Online Teach Quran

Online Teach Quran

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Online Teach Quran, Education, Waseem Park nashtar Colony, Lahore.

16/10/2023

اللہ ہمیں صحابہ کے نقش قدم پے چلنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

24/09/2023
24/09/2023

*🪩👈بـصـارت اور بـصــیرت*👉🪩
*انتہائی خوبصورت "فن پارا"*
ایک سچی کہانی ایک ایسے شخص کی جس نے ایک نماز پڑھنے والے شخص سے دریافت کیا کہ کیا ہوگا اگر مرنے کے بعد ہمیں معلوم ہو کہ نہ ہی جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کوئی سزا اور جزا ہے، پھر تم کیا کروگے ؟
اس کا جو جواب ملا وہ بہت ہی حیران کن اور تعجب خیز تھا۔
لیجئے اردو ترجمے کے بعد پوری کہانی آپ کے پیش خدمت ہے۔
سنہ 2007 کی بات ہے لندن کے ایک عربی ریسٹورینٹ میں ہم لوگ مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے ڈنر کےلئے داخل ہوئے۔
ہم لوگ ہوٹل میں بیٹھے تھوڑی دیر میں ویٹر آڈر لینے کے لئے آگیا۔ میں نے مہمانوں سے چند منٹ کے لئے اجازت طلب کی اور پھر واپس آگیا۔
اتنے میں مہمانوں میں سے ایک شخص نے سوال کیا ڈاکٹر صاحب آپ کہاں گئے تھے آپ نے تو بڑی تاخیر کردی، کہاں تھے؟
میں نے کہا: میں معذرت خواہ ہوں در اصل میں نماز پڑھ رہا تھا۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپ اب تک نماز پڑھتے ہیں؟ میرے بھائی آپ تو قدامت پسند ہیں۔
میں نے بھی مسکراتے ہوئےپوچھا قدامت پسند ؟وہ کیوں؟
کیا اللہ تعالی صرف عربی ممالک میں ہی ہے، لندن میں نہیں ہے؟
اس نے کہا: "ڈاکٹرصاحب میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جس کشادہ ظرفی کیلئے معروف ہیں اسی کشادہ قلبی سے مجھے تھوڑا سا برداشت کریں گے۔"
میں نے کہا: جی مجھے تو بڑی خوشی ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے۔
اس نے کہا: جی فرمائیں
میں نے کہا: اپنے سوالات مکمل کرلینے کے بعد آپ کو ہار یا جیت کا اعتراف کرنا پڑے گا، ٹھیک ہے؟
اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں۔
تو ٹھیک ہے پوچھئے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟
میں نے کہا۔
اس نے پوچھا: آپ کب سے نماز پڑھ رہے ہیں؟
میں نے کہا سات سال کی عمر سے میں نے اس کو سیکھنا شروع کیا اور نو سال کی عمر میں پختہ کرلیا تب سے اب تک کبھی نماز نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی ان شاء اللہ نہیں چھوڑوں گا.
اس نے کہا ٹھیک ہے .. مرنے کے بعد اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ نہ جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کو ئی جزا وسزا ہے پھر آپ کیا کریں گے؟
میں نے کہا: تم سے کئے گئے عہد کے مطابق پوری کشادہ قلبی سے تمہارے سوالات کا آخر تک جواب دوں گا۔
فرض کریں نہ ہی جنت و جہنم کا وجود ہوگا نہ ہی کوئی جزا و سزا ہوگی تو میں پھر بھی یہ عمل کروں گا اس لئے کہ در اصل میرا معاملہ ایساہی ہے جیسا کہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :"الہی میں نے تیرے عذاب کے خوف اور جنت کی آرزو میں تیری عبادت نہیں کی ہے بلکہ میں نے اس لئے تیری عبادت کی ہے کیونکہ تو عبادت کے لائق ہے۔
اس نے کہا: اور آپ کی وہ نمازیں جس کو دسیوں سال سے آپ پابندی کے ساتھ پڑھتے آرہے ہیں پھر آپکو معلوم ہو کہ نمازی اور بے نمازی دونوں برابر ہیں جہنم نام کی کوئی چیز نہیں ہے پھر کیا کریں گے؟
میں نے کہا: مجھے اس پر بھی کچھ پچھتاوا نہیں ہوگا کیونکہ کہ ان نمازوں کو ادا کرنے میں مجھے صرف چند منٹ ہی لگتے ہیں چنانچہ میں انھیں جسمانی ورزش سمجھوں گا۔
اس نے کہا: اور روزہ خصوصاً لندن میں کیونکہ یہاں روزے کا وقفہ ایک دن میں 18گھنٹے سے بھی تجاوز کرجاتا ہے؟
میں نے کہا: میں اسے روحانی ورزش سمجھوں گا چنانچہ وہ میری روح اور نفس کے لئے اعلی طرز کی ورزش ہے اسی طرح اس کے اندر صحت سے جڑے بہت سارے فوائد بھی ہیں جس کا فائدہ میری زندگی ہی میں مجھے مل چکا ہے اور کئی بین الاقوامی غیر اسلامی اداروں کا بھی یہ ماننا ہے کہ کچھ وقفے تک کھانا پینا بند کرنا جسم کیلئے بہت مفید اور نفع بخش ہے۔
اس نے کہا: آپ نے کبھی شراب پی ہے؟
میں نے کہا :میں نے اس کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا۔
اس نے تعجب سے کہا: کبھی نہیں؟
میں نے کہا کبھی نہیں
اس نے کہا: اس زندگی میں اپنے آپ کو شراب نوشی کی لذت اور اس کے خمار کے سرور سے محرومی کے بارے میں کیا کہیں گے؟
میں نے کہا: شراب کے اندر نفع سے زیادہ نقصان ہے اور میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنے آپ کو اس نقصان دہ چیز سے بچالیا ہے اور اپنے نفس کو اس سے دور رکھا ہے چنانچہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو شراب کی وجہ سے بیمار ہوگئے اور کتنے ہی ایسے ہیں جنھوں نے شراب کی وجہ سے اپنا گھربار مال واسباب سب تباہ وبرباد کرلیا ہے،
اسی طرح غیر اسلامی اداروں کےعالمی رپوٹ کو دیکھنے سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی شراب کے اثرات اور اس کو لگاتار پینے کے انجام سے متنبہ کرتی ہے۔
اس نے کہا :حج وعمرہ کا سفر، جب موت کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی موجود نہیں ہے؟
میں نے کہا: میں حج وعمرہ کے سفر کو ایک خوبصورت تفریحی سفرسے تعبیر کرونگا جس کے اندر میں نے حد درجے کی فرحت وشادمانی محسوس کی اور اپنی روح کو آلائشوں سے پاک و صاف کیا جس طرح تم نے اپنے اس سفر کے لئے کیا ہے تاکہ تم ایک اچھا وقت گزار سکو اور اپنے عمل کے بوجھ اور معمولات زندگی کی تھکان کو دور کرکے اپنی روح کو تازگی فراہم کرسکو۔
وہ میرےچہرے کو کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھتا رہا پھر گویا ہوا: آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے سوالات کو بڑی کشادہ قلبی کے ساتھ برداشت کیا۔
میرے سوالات ختم ہوئے اور میں آپ کے سامنے اپنی ہار تسلیم کرتا ہوں۔

میں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ہار تسلیم کرنے کے بعد میرے دل کی کیا کیفیت ہوگی؟
اس نے کہا: یقیناً آپ بہت خوش ہوں گے۔
میں نے کہا: ہرگز نہیں بلکہ اس کے بلکل برعکس... میں بہت دکھی ہوں۔
اس نے تعجب سے کہا: دکھی؟ وہ کیوں؟
میں نے کہا: اب تم سے سوال کرنے کی میری باری ہے۔
اس نے کہا: فرمائیں
میں نےکہا: تمہاری طرح میرے پاس ڈھیر سارے سوالات نہیں ہیں صرف ایک ہی سوال ہے وہ بھی بہت سادہ اور آسان۔
اس نےکہا: وہ کیا؟
میں نے کہا: میں نے تمہارے سامنے واضح کردیا ہے کہ تمہارے مفروضہ کے واقع ہونے کے بعد بھی میں کسی طرح کے گھاٹے میں نہیں ہوں اور نہ ہی اس میں میرا کسی قسم کا نقصان ہے ...
لیکن میرا وہ ایک آسان سوال یہ ہے کہ تمہارا اس وقت کیا ہوگا اگر حالات تمہارے مفروضہ کےبرعکس ظاہر ہوئے یعنی موت کے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالی بھی موجود ہے، جنت و جہنم بھی ہے، سزا و جزا بھی ہے اور قرآن کے اندر بیان کئے گئے سارے مشاہد و مناظر بھی ہیں پھر اسوقت تم کیا کرو گے؟
وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی کے ساتھ دیر تک دیکھتا رہا... اور پھر ویٹر نے ہماری میز پر کھانا رکھتے ہوئے ہماری خاموشی کو توڑا۔
میں نے اس سے کہا: مجھے ابھی جواب نہیں چاہئے کھانا حاضر ہے ہم کھانا کھائیں گے اور جب تمہارا جواب تیار ہوجائیگا تو براہ مہربانی مجھے خبر کردینا۔
ہم کھانے سے فارغ ہوئے اور مجھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں نے بھی اس وقت اس کو جواب کے لئے کوئی تکلیف نہیں دی... ہم بہت ہی سادگی کے ساتھ جدا ہوگئے۔
ایک مہینہ گزرنے کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور اسی ریسٹورینٹ میں ملاقات کا مطالبہ کیا۔
ریسٹورینٹ میں ہماری ملاقات ہوئی ہم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا کہ اچانک اس نے میرے کندھے پر اپنا سر رکھا اور مجھے اپنی بازوؤں میں پکڑ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔
میں نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا اور پوچھا کیا بات ہے تم کیوں رو رہے ہو؟
اس نے کہا: میں یہاں آپ کا شکریہ ادا کرنے اور اپنے جواب سے آپ کو باخبر کرنے لئے آیا ہوں
بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک نماز سے دور رہنے کے بعد اب میں نماز پڑھنے لگا ہوں۔ آپ کے جملوں کی صدائے بازگشت میرے ذہن و دماغ میں بلا توقف گونجتی ہی رہی اور میں نیند کی لذت سے محروم ہوتا رہا۔
آپ نے میرے دل ودماغ اور جسم میں آتش فشاں چھوڑ دیا تھا اور وہ میرے اندر اثر کر گیا۔
مجھے احساس ہونے لگا کہ جیسے میں کوئی اور انسان ہوں اور ایک نئی روح میرے جسم کے اندر حرکت کر رہی ہے ایک بے مثال قلبی سکون بھی محسوس کر رہا ہوں۔
میں نے کہا: ہوسکتا ہے جب تمہاری بصارت نے تمہارا ساتھ چھوڑ دیا ہو تب ان جملوں نے تمہاری بصیرت کو بیدار کردیا ہو۔
اس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے... یقیناً جب میری بصارت نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تو ان جملوں نے میری بصیرت کو بیدار کر دیا۔
میرے پیارے بھائی تہہ دل سے آپ کا شکریہ، آپ کی بدولت میں گناہوں اور گمراہی والی زندگی سے بچ گیا۔
(عربی سے ترجمہ)
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

19/07/2023

بچے کے حفظ کے موقع پر والدہ کے الفاظ ، اسکے جذبات سنیں❣️
مجھے اس بات کی خوشی ہے میں نیک اور صالح بچہ چھوڑ کر جا رہی ہوں جو میرے مرنے کے بعد میرے لیے دعا کرے گا۔
سٹیج سیکرٹری بچے سے: آپ کے والدہ آپ سے بہت محبت کرتی ہیں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟
بچہ: اگر میرے ہاتھ میں پوری دنیا ہو تو اپنی ماں کو اس پیار کے بدلے ہدیہ کر دوں 🥰

27/07/2019

*مدینے کی ریاست کی ایک جھلک۔*

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی کے ساتھ تھا،
اور اس مکان کا پرنالہ مسجد کی طرف تھا جب بارش ھوتی تو پرنالہ سے پانی گرتا جس کے چھینٹے نمازیوں پر پڑتے،
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو پرنالے کو اکھاڑ پھینکا،
سیدنا عباس آئے دیکھا ان کے مکان کا پرنالہ اتار دیا گیا ھے،
پوچھا یہ کس نے اتارا،
جواب ملا امیر المومنین نے نمازیوں پر چھینٹے پڑتے دیکھے تو اسے اتار دیا،
سیدنا عباس نے قاضی کے سامنے مقدمہ دائر کر دیا،
چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ھیں،
امیر المومنین ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ھوئے تو جج صاحب لوگوں کے مقدمات سن رھے ھیں اور سیدنا عمر عدالت کے باھر انتظار کر رھے ھیں، کافی انتظار کے بعد جب سیدنا عمر عدالت کے روبرو پیش ھوئے تو بات کرنے لگے،
مگر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روک دیا کہ پہلے مدعی کا حق ھے کہ وہ اپنا دعوٰی پیش کرے،
یہ عمر کے دور کا چیف جسٹس ھے،

سیدنا عباس دعوٰی پیش کرتے ھیں کہ میرے مکان کا پرنالہ شروع سے مسجد نبوی کی طرف تھا، زمانہ نبوی کے بعد سیدنا ابوبکر کے دور میں بھی یہیں رھا لیکن عمر نے میرے مکان کا پرنالہ میری عدم موجودگی میں میری اجازت کے بغیر اتار دیا ھے، لہذا مجھے انصاف چاھئے،
چیف جسٹس ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ھیں آپ بے فکر رھیں آپ کو انصاف ملے گا،
قاضی نے سیدنا عمر سے پوچھا آپ نے سیدنا عباس کے گھر کا پرنالہ کیوں اتارا،
بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم کٹہرے میں کھڑا ھو کر کہتا ھے، سیدنا عباس کے مکان کا پرنالہ مسجد نبوی کی طرف تھا جب بارش ھوتی ھے پرنالے سے پانی بہتا ھے اور چھینٹے نمازیوں پر پڑتے ھیں جس سے نمازیوں کو پریشانی ھوتی ھے اس لئے میں نے اسے اتار دیا،
ابی بن کعب نے دیکھا کہ سیدنا عباس کچھ کہنا چاہ رھے ھیں، پوچھا آپ کیا کہنا چاھتے ھیں؟؟
سیدنا عباس کہتے ھیں یہ جس جگہ میرا مکان ھے یہاں رسول پاک نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دیا اور میں نے اسی جگہ مکان بنایا پھر جب پرنالہ نصب کرنے کا وقت آیا تو رسول پاک نے کہا چچا میرے کندھے پر کھڑے ھو کر اس جگہ پرنالہ نصب کر دیں میں نے نبی پاک کے کندھے پر کھڑا ھونے سے انکار کیا مگر بھتیجے کے اصرار پر میں نے ان کے کندھے پر کھڑا ھو کر یہاں پرنالہ نصب کیا یہاں پرنالہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود لگوایا تھا،
ابی بن کعب نے پوچھا اس کا کوئی گواہ ھے آپ کے پاس،
سیدنا عباس جلدی سے باھر گئے اور کچھ انصار کو لے کر آئے انہوں نے گواھی دی کہ سیدنا عباس سچ کہہ رھے ھیں،
یہ سنتے ھی سیدنا عمر کے ھوش اُڑ گئے اور رونے لگے، آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی،
اپنا پیارا نبی یاد آ گیا،
اور زمانہ نبوی کا منظر نظروں میں گھوم گیا،
عدالت میں سب کے سامنے یہ بائیس لاکھ مربع میل کا حاکم سر جھکائے کھڑا ھے،
جس کا نام سن کر قیصر و کسرٰی کے ایوانوں میں لرزہ طاری ھو جاتا تھا،
سیدنا عباس سے کہا مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ رسول پاک نے خود لگوایا ھے،
آپ چلئے میرے ساتھ جیسے رسول پاک نے یہ پرنالہ لگوایا تھا ویسے ھی آپ لگائیں،
چشم کائنات نے دیکھا!
وقت کا حاکم دونوں ھاتھ مکان کی دیوار سے ٹکا کر کھڑا ھو گیا بالکل اسی طرح جیسے رسول پاک کھڑے ھوئے تھے،
سیدنا عباس امیر المومنین کے کندھوں پر کھڑے ھوئے اور دوبارہ اسی جگہ پرنالہ لگا دیا،
وقت کے حاکم کا یہ سلوک دیکھ کر سیدنا عباس نے مکان مسجد نبوی کو وقف کر دیا،

*أخرجه أحمد بن حنبل فی المسند، 1 / 210، الحديث رقم : 1790،*

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Waseem Park Nashtar Colony
Lahore