12/07/2025
گاٶں کوٹلی راٸے ابوبکر یونین کونسل نمبر 25 تحصیل قصور کا تقریباً 6ہزار ووٹ بنک رکھنے والا وہ بد قسمت گاٶں ہے جس کے بسنے والے بے شمار افراد شعبہ ہاٸے زندگی کے تمام اداروں میں بہت بلند اور اعلٰی عہدوں پر ملک و قوم کی خدمت کے فراٸض سر انجام دے رہے ہیں لیکن (چراغ تلے اندھیرا) یہ بدقسمت گاٶں خود عرصہ دراز سے بنیادی سہولیات سے محروم دیکھاٸی دیتا ہے( اس گاٶں کی چاروں اطراف کے روڈ کھنڈرات بنے ہوٸے ہیں،گیس پاٸپ لاٸن ہمارے دروازے سے گزر رہی ہے لیکن ہم محروم ہیں،نکاسی آب کا کوٸی پراپر نظام موجود نہیں ہے،سولنگ،نالیاں بد سے بدتر حالت میں دیکھاٸی دیتی ہیں پارکوں میں پراپر مالی نا ہونے کی وجہ سے ویران ہو چکی ہیں،یونین کونسل کی بلڈنگ ایسے ہے جیسے کسی غریب کی جھونپڑی ہو،پینے کا صاف پانی بھی پراپر میسر نہیں،اس طرح صفاٸی کی بات کی جاٸے تو جگہ جگہ روڑیوں کے ڈھیر لگے ہوٸے ہیں،جگہ جگہ گندے پانی کے تالاب بنے ہوٸے ہیں جن سے مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں)۔۔ چھ ہزار ووٹ بنک ہونے کے باوجود سیاستدان اس گاٶں کو گھاس ڈالنے کو تیار نہیں ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ذاتی مفادات کی بھاگ دوڑ میں گاٶں کے فلاحی اور اجتماٸی کاموں کو نظر انداز کر چکے ہیں ہم نے گاٶں کے مفادات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔۔۔۔ہم سب کو متحد و متفق ہوکر گاٶں کے مفادات کے لیے نکلنا ہوگا اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی وگرنہ ہماری حالت ایسے ہی رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔میں حلقے کے ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان سے یہی گزارش کرتا ہوں کہ ہمارے حال پہ رحم کریں ہمارے گاٶں کو ماڈل ویلج کا درجہ دیا جاٸے اور گاٶں کی محرومیوں کو دور کیا جاٸے
10/02/2025
گندی پلیٹ …!
"گندی پلیٹ" کا مفہوم جتنا سادہ لگتا ہے،
حقیقت میں اتنا ہی گہرا ہے۔ یہ ان معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد چیزوں، مقامات، بلکہ انسانوں تک کو بیکار یا غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔
کھانے کی پلیٹ جب تک بھری ہوتی ہے،
عزت پاتی ہے، نظریں اس پر جمی رہتی ہیں،
اس کے گرد بیٹھنے والوں میں دلچسپی اور رغبت پائی جاتی ہے۔
مگر جونہی وہ خالی ہوتی ہے،
اسے "گندی" قرار دے دیا جاتا ہے، حالانکہ ابھی
کچھ دیر پہلے وہی پلیٹ نعمتوں سے بھری ہوئی تھی، وہی پلیٹ جس پر ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے تھے، وہی پلیٹ جس پر کھانے کے آداب اور شکر گزاری کے الفاظ ادا کیے جاتے تھے۔
مگر جیسے ہی اس میں کچھ نہیں بچتا،
وہی پلیٹ فضول ہو جاتی ہے، اسے حقارت سے
دیکھا جاتا ہے اور جلد از جلد اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ مثال صرف برتنوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی رویے بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ دنیا میں اکثر لوگ اسی فلسفے پر زندگی گزارتے ہیں۔
عام طور پر جب تک
کوئی شخص فائدہ مند ہو، جب تک اس سے
مفاد جڑا ہو، وہ عزت و احترام کے قابل ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ کمزور، بے بس یا غیر ضروری محسوس ہونے لگے، اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اس کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، اور وہ "گندی پلیٹ" کی طرح بے توقیر کر دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ ہمارے سماج میں قدم قدم پر نظر آتا ہے۔
والدین اپنی جوانی میں بچوں کے لیے سب کچھ قربان کرتے ہیں، مگر بڑھاپے میں بعض اوقات وہی بچے انہیں بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
ملازمین جب تک کام کے قابل ہوں، تب تک اداروں کے لیے اثاثہ ہوتے ہیں، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی مہارت اور تجربہ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دوستیاں اور تعلقات
بھی زیادہ تر اسی اصول پر قائم رہتے ہیں۔
جب تک ایک دوسرے سے کچھ حاصل ہو رہا ہو،
تب تک رفاقت برقرار رہتی ہے، مگر جیسے ہی کوئی مفاد ختم ہوتا ہے، رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
یہ مثال دراصل ہمیں حقیقت کا آئینہ دکھاتی ہے۔
یہ سکھاتی ہے کہ چیزوں اور انسانوں کی قدر صرف ان کے استعمال تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
ہمیں سیکھنا ہوگا کہ کوئی شئے، فرد، رشتہ جو کبھی ہمارے لیے اہم تھا، اسے وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ فراموش نہ کریں۔
جو پلیٹ ہمیں پیٹ بھرنے کے قابل بناتی ہے، وہ صرف خالی ہونے کی وجہ سے گندی نہیں ہو جاتی۔ بالکل اسی طرح وہ لوگ جو کبھی ہمارے لیے باعثِ رحمت رہے، وہ مشکل وقت میں نظر انداز کیے جانے کے مستحق نہیں ہوتے۔
آخری بات یہ ہے کہ نہ کسی کو
گندی پلیٹ سمجھیں، نہ خود کو ایسا بننے دیں…!
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے