The Right School (KHADIJA CAMPUS)

The Right School (KHADIJA CAMPUS)

Share

At the same time The Right School is a countrywide network of comprehensive schools (playgroup to class X).

The Right School, in line with its mission, seeks to provide value based quality education to groom students with a futuristic vision and a clear sense of orientation to be competitive as well as cooperative in their learning environment. It is based on a strategic partnership between The Right School and Network Associates (franchisees) as licensees having the right to use, in connection with the

21/04/2026

On the 88th Youm-e-Wisaal, we honor Allama Iqbal.
A visionary who encouraged generations to believe in themselves rather than just dreaming about a country.
His teachings on khudi, bravery, and purpose are still relevant in today's classrooms and hearts. May we always lead our pupils with the same optimism and fortitude.

31/12/2023
24/07/2022

Apply Now To Get Your Territory Reserved.

Photos from The Right Schools & Colleges's post 01/01/2021
13/06/2020

سکول اب طویل عرصے تک شاید بند رہیں۔
اب بچوں نے طویل عرصے تک ماں باپ کی نگرانی میں گھروں میں ہی رہنا ہے۔۔
اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں۔۔
جسمانی طور پر بھی ذہنی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی۔۔
ان کو اردو انگریزی اور عربی لازمی طور پر سکھائیں۔
اسلامی تاریخ تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں۔۔
اپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں۔۔
کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
سلطان عبدالحمید کارپینٹر تھے، لکڑی سے بنایا ہوا ان کا فرنیچر آج بھی محفوظ ہے۔
سلطان سلیمان زیورات بناتے تھے۔۔
اورنگزیب بادشاہ قرآن لکھتا تھا۔۔
اپنے بچوں کی کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازم ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں۔
جس طرح بواۓ سکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہے، جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔
آج کل ہمارے بچے بہت آرام طلب اور نازک ہیں۔ماضی میں ہمارا تمام تر تعلیمی نظام بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھاتا تھا۔۔
تمام مسلمان اپنے ہاتھ میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے۔۔
کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا ۔
کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری۔۔
آگے آنے والا دور مشکلات اور جنگوں کا دور ہے۔
اپنے بچوں کو اس کے لئے تیار کریں۔
اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔۔
بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی۔۔
آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے۔۔
اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی۔۔۔اب ہم دجالی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں۔۔۔
ایک کرونا نے ہی کیسا گما دیا ہے۔۔آگے کے فتنے اس سے بھی مزید سخت ہونگے۔۔اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ۔۔۔ایک تو آنکھوں کے سمانے ہیں اور دوسرا ان سب حالات کی خبر افضل الرسل سرکار دو عالم میرے پیارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہوئی۔۔۔کہ یہ سب ہو کے رہے گا۔۔اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا۔۔۔دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا۔۔
اس لیے ایمانی،،جسمانی ،،روحانی ،،اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے۔۔اگر زندہ رہنا ہے اور بچنا ہے ان تمام فتنوں سے تو اب ذرا جاگ جائیں۔۔۔!!

12/06/2020

*محترم_والدین*۔۔۔۔۔۔۔ *السلام عليكم ورحمةاللہ وبرکاتہ۔۔!*
*والدین کےنام ایک گذارش*
*((( منقول )))*
*میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ سب اور آپ کے بچے بخیرو عافیت ھوں گے۔*
*آج میں آپ لوگوں سے کچھ ایسا شیئر کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھے یہ تحریر کرنے پر مجبور کیا ھے۔*
*جیسا کہ آپ سب کے علم میں ھے کہ اس وقت پوری دنیا کرونا جیسی وائرل بیماری سے لڑ رہی ھے۔*
*پاکستان میں بھی اس وائرس نے جب پھیلنا شروع کیاتو احتیاطی تدابیر اپناتے ہوۓ مارچ کے مہینہ میں سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا اور اس کے بعد باقی تمام کاروباری مراکز بشمول مارکیٹس و دیگر ذرائع معاش بھی لاک ڈاؤن کے باعث بند رھے۔*
*یہ ایک انتہائی مشکل وقت تھا جسے پاکستانی قوم نے اللہ رب العزت کی مدد سے احسن انداز میں ایکدوسرے کے ساتھ تعاون اور ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ گزارا۔*
*آہستہ آہستہ تمام کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئیں اور الحمدللہ اب ملک کے 90 فیصد زرائع معاش و کاروباری مراکز اپنی روٹین میں آچکے ہیں لیکن 10 فیصد حصہ جسمیں تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں ابھی تک نہیں اوپن ہو سکے۔*
*لاک ڈاؤن کے اس عرصہ کے دوران جہاں پاکستانی قوم نے ماہ رمضان سے قبل اور ماہ رمضان کے دوران بھی اپنے اردگرد لوگوں کی جس جذبہ سے مدد کی اور ان کا خیال رکھا وہ قابل رشک اور قابل تحسین ھے۔*
*جہاں تقریباً سب کچھ ہی قابل تعریف ھے وہاں ایک چیز جس نے ہمارے معاشرہ پر انتہائی تیز رفتاری سے منفی اثرات ڈالے وہ تعلیمی اداروں سے متعلق پروپیگنڈا اور اظہار نفرت کی کمپیئن ھے جس نے ہر ایک شخص کی سوچ کو اثر انداز کیا ھے۔*
*محترم والدین۔۔۔۔!*
*کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ کس طرح ایک منظم انداز میں تعلیمی اداروں کو مافیا اور معزز اساتذہ اکرام کو جنہیں معاشرہ کا معمار کہا جاتا ھے، انہیں ڈریکولا بنا کر پیش کیا جارہا ھے اور یہ سوچ انتہائی تیز رفتاری سے ہم سب کے دل و دماغ پر اپنے اثرات مرتب کیے ہوۓ ھے اور اگر یہ کمپیئن خدا نخواستہ کامیاب ہوجاتی ھے تو آپ خودسوچیں کہ آپ کے بچے جو ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن کی ماہانہ فیس ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان ھے تو وہ اپنی بقاء کھو بیٹھیں گے اور ختم ہوجائیں گے۔اسکے بعد ہو گا کیا۔۔۔۔؟؟؟*
*معزز والدین۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ یا تو آپ کو اپنے بچوں کو ان اسکولز میں داخل کروانا ہوگا جن کی ماہانہ فیس کم از کم تین ہزار سے پانچ ہزار ھے اور داخلہ فیس الگ پھر وہاں جا کر نئی یونیفارم، نئی کتابیں اور کاپیاں بھی لازمی طور پر خریدنا ہوں گی یا پھر آپ اپنے بچوں کو گورنمٹ اسکولز میں داخل کروانے پر مجبور ہو جائیں گے وہاں کا ماحول اور تعلیمی معیار کیسا ہوگا اور کیا آپ کے بچے وہاں ایڈجسٹ ہو سکیں گے یہ ایک الگ بحث ھے۔*
*اب یہ فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں کہ آپ کا مفاد ان اسکولز جنمیں آپکے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی بقاء میں ھے یا ان کی فناء میں۔۔۔!*
*خیر جو بات میں آپکے ساتھ شیئر کرنا چاہ رہا ہوں وہ اس تمہید کے بعد اب شروع ہو رہی ھے۔*
*اسکولز کیخلاف ہونے والی کمپین نے ظاہر ھے ہمارے ادارہ کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہلھے حتی کہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ھے کہ اگر بچے کے والد صاحب فیس جمع کروانے کی بات کرتے ہیں تو والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ چھوڑیں فیس دے کر کیا کرنا ھے ہمارے بچے کونسا اسکول جا رھے ہیں،*
*اگر بچوں کی والدہ محترمہ کہتی ہیں کہ بچوں کی اسکول فیس جمع کروادیں تو والد صاحب کہتے ہیں کہ اسکولز تو پورا سال ہی نہیں کھلنے ہم کیوں مفت میں فیس دیں سکول والوں کو۔*
*اس ساری صورتحال میں جب ہم انتہائی کشمکش اور پریشانی کے عالم میں مبتلا تھے کہ اپنے اساتذہ اکرام کو تنخواہیں کیسے دیں گے* *بلڈنگ رینٹس اور یوٹیلٹی بلز کیسے بھریں گے جبکہ پچھلے تین ماہ میں جمع ہونے والی فیس 15 فیصد ھے اور کتنا قرض ہمیں مزید لینا ھوگا اپنے اسکول کی بقاء کو قائم رکھنے کے لیے تو ایک والد اسکول تشریف لاۓ اپنے بچے کی فیس جمع کروانے کے لیے۔ جب انہوں نے اپنے بچےکی فیس کلرکس کو دی تو وہ سابقہ ماہانہ فیس کے لحاظ سے مکمل فیس تھی جبکہ ہم نے والدین کیساتھ ان مشکل حالات میں اپنا تعاون پیش کرتے ہوۓ اپریل اور مئی کی فیس میں 20 فیصد ڈسکاؤنٹ کر رکھا تھا۔*
*جب کلرکس نے انہیں ڈسکاؤنٹ دی جانے والی رقم واپس کرنا چاہی تو ہمارے طالب علم کے والد صاحب نے ایسے الفاظ دہراۓ جنہوں نے ہمیں پھر سے جیسے نئی زندگی دے دی ہو*
*وہ کہنے لگے کہ گورنمنٹ نے جو 20 فیصد رعایت دی ھے وہ ان والدین کے لیے ھے جن کے بچے ان اسکول میں پڑھ رہے ہیں جن کی ماہانہ فیس 4000 یا اس سے زیادہ ھے اور وہ مکمل فیس ادا کر رہے ہیں جبکہ میرا بچہ جو آپکے اسکول میں زیر تعلیم ھے اسکی فیس اتنی نہیں بنتی لہذا آپ میرے بچے کی مکمل فیس ہی جمع کریں۔*
*اب کہنے کو تو یہ دو جملے تھے لیکن ایک ایسے وقت میں جب ہم بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو چکےتھے کہ انبیاء اکرام کے جس مقدس پیشہ کو ہم نے خدمت اور اعزاز سمجھ کر اپنایا تھا اب اسمیں بھی عزت اور وقار باقی نہیں رہا ھے لہذا بہتر ھے متبادل ذریعہ معاش پر غور کیا جائے ان کے ان الفاظ نے ہمیں پھر سے تقویت دی کہ نہیں ابھی بھی اساتذہ اکرام کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے والے چند لوگ باقی ہیں اگرچہ ان کے دیے گئے چند سو روپوں میں نہ تو ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ اپنے اساتذہ کو وقت پر ان کی تنخواہیں ادا کرسکیں اور نہ ہی ہمارے اوپر سے بلڈنگ رینٹ و یوٹیلیٹی بلز کا بوجھ ہلکا ہوگا لیکن ان کے الفاظ سے ہمیں جو فرحت، جو حوصلہ اور جو عزم ملا ھے اس کی کوئی قیمت نہیں ھے۔*
*اس تحریر کی وساطت سے میں انکا اور ان جیسے دیگر والدین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں بھرپور منفی کمپین اور پروپیگنڈا کے باوجود ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہمارے حوصلہ کو بلند کیا ھے۔*
*انشاءاللہ العزیز ۔۔۔۔۔ یہ ادارہ رہتی دنیا تک آپکے اس تعاون کو کبھی نہیں بھولے گا۔*
*اللہ رب العزت جلد از جلد ہمیں اس وباء سے اور مشکل وقت سے نکلنے میں ہماری مدد فرمائے،*
*ھم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرماۓ اور ہمیں یہ ہمت اور حوصلہ دے کہ ہم بھی لوگوں میں آسانیاں اور بھلائیاں تقسیم کرنے والے بن جائیں۔*
*والسلام۔۔۔۔۔ شکریہ* (((( #منقول))))

11/06/2020

Check this.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

918 E Jauhar Town
Lahore
54000