15/06/2025
عوام کی حالت اور خواص کی ذمہ داری
عوام کے احساسات فکر و دماغ پر مبنی نہیں ہوتے ، جس میں فہم و مصلحت شناسی کی گنجائش ہو۔ وہ تو جذبات و عواطف کی مخلوق ہیں۔ چلنے کی جگہ بہتے ہیں رکنے کی جگہ گر جاتے ہیں۔ محبت و عقیدت پر آئیں گے تو پوجنے لگیں گے ، بے میل ہوں گے تو نفرت کرنے لگیں گے۔ اعتدال اور میانہ روی اس مخلوق میں نہیں ہوتی۔ مشہور فرانسیسی کاتب وکٹر ہیوگو کے لفظوں میں ” یہ مخلوق آگ کی طرح بھڑکتی ہے اور راکھ کی طرح ڈھیر ہو جاتی ہے“ یہ خواص اور قائدینِ امت کا کام ہے کہ اس کے نبض شناس ہوں اور ہمیشہ اس کی لگام مضبوطی سے تھامے رہیں۔ اگر کوئی ایسی بات پیش آجائے جس سے عام جذبات میں ہیجان و انفجار کا اندیشہ ہو تو چاہیے کہ پوری طرح حزم و احتیاط سے کام لیں۔ ہر لفظ تول کر اور ہر خیال پیمانے میں ناپ کر زبان سے نکالیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خود بدحواس نہ ہو جائیں۔ اگر وہ بد حواس ہو کر چیخ اٹھیں گے تو پھر عوام کے لیے یہی رہ جائے گا کہ پاگل ہو کر کپڑے پھاڑنے لگیں!
[ مولانا ابوالکلام آزاد ]
تبرکات آزاد ، صـ ۲۴۹-۲۴۸