بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی
نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سی
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے
کوئی بھی رت ہو اسکی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی
نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی
نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے
نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔
نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو
نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو
کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخن
کبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بن
سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی
وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی
سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی
میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی
میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے
کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے
شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہے
نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں
میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں
وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوں
نہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی
جب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی
سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا
وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی
اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
انتخاب
وسیم اردو والا
Wasim Urdu Wala
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wasim Urdu Wala, Tutor/Teacher, Saddar, Lahore.
اردو زبان کی کہانیاں، افسانے، حکایات، اسلامی واقعات، اقوالِ زریں، نعتیں، لطائف، مختصر شاعری، غزلیں، اُردو گرائمر اور زندگی کے دیگر موضوعات پر مشتمل انتہائی دلچسپ آڈیو & ویڈیوز - بالکل درست تلفظ میں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
جون ایلیاء 📖
زندگی میں بس ایک ہی بار وہ نایاب شخص ملتا ہے، جو تمہارے الفاظ ترتیب آنے سے پہلے ہی کہہ دیتا ہے "رہنے دو میں سمجھ گیا ہوں تم کیا کہنا چاہتے ہو"۔
زندگی میں بس ایک ہی بار وہ منفرد ہستی سامنے اتی ہے جو تمہاری لغزش پر کہتی ہے, "معذرت کی کوئی ضرورت نہیں میں جانتا ہوں کہ کیا ہوا ہے"۔
زندگی میں بس ایک ہی بار وہ انسان ملتا ہے جو تمہیں تم سے بھی زیادہ جانتا ہے
بس یہی نصیحت ہے:-
اگر کبھی ایسا شخص مل جائے تو اسے کبھی ہاتھ سے جانے نہ دینا کیونکہ ایسے شخص زندگی میں دوبارہ نہیں ملا کرتے اور ہمیشہ پچھتاوے آپ کا مقدر بن جاتے ہیں۔
وسیم اردو والا
باد صبا خموش ہو گلزار چپ رہیں
وہ بات کر رہا ہے خبردار چپ رہیں
تصویر سے لڑیں دم دیدار چپ رہیں
بے وقت گفتگو کریں بے کار چپ رہیں
وہ خوش کلام نظم سی سرگوشیاں کرے
اس وقت جھومتے در و دیوار چپ رہیں
تجھ خوبرو پہ مرنے کا حق پہلے میرا ہے
شہزادی کہہ بھی دے ترے سالار چپ رہیں
کم گو تھا میں سو مجھ پہ دلیلوں سے بین کر
میں چاہتا تھا میرے عزادار چپ رہیں
میرے تمام دوست مرے حق میں ٹھیک ہیں
ایک آدھ مجھ کو رد کریں دوچار چپ رہیں
یاں بحث چونکہ عشق کے بارے میں جاری ہے
سو معذرت کے ساتھ سمجھدار چپ رہیں
انتخاب
وسیم اردو والا
روضہ رسولﷺپر ایک عرب دیہاتی حاضر ہوکر رب سے کچھ یوں دعا کرتاھے،
اس کے مانگنے کا انداز دیکھیئے،
الفاظ پر غورکیجیئے!
یقین جانیئے رب سے مانگنے کا بھی ایک خاص فن، انداز اور ڈھنگ ھوتا ھے جو کہ اس گاؤں کے رہنے والے عربی سے سیکھنا چاہیئے.
اے اللّٰہ!
یہ آپ کے حبیب ہیں،
میں آپ کا غلام ھوں اور شیطان آپ کا دشمن ھے۔ خدایا اگر تو مجھے بخش دے گا تو تیرا حبیب خوش ھوگا،
تیرا بندہ کامیاب ھوگا اور تیرا دشمن غمگین ھوگا... مولا اگر تو نے میری بخشش نہیں کی تو تیرا حبیب غمگین ھوگا، تیرا غلام ناکام ھوگا اور تیرا دشمن خوش ھوگا... الہی! تیری شان اس سے بڑی ھے کہ تو اپنے حبیب کو غمگین کردے، اپنے بندے کو ناکام اور اپنے دشمن کو خوش کردے... میرے پروردگار، ہم عرب ہیں ہمارے یہاں جب کوئی سردار فوت ھو جائے تو اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ھے. یہ تو تمام جہانوں کے سردار محمد الرسول اللّٰہ ﷺ کی قبر مبارک ھے، پس یہاں مجھ غلام کو جھنم کی آگ سے آزاد فرما دے۔ آمین۔
میں نے یہ دعا سُنی تو دنگ رہ گیا.
پھر ان سے بات کی. میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی عمر پوچھی تو معلوم ھوا ک وہ ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ھوا تھا.میں نے ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں؟
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو. میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔
ہنستے ھوئے کہنے لگے بس کی بات ھے.میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا.
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللّٰہ کے بغیر نہ ڈالنا چاھے پانی کا قطرہ ھو یا چنے کا دانہ...میں خاموش سا ھوگیا۔ پھرکہنے لگے اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہرچیز میں ایک حکمت ھے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللّٰہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللّٰہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ھے-
ہمیشہ بسم اللّٰہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رھو اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑو گے- انشاء اللّٰہ
میری آنکھیں تر ھو چکی تھیں
خیر دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے: کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ، میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا
کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رھے ھو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاھے کتنی ہی بھوک لگی ھو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو.
میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟
لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ھو گیا اور ساتھ ہی اللّٰہ بھی راضی ھوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا- یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللّٰہ روح کی غذا ھے- اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ھو؟
میں شرمندگی میں ڈوبا ھوا بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر جانے کی اجازت لے کر تیزی سے جانے کے لئے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم اور ہماری اولادیں کتنی محروم ہیں۔ تبھی تو ہمارا معاشرہ ہر برائی میں ڈوبا ھوا ھے. اللّٰہ پاک ہمیں دل و جان سے شاکر بنائے اور دین کا صحیح علم اور اچھی سمجھ عطا فرمائے آمین ثمہ آمین
منقول
تین سہیلیاں سیر کرتی کرتی پرستان پہنچ گئیں۔
ویاں کا جادو اور طلسمات دیکھ کر دنیا میں واپس نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔
پرستان کے داروغہ نے ان سے کہا کہ یہاں سکون سے رہنے کی ایک ہی شرط ہے کہ کسی مینڈک کے اوپر پاؤں نہ رکھ دینا۔۔۔
سہیلیوں نے بات مان لی لیکن پتہ چلا کہ یہاں تو بےتحاشا مینڈک جگہ جگہ پھدکتے پھر رہے ہیں
پہلی سہیلی کا پاؤں مینڈک پر پڑا، اور اگلے ہی لمحے داروغہ نمودار ہوگیا
اس کے ساتھ انتہائی بدصورت شخص تھا جس کا نکاح سہیلی کے ساتھ پڑھا دیا گیا
اگلی صبح دوسری سہیلی کا پاؤں بھی مینڈک پر آگیا
داروغہ نمودار ہوا اور پہلے سے بھی ذیادہ بدصورت شخص کے ساتھ دوسری سہیلی کا نکاح پڑھا دیا
تیسری سہیلی نے دن رات بچ بچا کر گزارے
ایک دن داروغہ اس کے پاس آیا اور ساتھ ایک انتہائی حسین و جمیل شخص کو لایا اور پھر
تیسری سہیلی کا نکاح اس کے ساتھ پڑھادیا گیا
تیسری سہیلی بڑی خوش ہوئی کہنے لگی پتہ نہیں میں نے ایسا کون سا کام کیا تھا جو آپ مجھے ملے
حیسن و جمیل شخص نے کہا
تمہارا پتہ نہیں، لیکن میں نے مینڈک پر پاؤں رکھ دیا تھا ۔۔۔۔۔ **** 😬
موتیے سے زلف، عنبر سے مہکتی چوڑیاں
یاد آئیں لمس سے اس کے دہکتی چوڑیاں
دیکھ کر سونی کلائی یاد آئے تیری بات
"جان لیں میری،تری ہر دم کھنکتی چوڑیاں"
چھین لیں جاگیرِ دل حسیں ہتھیار یہ
کر دیں گھائل پایلیں، جھومر، کھنکتی چوڑیاں
حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں
جانتا ہے وہ ادا مجھ کو منانے کی جیا
شعر لے آتا ہے کچھ، کلیاں، چمکتی چوڑیاں
انتخاب
وسیم اردو والا
کائناتی ہتھوڑا، ایٹمی بندھنوں کا ٹکراؤ، انٹروپی کا عروج اور اعمال کا ڈیجیٹل ترازو
سورہ القارعہ کا فزیکل، کاسمولوجیکل اور الہیاتی مطالعہ
بلال شوکت آزاد
انسانی شعور کی تاریخ میں اور جدید سائنس کے ایوانوں میں جب ہم ”اختتامِ کائنات“ (End of the Universe) اور زندگی کے حتمی انجام کا تصور کرتے ہیں، تو جدید ایسٹرو فزکس ہمیں ”بگ کرنچ“ (Big Crunch)، ”ہیٹ ڈیتھ“ (Heat Death) یا ”تھرمل ایکویلیبریم“ (Thermal Equilibrium) کے خشک اور بے جان نظریات سناتی ہے، لیکن قرآن مجید کا اندازِ بیان کسی لیبارٹری کی رپورٹ یا کسی یونیورسٹی کے مقالے جیسا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے ”کائناتی انتباہ“ (Cosmic Warning) اور ”صوتی دھماکے“ (Sonic Boom) جیسا ہے جو انسان کے دل کی دھڑکنیں روک دیتا ہے اور اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
قرآن کے تیسویں پارے کی یہ عظیم الشان اور ہیبت ناک سورت، ”سورہ القارعہ“، محض قیامت کا کوئی روایتی نقشہ نہیں کھینچتی، بلکہ یہ ”آواز“ (Sound)، ”دھمکی“ (Shock) اور ”فیصلے“ (Verdict) کا وہ خوفناک امتزاج ہے جو انسان کے مردہ ضمیر پر ایک ہتھوڑے کی طرح برسایا گیا ہے۔
یہ سورت ”الہیاتی صوتیات“ (Divine Acoustics) اور ”کوانٹم کیوس“ (Quantum Chaos) کا وہ شاہکار ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ جس دن یہ کائنات اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی، تو وہ کوئی خاموش موت نہیں ہوگی، بلکہ وہ ایک ”کھڑکھڑانے والی“ اور ”دہلا دینے والی“ آواز کے ساتھ ہوگی جو ایٹم کے دل کو بھی پھاڑ دے گی۔
اس سورت کا نام ہی اپنے اندر ایک طوفان چھپائے ہوئے ہے۔
عربی لغت میں لفظ ”الْقَارِعَةُ“ کا مادہ ”قرع“ ہے، جس کا مطلب ہے کسی چیز کو دوسری چیز پر زور سے مارنا، دو سخت چیزوں کا آپس میں ٹکرانا، یا ایسی آواز جو رات کی تنہائی میں اچانک دروازے پر دستک دے کر گھر والوں کے ہوش و حواس چھین لے۔
عرب لوگ ”قارعہ“ اس مصیبت کو کہتے تھے جو اچانک نازل ہو اور انسان کو سنبھلنے کا موقع نہ دے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا آغاز کسی تمہید، کسی تعارف یا کسی نرم لہجے کے بغیر، ایک زوردار دھماکے اور ایک ایسے سوال سے کیا جو انسانی عقل کو چیلنج کرتا ہے:
”الْقَارِعَةُ مَا الْقَارِعَةُ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ “
(ترجمہ: وہ کھڑکھڑانے والی (آفت)! کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی؟ اور تمہیں کس چیز نے بتایا / کیا خبر کہ کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی؟ [القارعہ: 1-3])
یہ تین آیات دراصل ”شاک تھراپی“ (Shock Therapy) ہیں۔ اللہ نے پہلے ایک لفظ ”القارعہ“ پھینکا، پھر خاموشی چھا گئی، پھر پوچھا ”یہ کیا ہے؟“، اور پھر خود ہی جواب دیا کہ ”اے انسان! تیری اوقات ہی نہیں کہ تو اسے سمجھ سکے۔“
یہاں ”وَمَا أَدْرَاكَ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قرآن میں وہاں آتا ہے جہاں عقلِ انسانی کی حد ختم ہو جائے، جہاں سائنس کے فارمولے فیل ہو جائیں اور جہاں صرف ”وحی“ کی سرحد شروع ہو۔
یہ استفہامیہ انداز (Interrogative Style) دراصل اکیسویں صدی کے انسان کو چیلنج کر رہا ہے کہ اے اپنی ٹیکنالوجی، اپنے سپر کمپیوٹرز اور اپنے ”لارج ہیڈرون کولائیڈر“ (LHC) پر ناز کرنے والے انسان! کیا تیرے پاس کوئی ایسا پیمانہ، کوئی ایسا ”سمولیشن ماڈل“ (Simulation Model) ہے جو اس دن کی ہولناکی اور اس آواز کی شدت (Decibels) کا اندازہ لگا سکے؟
یہ ”سنگولیریٹی“ (Singularity) کا وہ مقام ہے جہاں فزکس کے تمام قوانین، ٹائم اور اسپیس کا تصور ٹوٹ جائے گا۔
یہ وہ گھڑی ہے جب کائنات کا آپریٹنگ سسٹم (OS) کریش کر جائے گا اور ری بوٹ ہونے کے بجائے شٹ ڈاؤن ہو جائے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس دن انسانی نفسیات اور سماجی ڈھانچے کے ٹوٹنے کی ایسی باریک بین اور لرزہ خیز منظر کشی کی ہے جو جدید ”کراؤڈ سائیکالوجی“ (Crowd Psychology) اور ”افراتفری کے نظریے“ (Chaos Theory) کی بہترین اور حتمی تشریح ہے:
”يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ “
(ترجمہ: جس دن لوگ بکھرے ہوئے پروانوں / پتنگوں کی طرح ہو جائیں گے [القارعہ: 4])
یہاں قرآن کے انتخابِ الفاظ پر غور کیجیے!
اللہ نے انسان کو ”پرندوں“، ”ٹڈی دل“ یا ”جانوروں“ سے تشبیہ نہیں دی، بلکہ خاص طور پر ”الْفَرَاشِ“ (پروانوں/موتھس) سے دی ہے۔
اس میں ایک بہت گہرا سائنسی اور نفسیاتی نکتہ پوشیدہ ہے۔ پرندے یا ٹڈیاں جب اڑتی ہیں تو وہ ایک ”منظم غول“ (Formation) میں اڑتی ہیں، ان کا ایک لیڈر ہوتا ہے، ان کی ایک سمت (Direction) ہوتی ہے، وہ ایک ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن ”فراش“ (پروانے یا پتنگے) وہ واحد مخلوق ہیں جن کی کوئی سمت نہیں ہوتی، وہ دیوانہ وار، بے ترتیب (Randomly)، ایک دوسرے سے ٹکراتے ہوئے اور پاگلوں کی طرح اڑتے ہیں۔ جب وہ روشنی یا آگ دیکھتے ہیں تو اپنی جان دینے کے لیے اس پر گرتے ہیں لیکن انہیں بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
یہ آیت قیامت کے دن انسانی معاشرے کی مکمل ”سوشل کولیپس“ (Social Collapse) کو بیان کر رہی ہے۔ آج انسان کے پاس ریاست ہے، فوج ہے، خاندان ہے، لیڈر ہے، تنظیم ہے، لیکن اس دن ہر انسان ایک ”بکھرے ہوئے پروانے“ کی طرح تنہا، حواس باختہ اور بے سمت ہوگا (Brownian Motion)۔
کوئی کسی کا باپ نہیں ہوگا، کوئی کسی کا لیڈر نہیں ہوگا، بس ایک عالمگیر بھگدڑ ہوگی۔ لفظ ”الْمَبْثُوثِ“ کا مطلب ہے جسے بری طرح ہر طرف پھیلا دیا گیا ہو، بکھیر دیا گیا ہو، جیسے راکھ تیز ہوا میں اڑتی ہے۔
یہ انسان کی بے بسی، اس کی ”اجتماعی دانش“ (Collective Wisdom) کے خاتمے اور اس کی ”انفرادیت“ کے عروج کا اعلان ہے۔ انسان اپنی عقل کھو بیٹھے گا اور آگ کی طرف بھاگے گا جیسے پروانہ شمع کی طرف بھاگتا ہے۔
پھر منظر زمین سے اٹھ کر پہاڑوں کی طرف جاتا ہے، اور یہاں ہمیں ”جیولوجی“ (Geology) اور ”ایٹمی فزکس“ (Atomic Physics) کا ایک ایسا حیران کن نظارہ ملتا ہے جو مادے کی حقیقت کھول دیتا ہے:
”وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ “
(ترجمہ: اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے [القارعہ: 5])
ہم پہاڑوں کو مضبوطی، استقامت، وزن اور ”ٹھوس مادے“ (Solid Matter) کی علامت سمجھتے ہیں۔ قرآن خود پہاڑوں کو ”اوتاد“ (میخیں) کہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ گرینائٹ اور سخت چٹانوں سے بنے یہ پہاڑ ”اون“ (Wool) کیسے بن سکتے ہیں؟
جدید سائنس بتاتی ہے کہ مادہ (Matter) دراصل ایٹموں کا مجموعہ ہے جو ایک انتہائی طاقتور قوت ”اسٹرانگ نیوکلیئر فورس“ (Strong Nuclear Force) اور ”کیمیکل بانڈز“ کے ذریعے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور کششِ ثقل (Gravity) نے انہیں زمین سے چپکا رکھا ہے۔ اگر یہ قوت ختم کر دی جائے، اگر ایٹموں کے درمیان فاصلہ بڑھا دیا جائے، تو سخت ترین لوہا یا پتھر بھی بخارات بن کر اڑ سکتا ہے۔
اللہ فرما رہا ہے کہ اس دن میں پہاڑوں کے اندر کی ”کثافت“ (Density)، ”کمیت“ (Mass) اور ”بندھن“ (Bonds) ختم کر دوں گا۔ وہ اپنی شکل و صورت میں تو شاید پہاڑ رہیں گے، لیکن ان کا وزن ختم ہو جائے گا، وہ بادلوں یا دھنکی ہوئی روئی کی طرح فضا میں تیرتے پھریں گے۔ یہاں لفظ ”الْعِهْنِ“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے ”رنگین اون“۔ یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ پہاڑ مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں (سفید، کالے، سرخ)، جب وہ ریزہ ریزہ ہو کر اڑیں گے تو فضا میں رنگین بادلوں کا سماں ہوگا۔ یہ دراصل مادے کی ”ویپورائزیشن“ (Vaporization) اور کششِ ثقل (Gravity) کے خاتمے کا بیان ہے۔ وہ پہاڑ جنہیں آج ہم نیوکلیئر بموں سے بھی نہیں ہلا سکتے، وہ اس ”قارعہ“ کی آواز سے روئی کے گالے بن جائیں گے۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ اس کائنات کی ”ٹھوس حقیقت“ دراصل ایک ”سراب“ (Illusion) ہے جو اللہ کے حکم سے بندھی ہوئی ہے۔
جب کائنات کا سارا طبعی نظام (Physical System) درہم برہم ہو جائے گا، جب فزکس کے قوانین معطل ہو جائیں گے، تو پھر ایک نیا نظام، ایک ”اخلاقی نظام“ (Moral System) قائم ہوگا جو انتہائی نپا تلا، ڈیجیٹل اور درست ہوگا:
”فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ “
(ترجمہ: پھر (اس دن) جس کے پلڑے (نیکیوں سے) بھاری ہوں گے، تو وہ من پسند (راضی کرنے والی) زندگی میں ہوگا [القارعہ: 6-7])
یہاں اللہ نے ”مَوَازِينُ“ (Scales) کا لفظ جمع کے صیغے میں استعمال کیا ہے، جو بتاتا ہے کہ وہاں صرف ایک ترازو نہیں ہوگی بلکہ ہر انسان کے اعمال کو پرکھنے کے لیے ”ملٹی ڈائمنشنل پیمانے“ (Multi-dimensional Metrics) ہوں گے۔
دنیا میں ہم چیزوں کو ”کلو گرام“ یا ”ٹن“ میں تولتے ہیں، لیکن آخرت میں اعمال کا ”وزن“ (Specific Gravity) تولا جائے گا، ان کی ”تعداد“ (Numbers) نہیں۔
یہ ایک بہت بڑا پیراڈائم شفٹ ہے۔ ایک شخص کے پاس پہاڑ جیسی نیکیاں ہو سکتی ہیں، ہزاروں نمازیں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر ان میں ”اخلاص“ (Sincerity) کا وزن نہ ہوا، اگر وہ دکھاوے (ریاکاری) کی ہوئیں، تو وہ روئی کی طرح اڑ جائیں گی اور پلڑا نہیں جھکے گا۔ اور دوسرے کے پاس رائی کے دانے برابر نیکی ہو گی مگر وہ خلوص، دردِ دل اور اللہ کے خوف سے بھاری ہوگی تو پلڑا جھک جائے گا۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں ”کوالٹی“ (Quality) اہم ہے، ”کوانٹٹی“ (Quantity) نہیں۔
جس کا کردار وزنی ہوگا، وہ ”عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ“ میں ہوگا، یعنی ایسی زندگی جو نہ صرف اسے خوش کر دے گی بلکہ وہ زندگی خود اس سے راضی ہوگی (Personification of Life)۔ یہ عیش و آرام کا وہ تصور ہے جو انسانی خواہشات سے بھی آگے کی چیز ہے، جہاں موت، بڑھاپا اور غم کا گزر نہیں ہوگا۔
اس کے برعکس، جس کا انجام برا ہوگا، اس کا ذکر انتہائی خوفناک، طنزیہ اور دل دہلا دینے والے الفاظ میں کیا گیا ہے:
”وَأَمَّا مَن خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ “
(ترجمہ: اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے، تو اس کا ٹھکانہ / اس کی ماں ”ہاویہ“ (گہرا گڑھا) ہوگی [القارعہ: 8-9])
یہاں عربی زبان کا ایک ایسا بلاغت کا شاہکار ہے جو رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ اللہ نے جہنم کے گڑھے کو اس مجرم کی ”اُمّ“ (ماں) کہا ہے۔ ماں وہ ہستی ہوتی ہے جو بچے کو تکلیف میں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اسے سینے سے لگا لیتی ہے، جب بچہ ڈرتا ہے تو ماں کی گود میں چھپتا ہے۔
اللہ فرما رہا ہے کہ آج اس مجرم کو پناہ دینے والی، اسے گلے لگانے والی اور اسے اپنی آغوش میں لینے والی صرف ”جہنم“ ہے۔ یہ ایک انتہائی ”دردناک طنز“ (Tragic Irony) ہے۔ جیسے ماں بچے کو نہیں چھوڑتی، ویسے ہی یہ آگ اسے نہیں چھوڑے گی۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ شخص سر کے بل (یعنی اپنے دماغ کے بل جس پر اسے ناز تھا) اس میں گرایا جائے گا۔ لفظ ”هَاوِيَةٌ“ کا مادہ ”ہوی“ ہے، جس کا مطلب ہے بلندی سے انتہائی گہرائی میں گرنا۔ یہ ایک ایسا گڑھا ہے جس کی کوئی تہہ (Bottom) نہیں ہے۔
جدید کاسمولوجی میں اسے ہم ”بلیک ہول“ (Black Hole) سے تشبیہ دے سکتے ہیں جہاں مادہ گرتا چلا جاتا ہے، جہاں گریویٹی اتنی زیادہ ہے کہ روشنی بھی واپس نہیں آتی، اور وہ ابدی قید خانہ بن جاتا ہے۔
سورت کا اختتام پھر ایک سوال اور ایک دہلا دینے والے جواب پر ہوتا ہے جو اس ”ہاویہ“ کی حقیقت کھولتا ہے:
”وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ نَارٌ حَامِيَةٌ “
(ترجمہ: اور تمہیں کس چیز نے بتایا / تم کیا جانو کہ وہ (ہاویہ) کیا ہے؟ وہ دہکتی ہوئی (انتہائی تیز) آگ ہے [القارعہ: 10-11])
اللہ دوبارہ پوچھ رہا ہے کہ اے انسان! تو اس ”ہاویہ“ کو کوئی معمولی گڑھا یا دنیا کی آگ مت سمجھنا۔ تیری عقل، تیرا سائنس اور تیرا تجربہ اس کی گہرائی اور اس کی حرارت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔
یہ ”نَارٌ حَامِيَةٌ“ ہے، یعنی ایسی آگ جس کا درجہ حرارت اپنی انتہا (Maximum Intensity) پر ہے۔ یہ عام آگ نہیں جو آکسیجن کی محتاج ہو، یہ وہ ”پلازما“ (Plasma) ہے جو ہر چیز کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے۔
سائنس بتاتی ہے کہ جب مادہ انتہا سے زیادہ گرم ہو جائے تو وہ اپنی شکل کھو دیتا ہے، جہنم کی یہ آگ دراصل اللہ کے غضب کا وہ ٹمپریچر ہے جو جسموں کو ہی نہیں بلکہ روحوں تک کو جھلسا دے گا۔ یہ ”تھرمل انرجی“ کی وہ خطرناک ترین شکل ہے جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی (Unless Allah wills)۔
سورہ القارعہ کا یہ مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ سورت محض قیامت کی خبر نہیں، بلکہ یہ انسان کے ”غفلت زدہ شعور“ پر ایک ”الہیاتی دستک“ ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ کائنات، یہ پہاڑ، یہ نظام، یہ عمارتیں اور یہ ٹیکنالوجی سب عارضی ہیں اور ایک ”کھڑکھڑانے والی آواز“ کے منتظر ہیں۔ اصل حقیقت وہ ”ترازو“ ہے جو ہمارے اعمال کا وزن کر رہی ہے۔
انسان کی حیثیت اس کائنات میں ایک ”بے سمت پروانے“ سے زیادہ نہیں اگر اس کا رابطہ اپنے رب سے نہ ہو۔
آج ہم ایٹمی دھماکوں اور عالمی جنگوں سے ڈرتے ہیں، لیکن اصل دھماکہ (القارعہ) ابھی باقی ہے جو ایٹموں کو بھی بکھیر دے گا۔
یہ سورت دعوت دیتی ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے اپنے کردار، اپنے اخلاص اور اپنے اعمال میں ”وزن“ (Gravitas) پیدا کرو، ورنہ ہلکے اعمال والوں کا انجام اس ”ہاویہ“ کی گود میں ہوگا جو ماں کی طرح چمٹ جائے گی مگر سکون نہیں جلن دے گی۔
یہ فزکس اور میٹافزکس کا وہ سنگم ہے جہاں آ کر انسان کو اپنی اوقات اور اپنے رب کی قدرت کا یقین آ جاتا ہے۔
انتخاب
وسیم اردو والا
سوال تھا کہ جنت میں کس مذہب کے لوگ داخل کیے جائیں گے؟ یہودی، عیسائی یا پھر مسلمان؟
اس سوال کے جواب کے لیے تینوں مذاہب کے علما کو مدعو کیا مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام محمد
عیسائیوں کی طرف سے ایک بڑے پادری
اور یہودیوں کی طرف سے ایک بڑے ربی کو بلا کر ان کے سامنے یہی سوال رکھا گیا
جنت میں کون جائے گا؟
یہودی، عیسائی یا پھر مسلمان؟
مسلمانوں کی طرف سے امام محمد عبده نے کھڑے ہو کر ایسا مدلل جواب دیا کہ محفل میں بیٹھے تمام ناقدین کے ساتھ عیسائی پادری اور یہودی ربی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔
آپ کا جواب مختصر، جامع، معقولیت سے بھرپور، ادب و احترام کے ساتھ رواداری کی عمدہ مثال اور حکمت و دانائی کا مرقع تھا۔ ان کے جواب نے سارے مسلمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی اور یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
آپ نے فرمایا۔
اگر یہودی جنت میں جاتے ہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم ان کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں، اور انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔
اگر عیسائی جنت میں گئے تو ہم بھی ان کے ساتھ ہی جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنی مخلوق کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔
لیکن اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم صرف اللہ کی رحمت کے ساتھ اکیلے ہی جنت میں جائیں گے۔
ہمارے ساتھ کوئی یہودی اور عیسائی نہیں جائے گا، کیونکہ انہوں نے ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں مانا اور نہ ہی ان پر ایمان لائے ہیں۔
انتخاب
وسیم اردو والا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54000