Wasim Urdu Wala

Wasim Urdu Wala Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wasim Urdu Wala, Tutor/Teacher, Saddar, Lahore.

اردو زبان کی کہانیاں، افسانے، حکایات، اسلامی واقعات، اقوالِ زریں، نعتیں، لطائف، مختصر شاعری، غزلیں، اُردو گرائمر اور زندگی کے دیگر موضوعات پر مشتمل انتہائی دلچسپ آڈیو & ویڈیوز - بالکل درست تلفظ میں

29/09/2026

کافر وہ زلف پُر شِکن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف
پھر اس پہ چشمِ سحر فن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

ہنگامِ رحلت دیکھیے ، دل کس طرف اپنا جُھکے
بیٹھے ہیں شیخ و برہمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

ہیں آسمانِ حُسن کے ، روشن ستارے مہ جبیں
بازو پہ تیرے نورتن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دل کی ، جگر کی ، جاۓ کیا افسردگی ، پژمردگی
زخمِ کُہن ، داغِ کُہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

زلفوں کی یہ سرگوشیاں ، دل پر بلائیں لائیں گی
غماز ہے گرم سخن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

غیروں کا مجمع اور تم ، پریوں کا جُمگھٹ اور ہم
پہلو بہ پہلو انجمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دل ایک تنہا ! بِیچ میں آنکھیں تری ، سفاک دو
شمشیرِ زن ناوک فگن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

میں مر گیا ہوں وصل میں ، راحت ہو ہر پہلو مجھے
تکیے ہوں دو ، زیر کفن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

تو اور دھنے ، بائیں ہوں لیلیٰ و شیریں ، بزم میں
میں اور قیس و کوہ کن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

بازو تو چھٹے ہی نہیں ، صحرا کو کیوں کر جاؤں میں
لپٹے ہیں دو اہلِ وطن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

دونوں فرشتے دوش پر ، کیا لکھ سکیں حالت مری
آلودۂ رنج و محن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

رخسار تیرے سیم گوں ، پھر اس پہ گلگونے کا رنگ
پھولا ہے کیا رنگِ چمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

اِترا رہا ہے داغؔ کیا ، ہنگامِ گُلگشتِ چمن
رنگیں قبا ، گُل پیرہن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف

جناب استاد نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی ۔۔۔

انتخاب
وسیم اردو والا

13/08/2026

‎اکھ کھولی تے دُکھاں دے جال ویکھے
‎اُتوں ہنڈ دے جِندڑی نال ویکھے
‎
‎اِک دن کی ہجر دا سال ورگا
‎اسیں دن نہیں سالاں دے سال ویکھے
‎
‎تُوں کیڑے دے رزق دی سوچ ربا
‎اسِیں بُھکھاں تَوں وِکدے بال دیکھے
‎
‎میں نچیاں جگ دے سُکھ پاروں
‎سَد بُلھّے نُوں میری دھمال دیکھے
‎
‎اسیں ویکھیا خون را رنگ چِٹا
‎اسیں پھل کپاہواں دے لال دیکھے
‎
‎ایس جھلے کلیم نُوں روک دِلا
‎ایہنوں آکھ سُو ویلے دی چال دیکھے

29/07/2026

‎کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
‎دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا
‎
‎میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیا
‎وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا
‎
‎کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا
‎کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا
‎
‎لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں
‎کس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا
‎
‎جذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہنا
‎کھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا
‎
‎اس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا
‎داد لینے کے لیے حسن خداداد آیا
‎
‎بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے
‎جو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا
‎
‎دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں
‎کام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا
‎
‎عشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنت
‎ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا
‎
‎ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا
‎جب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا
‎
‎عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیے
‎سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا
‎
‎چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے
‎کام عقبیٰ میں ہمارا دل ناشاد آیا
‎
‎دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
‎ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
‎
‎میرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کو
‎منہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا
‎
‎غم جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادی
‎جب سنا یہ کہ انہیں شیوۂ بیداد آیا
‎
‎میں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیا
‎آج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا
‎
‎شادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیا
‎جب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا
‎
‎لیجئے سنئے اب افسانۂ فرقت مجھ سے
‎آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
‎
‎آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں
‎ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا
‎
‎نواب مرزا خاں داغ دہلوی
‎انتخاب: وسیم اردو والا

05/07/2026

پانچ قسم کے لوگوں کو آپ کچھ بھی کر کے کبھی نہیں سمجھا سکتے کہ اپنا مائنڈ بدل لو یار، فائدے میں رہو گے۔

۱- کسی ماں کے لاڈلے کو جو جوان ہے ، صحت مند ہے، بس ہڈ حرام ہے اور پاکستان میں رہتے ہوئے کچھ نہیں کماتا، یعنی کوئی کام / جاب ہی نہیں کرتا، اور یہ ہی کہتا ہے مجھے باہر کے ملک بھیجو، وہیں کام کروں گا، وہیں کام سیکھوں گا بھی۔

۲- زندگی میں پہلی بار نیا مکان والے والی اس فیملی کو، جو تنگ گلی میں ، آبائی گھر گرا کر وہیں اپنا گھر بنانا چاہ رہی ہو۔ جب کہ انکے پاس باہر کھلے راستے پر پلاٹ بھی موجود ہو یا پلاٹ لے سکنے کی استطاعت بھی ہو۔ حالانکہ اس گھر کو ویسا ہی رہنے دینا چاہیے اور کھلی جگہ گھر بنانا چاہیے۔

۳- عشق میں پڑے کسی مرد کو۔ کہ جس حسین چہرے کے پیچھے جو تم پاگل ہو اور اسے چھوڑ رہے ہو یا گنوا رہے ہو، اگنور کر رہے ہو ، وہ اس لا حاصل سے لاکھ درجے بہتر ہے، جو تمہیں حاصل اور دستیاب ہے۔ لاحاصل بھی جب حاصل ہو جائے گا تو موجودہ حاصل کی مانند جذبات ہونگے۔

۴- شادی کے بعد ماں سے صبح شام ٹیویشن لینے والی بیٹی۔ پل پل کی خبر دینے والی، اور ماں کی عقل سے سسرال میں چلنے والی۔ جب تک اسے سمجھ آتی کہ اپنی عقل استعمال کرنی ہے، ہر بات وہاں بتانا ضروری نہیں ہے۔ تب تک وہ خود بھی ذلیل ہو چکی ہوتی اور اپنے گھر والوں کی بھی عزت اپنے سسرال میں برباد کر چکی ہوتی۔ اپنے خاوند کو بھی اپنے میکے میں مجرم ثابت کر چکی ہوتی۔ زندگی تو بعد میں چلتی رہتی ہے مگر وہ شروع کے سالوں میں لی گئی ٹیویشن کے اثرات کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔

۵- کردار ، ہنر، علم ، مرتبے و موجودہ اپنی حیثیت کو چھوڑ کر ذات برادری یا اپنے آباؤ اجداد کے قصے کہانیوں کی بنیاد پر خود کو اعلی و ارفع سمجھنے والے بیوقوف کو بھی آپ کبھی نہیں بدل سکتے۔ میرے بھائی وہ ہاتھی پر گھوڑے پر سواری کرتے تھے، راجہ مہاراجہ تھے، تم کیا ہو؟ تمہارے پاس کیا ہے؟ تمہارے پاس کتنی جاگیر ہے؟ کتنے ملازم ہیں؟ کونسے محل میں رہتے ہو؟

منقول

22/06/2026

نامہ بر اپنا ، ہَواؤں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے

کیا مِلے گا تجھے بکھرے ہُوئے خُوابوں کے سوا
ریت پر ، چاند کی تصویر بنانے والے

مَیکدے بند ہُوئے ، ڈُھونڈ رہا ہُوں تُجھکو
تو کہاں ہے مجھے آنکھوں سے پلانے والے

کاش لے جاتے کبھی مانگ کے آنکھیں میری
یہ مصور ، تِری تصویر بنانے والے

تو اِس انداز میں کُچھ اور حَسیں لگتا ہے
مُجھ سے مُنہ پھیر کے ، غزلیں میری گانے والے

سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
جس قدر لوگ تھے ، بارش میں نہانے والے

چھت بنا دیتے ہیں اب ریت کی دِیواروں پر
کِتنے غافِل ہیں ، نئے شہر بسانے والے

عدل کی تم نہ ہمیں آس دِلاؤ کہ یہاں
قتل ہو جاتے ہیں ، زنجیر ہلانے والے

کِس کو ہو گی یہاں ، توفیقِ انا میرے بعد
کُچھ تو سوچیں مُجھے سُولی پہ چڑھانے والے

مر گئے ہم تو یہ کتبے پہ لِکھا جائے گا
سو گئے آپ ، زمانے کو جگانے والے

در و دِیوار پہ حسرت سی برستی ہے قتیلؔ
جانے کِس دیس گئے ، پیار نبھانے والے

شاعر : قتیلؔ شفائی
مجموعۂ کلام : (پیراہن)

انتخاب: وسیم اردو والا

19/06/2026

‎میں دانہ کھادا کنک دا
‎توں جنتوں دتا کڈھ
‎میں کنک نہ چھڈی فیروی
‎میں ُہوڑی کٹک اجڈ
‎میں ڈر کے ُرکھ وچ چھپیا
‎توں ُرکھ سٹایا وڈھ
‎میری لاش نوں گرجھاں ُچونڈیا
‎میرے سادھیاں چا لئے ہڈ
‎گوہے بھنیاں ویر نئیں مکدے
‎میں بندا توں رحمان
‎مینوں حوراں دتیاں چھبیاں
‎مینوں چگھدے رئے غلمان
‎مینوں اوس جہانوں کڈھیوای
‎مینوں سٹیو ای ایس جہان
‎
‎ایتھے چور اچکا چوہدری
‎ایتھے لنڈی رن پردھاں "
‎
‎اسیں کمی ُاووڈ بے مالکے
‎تُسیں مہر ٹوانے َلک
‎اسیں دے کے ووٹ ذلیل تھئے
‎تسیں گئے اسمبلی تک
‎لا لارے ووٹاں دتیاں
‎پُھل بیجے اگے َاکّ
‎ڈنگراں لئی پٹھے ڈھو ڈھو
‎کھوتے نے کھادی پھک
‎ایتھے ہلکی کل ُکتیک ہوئی
‎ایتھے ہر کوئی مارے چک
‎او ُلون پھٹاں تے پاؤندا ایے
‎میں جاواں ملہم لوان
‎ایتھے چور ُاچکا چوہدری
‎ایتھے ُلنڈی رن پردھان
‎
‎تیرے عشق مدینیوں کڈھیا
‎مینوں کھا گئ بڈھ دی ریت
‎سر نیزے تے چڑھ ُ کوکیا
‎توں پرت نا کھولے بھیت
‎ساڈے بوذر ُرل گئے جنگلیں
‎سکھی وسدے رہے مروان
‎جدوں کوئی وی حرملا جمیا
‎ہوئے اصغر جئے قربان
‎ساڈیے یوسف کھو لئے مصریاں
‎اسیں رل گئے وچ کنعان
‎ایتھے چور اچکا چوہدری
‎ایتھے ُلنڈی رن پردھان
‎
‎دل کردا ہال اوئے پارہیا
‎رُوح دیندی پھرے دہائی
‎اوہدے ُمنہ تے پے گئیاں ُجھریاں
‎توں جیہڑی شکل بنائی
‎اوہدی اکھ وچ کالا موتیا
‎اوہدی ُزلف دی پھکی شائی
‎اوہنے دل وچ رانجھا سوچیا
‎او کھیڑیاں دے گھر آئی
‎اوہدی قبر تے مہندی ُاگدی
‎تُوں کردوں پیر دھرائی
‎پہلے رنگ پور دیے وچ ساڑیوای
‎فیر سٹیو ای وچ ُگستاں
‎
‎ایتھے چور اچکا چوہدری
‎ایتھے لنڈی رن پردھاں
‎
‎
‎انتخاب:-
‎وسیم اردو والا

20/05/2026

‎بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی
‎نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سی
‎
‎نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے
‎مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے
‎
‎کوئی بھی رت ہو اسکی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی
‎وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی
‎
‎نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
‎نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
‎
‎کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی
‎وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی
‎
‎نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے
‎نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو
‎
‎نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے
‎نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔
‎
‎نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو
‎نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو
‎
‎کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخن
‎کبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بن
‎
‎سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی
‎وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی
‎
‎سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی
‎میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی
‎
‎میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے
‎کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے
‎
‎شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہے
‎نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں
‎
‎میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں
‎وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوں
‎
‎نہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی
‎جب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی
‎
‎سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا
‎وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا
‎
‎بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی
‎اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی
‎
‎
‎انتخاب
‎وسیم اردو والا
‎

27/04/2026
21/04/2026

‎ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
‎ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
‎
‎مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
‎زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
‎
‎جون ایلیاء 📖

Address

Saddar
Lahore
54000

Telephone

+923347869719

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wasim Urdu Wala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Wasim Urdu Wala:

Shortcuts

Share