02/06/2026
حضرت عمر بن عبدالعزیز
دنیا میں بہترین دور حضرت محمد صلئ اللہ علیہ والہ وسلم کا گزرا ہے۔اس دور سے زیادہ جدت پسند اور روشن دور نہ کبھی گزرا اور نہ کبھی اے گا۔کائنات نے امن وامان کی جو خوبصورت فضاء اسوقت دیکھی اج تک نہ دیکھی۔حضرت محمد صلئ اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ نے دنیا کو نئ جہتوں سے متعارف کروایا۔اور وقت کو اپنے تابع کر لیا۔خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کی بادشاہت قائم ہوئ۔اگرچہ اس دور میں بڑی فتوحات ہوئ لیکن بادشاہی نظام کی ساری خوبیاں خامیاں اس نظام میں پائ گی۔
بنو امیہ کی حکومت
خاندان بنو امیہ میں حضرت امیر معاویہ پہلے شخص تھے جنہون نے اپنی قوت بازو پر حکومت قائم کی اور اپنے یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا اور یہی سے بنو امیہ کی بادشاہت کا أغاز ہوا۔یزید ہی کے دور میں کربلا کا المناک سانحہ پیش ایا۔بنو امیہ نے بادشاہت میں ہر وہ کام کیا۔جس میں ریاست کو فوائد بھی اور نقصان۔کیونکہ بنو امیہ کے بادشاہ تکبر میں بھی اپنی مثال اپ تھے۔لیکن انہی میں عبدالملک کے بھتیجے عمر بن عبدالعزیز ایسے بادشاہ گزرے کہ انہون نے دور خلافت کی یاد تازہ کر دی۔عمربن عبدالعزیز اگرچہ خلافت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق خلیفہ بننے کے اہل تو نہی تھے۔لیکن حکومت سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو اسکا اہل ثابت کیا۔اور ان کے دور حکومت میں صحابہ کا شاندار ماضی نظر انے لگا۔
عمر بن عبدالعزیز کا تعارف
عمر بن عبدالعزیز بنو امیہ کے اٹھویں خلایفہ ہیں۔بنو امیۀ نے اسلام کی سلطنت کو مشرق سے مغرب تک پھیلایا دیا تھا۔بنو امیہ کے دورمیں فتوحات اتنی زیادہ تھی کہ پوری دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرایا۔اندلس سے لے کر چین تک اسلام کا سورج چمکا۔حکومت جب عمر بن عبدالعزیز کے پاس أی۔اگرچہ انہوں نے اسلامی سلطنت کو مزید وسیع تو نہ کیا لیکن عدل و انصاف کا ایسا میزان قائم کیا کہ حضرت عمر رضہ کے دور کی یاد تازہ ہو گئ۔اور اپ کو عمر ثانی کہا جانے لگا۔حضرت عمر ۲نومبر۶۸۰/۶۱ کو مدینہ میں پیدا ہوے۔اپکی والدہ عمر بن خطاب کی نسل سے تھی۔اپکے والد معاشرے کے خوشحال لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔اپکے والد مصر کے گورنر تھے اور ۲۰سال تک مصر کی گورنری اپکے والد کے پاس رہی۔تاریخ اسلام میں اج تک کوی بھی حکمران اتنے طویل عرصے تک کسی علاقے کا گورنر نہی رہا۔
حضرت عمر کی کنیت ابو حف الدہ ام عاصم حضرت عمر کے بیٹے عاصم کی بیوی تھی۔اور ام عاصم کی والدہ وہ خاتون تھی۔جنکا انتخاب انکی ایمانداری کی وجہ سے حضرت عمر نے اپنے بیٹے کے لیے کیا تھا۔کیونکہ حضرت عمر نے رات کے گشت کے دوران ایک لڑی ک ہی تھی۔اور یہی لڑکئ ام عاصم کی والدہ تھی۔ سلامی اصولوں کے مطابق کی۔ایک دفعہ اپ نے نماز میں دیر کر دی استاد کے پوچھنے پر بتایا کہ بال بنانے میں دیر ہو گی۔اس پر اپکے والد نے کسی کو بھیج کر اپکا سر منڈوا دیا اور پھر بات کی۔حضرت عمر نے بچپن میں ہی قرأن حفظ کیا۔عربیت اور شعرو شاعری کی تعلیم حاصل کی۔حضرت عمر کہتے ہیں جب میں مدینہ سے تعلیم لے کر نکلا تو مجھ سے بڑا عالم کوئ نہ تھا۔لیکن امور حکمرانی سنمبھالتے ہی میں بہت کچھ بھول گیا۔
عبدالعزیز مروان کے انتقال کے بعد عبدالملک نے حضرت عمر کی
ص اور نام عمر تھا۔اپکے والد کانام عبدالعزیز تھا۔اور ماں کا نام ام عاصم تھا۔اپکا سلسہ نصب یہ ہے عمر بن عبدالعزیز بن مروان بن الحکم بن العاص بن امیہ بن شمس ہے۔ اپکی و
ی اواز سنی تھی جو اپنی والدہ کو دودھ میں پانی ملانے سے منع کر ر
عمر بن عبدالعزیز کی تعلیم تربیت کچھ عرصہ مصر میں ہوی۔اسکے بعد وہ مدینہ تشریف لے گے۔وہی اپکے اتالیق صالح بن کسیان مقرر ہوے ۔اور انہوں نے اپکی تربیت ا
شادی اپن بیٹی فاطمہ سے کر دی۔
مدینہ کی گورنری۔
سب سے پہلے اپ مدینہ کے گورنر مقرر ہوے ۔جب اپ شام سے نکلے تو اپکے پاس تیس اونٹ تھے جن پر اپکا سامان تھا۔مدینہ پہنچ کر اپنے نماز ادا کی اورمدینہ کے سر کردہ دس بزرگوں کو بلایا۔اور اپنے خطاب ظلم کے خلاف اقدامات کرنے کا بتایا۔کیونکہ معاشرے میں جب تک عدل و انصاف نہ ہو وہ معاشرہ ترقی نہی کرتا۔اپ ہی کے دور میں مسجد نبوئ کی توسیع کی گی اور امہات المومینین کے حجروں کو مسجد نبوی میں شامل کر لیا گیا۔مسجد نبوی کے علاوہ مدینے کے أس پاس کی مساجد کی بھی تزئین وارائیش کروائ گی جہاں اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نماز ادا کی۔مدینہ انے والے زائرین کے لیے کنویں کھودواے گے۔حاجیوں کی خدمات کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی گی۔الغرض معاشی اور معاشرتی طور پر حضرت عمر نے مدینہ میں امن کی فضاء قائم کی۔
خلافت
کچھ سیاسی وجوہات کی بنا پر حضرت عمر نے مدینہ کی گورنری سے استعفی دیا اور شام چلے گے۔وہاں اگرچہ تمام بنو امیہ کا خاندان مختلیف معملات میں اپکی مدد لیتا تھا۔لیکن سلیمان بن ملک کو اپ پر اسقدر اعتماد تھا کہ اس نے اپکو اپنا وزیر ہی بنا لیا تھا۔رجا جس نے سلیمان عبدالملک کے بیمار ہونے پر انہیں اپنا جانشین مقرر کرنے کا کا کہا۔اور اسی کے مشورے پر سلیمان نے وصیت تیار کروای اور مہر بند کروا دی۔رجا نے سلیمان کے حکم سے تمام بنو امیہ سے بعیت لی۔کہ سلیمان کے مرنے کے بعد خلیفہ وہی ہو گا جسے سلیمان نے اپنی وصیت میں مقرر کر دیا ہے۔اس وصیت کے تین دن بعد سلیمان مر گیا۔رجا نے اسکے مرنے کی خبر کسی کو نہ دی اور سب سے پہلے مسجد میں جمع کیا اور دوبارہ ان سے بعیت لی۔جب اس نے دیکھا بیعت مستحکم ہو چکی تو اس نے وصیت پڑھ دی اور سیلمان کے مرنے کی خبر دی۔سلیمان عبدالملک کا جنازہ حضرت عمر نے پڑھایا۔جنازے کے بعد جب انکی خلافت کا اعلان ہوا اور انہیں شاہی پوٹوکول کے ساتھ محل لے جانا چاہا۔تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہا میرے لیے میرا خچر ہی کافی ہے۔ خلافت کے بعد اپ نے لوگوں کی قابض شدہ جاگریں اور زمین واپس کرنی شروع کر دی۔حتی کہ خود اپکے پاس بھی جتنا مال و دولت تھا۔سب واپس کر د یا۔جن زمینوں پر بنو امیہ کا قبضہ تھا وہ بھی واپس لے کر انکے حق داروں تک پہنچائ۔جس پر اپکو بنو امیہ کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔بنو امیہ کے جو ظالم گورنر مقرر تھے ان سب کو معزول کر دیا۔سب سے بڑا مسلہ باغ فدک کا تھا۔وہ بھی علماء سے مشورے کے بعدواپس کر دیا گیا۔اسوقت باغ فدک کی امدنی دس ہزار دینار تھی۔حتی کہ اپنے لیے بھی کچھ نہ چھوڑا۔اور صرف اتنا کہا میری اولاد کے لیے میرا اللہ کافی ہے۔جزیہ زکوة نافذ کی۔سلطنت کے طول وعرض میں امن وامان قائم کیا۔اگرچہ اپنے دور میں نئے علاقے تو فتح نہ کیے لیکن اندرونی طور پر بغاوتوں کے خلاف جنگ جاری رہی۔زندگی ایسی سادہ کہ بعض اوقات فاقے سے بھی ہوتے۔لیکن بیت المال سے کچھ نہ لیتا۔سلطنت کا طول وعرض خوشحال لیکن خود خلیفہ کے پاس بچوں کی پرورش کے پورے وسائل نہی ہیں۔بی بی فاطمہ جو تین واسطوں سے شہزادی ہیں۔بھائ بادشاہ شوہر بادشاہ باپ بادشاہ ایک خوشحال زندگی گزاری۔لیکن شوہر اور بچوں کے ساتھ اس حال میں بھی خوش ہیں۔
وفات
بنو امیہ کے لیے اپکے اقدامات ناقابل برداشت تھے۔کیونکہ وہ شاہانہ طرز زندگی کے عادی تھے۔بنو امیہ کی ہی سازش کے نتیجے میں اپکو زہر دے دیا گیا۔اور جس غلام نے اپکو زہر دیا اسکو ایک ہزار دینار دیا گیا۔جانے پر اپ نے اس سے ایک ہزار دینار اس سے لے کر بیت المال میں جمع کروا دیے۔اور اسے وہاں سے کہئ دور جانے کا حکم دے دیا۔اپ نے اپنی قبر کی جگہ خود خریدی۔اور اپنے کفن کے پانچ کپڑے بنانے کے لیے کہا۔ترکے میں کل ۱۷دینار چھوڑے جس میں دو دینار کی قبر کی جگہ خریدی اور تین دینار کا کفن خریدا۔اپکی وفات کا سن کر ہر خاص و عام رویا کہ جس نے بادشاہی کے باوجود دنیا کو اپنے قدموں کے نیچے رکھا۔لوگوں کو فقیرانہ زندگی گزار کر دکھائ۔اپنی زندگی کو دنیا کے سامنے مثال بنا گے اور وقت نے دیکھا کہ انہی کی اولاد کو وہ عروج عطا ہوا کہ وہ مال و دولت سے بھی نوازے گے اور سخاوت سے بھی۔اور اسی بنو امیہ ایسے شہزادے بھی تھے جنہیں لوگ صدقہ دیتے تھے۔عاجزی کا یہ عالم تھا کہ روزہ روسول میں دفن نہی ہوے کہ خود کو ان عظیم الشان ہستیوں کے برابر نہی سمجھتے تھے۔
اور ایسے ہی لوگ ہیں۔جو جنت کے اصل وارث ہیں۔جنہوں نے اپنی زندگیاں اللہ اور اسکے رسول کے احکامات کے مطابق بسر کی۔اپ نے دو سال دو مہینے حکومت کی لیکن دنیا کو حکومت کرنے کے اصول دے گے۔یہ ایک دفعہ پھر بتا دیا اسلام صرف عبادت کا نام نہی ہے۔بلکہ اسلام سے بڑھ کر سیاست کے اصول کوئ نہی دے سکتا۔اسلام ہر شعبہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور یہی کامیابی کی منزل ہے