18/06/2022
فبای آلای ربکما تکذبان
یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ
یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے یہ جلترنگ
یہ جھیلوں سے ہنستے ہوئے سے کنول
یہ دھرتی پہ موسم کی لکھی غزل
یہ سردی
یہ گرمی
یہ بارش
یہ دھوپ
یہ چہرہ
یہ قد
اور رنگ و روپ
درندوں چرندوں پہ قابو دیا
تجھے بھائی دے کر کے بازو دیا
بہن دی تجھے اور شریک سفر
یہ رشتے یہ ناطے یہ گھرانہ یہ گھر
کہ اولاد بھی دی دیئے والدین
ا ، ل ، م ، ق ، اور ، ع ، غ
یہ عقل و ذہانت شعور و نظر
یہ بستی یہ صحرا یہ خشکی یہ تر
اور اس پر کتاب ہدایت بھی دی
نبی بھی اتارے شریعت بھی دی
غرض کہ سبھی کچھ ہے تیرے لیئے
بتا کیا ، کیا تو نے میرے لئیے
02/10/2021
02/10/2021
18/09/2021
17/09/2021
28/08/2021
01/06/2021
22/03/2021
21/02/2021