ANZA Dildar Memorial Welfare Foundation

ANZA Dildar Memorial Welfare Foundation Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ANZA Dildar Memorial Welfare Foundation, Educational consultant, House No 76-B Riverview Housing Society, Riawind Road, Lahore.

“This non-profit organization is established to enhance the quality of life for our poor, under privileged & deprived population through services, stewardship of capitals, and shared obligation for enhancement in the different fields of life .

A Little Kindness Can Go a Long WaySometimes, a small act of kindness can bringcomfort, dignity, and hope to someone who...
19/09/2026

A Little Kindness Can Go a Long Way

Sometimes, a small act of kindness can bring
comfort, dignity, and hope to someone who
needs it most.

Through Anza Dildar Welfare Foundation, your
generosity can help us reach vulnerable
families and support them with compassion,
care, and respect.




Donate Medicine. Extend Care.Unused medicines can become meaningfulsupport when donated responsibly. Helpprovide essenti...
19/09/2026

Donate Medicine. Extend Care.

Unused medicines can become meaningful
support when donated responsibly. Help
provide essential treatment to deserving
individuals by contributing eligible, unopened
and unexpired medicines through Anza Dildar
Memorial Welfare Foundation.

A small contribution can help someone access
the care they need.





One Hand Pump, Countless LivesClean water can change an entire community.With Rs. 60,000, you can help install a handpum...
18/09/2026

One Hand Pump, Countless Lives

Clean water can change an entire community.
With Rs. 60,000, you can help install a hand
pump and bring safe, accessible water closer
to families who need it most.

Make your contribution a Sadaqah Jariyah that
continues to benefit lives every day.




Jumma Mubarak A Reminder of Our ReturnThis blessed Jumma, may we remember thatevery life is a test, every moment is temp...
18/09/2026

Jumma Mubarak A Reminder of Our Return

This blessed Jumma, may we remember that
every life is a test, every moment is temporary,
and our ultimate return is to Allah.

May Allah strengthen our faith, guide our
actions, and fill our hearts with patience,
gratitude, and compassion.



World Patient Safety Dayعالمی یوم تحفظِ مریضاں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ درست تشخیص، بروقت علاج اور احتیاطی اقدامات مریضوں کو...
17/09/2026

World Patient Safety Day

عالمی یوم تحفظِ مریضاں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ درست تشخیص، بروقت علاج اور احتیاطی اقدامات مریضوں کو قابلِ اجتناب نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آئیں، محفوظ نگہداشت کو ہر مریض کے سفر کا لازمی حصہ بنائیں۔




A Machine. A Skill. A Livelihood.A sewing machine can become more than atool it can become a source of income,independen...
16/09/2026

A Machine. A Skill. A Livelihood.

A sewing machine can become more than a
tool it can become a source of income,
independence, and dignity.

By helping women gain the means to earn from
home, we can support families, strengthen
communities, and create sustainable
opportunities for a better future.





A Bag Full of PossibilitiesA school bag carries more than books itcarries confidence, opportunity, and the hopeof a bett...
15/09/2026

A Bag Full of Possibilities

A school bag carries more than books it
carries confidence, opportunity, and the hope
of a better future.

Your support can help provide school bags and
essential learning supplies to children who
deserve every chance to learn, grow, and move
forward.




Your Support Makes Our Work PossibleEvery contribution helps us reach people whoneed meaningful support, mobility assist...
13/09/2026

Your Support Makes Our Work Possible

Every contribution helps us reach people who
need meaningful support, mobility assistance,
and greater independence. A wheelchair can
be more than equipment- it can restore
dignity, confidence, and access to everyday
life.

Help us create better opportunities for those
who need them most.





جی ایم سکندر — اقتدار کی بلندیوں پر عاجزی کا پیکرمیری چند ذاتی یادیں اور ایک عظیم سرکاری افسر کو خراجِ عقیدتتحریر: ڈاکٹر...
12/09/2026

جی ایم سکندر — اقتدار کی بلندیوں پر عاجزی کا پیکر

میری چند ذاتی یادیں اور ایک عظیم سرکاری افسر کو خراجِ عقیدت

تحریر: ڈاکٹر سید نومان مطلوب مشہدی

زندگی میں انسان کی ملاقات بے شمار لوگوں سے ہوتی ہے۔ کچھ لوگ وقت گزرنے کے ساتھ یادوں سے محو ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ شخصیات اپنے اخلاق، کردار، محبت اور خلوص کی ایسی چھاپ چھوڑ جاتی ہیں کہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کی یاد دل میں زندہ رہتی ہے۔

جناب غلام محمد سکندر، المعروف جی ایم سکندر صاحب، بھی میرے لیے ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔

ان کا تعلق گلگت بلتستان کے خوبصورت اور دور افتادہ علاقے شگر سے تھا۔ وہ گلگت بلتستان سے سی ایس ایس کا امتحان کامیاب کرنے والی ابتدائی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ اپنی قابلیت، محنت اور دیانت کے بل بوتے پر انہوں نے سرکاری ملازمت میں ایک طویل سفر طے کیا اور تقریباً 39 برس حکومتِ پاکستان کی خدمت کی۔ وہ مختلف اضلاع میں انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں تک پہنچے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر، پنجاب کے اعلیٰ انتظامی عہدوں، وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری سمیت اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ ان کی وفات پر وزیراعظم پاکستان نے بھی ان کی 39 سالہ خدمات، بالخصوص انتظامیہ، تعلیم اور سماجی شعبے میں کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کی اصل عظمت، تاہم، ان عہدوں میں نہیں تھی۔

میرے نزدیک ان کی اصل عظمت یہ تھی کہ اتنے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے کے باوجود ان کے اندر کا انسان کبھی چھوٹا نہیں ہوا۔

میرا جی ایم سکندر صاحب سے تعلق محض سرکاری یا رسمی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس تعلق کی جڑیں میرے والد محترم انجینئر سید نذر حسین مشہدی کے زمانے تک جاتی تھیں۔ سکندر صاحب کے چچا میرے والد صاحب کے دوست تھے۔ اسی خاندانی تعلق کے حوالے سے میرے والد محترم کی بھی جی ایم سکندر صاحب سے ملاقاتیں رہیں اور بعد میں مجھے بھی ان سے ملنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہا۔

میری ان سے ملاقاتیں ان کے قصور میں تعیناتی کے زمانے میں بھی ہوتی رہیں اور بعد میں لاہور میں بھی میں ان سے ملتا رہا۔

میں جب بھی ان کے پاس کسی کام یا مسئلے کے سلسلے میں گیا، انہوں نے ہمیشہ بڑی محبت، شفقت اور خندہ پیشانی سے میرا استقبال کیا۔ ان کی ایک خوبی مجھے آج بھی بہت اچھی طرح یاد ہے۔ اگر کوئی کام جائز اور ان کے اختیار میں ہوتا تو وہ پوری کوشش کرتے کہ اسے حل کر دیا جائے، لیکن اگر کوئی کام ممکن نہ ہوتا یا ان کے دائرۂ اختیار میں نہ ہوتا تو غیر ضروری وعدے یا ٹال مٹول کرنے کے بجائے صاف اور شائستگی سے کہہ دیتے:

“یہ کام میرے بس میں نہیں ہے۔”

میرے خیال میں ایک اعلیٰ افسر کی یہ بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔ کسی کو جھوٹی امید دلانے سے بہتر ہے کہ اسے حقیقت بتا دی جائے۔

مجھے اپنی ملازمت کا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔

ایک مرتبہ میرا تبادلہ ایسی صورتِ حال میں کر دیا گیا جو میرے نزدیک مناسب اور منصفانہ نہیں تھا۔ میرا مقررہ عرصۂ تعیناتی بھی ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اور بظاہر مجھے ہٹا کر کسی سفارشی شخص کو وہاں ایڈجسٹ کرنا مقصود تھا۔

میں سکندر صاحب کے پاس گیا اور انہیں پوری صورتِ حال بتائی۔

انہوں نے معاملہ سنا، اسے جائز سمجھا اور میری مدد کی۔ ان کی سفارش اور مداخلت سے وہ غیر مناسب تبادلہ منسوخ ہوگیا۔

میرے لیے اس واقعے کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ میرا تبادلہ منسوخ ہوگیا تھا، بلکہ یہ تھی کہ ایک بااختیار افسر نے سفارش کو انصاف پر غالب آنے دینے کے بجائے ایک جائز معاملے میں انصاف کا ساتھ دیا۔

وقت گزرتا گیا اور جی ایم سکندر صاحب انتظامی ذمہ داریوں کی بلند منزلیں طے کرتے گئے۔

جب وہ پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر پنجاب جیسے انتہائی اہم اور بااثر عہدے پر فائز تھے، تب بھی مجھے ان سے ملاقات کے مواقع ملتے رہے۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بیٹھا ہوا شخص صوبے کے طاقتور ترین سرکاری افسروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن میں جب بھی ان کے دفتر گیا، وہ اسی محبت اور تپاک سے ملے جس طرح پہلے ملا کرتے تھے۔

ان کے رویے میں عہدے کی وجہ سے کوئی مصنوعی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی تھی۔

افسرانہ غرور شاید کبھی ان کے پاس سے بھی نہیں گزرا تھا۔

یہی وہ وصف ہے جس نے انہیں میرے دل میں ہمیشہ ایک خاص مقام دیا۔

بڑے عہدے بہت سے لوگوں کو مل جاتے ہیں، مگر بڑا عہدہ ملنے کے بعد بھی بڑا انسان رہنا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔

ان کے ساتھیوں اور دوسرے سرکاری افسروں کی یادوں میں بھی یہی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد شائع ہونے والے خراجِ عقیدت میں انہیں دیانت، شائستگی، پیشہ ورانہ صلاحیت، مثبت رویے اور دوسروں کی مدد کرنے والی شخصیت کے طور پر یاد کیا گیا۔ ان کے بارے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ وہ ایسے لوگوں کی مدد کے لیے دستیاب رہتے تھے جن کی اقتدار کے ایوانوں تک کوئی رسائی نہیں ہوتی تھی۔

گلگت بلتستان سے تعلق کو بھی انہوں نے کبھی فراموش نہیں کیا۔ ان کی وفات پر وہاں انہیں ایک عہد ساز شخصیت قرار دیا گیا اور بالخصوص تعلیم، طلبہ کی معاونت اور سماجی بہبود کے لیے ان کی خدمات کو یاد کیا گیا۔

سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میرا ان سے تعلق ختم نہیں ہوا۔

ہماری ملاقاتیں ہوتی رہیں اور اکثر فون پر بھی ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے رہتے تھے۔ میرے لیے وہ اب کسی عہدے پر بیٹھے ہوئے بڑے افسر نہیں بلکہ ایک بزرگ، مخلص دوست اور خاندانی تعلق رکھنے والی قابلِ احترام شخصیت تھے۔

پھر 6 اگست 2025 کو ان کے انتقال کی خبر آئی۔

یہ خبر سن کر مجھے بے حد افسوس ہوا۔ ایک ایسا شخص دنیا سے رخصت ہوگیا جسے میں نے مختلف ادوار میں دیکھا تھا—قصور میں، لاہور میں، اقتدار کے اہم عہدوں پر اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد ایک عام اور سادہ انسان کی حیثیت سے۔

میں ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے بحریہ ٹاؤن لاہور گیا۔ جنازے میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ اعلیٰ سرکاری افسران، سیاست دان، دوست، عزیز و اقارب اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد انہیں آخری سلام کہنے آئے تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت متعدد نمایاں شخصیات بھی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئیں۔

لیکن میرے لیے اس جنازے کا سب سے متاثر کن منظر بڑے عہدوں والے لوگوں کی موجودگی نہیں تھا۔

اصل منظر لوگوں کے چہروں پر موجود غم تھا۔

ہر شخص افسردہ تھا۔ ہر کوئی ان کی کوئی نہ کوئی اچھی بات یاد کر رہا تھا اور ان کے لیے دعا کر رہا تھا۔

انسان کی زندگی کی شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

عہدہ ختم ہو جاتا ہے۔
سرکاری گاڑی واپس چلی جاتی ہے۔
دفتر کسی دوسرے افسر کے نام ہو جاتا ہے۔
اختیارات کسی اور کے پاس منتقل ہو جاتے ہیں۔

لیکن اچھا کردار اور لوگوں کے ساتھ کیا گیا حسنِ سلوک انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

جی ایم سکندر صاحب نے تقریباً چار دہائیوں تک ریاست کی خدمت کی، لیکن میرے نزدیک ان کی سب سے بڑی میراث ان کے عہدوں کی فہرست نہیں بلکہ ان کی دیانت، عاجزی، انکساری، انسان دوستی اور دوسروں کے کام آنے کی عادت تھی۔

میں نے انہیں اقتدار کے قریب بھی دیکھا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی۔

وہ دونوں حالتوں میں وہی جی ایم سکندر تھے۔

محبت سے ملنے والے، بات غور سے سننے والے، جائز کام میں مدد کرنے والے اور جو کام ممکن نہ ہو اس کے بارے میں صاف بات کرنے والے۔

شاید ایک اچھے سرکاری افسر کی سب سے خوبصورت تعریف بھی یہی ہے کہ:

اختیار اس کے ہاتھ میں آئے، مگر تکبر اس کے دل میں داخل نہ ہو۔

جی ایم سکندر صاحب ایسے ہی افسر اور ایسے ہی انسان تھے۔

آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان سے وابستہ میری یادیں، میرے والد محترم کے ساتھ ان کا تعلق، قصور اور لاہور میں ہونے والی ملاقاتیں، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ان کی شفقت، میری ملازمت کے ایک مشکل وقت میں ان کا انصاف کے لیے کھڑا ہونا، اور ریٹائرمنٹ کے بعد فون پر ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا—یہ سب یادیں میرے لیے ہمیشہ قیمتی رہیں گی۔

اللہ تعالیٰ مرحوم غلام محمد سکندر صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کی تمام خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

اور ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ جب ہمارا سفرِ زندگی ختم ہو تو لوگ ہمارے عہدے اور اختیارات سے زیادہ ہمارے اخلاق، کردار اور دوسروں کے لیے کیے گئے اچھے کاموں کو یاد کریں۔

آمین یا رب العالمین۔

— ڈاکٹر سید نومان مطلوب مشہدی

Help Us Build a Free HospitalQuality healthcare should be accessible toeveryone, regardless of their financialcircumstan...
12/09/2026

Help Us Build a Free Hospital

Quality healthcare should be accessible to
everyone, regardless of their financial
circumstances. Your donation can help
complete Syed Nazar Husain Mashhadi
Hospital and provide essential medical facilities
to people who cannot afford treatment.

Together, we can build a place where care
comes before cost.




Address

House No 76-B Riverview Housing Society, Riawind Road
Lahore
53600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ANZA Dildar Memorial Welfare Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share