Meem Institute of Excellence

Meem Institute of Excellence

Share

Meem Institute of Excellence offers top-notch preparation for PPSC, FPSC, One Paper tests, and more.

05/09/2024

*دائیں بازو والے (Right Wings)*
بین الاقوامی سیاست میں اس سے مراد وہ طبقہ ہے جو اقتدار میں رہتے ہوئے غریب کا استحصال کرتا ہے۔
ہر دور میں دائیں طبقے والے مختلف ہو سکتے ہیں۔
بادشاہت کے دور میں ایسا طبقہ جو بادشاہ کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہو اور اس کے ظلم و جبر سے بے اعتنائی برتتے ہوئے اس کے اقتدار کے لیے کوشاں ہو۔
بادشاہت کے دور میں بادشاہ کے سامنے دو طرح کی کرسیاں لگتی تھیں ایک دائیں دوسری بائیں۔
دائیں جانب والے بادشاہ کے حامی ہوا کرتے تھے جبکہ بائیں جانب والے بادشاہ کی فکر کے مخالف لوگ ہوا کرتے تھے اسی سے یہ اصطلاح عام ہوئی دائیں جانب والے بائیں جانب والے۔

چونکہ بائیں جانب والا طبقہ بادشاہ کے جبر کے خلاف آواز اٹھاتا تھا۔
اس لیے ہر دور میں موجود کسی بھی نظام کے خلاف انقلابی آواز کو بائیں بازو کی سیاست کہا جانے لگا
اس کو ہر معاشرے کے مسائل کے مطابق دیکھا جاسکتا ہے۔
جیسے امریکہ کے تناظر میں بائیں بازو کی سیاست کسی دور میں یہ تھی کہ گورے کالے کے حقوق۔
گورے اپنے ہی ملک کے باشندوں کو جو کہ سیاہ تھے ان کو اپنے سے کمتر جانتے تھے۔ اس کے خلاف سیاہ لوگوں نے آواز اٹھائی تو اس دور میں بائیں بازو کی سیاست کے علم بردار سیاہ فام ہوئے۔
اس کے برعکس گورے لوگ چونکہ استحصال کر رہے تھے تو وہ دائیں بازو کی سیاست کر رہے تھے۔

اب سمجھنا قدرے آسان ہوگا کہ وہ طبقہ جو اقتدار پہ غالب ہو یا کسی بھی معاشرے میں اور غریب عوام کا استحصال کر رہا ہو یا کوئی قوم کسی قوم کا استحصال۔کر رہی ہو اور وہ نظام جیسا ہے اسے ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہوں اس میں بدلاؤ کی گنجائش نہ سمجھتے ہوں تو وہ دائیں بازو کی سیاست کر رہے ہیں۔
چونکہ سوشلسٹ نظام نے سرمایہ دار نظام کے جبر کے خلاف آواز اٹھائی، اس لیے انہیں بائیں بازو کی سیاست کرنے والے اور سرمایہ دارانہ نظام والوں کو دائیں بازو کی سیاست کرنے والے کہا جانے لگا۔

اس پہ مزید بحث کی گنجائش ہے کہ ان میں سے کون سا نظام درست ہے کونسا نہیں۔
Meem Institute of Excellence

29/08/2024

*اردو ہندی تنازعہ 1867ء*

بنارس سے یہ تنازعہ 1867ء میں شروع ہوا۔
ہندووں کی طرف سے مطالبہ تھا کہ *فارسی رسم الخط* کی بجائے ناگری *رسم الخط* یا *ہندی رسم الخط* رائج کیا جائے۔
ہندی کی حمایت میں آریہ سماج کے بانی، *سوامی دیانند سرسوتی* نے بھی ہندی کی حمایت کی جبکہ وہ خود گجراتی تھے۔

اردو کے تحفظ کے لیے سرسید احمد خان نے حکومت سے دالترجمہ کا مطالبہ کیا۔
ہندووں نے اس تنازعہ کے دوران ہندی زبان کا مرکزی دفتر آلہ آباد میں بنایا۔
32 سال کی محنت کے بعد نواب ہندی رسم الخط کو بھی سرکاری دفاتر میں لکھنے کی اجازت مل گئی۔ جس کے بعد بعض علاقوں میں انگریز نے زبردستی محض ہندی کو ہی دفاتر میں لکھنے کے احکام صادر کیے۔

اس وجہ سے اردو زبان کے تحفظ کے لیے مسلمانوں میں اک ہیجان پیدا ہوا اور اسی کے تحت انہوں نے مختلف کوششیں کیں کہ اردو کا۔تحفظ کیا جا سکے۔
1900 میں *نواب محسن الملک* نے *اردو ڈیفینس ایسوسی ایشن* بنائی۔
1903ء میں *محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس* کے اجلاس کئ دوران مختلف شعبہ جات بنائے یہی شعبہ’ *انجمنِ ترقّیٴ اُردو* کی بنیاد تھا۔ *مولانا شبلی نعمانی* اس کے سیکرٹری رہےتھے۔ 1905ء میں *نواب حبیب الرحمن خان شیروانی* اور 1909ء میں *عزیز مرزا* اس عہدے پر فائز ہوئے۔ عزیز مرزا کے بعد 1912ء میں *مولوی عبدالحق* سیکرٹری منتخب ہوئے۔ مولوی صاحب اورنگ آباد (دکن ) میں ملازم تھے وہ انجمن کو اپنے ساتھ لے گئے اور اس طرھ حیدر آباد دکن اس کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے اردو کے تحفظ میں بہت خدمات سرانجام دیں۔ جس بنا پہ انہیں *بابائے اردو* کا خطاب دیا گیا۔
یہ ان کی اردو سے محبت ہی تھی کہ بستر مرگ پہ بھی انہوں نے *قاموس الکتب* جیسی کتاب کا۔مقدمہ لکھ دیا۔

29/08/2024

عبدالمطلب کا اصل نام
نبی علیہ السلام کے دادا عبدالمطلب کا اصل نام سیرت نگاروں نے شیبہ یا شیبہ الحمد ذکر کیا ہے،
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ان کا یہی نام ذکر کیا جس پہ بن یہ معروف ہوگیا

البتہ یاسین مظہر صدیقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ اصل نام نہیں ہے بلکہ یہ ان کے بالوں کے سفید ہونے یا گردن کے گرد سفید دھاری ہونے کی بنا پہ معروف ہوا۔
بعض روایات میں ملتا ہے کہ شیبہ الحمد نام ان کی فیاضی کی وجہ سے پڑا کیونکہ وہ جود و سخاوت کے دریا بہاتے تھے اور اس وجہ سے بچپن پیدائش کے وقت ان کا نام شیبہ الحمد کہلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
*اصل نام:*
بہت کم سیرت نگاروں نے رسول اکرم صلی اللہ وسلم کے دادا کا اصل نام ذکر کیا ہو۔ان کا اصل نام عامر تھا یعنی عامر بن ہاشم یہی نام ان کی والدہ ماجدہ یا نانا نے رکھا۔
1-قدیم سیرت نگاروں یا اہل علم میں امام ابن قتیبہ دینوری نے غالبا سب سے پہلے اس کی صراحت کی۔
2-حلبی نے مجروح و ضعیف روایت کے بطور نقل کیا ہے کہ ان کا نام عامر بھی بتایا گیا ہے۔
3- حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی ابن شیبہ کی روایت نقل کی ہے اس پہ پر تنقید بھی کی یے۔
4- جدید سیرت نگاروں میں قاضی سلیمان منصورپوری رحمہ اللہ نے بھی وضاحت کے ساتھ ان کا نام عامر اور لقب شیبہ لکھا ہے۔
5-ولیم مونٹگمری واٹ نے بھی عبدالمطلب کا نام عامر،کنیت ابو حارث اور لقب شیبہ ذکر کیا ہے۔

Meem Institute of Excellence

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Lakhodair, Batapur Lahore
Lahore
53400

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00