23/05/2026
اسلام علیکم۔دربار شریف کی جامع مسجد میں نماز عیدالاضحٰی صبح 6 بجے ادا کی جائے گی۔ان شاء اللہ
شیخ الکاملین منبع فیوض یزداں پیر طریقت رہبر شریعت حضرت خواجہ محمد شفیع نظامی قدس سرہ العزیز مغلپورہ۔
23/05/2026
اسلام علیکم۔دربار شریف کی جامع مسجد میں نماز عیدالاضحٰی صبح 6 بجے ادا کی جائے گی۔ان شاء اللہ
آج ہمارے چاچا جی۔پیر طریقت رہبر شریعت صوفی محمدصدیق نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کے بیٹے ہمارے بھائی خلیفہ حافظ محمد شفیق نظامی صاحب آج حج بیت اللہ کی سعادت کیلئے روانہ ہو گئے ہیں۔اللہ پاک حج کو قبول فرمائیں آمین ثم آمین۔ہمارچاچا جی مکہ مکرمہ میں مدفن ہیں۔
06/05/2026
ہمارا مطالبہ ہے کہ دوبارہ لاہور تا واہگہ ریلوے ٹرین کو چلایا جائے۔اس سے اردو گرد رہنے والی آبادی کو بہت فائدہ ہو گا۔اور نئے اسٹیشن بھی بنائے جائیں۔
15 December 2019 Lahore wagah shuttle Train well come at Moughalpura Station
04/05/2026
اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ دفاع وطن کانفرنس بھر پور رہی۔۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ایڈوکیٹ خلیفہ سید اشفاق علی شاہ صاحب نے سرانجام دیئے اور کہا کہ پاکستان بھر کی خانقاہوں میں سے ہمارے پیرومرشد کی خانقاہ شریف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب وطن عزیز کو ضرورت پڑی تو ہمارے پیرومرشد کے سجادہ نشین صاحب نے۔۔نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کا نعرہ بلند کیا۔۔۔اور اپنے تمام یاران طریقت کو ہمیشہ تیار رہنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ روز مرہ زندگی میں ہمیشہ حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے شعر کی تشریح پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ۔کہ ملک پاکستان کے اندر تمام طرح کے فروعی اختلافات کو بھلا کر وطن عزیز میں رہنے والوں کیلئے باہمی طور پر اکٹھے رہنے کی اپیل کی۔۔۔اس لئے گورنمنٹ اف پاکستان کے تمام ادارے چاہے محرم الحرام ہو یا کوئی اور معاملہ ہو ہمیشہ امن و امان کو قائم رکھنے کیلئے ہمارے پیرومرشد کی خانقاہ شریف شہر لاہور سے فیض یاب ہوتے ہیں۔۔۔اپ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے ہیں ۔۔کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم ۔۔ہو رزم حق و باطل تو فولاد ہے مومن۔تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ۔قاری ابوبکر سیالوی صاحب ۔نےحاصل کی۔۔اور نعت خواں محمد ارشد نقشبندی جو کہ ریڈیو پاکستان اور قومی چینلز کے مشہور ثناء خوان ہیں نے اپنے مخصوص انداز سے سماں باندھ دیا۔۔۔اس کے بعد علامہ ارشد علی نقشبندی صاحب نے وطن کی محبت کے موضوع پر گفتگو کی۔۔اس کے بعد کراچی کی مشہور شخصییت پیر طریقت صاحبزادہ والا شان پروفیسر محمد مسرور احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ مسعودیہ۔مجددیہ دارلخیر کراچی۔نے خاص پیغام دیتے ہوئے فرمایا کہ
پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ اسلام کے نام پر دی جانے والی لاکھوں قربانیوں اور اولیاء کرام کی دعاؤں کا ثمر ہے۔
یہ ملک 27 رمضان المبارک کو عطا ہوا۔ تاریخی شواہد کے مطابق قائد اعظم کو لندن سے واپس لانے والی شخصیت اور خان آف قلات کو جناح کا ساتھ دینے کا حکم دینے والی ہستی خود حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی تھی۔
پاکستان پر پہلے دن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خاص کرم اور اولیاء اللہ کا فیضان ہے۔
موجودہ مسائل اور خطرات
آج پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر بے شمار مسائل، آپسی رنجشوں اور عدم استحکام کا شکار ہے۔
ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مخلص اور جرات مند قیادت کا فقدان ہے۔
موجودہ سیاسی کلچر میں اکثریت ان سیاست دانوں کی ہے جو دولت اور خاندانی اثر و رسوخ کی بنا پر اقتدار حاصل کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کے بجائے کرپشن، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
مغربی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے لیے نااہل حکمرانوں کی حمایت کر کے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں تاکہ اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکے۔
استحکام اور نفاذِ اسلام کا راستہ
پاکستان کی بقا صرف اس کے نظریے (اسلام) کو زندہ رکھنے میں ہے۔
ریاستی استحکام کا مطلب قانون کی حکمرانی، امن و امان اور عوام کا حکمرانوں پر اعتماد ہے۔
مستقبل کے لیے ایسی قیادت کا انتخاب ضروری ہے جو صالح، دیانت دار اور وعدہ خلافی و منافقت سے پاک ہو۔
قومی دفاع کے لیے ضروری ہے کہ عوام میں باہمی محبت، غم خواری اور علمی یک رنگی ہو اور وہ کسی سازش کا شکار نہ ہوں۔
عہدِ نو اور انفرادی ذمہ داری
75 سالہ تاریخ کا احتساب کرتے ہوئے اب وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا تدارک کریں۔
حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب ہر فرد خود پر اسلامی احکام نافذ کرے گا؛ اس سے معاشرہ خود بخود اسلامی سانچے میں ڈھل جائے گا۔
ہر پاکستانی کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ کرپشن اور ملاوٹ سے دور رہے گا اور ملکی املاک (سڑکیں، ہسپتال، ریل گاڑی وغیرہ) کو اپنی ملکیت سمجھ کر ان کی حفاظت کرے گا۔
دفاعِ پاکستان ہر شہری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ اور ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
آخر پر رقت آمیز دعا ہوئی۔۔علاقے بھر کے آے ہوئے علماء کرام کا شکریہ ادا کیا گیا۔۔۔اور سجادہ نشین صاحب نے فرمایا ہماری خانقاہ جب بھی وطن کو ضرورت پڑے گی۔۔ہراول دستہ کی خدمات ار انجام دے گی۔۔اور فرمایا کہ ہمارے بزرگوں نے بشارت دی تھی کہ ان شاء اللہ جلسہ لال قلعہ دہلی پر ہم مسلمانوں کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔۔۔آنے والی نسلیں ان شاء اللہ وہ دن ضرور دیکھیں گی۔۔اور ملک پاکستان ہمیشہ سلامت رہے گا۔۔۔
اولیاء کا ہے فیضان۔۔پاکستان پاکستان۔۔۔
نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔نعرہ رسالت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ
نعرہ حیدری۔یا علی۔۔کامل پیرومرشد زندہ باد۔۔
دربار شریف حضرت خواجہ محمد شفیع نظامی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار شریف کی جامع مسجد میں دفاع پاکستان کانفرنس کا پیغام 3 مئی بروز ہفتہ
01/05/2026
تلاوت کلام پاک حافظ۔قاری ابوبکر سیالوی صاحب ۔خصوصی آمد۔پیر طریقت صاحبزادہ والا شان پروفیسر محمد مسرور احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ مسعودیہ۔مجددیہ دارلخیر کراچی۔
خطاب۔مقررذیشان۔ابو البیان علامہ محمد ارشد علی نقشبندی صاحبنیوز نمائندہ سے۔۔
پیغام دفاع پاکستان کانفرنس۔
پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ اسلام کے نام پر دی جانے والی لاکھوں قربانیوں اور اولیاء کرام کی دعاؤں کا ثمر ہے۔
یہ ملک 27 رمضان المبارک کو عطا ہوا۔ تاریخی شواہد کے مطابق قائد اعظم کو لندن سے واپس لانے والی شخصیت اور خان آف قلات کو جناح کا ساتھ دینے کا حکم دینے والی ہستی خود حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی تھی۔
پاکستان پر پہلے دن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خاص کرم اور اولیاء اللہ کا فیضان ہے۔
موجودہ مسائل اور خطرات
آج پاکستان داخلی اور خارجی سطح پر بے شمار مسائل، آپسی رنجشوں اور عدم استحکام کا شکار ہے۔
ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مخلص اور جرات مند قیادت کا فقدان ہے۔
موجودہ سیاسی کلچر میں اکثریت ان سیاست دانوں کی ہے جو دولت اور خاندانی اثر و رسوخ کی بنا پر اقتدار حاصل کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کے بجائے کرپشن، اقربا پروری اور ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔
مغربی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے لیے نااہل حکمرانوں کی حمایت کر کے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں تاکہ اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکے۔
استحکام اور نفاذِ اسلام کا راستہ
پاکستان کی بقا صرف اس کے نظریے (اسلام) کو زندہ رکھنے میں ہے۔
ریاستی استحکام کا مطلب قانون کی حکمرانی، امن و امان اور عوام کا حکمرانوں پر اعتماد ہے۔
مستقبل کے لیے ایسی قیادت کا انتخاب ضروری ہے جو صالح، دیانت دار اور وعدہ خلافی و منافقت سے پاک ہو۔
قومی دفاع کے لیے ضروری ہے کہ عوام میں باہمی محبت، غم خواری اور علمی یک رنگی ہو اور وہ کسی سازش کا شکار نہ ہوں۔
عہدِ نو اور انفرادی ذمہ داری
75 سالہ تاریخ کا احتساب کرتے ہوئے اب وقت ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا تدارک کریں۔
حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب ہر فرد خود پر اسلامی احکام نافذ کرے گا؛ اس سے معاشرہ خود بخود اسلامی سانچے میں ڈھل جائے گا۔
ہر پاکستانی کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ کرپشن اور ملاوٹ سے دور رہے گا اور ملکی املاک (سڑکیں، ہسپتال، ریل گاڑی وغیرہ) کو اپنی ملکیت سمجھ کر ان کی حفاظت کرے گا۔
دفاعِ پاکستان ہر شہری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ اور ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
30/04/2026
پریس ریلیز
استحکام پاکستان کانفرنس
لاہور (نمائندہ خصوصی)
آج بروز جمعرات 30 اپریل، الحمراء ہال، مال روڈ لاہور میں ”تحفظ ناموس رسالت محاذ“ کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان استحکام پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر و عالمی دنیا سے جید علماء کرام، مشائخ عظام، اہلسنت تنظیمات کے قائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ قیامِ پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کے علماء و مشائخ اہل سنت نے تاریخی جدوجہد کرتے ہوئے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا، جس کے نتیجے میں مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے اپنے ان عظیم محسنین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عزم کیا کہ ان کے کردار کو ہمیشہ مشعلِ راہ بنایا جائے گا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ قیام پاکستان کے بعد علماء و مشائخ اہل سنت نے ہمیشہ ریاست پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اس موقع پر تحفظ ناموس رسالت محاذ کے سربراہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہیدؒ کی قربانیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے ملک میں دہشت گردی، طالبانائزیشن، داعش اور فتنہ الخوارج جیسی ملک دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لیے علماء اہل سنت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فتاویٰ، کانفرنسز اور ریلیوں کے ذریعے ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اعلامیہ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اہل سنت و جماعت نے ہمیشہ ریاست کا ساتھ دیا ہے اور داخلی استحکام و بیرونی جارحیت کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔
کانفرنس کے شرکاء نے آپریشن ”بنیان المرصوص“ کے ذریعے دشمن کو مؤثر جواب دینے پر ریاست پاکستان، افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ مزید برآں حالیہ عالمی صورتحال میں ایران، امریکہ جنگ بندی اور عرب ممالک کو کشیدگی سے دور رکھنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔
اعلامیہ میں وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ و نائب وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی خدمات کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
شرکاء نے واضح کیا کہ اہل سنت و جماعت پاکستان کی ایک پرامن، محب وطن اور ریاست کی حقیقی خیر خواہ اکثریت ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طبقے کو دیوار سے لگانے کے اقدامات سے گریز کیا جائے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست کا قیام تھا، جس کے لیے تمام طبقات خصوصاً علماء و مشائخ کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ناموس رسالت ﷺ اور ناموس قرآن کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور مؤثر قانونی کارروائی کی جائے اور قرآن مجید کے نسخوں کو ناپاک مواد سے پاک کیا جائے۔ مزید برآں آئین پاکستان اور ”پیغام پاکستان“ کی روشنی میں مذہبی منافرت اور مقدسات کی توہین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیہ کے آخر میں حالیہ عدالتی فیصلوں اور ریمارکس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلّم دینی معاملات کو متنازع بنانے سے گریز کیا جائے تاکہ ملک میں انتشار کی فضا پیدا نہ ہو۔
کانفرنس کے اختتام پر ملکی استحکام، سلامتی اور عالم اسلام کی سربلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
قراردادیں:
استحکام پاکستان کانفرنس میں متفقہ طور پر متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ ایران اور اسرائیل فوری طور پر مکمل جنگ بندی کریں تاکہ عالم انسانیت کو جانی و مالی نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
قراردادوں میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ غزہ، فلسطین، لبنان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
شرکاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے بعض حالیہ ریمارکس اور فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معزز عدالتوں کے ججز مسلم دینی معاملات کو متنازع بنانے سے گریز کریں تاکہ معاشرے میں انتشار پیدا نہ ہو۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ آئین پاکستان کی متعلقہ دفعات اور ”پیغام پاکستان“ کی روشنی میں مقدسات دینیہ کی توہین کا سدباب کیا جائے، خصوصاً سوشل میڈیا پر کڑی نگرانی رکھی جائے اور ذمہ دار ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔
قراردادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ توہین رسالت ﷺ اور دیگر مقدسات سے متعلق زیر التواء مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جبکہ ایسے افراد کو فیصلے تک ہر قسم کی تحریر و تقریر سے روکا جائے۔
اجتماع میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے اور ریاستی نظام کو قرآن و سنت کے مطابق استوار کیا جائے۔
شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی بحران پر قابو پایا جائے اور بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ غیر ضروری اخراجات اور اشرافیہ کی مراعات میں کمی کی جائے۔
قراردادوں میں سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ باہمی کشیدگی کم کر کے ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، کیونکہ سیاسی استحکام ہی امن و معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
مزید مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
آخر میں مدارس دینیہ کے حوالے سے مطالبہ کیا گیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو آسان اور سہل بنایا جائے، مالی معاملات میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور چرمہائے قربانی کے لیے این او سی کی سخت شرائط میں نرمی کی جائے۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والی نمایاں شخصیات میں صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی (صدر تحفظ ناموس رسالت محاذ)، علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی (چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)، علامہ صاحبزادہ عبدالمصطفی ہزاروی (ناظم اعلی جامعہ نظامیہ رضویہ)، صاحبزادہ پیر محمد حسان حسیب الرحمن (زیب سجادہ آستانہ عالیہ عیدگاہ شریف)، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری (چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب)، صاحبزادہ پیر سید حسنین فاروق شاہ (سجادہ نشین درگاہ عالیہ چورہ شریف)، پیر سائیں خواجہ اسرار الحق چشتی نظامی (آستانہ عالیہ چشتیہ نظامیہ، ڈیفنس۔ لاہور)، الحاج صوفی شوکت علی قادری (جامعہ انوار مدینہ)، سید لخت حسنین شاہ (چیئرمین مسلم ہینڈز انٹرنیشنل)، بریگیڈیئر (ر) محمد نواز، محمد شاداب رضا نقشبندی، (سربراہ سنی تحریک) علامہ مفتی اسداللہ نوری اشرفی (ناظم اعلی جامعہ غوثیہ رضویہ گلبرگ) پیر شبیر احمد شفیعی نظامی، مظہر محمود بھٹی ایڈووکیٹ (ممبر پنجاب بار کونسل)، علامہ مفتی محمد رمضان سیالوی، (خطیب جامع مسجد داتا دربار لاہور) صاحبزادہ پیر محمد بن محسن یوسفی، صاحبزادہ پیر طاہر نذیر نقشبندی (آستانہ عالیہ روح بلند)، صاحبزادہ مفتی حسن علی قادری (امیر جماعت اہل سنت پاکستان ضلع قصور)، پیر سید محمد عثمان شاہ نوری گیلانی (آستانہ عالیہ چک سادہ شریف۔ گجرات)، پیر سید محمد واجد علی شاہ گیلانی(آستانہ عالیہ کوٹلی میانی شریف)، علامہ قاری محمد افضل باجوہ (امیر تحریک فدایان ختم نبوت)، علامہ مولانا قاضی عبدالغفار قادری، مولانا محمد کامران رضا قادری (آرگنائزر جماعت اہل سنت پاکستان ضلع ننکانہ)، علامہ طاہر رضا قادری (صوبائی صدر، پاکستان سنی تحریک وسطی پنجاب)، پیر نصیر احمد اشرفی (آستانہ عالیہ اشرفیہ شاہدرہ)، علامہ پروفیسر حافظ محمد عطا الرحمن رضوی، صاحبزادہ پیر محمد فاروق احمد ربانی ہمدمی (آستانہ عالیہ ہمدم۔ چھانگا مانگا)، صاحبزادہ محمد فاروق قادری (جامعہ اسلامیہ لاہور)، پیر محمد شہوار حسین عثمانی
تحفظ ناموس رسالت محاذ کے قائدین میں علامہ مولانا محمد علی نقشبندی (جنرل سیکرٹری تحفظ ناموس رسالت محاذ)، علامہ پیر محمد اصغر نورانی، علامہ پیر ذوالفقار مصطفی ہاشمی قادری، صاحبزادہ پیر محمد حفیظ اظہر، صاحبزادہ پیر بشیر احمد یوسفی، علامہ پیر محمد اعظم علی نعیمی، صاحبزادہ مفتی محمد طاہر شہزاد سیالوی، صاحبزادہ پیر معاذالمصطفی القادری (چیف آرگنائزر جماعت اہل سنت پاکستان صوبہ پنجاب)، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد احسان الحق صدیقی، مولانا قاری مختار احمد سیالوی، علامہ مولانا عمران الحسن فاروقی، علامہ مولانا محمد نعیم جاوید نوری، علامہ مفتی محمد انوار طارق، سردار محمد طاہر ڈوگر، مولانا پیر محمد ارشد نعیمی، علامہ پروفیسر ممتاز احمد ربانی (ناظم اعلی جماعت اہل سنت پاکستان لاہور ڈویزن)، علامہ مفتی قیصر شہزاد نعیمی، علامہ مفتی محمد عمران حنفی، علامہ مفتی مسعود الرحمن، علامہ صاحبزادہ محمد عبداللہ ثاقب قادری و دیگر شامل تھے
جب کہ دیگر علماء و مشائخ میں علامہ محمد رمضان شاد، علامہ مفتی محمد طارق سراجوی، علامہ مولانا ثناء اللہ سیالوی، علامہ مفتی عارف ستار القادری، علامہ مفتی محمد کاشف جمیل قادری، مولانا قاری ریاض احمد ہزاروی، مولانا محمد اسلم حیات سلطانی، مولانا رب نواز حقانی، مولانا عبداللطیف سیالوی، علامہ مفتی محمد سلیم نقشبندی، مولانا حافظ محمد یونس قادری، مولانا پیر محمد نصراللہ قادری، صاحبزادہ عبدالمصطفی چشتی سیالوی، مولانا غلام فرید فریدی، مولانا محمد اشرف علی سعیدی، مولانا اطیب شاکر، مولانا ساجد گولڑوی، مفتی صداقت اعوان، مولانا محمد اشرف اعوان، مولانا غلام محی الدین، مولانا نعیم اختر، مولانا فضل کریم چشتی، مولانا گلزار احمد کمال، مولانا زیشان شاہ، مولانا حافظ محمد عبدالقادر، علامہ ڈاکٹر مفتی عمران انور نظامی، صاحبزادہ پیر جنید علوی، مولانا حافظ محمد عثمان، محمد احمد قادری، مولانا عرفان صدیقی، مولانا افتخار احمد چشتی و دیگر شامل تھے۔
جاری کنندہ:
میڈیا سیل
تحفظ ناموس رسالت محاذ
29/04/2026
اسلام علیکم۔۔لاہور اولیاء کرام کی سرزمین ہے۔۔ملک بھر کی خانقاہوں میں سے پہلی باقاعدہ عظیم الشان کانفرنس معرکہ حق۔بنیان المرصوص سے پہلے ہمارے پیرومرشد کی خانقاہ شریف میں کروائی گئی تھی ۔
اور نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کی کال دی گئی تھی ۔۔۔ اللہ کریم نے خزانہ غیب سے مدد فرمائی تھی۔۔۔۔۔اور اللہ کے ولیوں کے فیضان سے اللہ پاک نے عالمی دنیا میں کامیابی عطا فرمائی تھی۔۔۔
کل ان شاء اللہ تحفظ ناموس رسالت محاذ کے زیر اہتمام الحمراء ہال میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہو گی۔۔اہل محبت سے شرکت کی اپیل ہے۔