07/11/2022
ہجرت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اُم معبد (رض) خزاعیہ کے خیمے سے گزرے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا:
چمکتا رنگ، تابناک کشادہ چہرہ، خوش اخلاق، خوبصورت ساخت، متوازن پیٹ، سر کے بال بہ تمام و کمال، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر، چمکدار آنکھیں، لمبی گھنی پلکیں، رعب دار آواز، لمبی گردن، گھنی داڑھی، باریک باہم ملے ہوئے ابرو، چمکدار کالے بال، خاموش ہوں تو باوقار، دور سے دیکھنے میں سب سے بارونق و پُر جمال، قریب سے دیکھیں تو اور بھی حسین و جمیل اور شیریں کلام، بات واضح اور دو ٹوک، نہ مختصر نہ فضول، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں، درمیانہ قد، نہ طویل القامت کے اچھا نہ لگے، نہ کوتاہ قد کہ معیوب ہو، شگفتہ و تر و تازہ شاخ، خوش منظر، قابلِ قدر، رفقاء آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گرد حلقہ بنائے ہوئے،کچھ فرمائیں تو خاموشی سے سنتے ہیں، کوئی حکم دیں تو لپک کر بجا لاتے ہیں، مطاع و مکرم، نہ ترش رو نہ فضول گو
(زاد المعاد، مستدرک حاکم)
پشت مبارک رسول اللہ ﷺ
آپ ﷺ کی پشت مبارک ایسی صاف اور سفید ہے کہ گویا پگھلائی ہوئی چاندی ہے۔ دونوں شانوں مبارک کے درمیان ایک نورانی گوشت کا ٹکڑا ہے جو بدن شریف کے باقی اجزاء سے تھوڑا ابھرا ہوا ہے اسے مہر نبوت کہتے ہیں۔ کتب سابقہ میں آپ ﷺ کی علامات نبوت میں ایک یہ بھی مزکور تھی۔ حلیہ مبارک بیان کرنے والوں نے اس کی ظاہری صورت بیان کرنے میں کئی چیزوں سے تشبیہ دی ہے مثلاً کبوتر کے انڈے کے برابر گرہ گوشت کا ٹکڑا وغیرہ تا کہ لوگ سمجھ لیں۔ سچ پوچھو تو یہ ایک عظیم نشان ہے جس کی اصل حقیقت کو رب العزت اور محبوب رب العزت ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔
(سیرتِ رسول عربی ﷺ صفحہ نمبر208-209)
Prof Noori-uz-Zaman Noori
Assistant Professor and
Head of the Urdu Department
College for