Furqan Qureshi blogs

Furqan Qureshi blogs

Share

Furqan qureshi blogs is a research platform for Quran, Hidith, Modern science and Archeology.

09/03/2026
23/12/2025

PART 1 / The Quran and 10 Major Realities.


゚viralシfypシ゚viralシalシ

23/12/2025

New series | Quranic Research Series
The Quran & 10 Major Realities
This season explores ten fundamental realities explained in the Quran—
realities that shape life, belief, and responsibility.
Episode 1 drops tonight on Furqanqureshi Blogs.

18/09/2025

ایک لڑکا گلیشیئر سلائیڈنگ کے دوران جان کی بازی ہار گیا، مگر 28 سال بعد اس کی لاش برف سے ملی… حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کا جسم ویسا ہی محفوظ تھا جیسے موت کے وقت تھا! ........⬇️⬇️

Photos from Furqan Qureshi blogs's post 18/08/2025

دسمبر 1938ء کی بات ہے کہ دنیا میں تیزی کے ساتھ ابھرتی ہوئی ایک طاقت ۔۔۔

یعنی ’’نازی جرمنی‘‘ نے اینٹارکٹیکا کی طرف اپنا ایک ۔۔۔ ایکسپڈیشن بھیجا ۔

ایکسپڈیشن یعنی کہ ایک مہم کہ جس کا ویسے تو مقصد یہ بتایا گیا تھا ۔۔۔

کہ ہم ان نئے سمندروں کو ایکسپلور کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں وھیل مچھلیاں تیرا کرتی ہیں ۔

تاکہ ان کے شکار سے ہم وھیل آئل ، صابن اور دیگر چربی و چکنائیاں حاصل کر سکیں لیکن ۔۔۔

اس ایکسپڈیشن سے دنیا کا ماتھا تب ٹھنکا کہ جب جرمن جہازوں نے ۔۔۔

اینٹارکٹیکا کے برفانی صحراؤں کے چپے چپے کی تصاویر کھینچنا شروع کر دی اور کُل ملا کر تقریباً ۔۔۔

ساٹھ لاکھ سکوئر کلومیٹرز کی تصویریں لے لیں ۔

کہ جو پورے پاکستان سے بھی تقریباً سات گناء زیادہ ۔۔۔ ایریا بنتا ہے ۔

اس کے بعد جنگ عظیم دوئم کا آغاز ہو گیا کہ جس میں چھ سال کی ایک طویل لڑائی کے بعد بالآخر ۔۔۔

جرمنی کو شکست ہو گئی ۔

شکست کے بعد جرمنی کی تقریباً تمام خفیہ دستاویزات ۔۔۔

یا کم سے کم وہ دستاویزات کہ جو سامنے آ گئی تھیں ، وہ تمام کی تمام ۔۔۔

امیرکہ کے پاس چلی گئیں کیوں کہ ظاہر ہے ، امیرکہ ۔۔۔ اس وقت دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت ہوا کرتا تھا ۔

امیرکنز نے دستاویزات کے ایک ایک صفحے کو چھانٹی کیا اور پھر باقی دنیا کو کہہ دیا کہ ان ڈاکیومنٹس میں قابل ذکر ۔۔۔

تو کوئی بھی شئے نہیں لیکن صرف ایک سال بعد ۔۔۔

صرف ایک سال بعد امیرکہ نے اینٹارکٹیکا کی سرزمین پر تاریخ کا سب سے بڑا ایکسپڈیشن بھیجا تھا ۔

تیرہ بحری جہاز ، تینتیس ہوائی جہاز ، پانچ ہزار آدمی ، ایئر کرافٹ کیرئیرز ، آبدوزیں ، برف کو توڑنے والے آئس بریکرز ۔۔۔

اور یہ بات آج تک ایک راز ہے کہ یہ ایکسپڈیشن ۔۔۔

آیا وہاں بنائی گئی جرمنی کی کسی خفیہ بیس کی تلاش میں ہوا تھا یا پھر ۔۔۔

جرمنی کو وہاں کوئی ایسی چیز مل گئی تھی کہ جس کی تصویریں دیکھنے کے بعد اس کی تلاش میں پھر ۔۔۔

امیرکہ وہاں گیا تھا لیکن یہ راز ۔۔۔

یہ راز تو اب ہمیشہ کے لیے شاید ایک راز ہی رہے گا کیوں کہ انٹرنیشنل قوانین کے مطابق اب اینٹارکٹیکا پر ۔۔۔

کوئی بھی ملک ایسے ایکسپڈیشنز ۔۔۔ نہیں بھیج سکتا ۔

رات کے اس پہر دنیا کے دور دراز کے علاقوں سے ایک حیرت انگیز داستان ۔۔۔

میری طرف سے آپ سب کے لیے ۔

شکریہ

فرقان قریشی

05/07/2025

The Seerah series /Episode 7/ Part 3
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سیریز/ قسط 7/ حصہ3

#اپڈیٹ

Photos from Furqan Qureshi blogs's post 02/07/2025

سولہویں صدی کے مصر میں ۔۔۔ ایک بہت بڑے مؤرخ رہا کرتے تھے إبن عماد الحنبلیؒ ۔

انہوں نے بڑی محنت سے ایک ایسی کتاب مرتب کی ۔۔۔ کہ جسے اگر اسلامی تاریخ کی سب سے نایاب معلومات والی کتاب کہا جائے ۔۔۔

تو شاید غلط نہیں ہو گا ۔

اور آٹھ جلدوں میں لکھی اس کتاب کا نام ہے ’’شذرات الذھب‘‘ یعنی ’’سونے کی ڈلیاں‘‘ ۔

اس کتاب میں إبن عماد نے دسویں صدی میں گزرے ایک ایسے سکالر کے متعلق لکھا ہے ۔۔۔

کہ جنہیں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے لیکن ۔۔۔

إبن یوسف صالحیؒ نامی اس شخص نے پہلے کوئی ایک ہزار سے زیادہ کتابوں کو سٹڈی کیا ۔۔۔ اور پھر اس کے بعد ۔۔۔

محمد الرسول اللہ ﷺ کی زندگی کے واقعات پر ایک بہت بہت عظیم انسائیکلوپیڈیا لکھا ۔۔۔

’’سبل الھدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد‘‘

اب آپ سب نے معراج کی رات والا واقعہ تو یقیناً پڑھ رکھا ہو گا کہ کیسے ۔۔۔

ایک رات آپؐ بیت المقدس سے سفر کر کہ ساتوں آسمانوں پر گئے تھے لیکن ۔۔۔

ہزار سال پرانی اس نایاب کتاب میں معراج کے حوالے سے ۔۔۔ ایک بڑی ہی زبردست بات مل جاتی ہے ۔

ایک ایسی انفارمیشن کہ جو زیادہ تر کتابوں میں پڑھنے کے لیے ۔۔۔ نہیں ملتی ۔

اس کتاب میں موجود حدیث کے مطابق نبی کریم حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ القدس میں نماز پڑھنے کے بعد ۔۔۔

میرے سامنے آسمان کی طرف چڑھنے والی ایک چیز لائی گئی ۔

کہ جسے معراج کہتے ہیں اور یہ وہ معراج تھی کہ جس سے انسانوں کی روحیں ۔۔۔ اوپر چڑھتی ہیں ۔

لیکن یہ معراج دیکھنے میں انتہائی خوبصورت تھی اور کبھی کسی انسان نے پہلے ۔۔۔ اسے نہیں دیکھا تھا ۔

اس کی مرقات ۔۔۔ یعنی اوپر کی طرف چڑھنے کی جگہیں ۔۔۔ (بائی دا ویز لفظ ترقی کا مصدر بھی یہی ہے) ۔۔۔ ان مرقات میں سے ایک مرقہ ۔۔۔

سنہرے رنگ کی تھی اور دوسری ۔۔۔ نقرئی یعنی چاندی جیسے رنگ کی تھی ۔

اور پھر میں اور جبرائیل اس معراج میں سے اوپر کی طرف چڑھے تھے حتیٰ کہ ۔۔۔

ہم اس دروازے تک پہنچ گئے کہ جہاں سے پہلے آسمان میں داخل ہوا جاتا ہے ۔

یعنی ’’باب الحفظۃ‘‘ کہتے ہیں اور کہ جس پر موجود فرشتے کا نام ۔۔۔ اسماعیل تھا ۔

اب اگر آپ اس نایاب ڈسکرپشن کو ۔۔۔ اس کی اوریجنل عربی زبان میں پڑھیں تو آپ کو یوں محسوس ہونے لگے گا کہ جیسے ۔۔۔

معراج درأصل اس انتہائی خوبصورت ، گولڈن اور سلور راستے کا نام تھا ۔۔۔

کہ جسے ڈیزائن ہی ۔۔۔ انسانوں کے لیے کیا گیا تھا کہ وہ اس میں سے گزرنا برداشت کر سکیں ۔

اور کہ جس کا ایک سرا یہاں ۔۔۔ اور دوسرا سرا باب الحفظہ پہ جا کر کھلتا ہے ۔

وہ راستہ کہ جس میں سے گزشتہ رات ۔۔۔ یعنی ستائیس رجب کو نبیؐ نے آسمانوں کی طرف کا ۔۔۔ سفر کیا تھا ۔

آپ سب مجھے ایک طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ میں معراج النبیؐ کا واقعہ بھی کور کروں ۔

إن شاء اللہ میں ضرور کروں گا کیوں کہ قدیم اور نایاب کتابوں میں ۔۔۔

معراج کے متعلق ایسی ایسی انفارمیشن موجود ہے کہ آپ حیرانی کے مارے اسے ۔۔۔

پڑھتے ہی چلے جائیں گے ۔

فرقان قریشی

02/07/2025

01/07/2025

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Lahore