنجاب اور کراچی میں سب سے زیادہ جنون اور عشق کی حد تک حضرت مفتی محمود صاحب رح کے شاندار جاندار علمی اور سیاسی بصیرت والے بہت زیادہ بیانات سننے کیلۓ دور دراز کے سفر بھی کۓ۔
*مفتی صاحب کی کرامت*
1978 میں بندہ جامعہ خیر المدارس ملتان مجدد قراات حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے پاس گردان کر رھا تھا ممتاز آباد جامع مسجد الخیر مولانا محمد اسحاق صاحب رح جو آیت الخیر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کے پھو پھا تھے انکے ہاں سالانہ جلسہ تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللّٰہ علیہ مہمان خصوصی تھے۔مجدد قراات حضرت قاری صاحب رح کی کلاس کو باہر جانے کی سخت پابندی تھی اور میرا صبح سے حضرت مفتی صاحب کی زیارت کیلۓ دل مچل رہا جیسے کیسے عشاء کے بعد پیدل بندہ مسجد الخیر پہنچ گیا۔جلسہ عروج پر تھا حضرت مفتی صاحب کافی دیر بعد تشریف لاۓ۔ ہم رضا کار حضرت کو گاڑی سے اتار کر اسٹیج پر لے گۓ حضرت مفتی صاحب جب اسٹیج پر پہنچے دیکھا تو جیب کٹ چکی تھی۔ بہت پریشان ہوۓ فرمایا پیسوں کے ساتھ بہت اہم کاغذات تھے۔ ظاہر ہے اھم لوگوں کے کاغذات بھی اہم ہوتے ہیں سب علماء اور رضا کار بہت پریشان ہوئے۔ آخرکار مفتی صاحب نے فرمایا اعلان کرو چور صاحب پیسے رکھ لیں کاغذات واپس کردیں ہم کچھ نہیں کہیں گے،کافی دیر بعد چور صاحب خود ہی تشریف لے آۓ، معذرت کی،رقم اور کاغذات واپس کر دۓ اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا یہ مفتی محمود صاحب ہیں۔ مفتی صاحب نے چور صاحب کے سر پر شفقت والا ہاتھ پھیرا اور پیار سے واپس بھیج دیا۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی وسیع الظرفی اور اپنے وعدے کی پاسداری اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اکابر کے نقشِ قدم پر چلائے
اسی مسجد الخیر میں وفات سے دو چار دن پہلے شیخ القران حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمۃ اللّٰہ علیہ کا آخری خطاب سنا۔ شیخ القران کا قرآن مجید سے عشق اور تقریر کے اثرات آج 46 سال بعد بھی ترو تازہ ہیں
اللہ تعالیٰ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ، شیخ القران حضرت مولانا غلام اللہ خان اور خطیب پاکستان حضرت مولانا ضیاء القاسمی سمیت تمام اکابر علماء، مشائخِ عظام اور اسلافِ امت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین، ثم آمین۔

25/05/2026

*اکابرین اہلسنت والجماعت *
پارٹ 2
ان مبارک بستیوں کی شبانہ روز محنت سے بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ دین و تبلیغ کا کام آج تک جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا

25/05/2026

قربانی کی کھالیں
جامعہ رحیمیہ رحمۃ للعالمین
مانا نوالا اسٹاپ، بیدیاں روڈ، لاہور کینٹ
آپ کی قربانی — طلبۂ دین کے روشن مستقبل کی ضمانت
جامعہ رحمۃ للعالمین میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کی دینی تعلیم، رہائش، کھانا، کتب اور دیگر تعلیمی ضروریات کے لیے
قربانی کی کھالیں کے ذریعہ معاون بنیں
📚 جامعہ کے شعبہ جات
شعبہ حفظ و گردان
شعبہ درسِ نظامی مع عصری تعلیم
(تمام شعبہ جات میں تعلیم بالکل مفت ہے)
📌 قربانی کی کھالیں جمع کروانے کا طریقہ
آپ اپنی قربانی کی کھال خود جامعہ میں پہنچا سکتے ہیں
یا
📞 کال کریں — جامعہ کا نمائندہ آپ کے گھر سے قربانی کی کھال وصول کر لے گا
🤲 آپ کا تعاون صدقۂ جاریہ ہے
آپ کی دی ہوئی قربانی کی کھال
دین کے طالب علموں کے لیے سہارا
اور آپ کے لیے آخرت کا سرمایہ بن سکتی ہے۔
📞 رابطہ نمبر
03004121541
03154121541
اللہ تعالیٰ آپ کی قربانی اور تعاون کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین

24/05/2026

*اکابرین اہلسنت والجماعت*
ان مبارک بستیوں کی شبانہ روز محنت سے بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ دین و تبلیغ کا کام آج تک جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا

17/05/2026

مجدد قراءت حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ کی مثالی شخصیت و درسگاہ
عینی شاہد مرتب :قاری غلام مصطفی معاویہ
خادم القرآن جامعہ رحیمیہ رحمت اللعالمین مانا والا سٹاپ بیدیاں روڈ لاہور کینٹ

26/04/2026

آئیے اشاعت دین میں شرکت کیجئے

جامعہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور کینٹ میں پوراسال غذائی ضرورت کو پوراکرنے کے لئے 180 من گندم کی ضرورت ہے۔
مدارس دینیہ سے محبت کرنے والوں اور علم دین کی اہمیت کو سمجھنے والے احباب جن کو اللہ تعالی نے وسعت عطافرمائی ہےان سے حسب توفیق خصوصی تعاون کی اپیل ہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی ناصر ہو آمین یا رب العالمین
الداعی:قاری غلام مصطفی
03004121541
میزان بینک اکاؤنٹ بنام غلام مصطفیٰ
02250102547186

13/04/2026

جامعۃ العلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے جڑی کچھ یادیں
آپ بیتی قاری غلام مصطفی معاویہ
49سال قبل بنوری ٹاؤن درجہ کتب میں پڑھتا تھا اکثر طلباء جمعہ مولانا احتشام الحق تھانوی رح کے پیچھے پڑھتے تھے ایک مرتبہ میں گیا تو پہلے سے طلا ق کا موضوع چل رھا تھا 13 جمعے میں نے متواتر پڑھے طلاق ہی چلتا رھا پھر میں نہ جا سکا بعد میں کب تک چلتا رہا واللہ اعلم کراچی میں صبح صبح تقریباً ہر دکان گاڑی گھر دفتر سے حضرت تھانوی کی تلاوت کی آواز آتی تھی رمضان شریف میں حیدرآباد تک لوگ تراویح پڑھنے اتے تھے کراچی میں شبینہ پڑھنے کا بہت رواج تھا جس شبینہ میں حضرت نہ پہنچ سکتے پروگرام نا مکمل سا لگتا جمعہ عیدین کراچی میں سب سے بڑا اجتماع حضرت کے ہاں ہوتا تھا نشتر پارک عیدین کے اجتماع میں کم پڑ جاتا ریڈیو پاکستان میں قران مجید کی تفسیر بیان فرماتے جید علماء کرام دین دار طبقہ اور عوام الناس انتہائی پابندی سے سماعت فرماتے میرے برادر اکبر حضرت مولانا قاری غلام عباس صاحب دامت برکاتہم
جو بعینہ حضرت تھانوی رح کی طرز پر تلاوت کرتے ہیں جوانی میں انکی موجودگی میں بڑے بڑے حضرات ان سے نمازیں پڑھواتے1977میں حضرت بنوری رحمۃ اللہ کا جنازہ پڑھنے بنوری ٹاؤن تشریف لائے حضرت کاجوتا گم ہوگیا جو بعد میں مولانا غلام مصطفی بہاولپور ی سولجر بازار والے کو ملا انہوں نےمیری ڈیوٹی لگائی فجر کی نماز کےبعد حضرت کےگھر مسجدمیں جوتا پہچایا جوتا انتہائی نفیس ہندوستانی کھسہ تھا حضرت اپنی بیٹھک میں بڑے شاہانہ انداز میں بیٹھے تھے بہت شفقت فرمائی اسباق کا ٹائم ہو رھا تھا میں جلدی بنوری ٹاؤن واپس آ گیا حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالحیی عارفی رح جو حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے پیر اور کتاب اسواہ رسول اکرم ص کے مصنف تھے نے پڑھایا جامعہ بنوری ٹاؤن میں با۔ جماعت نماز اور اسباق میں حاضری کا اس قدر ذوق تھا کہ طلباء بھاگ بھاگ کر شامل ہوتے تھے جب تک بندہ وہاں رہامیرا ایک سبق کا ناغہ بھی نہیں ہواحضرت بنوری رح کے اخلاق اخلاص شفقت قران مجید سے عشق تعلیمی نظم و ضبط تربیت علمی ذوق طلبا اساتذہ سے جوڑ مطبخ کے کھانے کی خوشبو قیامت تک محسوس ہوتی رے گی اور حضرت بنوری رح کی جدائی کا صدمہ بھی محسوس ہوتا رہےگا حضرت کے جنازہ پر عوام علماء طلباء اور اساتذہ کی غم کی وجہ سے کیفیت دیکھی نہیں جا سکتی تھی خصوصا بیرون طلباء کی۔ جنازہ رات کافی دیر بعد اسلام ابادسے جہاز کے ذریعہ ایا پھر بھی جنازہ میں اتنا رش تھا کہ جنازہ کے بعد لوگوں کو باہر نکلنےمیں گھنٹے لگ گۓ حضرت مولانا صاحبزادہ سید محمد سلیمان بنوری صاحب اس وقت تقریباً دو چار ماہ کے ہوںگے اس وقت کے اساتذہ میں محدث اعظم حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب رحمۃ االلہ مولانا محمد ادریس میرٹھی صاحب رح مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رح مفتی احمد الرحمن صاحب رح مولانا حبیب اللہ مختار صاحب رح مولانا عبد الرزاق سکندر صاحب رح مولانا محمد امین اکرزئ صاحب رح مولانا مصباح اللہ شاہ صاحب رح مولانا عبد القیوم چترالی صاحب رح مولانا بدیع الزمان صاحب رح مولانا محمد انور بدخشانی صاحب رح مفتی مفتاح اللہ صاحب رح مولانا مولی بخش صاحب مستوک مولانا رضا الحق صاحب دامت برکاتہم اور تجوید کے لۓ حضرت مولانا قاری عبدالحق صاحب رح اور دو مصری قرأ جو ہر درجہ میں تجوید پڑھاتے تھے یہ حضرات مجھے یاد ہیں رفیق سفر طلباء درجات کےفرق سےنمایان نام مفتی زرولی صاحب مولانا اسلم شیخوپوری صاحب حافظ حسین احمد صاحب بلوچستان مفتی محمد نعیم صاحب بنوریہ مولانا عبدالعزیز صاحب مولانا امان اللّٰہ رحمانی صاحب قطر مولانا محمد الیاس صاحب چنیوٹی مولانا قاری عبد الرشید صاحب شداد پور مفتی عثمان یار صاحب کراچی مولانا محمد انیس صاحب کراچی مولانا محمد عمر عابد صاحب شامل تھےدوسرے لفظوں میں ہم ایک ہی گاڑی میں سوار تھے البتہ سیٹیں اگے پیچھے تھیں اس وقت کراچی کے حالات بہت اچھے تھے کراچی غریبوں کی ماں سمجھی جاتی تھی کوئ مزدور کرایہ پر مکان نہیں لیتا تھا جہاں رات آئ فٹ پاتھ پرسو جاتا نیو کراچی سے کلفٹن تک رات کو فٹ پاتھ پر سونے والوں کی لائنیں لگی ہوتی نہ کوئ خوف نہ کوئی چوری ہوٹل اور بس والے کو بتاکر پیسے نہیں ہیں سفر اور کھانہ مفت ہو جاتا 1981 میں بندہ گلشن اقبال نمبر 6 مسجد ھدیٰ مولانا عبد الہادی صدیقی صاحب قطر والے کی جگہ قائم مقام خطیب بھی رہا جو مفتی زرولی صاحب رح حکیم محمد اختر صاحب رح اور مولانا رضا ء الحق دامت برکاتہم کی مسجد کے قریب ہے

06/04/2026

اکابرینِ اہلِ سنت والجماعت | پس منظر میں قاری رحیم بخش پانی پتیؒ کی تلاوت
اس ویڈیو میں اکابرینِ اہلِ سنت والجماعت کی باوقار اور یادگار تصاویر پیش کی گئی ہیں، جبکہ پس منظر میں قرآنِ کریم کی دل میں اتر جانے والی تلاوت قاری رحیم بخش پانی پتیؒ کی آواز میں سنائی دیتی ہے۔
یہ تلاوت محض آواز نہیں بلکہ اخلاص، خشوع اور اسلاف کی روحانی روایت کی عکاس ہے۔ اکابرین کی تصاویر اور قاری صاحبؒ کی تلاوت مل کر ایک ایسا روح پرور ماحول پیدا کرتی ہیں جو دلوں کو ایمان کی تازگی بخشتی ہے۔

27/03/2026

جامعہ رحیمیہ رحمۃ للعالمین مانانوالہ بیدیاں روڈ لاہور کینٹ میں حفظ وگردان مع تجویدبطرزاستاذالقراء حضرت مولانا قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ اور درس نظامی(درجہ متوسطہ تا درجہ خامسہ) مع عصری تعلیم(میٹرک,ایف اے,بی اے) کے داخلوں کا آغاز ہو چکاہے

خصوصیات :
تجوید کے ساتھ منزل خوب یاد کرادینا جامعہ کا خاصہ
اجراء,مطالعہ, تکرار کا اھتمام
100%حاضری پر character certificate کااجراء
رابطہ قاری غلام مصطفیٰ
03004121541
Plz send others

15/02/2026

زکوۃ کی ادائیگی کے لیے مددگار فارم

18/01/2026

وفاق المدارس العربیہ طالبات کا پرچہ
ایک سوال ہے:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل مختصراً تحریر کریں۔۔۔!!

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Jamia Rahimia Rahmat Ul Lil Alamin
Lahore