12/04/2026
علم تفسیر - Dars E Nizami علمِ تفسیر کی تعریف: علم تفسیر کی تعریفات کے متعلق کئی علماء نے اپنی کتابوں میں مفصل ابحاث فرمائیں ہیں چنانچہ: علامہ سید حسین ذھبی (م :۱۳۹۸ھ) اپنی کتاب "التفسیر و المف....
درس نظامی پیج برائے طلباء و طالبات کنزالمدارس و تنظیم المدارس
12/04/2026
علم تفسیر - Dars E Nizami علمِ تفسیر کی تعریف: علم تفسیر کی تعریفات کے متعلق کئی علماء نے اپنی کتابوں میں مفصل ابحاث فرمائیں ہیں چنانچہ: علامہ سید حسین ذھبی (م :۱۳۹۸ھ) اپنی کتاب "التفسیر و المف....
12/04/2026
تفسیر القرآن العظیم ((للتستری)) - Dars E Nizami تفسیر القرآن العظیم ((للتستری)) ((اسلوب)) درج بالا تفسیر ایک چھوٹے سے حجم میں مجلد ہے ۔ اس تفسیر میں مصنف علیہ الرحمۃ ایک ایک آیتِ قرآنیہ کی تفسیر کے درپے نہیں ہوئے بلکہ ....
12/04/2026
حقائق التفسیر ((للسلمی)) - Dars E Nizami حقائق التفسیر ((للسلمی)) (اسلوب) یہ تفسیر ایک جلد میں کبیر الحجم پائی جاتی ہے۔جسکے دو مخطوطہ نسخے مکتبۂ ازھریہ میں موجود ہیں۔ اس تفسیر کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ....
12/04/2026
عرائس البیان فی حقائق القرآن - Dars E Nizami ((عرائس البیان فی حقائق القرآن)) مؤلف علیہ الرحمۃ اپنی اس کتاب میں نمطِ واحد اختیار فرمایا ہے ۔ اور تفسیرِ ظاہری کے درپے بالکل نہیں ہوئے اگرچہ انکا اعتقاد یہ ہے کہ اولا...
29/03/2026
نصاب درس نظامی گرلز 2026-2027دعوت اسلامی - Dars E Nizami نصاب درس نظامی گرلز 2026-2027دعوت اسلامی جامعات المدینہ گرلز دعوت اسلامی ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
29/03/2026
تعارف شخصیات - Dars E Nizami امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف Posted on March 28, 2026March 28, 2026 By studentnotesonline.com No Comments on امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف امام قرطبی کا پور...
https://whatsapp.com/channel/0029Va7uZZh6rsQn9KFYL047
طلبا کرام اعلامیہ جات اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے لیے اس چینل کو فالو فرما دیں۔
یکم رجب المرجب 1446 ہجری کا چاند نظر آچکا ہے
26/09/2024
Tax se bachny ky lye salary kam show krwana kesa? ٹیکس سے بچنے کے لیے سیلری کم شوکرانا کیسا؟ #m***i
اسلام میں شراب کو’’ اُمُّ الْخَبَائِث‘‘یعنی تمام برائیوں کی جڑقراردیتے ہوئے شراب نوشی کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا گیاہے۔ اسلام میں شراب کے کاروبار کی کسی صورت اجازت نہیں،اسےمطلق حرام فرمایاگیا ہے :(۱)حدیث پاک میں ہے :ترجمہ:’’ شراب ، اس کے پینے والے ، پلانے والے ،اس کے بیچنے اور خریدنے والے ،اس کے کشید کرنے والے اور کشید کرانے والے ، اس کے اٹھانے والے اور جس کے لیے اٹھا کر لائی گئی ہے، (سب پر) اللہ نے لعنت فرمائی ہے،(سُنن ابوداؤد:3674)‘‘۔
(۲)ابوعبداللہ امام احمد بن محمد بن حنبل ؒنے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں ’’اور شراب کی قیمت سے فائدہ اٹھانے والے پر لعنت ‘‘ کے الفاظ بیان کیے ہیں،(مسند امام احمد بن حنبل)۔
(۳)ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے شراب کی قیمت سے منع فرمایا،(مسند احمد بن حنبل:2626)‘‘۔
شراب مطلق حرام ہے ، خواہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی ، کافر کے ہاتھ فروخت کی جائے یا مسلمان کے ، بہر صورت حرام ہے اور کفار بھی فروعات کے مُکلّف ہیں، کافر کے لیے بھی شراب پینا حرام ہے ۔علامہ ابوالحسن برہان الدین علی بن ابو بکر فرغانی حنفیؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ذمی اور بچے کو دوا کے لیے (بھی )شراب پلانا ، جائز نہیں اور اس کا وبال پلانے والے پر ہو گا ،(ہدایہ ، جلد:4،صفحہ:398)‘‘۔علامہ علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی ؒلکھتے ہیں: ترجمہ:’’شراب اور خنزیر کی حرمت غیر مسلموں کے حق میں بھی بالکل اسی طرح ثابت ہے ،جس طرح مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے ،کیونکہ وہ بھی محرمات کے مکلف ہیں اور یہی اہلِ اصول کے نزدیک صحیح ہے ،جو اس مقام پرمعلوم ہوتا ہے ،(بدائع الصنائع، جلد: 7، صفحہ:113)‘‘۔
امام اہل سنّت امام احمد رضاقادریؒ لکھتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلّف با لفروع ہیں ،(فتاوی رضویہ، جلد :16، صفحہ :382)‘‘۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمیؒلکھتے ہیں:’’کافر یا بچے کو شراب پلانا بھی حرام ہے ،اگرچہ بطورِ علاج پلائے اور گناہ اُسی پلانے والے کے ذمہ ہے ۔بعض مسلمان انگریزوں کی دعوت کرتے ہیں اور شراب بھی پلاتے ہیں ،وہ گناہ گار ہیں ،اس شراب نوشی کا وبال ان ہی پر ہے ،(بہارشریعت، جلد : 3، صفحہ: 672، مکتبۃ المدینہ، کراچی)‘‘۔
امریکا ، یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں اُن کا قانون مسلمانوں کو شراب پینے ، پلانے ،فروخت کرنے اور اس کا کاروبار کرنے کا پابند نہیں کرتا ، جو مسلمان ان حرام کاموں میں مبتلا ہیں ،یہ اُن کی اپنی بدعملی اور ضعیف الاعتقادی ہے اور اگر بفرضِ مُحال کہیں ایساہو ،تب مسلمانوں کو ایسا کاروبار چھوڑ کر حلال روزگار کے ذرائع تلاش کرنے چاہییں ۔
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |