23/04/2026
السلام علیکم!
۔
# # # **قرآن کی روشنی اور تجوید کا سفر**
ایک چھوٹے سے گاؤں میں **احمد** نامی ایک دس سال کا لڑکا رہتا تھا۔ احمد بہت ذہین تھا، سکول میں اچھے نمبر لاتا تھا، لیکن جب بات قرآن مجید کی آتی تو وہ شرماتا۔ وہ صرف کچھ سورتیں رٹا لگا کر پڑھ لیتا، لیکن تلفظ غلط ہوتا۔ "اَلْحَمْدُ" کو "الہمد" پڑھتا، "رَّحْمٰن" کو "رحمان" کہتا، اور نون ساکنہ کے قواعد تو اسے بالکل بھی نہیں آتے تھے۔
ایک دن مسجد میں جمعہ کا خطبہ ہو رہا تھا۔ امام صاحب نے فرمایا:
"اے مسلمانو! قرآن مجید اللہ کا کلام ہے۔ اسے صحیح تجوید کے ساتھ پڑھو، کیونکہ ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اگر تم غلط پڑھو گے تو معنی بدل سکتے ہیں۔"
احمد کے دل میں ایک آگ سی جل اٹھی۔ وہ گھر آیا اور اپنی ماں سے بولا:
"امی! مجھے قرآن صحیح پڑھنا ہے۔ تجوید کا کورس کرنا ہے۔"
ماں نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، الہدیٰ قرآن اکیڈمی میں آن لائن کورس چل رہا ہے۔ کل ہی شروع کر دیتے ہیں۔"
اگلے دن احمد کی پہلی کلاس شروع ہوئی۔ استاد قاری صاحب نے سب سے پہلے **نورانی قاعدہ** کھولا۔ احمد نے حروف تہجی سیکھے، ان کے **مخارج** (ادا ہونے کی جگہیں) سیکھیں۔ "ع" حرف گلے سے، "ق" زبان کے پیچھے سے، "ر" زبان کے اوپر سے۔ وہ حیران تھا کہ حروف بھی اتنی جگہوں سے نکلتے ہیں!
پھر **مرحلہ دوم** آیا۔ **نون ساکنہ** اور **تنوین** کے قواعد۔ استاد نے بتایا:
"اگر نون ساکن کے بعد 'ب' ہو تو **اقلاب** کرو، 'ی ر م ل و ن' حروف پر **ادغام**، باقی پر **اخفاء**۔"
احمد روزانہ مشق کرتا۔ کبھی ریکارڈنگ کر کے سنتا، کبھی آئینے کے سامنے منہ دیکھ کر حروف ادا کرتا۔ ابتدائی دنوں میں بہت غلطیاں ہوتیں۔ "اخفاء" کرتے ہوئے ناک سے آواز نکل جاتی، "قلقلہ" میں "ق" کو بغیر ہلائے پڑھتا۔ لیکن استاد کی نرمی اور حوصلہ افزائی سے وہ آگے بڑھتا گیا۔
ایک رات احمد نے خواب دیکھا۔ وہ جنت میں کھڑا ہے۔ ایک خوبصورت باغ میں فرشتے اسے کہہ رہے ہیں:
"احمد! تم نے قرآن تجوید کے ساتھ پڑھا، اس لیے تمہارے ہر حرف کی دس دس نیکیاں یہاں جمع ہوئیں۔ دیکھو، یہ تمہاری روشنی ہے!"
احمد جاگا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے مزید محنت کی۔ **میم ساکنہ**، **مدود** (لمبائی)، **لام الجلالہ** (اللہ کا لام موٹا یا پتلا)، **راء** کا موٹا پتلا ہونا — سب کچھ سیکھ لیا۔
تین ماہ بعد جب وہ **سورۃ الفاتحہ** اور پارہ عمّ تجوید کے ساتھ پڑھ کر سناتا تو پورا گھر سن کر حیران رہ جاتا۔ اس کی آواز میں ایک خاص sweetness اور وضاحت آ گئی تھی۔ لوگ کہتے: "احمد اب قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو دل کو سکون ملتا ہے۔"
ایک دن احمد نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی قاعدہ پڑھانا شروع کر دیا۔ وہ کہتا:
"بھائی! تجوید سیکھ لو، یہ صرف پڑھنا نہیں، اللہ سے بات کرنا ہے۔"
**الہدیٰ قرآن اکیڈمی** کے اس کورس نے احمد کی زندگی بدل دی۔ وہ اب نہ صرف خود قرآن صحیح پڑھتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی سکھاتا ہے۔
**سبق:**
قرآن کی تعلیم اور تجوید کا کورس کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ جو شخص بھی اسے سیکھتا ہے، اس کے دل میں نور آتا ہے، زبان پاکیزہ ہوتی ہے اور آخرت میں بڑا درجہ ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
---