Jadu Ka Tor
jadu ka tor
17/09/2021
Maa Ki Azmath Samjha Ne Ke Liye Yeh khaaq Banaya Gaya Hai 😭
Aye Allaah Azzawajal Hamari Walida Ko Darazi E Umar Bil Khair Ataa Farma Ameen
15/04/2021
ایک عورت کے وجہ سے 4مرد جہنم میں جائیں گے ۔
(1)باپ
(2)بھائی
(3) شوہر
(4) بڑابیٹھا
کیونکہ مرد حضرات تو سب کچھ کرتے ہیں مثلا
انکے پاس عورتوں کے بنسبت زیادہ علم
ہوتا ہے۔کیونکہ وہ خود اچھے کام کرتے
تھے مگر عورتوں کو نہیں بتاتے تھے۔
اسلیۓ اس عورت سمیت 5بندھے جہنم میں
گھسیٹ کر لاۓ جائں گے۔
استغفراللہ
اللہ پاک ہم سب کو قبر ،حشراور جہنم کی برے
عذاب سے بچاۓ اور خاتمہ ایمان پر کرے آمین
10/11/2020
اے میرے اللہ
30/09/2020
السلام علیکم
رسول خدا ( مُحَمَّد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ) نے فرمایا!
کہ تباہ کر دینے والی چیز شرک ہے اس سے بچو اور جادو کرنے کرانے سے بھی ۔💜
04/09/2020
🖍️📙♧☆ـ﷽ـ☆♧📙🖍️
•••((( شـــرعـــی پـــردہ )))•••
قرآن وحدیث کی رو سے مسلمان خواتین کے لیے شرعی پر دے کا اہتمام کرنا ایسے ہی لازمی ہے، جیسے کہ نماز، روزہ، زکوٰة اور حج جیسے یہ عبادات فرض عین ہیں، ایسے ہی شرعی پردہ بھی فرض عین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ایک مقام پر پردے کے حکم کو شریعت کے دوسرے احکامات پر مقدم ذکر فرمایا ہے۔
چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّةِ الْأُولَی وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِیْنَ الزَّکَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہ﴾․(احزاب:33)
ترجمہ:” اے مومن عورتو! تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیا کراور الله تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہنا مانو۔“ ( سورہٴ احزاب، آیت:33)
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں خواتین کے لیے گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کو واجب قرار دیا گیا ہے مگر مواقع ضرورت اس سے مستثنیٰ ہیں۔ (معارف القرآن)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِنَّ﴾․(سورہٴ احزاب، آیت:59)
”اے نبی! آپ اپنی بیویوں سے او راپنی صاحب زادیوں سے اورمسلمان عورتوں سے فرما دیجیے ( کہ جب مجبوری کی بنا پر گھروں سے باہر جانا پڑے) تو اپنے چہروں کے اوپر ( بھی) چادروں کا حصہ لٹکایا کریں۔“
جلباب ک اصل مقصد اس زمانی میں بورقعہ ہے
اور سورہٴ احزاب ہی میں تیسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَاب﴾․
ترجمہ:”اور جب تم ان سے (امہات المؤمنین سے) کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر ( کھڑے ہو کر وہاں) سے مانگا کرو۔“ (سورہٴ احزاب)
یعنی بلا ضرورت تو پردے کے پاس جانا اور بات کرنا بھی نہیں چاہیے، لیکن بہ ضرورت کلام کرنے میں مضائقہ نہیں مگر ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہیے۔ (بیان القرآن)
نگاہ پست رکھنے کا حکم
ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ ، وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْْرِ أُوْلِیْ الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَاء وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِن زِیْنَتِہِنَّ وَتُوبُوا إِلَی اللَّہِ جَمِیْعاً أَیُّہَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون﴾․(سورة النور:31-30)
”اے نبی! آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں( یعنی جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا جائز نہیں، اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کافی نفسہ دیکھنا جائز ہے، مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت کی نگاہ سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ( یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں، جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہیں) یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے، بے شک الله کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مسلمان خواتین سے کہہ دیجیے کہ ( وہ بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کریں ( یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں جس میں زنا اور س**ق سب داخل ہیں)۔“ (بیان القرآن)
عورت کو گھروں سے باہر نکلنے کا حق نہیں
جناب نبی صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ” عورتوں کو اپنے گھر سے باہر نکلنے کا حق نہیں، مگر اس وقت ( جب کہ وہ کسی ضرورت شدیدہ پیش آنے کی وجہ سے نکلنے پر) مجبور ہو جائیں۔“ (طبرانی)
عورت چھپانے کی چیز ہے
قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: المرأة عورة، اذا خرجت استشرفھا الشیطان․ (رواہ الترمذی، مشکوٰة باب النظر الی المخطوبة) جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ” عورت چھپانے کی چیز ہے ( یعنی عورت کے لیے پردہ کے ذریعے خود کو چھپانا ضروری ہے) کیوں کہ وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاک جھانک کرتا ہے۔“ (ترمذی، ص:140)
بدباطن لوگ جو گلی کوچوں میں بیٹھ کر عورتوں کو جھانکتے رہتے ہیں، یہ سب شیطان کے کارندے ہیں۔ شیطان کے ورغلانے سے یہ عورتوں کی تاک جھانک میں لگے رہتے ہیں، اس لیے عورتوں کی چاہیے کہ بلا ضرورت شدیدہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
ایک غیرت مند خاتون کا واقعہ
حضرت قیس بن شماس رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ : ” ام خلاد نامی ایک صحابیہ عورت اپنے بیٹے کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے دربار نبوی صلی الله علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں۔ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے ہوئی تھیں۔ اس حالت کو دیکھ کر ایک صحابی رضی الله عنہ نے کہا اپنے ( شہید ) بیٹے کی حالتمعلوم کرنے آئی ہو اور چہرے پرنقاب؟ ( مطلب یہ تھا کہ پریشانی کے عالم میں بھی پردے کا اس اقدر اہتمام!) ام خلاد رضی الله عنہا نے جواب دیا کہ جی ہاں ! بیٹے کی شہادت کی مصیبت میں مبتلا ہو گئی ہوں، لیکن اس کی وجہ سے شرم وحیا کو چھوڑ کر ( دینی) معصیت زدہ نہیں بنوں گی اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے بیٹے کے بارے میں خوش خبری سنائی کہ تمہارے بیٹے کو دواجر ملیں گے۔ وجہ پوچھنے پر ارشاد فرمایا، اس لیے کہ ان کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے ۔ ( ابوداؤد، کتاب الجہاد
اس طرح پردہ و حجاب عورت کو صرف تقدس ہی نہیں تحفظ بھی عطا فرماتے ہیں۔ حجاب غلیظ نگاہوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ قلعہ
اسلام کے نام پر بننے والے ملک
میں ایک قرآنی حکم رائج کرنے کی مخالفت کرنے والوں پر
کھل کر لعنت بھیجتا ہوں
((((آگے شیر کرنے میں مدد کریں))))
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000