Educational Consultants

Educational Consultants

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Educational Consultants, Educational consultant, Johar Town, Lahore.

15/04/2026

نیشنل ایجوکیشن اسمبلی
پاکستان کا پہلا سب سے بڑا علامتی تعلیمی پارلیمانی ادارہ
سیشن 2026 تا 2028 کے لیے
نیشنل ایجوکیشن اسمبلی
جناب محمد عرفان انجم صاحب
کو EDUCATIONIST MPA منتخب کر دیا گیا ہے
ترجمان نیشنل ایجوکیشن اسمبلی

12/04/2026

📢 Nawaz Sharif School of Eminence – Kamalia Campus میں نوکریوں کا سنہری موقع!

🎓 تعلیمی و نان ٹیچنگ اسٹاف کے لیے متعدد آسامیاں دستیاب
💼 پوزیشنز: پرنسپل، وائس پرنسپل، ٹیچرز، آئی ٹی ٹیچر، لیب اسٹاف، HR، اور دیگر
💰 تنخواہ: 30,000 سے 150,000 PKR تک
📍 لوکیشن: عارف والا کیمپس
📅 آخری تاریخ: 20 اپریل 2026

✨ اگر آپ تعلیم کے میدان میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو یہ بہترین موقع ہے!

📲 مکمل تفصیل اور اپلائی کرنے کے لیے QR کوڈ اسکین کریں

🔔 مزید ایسی جاب اپڈیٹس کے لیے ہمارا پیج ایجوکیشنل کنسلٹنٹ فالو کریں

12/04/2026

📢 Nawaz Sharif School of Eminence – Arifwala Campus میں نوکریوں کا سنہری موقع!

🎓 تعلیمی و نان ٹیچنگ اسٹاف کے لیے متعدد آسامیاں دستیاب
💼 پوزیشنز: پرنسپل، وائس پرنسپل، ٹیچرز، آئی ٹی ٹیچر، لیب اسٹاف، HR، اور دیگر
💰 تنخواہ: 30,000 سے 150,000 PKR تک
📍 لوکیشن: عارف والا کیمپس
📅 آخری تاریخ: 18 اپریل 2026

✨ اگر آپ تعلیم کے میدان میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں تو یہ بہترین موقع ہے!

📲 مکمل تفصیل اور اپلائی کرنے کے لیے QR کوڈ اسکین کریں

🔔 مزید ایسی جاب اپڈیٹس کے لیے ہمارا پیج ایجوکیشنل کنسلٹنٹ فالو کریں

12/04/2026

مذاکرات

یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور پیچیدہ سفارتی عمل ہے، اور اس کا آغاز عموماً اسی انداز سے ہوتا ہے کہ فوری طور پر اتفاقِ رائے نہیں ہو پاتا۔ یہ دراصل ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جہاں فریقین اپنے مؤقف واضح کرتے ہیں۔

اس کے بعد مذاکرات کے مزید مراحل آتے ہیں، جہاں باہمی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے “دے اور لے” کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں پیش رفت کی راہیں کھلتی ہیں، اور امید کی جا سکتی ہے کہ ان شاء اللہ کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔

ایسے نازک وقت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے قائدین کی حوصلہ افزائی کریں، ہر پلیٹ فارم پر ان کا ساتھ دیں تاکہ وہ بہتر حکمتِ عملی کے ساتھ اس عمل کو کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔

اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو اور پاکستان کو ہمیشہ امن و استحکام عطا فرمائے۔

صبح بخیر پاکستان 🌹🇵🇰

10/04/2026

‏اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں کون کون شامل ہوگا، تفصیلات ملاحظہ فرمائیں:
میزبان:
محمد شہباز شریف (وزیراعظم پاکستان)
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (آرمی چیف)
اسحاق ڈار (نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ)
امریکی وفد:
جے ڈی وینس (امریکی نائب صدر)
اسٹیو وٹکوف (وائٹ ہاؤس خصوصی ایلچی)
جیرڈ کشنر (سابق صدارتی مشیر)
بریڈ کوپر (سینٹ کام کے کمانڈر)
ایرانی وفد:
محمد باقر قالیباف (اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ)
عباس عراقچی (وزیر خارجہ)
مجید تخت روانچی (نائب وزیر خارجہ)

10/04/2026

معروف کالم نویس فرخ سلیم نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پاکستانیوں کو احساس بھی ہے کہ انہوں نے کیا حاصل کر لیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع کسی بھی ملک کی تاریخ میں ایک بار آتے ہیں، جہاں لاکھوں لوگوں کو ممکنہ جنگ سے بچایا گیا اور ایک بڑے عالمی اقتصادی جھٹکے کو روکا گیا۔

فرخ سلیم کے مطابق اس امن عمل میں پاکستان کا کردار نمایاں ہے اور “امن پر پاکستان کی انگلیوں کے نشان ہر جگہ موجود ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے، مگر افسوس کہ کچھ لوگ اس کو سراہنے کے بجائے اس میں خامیاں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے اور فریقین اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔


23/03/2026

کیا ہمارے بچوں کا مستقبل اتنا سستا ہے؟

جب بازار کھلے ہیں، کاروبار چل رہے ہیں، ہر طرف زندگی رواں ہے… تو صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند ہیں؟
یہ صرف اسکول نہیں، یہ لاکھوں خوابوں کی جگہ ہے جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہے ہیں۔

طلبہ کا وقت واپس نہیں آئے گا، ان کا نقصان کوئی پورا نہیں کر سکتا۔

حکومت سے درد بھری اپیل ہے:
خدارا تعلیم کو نظر انداز نہ کریں، تعلیمی اداروں کو محفوظ طریقے سے فوری کھولا جائے۔

کیونکہ اگر آج تعلیم رک گئی… تو کل پاکستان رک جائے گا۔



20/03/2026

🚨 بریکنگ نیوز 🚨
وزیراعظم کا عوام کے لیے بڑا عید تحفہ 🎉
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے اضافے کی سمری مسترد کر دی ❌⛽
عوام کے لیے بڑا ریلیف! مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امید 🙌

07/02/2026

جب موہاکس کی جنگ کا ذکر سامنے آتا ہے تو ابتدا میں یہ کسی افسانے جیسی محسوس ہوتی ہے، مگر یورپی تاریخ اور مغربی ذرائع اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ایک حقیقی اور نہایت فیصلہ کن معرکہ تھا۔ یہ وہ جنگ تھی جس میں ہنگری کا بادشاہ، اعلیٰ طبقے کے بے شمار افراد اور یورپ کی بڑی فوجی طاقت ایک ہی دن میں مٹ گئی۔ آج بھی ہنگری کے میدان اور اجتماعی قبریں اس سانحے کی خاموش گواہ ہیں۔
یہ معرکہ عام جنگوں جیسا نہیں تھا، بلکہ اس نے یورپ کی سیاسی اور فوجی سوچ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف منفی بیانیہ مضبوط ہوا اور تاریخ کو اس انداز میں لکھا گیا کہ فاتح کو بدنام اور شکست خوردہ کو مظلوم بنا کر پیش کیا جائے۔ “مردِ بیمار” جیسی اصطلاحات اسی ذہنیت کی پیداوار تھیں، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عثمانی طاقت اپنے عروج پر تھی۔
اس جنگ کا سبب اس وقت بنا جب سلطان سلیمان القانونی نے ہنگری کے حکمران کے پاس اپنا ایلچی روانہ کیا تاکہ سیاسی اور مالی معاملات طے کیے جا سکیں۔ ہنگری، جو اس وقت یورپی عیسائی طاقتوں کا مضبوط دفاعی مرکز تھا، پوپ کے دباؤ میں آ کر نہ صرف انکار پر آمادہ ہوا بلکہ سلطان کے سفیر کو قتل کروا دیا۔ اس واقعے نے جنگ کو ناگزیر بنا دیا اور پورا یورپ اس تصادم کے لیے تیار ہو گیا۔
عثمانی لشکر تقریباً ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھا، جس کے ساتھ بھاری توپ خانہ اور مضبوط بحری قوت موجود تھی۔ دوسری جانب یورپی اتحاد میں بیسیوں ریاستیں شامل تھیں، جنہوں نے دو لاکھ کے قریب گھڑ سوار میدان میں اتارے۔ ان میں بڑی تعداد ایسے سواروں کی تھی جو بھاری فولادی زرہوں میں ملبوس تھے اور ناقابلِ شکست سمجھے جاتے تھے۔
سلطان سلیمان القانونی نے ایک طویل اور صبر آزما مہم کے بعد ہنگری کا رخ کیا۔ راستے میں کئی قلعے فتح ہوئے، اہم دفاعی مراکز ٹوٹے اور آخرکار دونوں افواج موہاکس کے وسیع میدان میں آمنے سامنے آ گئیں۔ یورپی فوج کو اپنے زرہ پوش سواروں پر بڑا اعتماد تھا، جبکہ عثمانیوں کے لیے یہی سب سے بڑا چیلنج تھا۔
جنگ سے پہلے سلطان نے عبادت کی اور اپنے لشکر کو حوصلہ دیا۔ اس کے بعد فوج کو منظم حکمتِ عملی کے تحت مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ اگلی صف میں تربیت یافتہ دستے، پیچھے متحرک سوار اور آخری حصے میں توپ خانہ موجود تھا، جس کی قیادت خود سلطان کر رہے تھے۔
جب یورپی فوج نے بھرپور حملہ کیا تو عثمانی دستوں نے منصوبے کے مطابق مقابلہ کیا اور ایک مرحلے پر منظم انداز میں پیچھے ہٹ گئے۔ یورپی سواروں نے اسے کمزوری سمجھا اور پورے زور سے خالی میدان میں داخل ہو گئے، مگر وہ دراصل ایک مہلک جال میں پھنس چکے تھے۔ اسی لمحے عثمانی توپوں نے چاروں طرف سے آگ برسا دی۔
کچھ ہی وقت میں یورپی لشکر کا نظم ٹوٹ گیا۔ بھاگتی ہوئی فوج دریا کی طرف لپکی، جہاں بھاری زرہوں کے باعث ہزاروں سپاہی ڈوب گئے۔ میدان لاشوں سے بھر گیا اور وہ فوج جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔
اس معرکے میں ہنگری کا بادشاہ، کلیسا کے بڑے رہنما اور یورپ کے ہزاروں تربیت یافتہ سپاہی مارے گئے، جبکہ عثمانی نقصان نسبتاً کم رہا۔ فتح کے بعد سلطان سلیمان کی قیادت کو عالمِ اسلام میں سراہا گیا اور مختلف مقدس شہروں سے مبارک باد کے پیغامات موصول ہوئے۔
موہاکس کی جنگ نے ثابت کر دیا کہ عسکری طاقت کا غرور ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ یہ شکست یورپ کے لیے ایک ایسا زخم تھی جو صدیوں بعد بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ آج بھی یہ معرکہ تاریخ دانوں کے لیے بحث اور تجزیے کا موضوع ہے، اور مسلمانوں کے لیے یہ اپنی کھوئی ہوئی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم باب ہے۔

25/01/2026

ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ صاحب کے بڑے بھائی امان اللہ باجوہ
قضائے الہی سے وفات پا گئے ۔۔۔إنالله وإناإليه راجعون
اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے
Dr-Mutiullah Bajwa

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Johar Town
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 07:00 - 21:00
Tuesday 07:00 - 21:00
Wednesday 07:00 - 21:00
Thursday 07:00 - 21:00
Friday 07:00 - 21:00
Saturday 07:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 17:00