21/04/2025
برسی دادا سید صابر علی کاظمی ابن سید عاشق علی کاظمی المشہدی (سادات کاظمی فیروزپوری) المتوفی ۲۱ اپریل ۱۹۷۹ بروز ہفتہ ۔ مدفن کاظمی ہاوس بی بی پاکدامنٰ لاہور التماس سورۃ الفاتحہ۔
طالب دعا: سید مبشر علی کاظمی
23/08/2024
7 صفر المظفر 2024 مرکزی زیارت شبیہ تابوت شہزادہ علی اکبر علیؑ بی بی پاکدامن ؑ
خاکپائے اہلیبیتؑ: کاظمی برادران بی بی پاکدامن سلام علیہ
10/07/2024
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَبا عَبْدِاللّهِ الْحُسَيْنِ
23/04/2024
پاکستان کے معروف نسابہ و محقق
السید قمر عباس الاعرجی ہمدانی الحسینی صاحب، علم الانساب سے وابستہ نسابین و محققین اور سادات قبائل میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔
آپ کی آخری تصنیف القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل، اگست 2022ء میں اشاعت ہوئی ، مذکورہ کتاب سے قبل بھی آپ کی درج ذیل کتب انساب کی تحقیق کے حوالے سے عرب نسابین سے داد تحسین پاچکی ہیں۔
علم الانساب سے دلچسپی رکھنے والے سادات کرام کے لیے بہت معلومات لکھی گئی ہیں تاکہ سادات گھرانوں کی نوجوان نسل اپنے آباؤ اجداد کے نسب کی طرف راغب ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے اپنے قبائل کے انساب و شجرات پر کام کرسکیں۔
القمری فی انساب طالبین ، المعروف سادات قبائل ، کتاب کے حوالے سے سادات کرام نے بہت اچھا ریسپانس دیا، کتاب اشاعت ہونے کے بعد سادات نے حاصل کی اور کتاب کی ڈیمانڈ بڑھ گئی۔ جس کے پیش نظر النسابہ سید قمر عباس صاحب نے فیصلہ کیا کہ سادات کی آسانی کے لیے انساب پر مشتمل اپنی تمام تصانیف کی ایپ بنوائی تاکہ ہر گھرانہ میں علم الانساب کی کتب مفت پہنچا سکیں۔
نیچے دئیے گئے ایپ لنک کے ذریعے آپ درج ذیل کتب سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.shajra_sadaat.digital
1. القمری فی انساب الطالبیین المعروف سادات قبائل
2. روضہ الطالب فی اخبار آل ابی طالب
3. مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب علیہ السلام
4.کتاب المشجر من اولاد حسین الاصغر
5. رسالہ نسب نامہ سید علی ترمذی (المعروف پیر بابا رح
Shajra Sadaat - Apps on Google Play
17/04/2024
8 شوال، یومِ انہدامِ جنت البقیع
برآل سعود آل یہود لعنت بیشمار۔۔
22/06/2023
تقریظ ۔۔۔ رسالہ نسب نامہ سید علی ترمذی المعروف پیر بابا بونیری رح ۔۔۔ منجانب ۔ سید محسن رضا کاظمی الحمیدی
حرفِ چند
پاک و ہند اور ایران و افغانستان میں حضرت سید علی ترمذی المعروف پیر بابا بونیری رح کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ پاک و ہند میں اولیاء کاملیں کا شاید ہی کوئی ایسا تزکرہ ہو جس میں ان کا زکرِ خیر نہ ہو لیکن افسوس اتنی عظیم اور معروف شخصیت کے شجرہ نسب میں اس قدر اختلاف بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے ۔
بہرحال ہماری سمجھ کے مطابق اس اختلاف کے اسباب اور وجوہات درج ذیل ہیں ۔
حضرت اخون درویزہ رح آپ کے بلافصل خلفاء میں سے تھے بیشک ان کو پیر بابا رح کی صحبت کم میسر آئی اور بظاہر یہ اپنے اعتقادات میں قدرے متشدد بھی نظر آتے ہیں لیکن پیر بابا کے بلا فصل خلیفہ اور عاشقِ صادق ہونے کے ناطے ان کی بات کو پیر بابا رح کی اولاد میں ایک خاص مقام حاصل ہے ۔
اخون درویزہ نے اپنی کتاب تزکرة الابرار والاشرار میں پیر بابا رح کا شجرہ نسب امام مہدی بن امام حسن عسکری (ع) سے ملایا تھا جو نسابین و محققین کے ہاں انتہائی مضحکہ خیز بات تھی وہ اس لیے کہ امام مہدی بن امام حسن عسکری (ع) کی اولاد کا تزکرہ امہاتِ نسب میں کہیں نہیں ملتا اگر کسی اور قلمی شجرہ میں بھی امام مہدی (ع) سے منسوب شجرہ ملتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح ناقابل قبول ہے ۔
میں نے نسابین کے مختلف گروپس میں یہ پیغام کئی دفعہ شیئر کیا کہ ممکن ہے کہ اخون درویزہ رح نے اپنے مرشد کے نسب نامہ میں آئمہ اثنا عشر (ع) کے اسماء تبرکاً لکھے ہوں کیونکہ ہماری ہاں رواج ہے کہ جب حسینی ، جعفری یا کاظمی سادات جو بالترتیب امام زین العابدین ع ، امام جعفر صادق ع اور امام موسی کاظم ع کی اولاد ہیں یہ سادات جب شجرہ نسب لکھتے ہیں تو تبرکاً پورے بارہ آئمہ اطہار ع کے اسماء لکھ دیتے ہیں اور پھر اپنے جد اعلیٰ امام ع سے سلسلہ نیچے چلاتے ہیں اور اگر ہم دیکھیں تو انہی کے سلسلہ کبرویہ میں دعوات صوفیہ جو امیر کبیر شاہ ہمدان رح سے منسوب ہے اس میں جب امیر کبیر رح نے اپنا سلسلہ طریقت جو امام علی رضا ع سے ملتا ہے نقل فرمایا تو تبرکاً پورے بارہ آئمہ اطہار ع کا زکر فرما دیا اسی روش کو سید محمد نور بخش نے فقہ احوط میں اپنایا اور ساتھ وضاحت فرمائی کہ ہمارا سلسلہ امام علی رضا ع سے معروف کرخی کے واسطہ سے ہے باقی آئمہ اطہار ع کے اسماء تبرکاً لکھے گئے ہیں ۔ ہمارا ایک اور میسج جس کی وجہ سے کچھ دوست بظاہر سیخ پا بھی ہوئے کہ میں نے کہا کہ پیر بابا رح کے شجرہ نسب پر مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہم مل کر خلوص نیت کے ساتھ نئے سرے سے تحقیق کی جائے لیکن نئے سرے سے تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ ہم تزکرة الابرار والاشرار والی روایت کو سائیڈ پر رکھیں ورنہ تحقیق زیادہ موثر ثابت نہیں ہو گی وہ اس لیے کہ اگر ہم یہ مان جائیں کہ ان سے امام محمد مہدی ع سے شجرہ ملانے میں سہو ہوا ہے تو پھر باقی شجرہ نسب پر بھی تو غلطی کا امکان بدرجہ اتم موجود ہے ویسے بھی یہ شجرہ نسب مختلف خانوادہ ہائے سادات کے بزرگوں کا مکسچر لگ رہا ہے ۔
کیونکہ مستند مصادر کے مطابق ناصر خسرو ، جلال گنج العلم بغدادی اور سید محمد نور بخش وغیرہ سادات کی مختلف شاخوں سے ہیں ان کو کسی ایک شجرہ نسب میں بیٹا پوتا یا جد امجد کی حیثیت سے ثابت کرنا ناممکن و محال ہے لیکن بعض دوستوں نے اس بات کو اپنے خانوادہ پر طعن سمجھتے ہوئے اس کا بُرا منایا تو میں خاموش ہو گیا تاہم محدود افراد سے رابطہ جاری رکھا ۔
اور یہ بات بھی درست ہے کہ پیر بابا رح کی اولاد خود بھی اس شجرہ نسب پر مطمن نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ ہر کسی نے اپنی اپنی تحقیقات کے مطابق شجرہ نسب درست کرنے کی کوشش کی اور جدھر ان کا دل قدرے مطمن ہوا ادھر شجرہ جوڑ دیا ۔۔
ماضی قریب میں زیادہ تر سادات کا رجحان محمد بن امام علی نقی ع کی طرف بڑھا حالانکہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امہات نسب اور ابتدائی مصادر میں محمد بن امام علی نقی ع کی اولاد نہیں لکھی بلکہ بعض نے واضح لکھا کہ امام علی نقی ع کی اولاد صرف اور صرف امام حسن عسکری ع اور جعفر الزکی سے چلی جیسا کہ امام فخرالدین رازی رح اپنی مشہور زمانہ کتاب شجرة المبارکہ میں فرماتے ہیں
واتفقوا علی ان المعقب من اولادہ ابنان : الحسن العسکری الامام و جعفر الکذاب ۔ (شجرة المبارکہ ص ٧٨)
(اس پر اتفاق ہے کہ ان کی نسل دو فرزندان امام حسن عسکری ع اور جعفر سے ہی ہے)
بعض ثانوی مصادر میں محمد بن امام علی نقی ع کی اولاد لکھی جیسا کہ لباب الانساب اور تحفة الاظہار وغیرہ لیکن ان کی روایت خبر واحد ہونے کے سبب مستند کا درجہ نہیں پاتی اور اگر کوثر النبی میں مزکور بخارا کے سادات کا زکر دیکھا جائے تو غالب امکان یہی ہے کہ یہ خانوادہ جن کا زکر لباب الانساب اور تحفة الاظہار میں آیا ہے یہ در حقیقت امام زادہ جعفر الزکی کی ہی اولاد ہیں اور ان کو غلطی سے محمد بن امام علی نقی ع کی اولاد بنا دیا گیا ہے ۔ اگر ہم کچھ وقت کے لیے محمد بن امام علی نقی ع کو معقب مان بھی لیں تو پھر بھی مروج شجرہ ان کتب سے قطعاً مطابقت نہیں رکھتا ۔ بظاہر یہ روایت امام محمد مہدی بن امام حسن عسکری ع کے سب سے قریب ترین محمد نامی فرد ہونے کے سبب قیاساً معرض وجود میں آئی اور اس نے عوامی مقبولیت بھی حاصل کی لیکن خواص کے نزدیک یہ روایت درست نہیں تھی ۔ اس روایت کی تشہیر چند شہرت پسندوں نے کذب بیانی سے کی لیکن اس ترقی یافتہ دور میں جب کوئی چیز سوشل میڈیا کے ذریعہ عام لوگوں کی دسترس میں ہے تو ان لوگوں کی صریح خیانت اور علمی اوقات سب کے سامنے واضح ہو گئی ۔
جن اصحاب نے پیر بابا رح کو جعفر الزکی کی اولاد لکھا انہوں نے بھی بغیر قدیم حوالہ کے صرف احتمال کے سبب لکھا ویسے بھی امام مہدی ع کے بعد قریب ترین یہی خانوادہ (مطلب جعفر الزکی کی اولاد) بنتا ہے جن کے نسب پر طعن نہیں اور جعفر الزکی کی اولاد جاری ہونے پر تمام نسابین و محققین متفق ہیں لیکن درست اس لیے نہیں ایک تو بھاکری سادات نے خود سے کبھی ان کو اپنا ہم نسب نہیں لکھا اور نہ ہی مزید مستند کتب سے اس کی تائید ملتی ہے یہ پیر بابا رح کی اولاد میں سے محدود افراد کا دعوی تھا جس کی تائید کسی قدیم مستند دستاویز سے نہ ہو سکی اگر اس زمانہ میں کسی نے لکھا بھی ہے تو اس نے انہی کی روایت کو انہی کے ریفرنس سے نقل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی روایات وضع ہوئیں اور ان کا بنیادی سبب یہی تھا کہ دوسرے تو دوسرے پیر بابا رح کی اپنی اولاد بھی اولاد امام مہدی ع ، اولادِ امام حسن عسکری ع یا اولاد امام علی نقی ع ہونے پر مطمن نہیں تھی اور منصف محققین سرگرداں پھر رہے تھے ۔
اولادِ حسین الاصغر بن امام علی زین العابدین ع اور سید علی الہمدانی رح کی اولاد ہونے والی روایات پر ایک سرسری نظر :
میری معلومات کے مطابق عظیم مصلح سید جمال الدین افغانی رح پر افغانستان اور ایران کی جتنی بھی قدیم تحاریر ملتی ہیں ان میں ان کو حسینی سادات ہی لکھا گیا ہے نقوی نہیں لکھا گیا اگر فی زمانہ کسی نے نقوی لکھا بھی ہے تو اس نے پاکستانی چند مطبوعہ کتب کے ریفرنس سے ہی لکھا ۔ سید فاضل موسوی خلخالی زادہ نے شجرہ طیبہ اور سید ظفر یاب ترمذی نے انوارالسادات میں حسین الاصغر بن امام علی زین العابدین ع ہی کی اولاد لکھا یہ الگ بات ہے کہ یہ شجرات بھی مستند مصادر سے ثابت نہیں ہوتے تھے ۔
بہرحال سید حسن پشاوری اور سید شاہ محمد غوث رح (جو پیر بابا کے فرزند سید مصطفیٰ کے نواسے ہیں) کی روایت کہ پیر بابا رح کا تعلق اولادِ شاہ ہمدان رح سے ہے ہر لحاظ سے باقی روایات کے مقابل زیادہ مستند و معتبر ہے اور پھر اس کی تائید افغانستان کے قدیم شجرات سے ہو گئی ہے زمانہ کے اعتبار سے بھی یہ درست ہے ۔
ہمارے ہر دلعزیز دوست اور بھائی نسابہ سید مبشر علی کاظمی صاحب (بی بی پاک دامن سلام اللہ علیہا لاہور) جن کو میں کتب کا کھوجی کہتا ہوں کسی بھی کتاب کی تلاش ہو انکو بتائیں تو مختصر وقت میں کتاب نکال کر سامنے رکھتے ہیں انہوں نے مشہور نسابہ فتحی عبدالقادر ابوالسعود الرفاعی کی کتاب موسوعہ انساب آل البیت النبوی مہیا کی اس میں اسی خانواہ کا سلسلہ بابا سید علی الہمدانی سے ملا کر اوپر سلسلہ اسماعیل بن امام موسی کاظم ع سے ملایا گیا ہے اور النسابہ سید حسین ابو سعیدہ نے بھی مشجرالوافی میں ان سید علی الہمدانی کا سلسلہ اسماعیل بن امام موسیٰ کاظم ع سے ملایا ہے تاہم ہمارے نزدیک سید علی الہمدانی سے اوپر سلسلہ جو امام زادہ سید حسین الاصغر بن امام علی زین العابدین ع سے ملایا گیا ہے یہی معتبر و مستند ہے وہ اس لیے یہ شجرہ امیر کبیر کے بلا فصل خلیفہ جعفر بدخشی نے امیر کبیر رح کے ریفرنس سے لکھا ہے اور پاک و ہند کے تقریباً تمام خانوادہ نے اسی کو صحیح سمجھا ہے اور سراج الانساب میں بھی یہی نسب نامہ نقل ہوا ہے ۔
میں نسابہ سید قمر عباس الاعرجی الہمدانی ، سید پھول شاہ ترمذی ، سید ممتاز علی شاہ ترمذی ، سید ظفر علی شاہ ترمذی اور حافظ سید عاقب ترمذی کو اس محنت کی داد دیتا ہوں اور مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
میرا پختہ یقین ہے کہ ان کی اس مخلصانہ تحقیق میں ان کے بزرگوں خصوصاً پیر بابا رح اور امیر کبیر سید علی الہمدانی رح کی خصوصی نظرِ کرم اور اللہ تعالی کی مدد شامل ہوئی ہے تو یہ کامیابی ان کو ملی ہے ۔
والسلام
خادم العلماء والعرفاء سید محسن رضا کاظمی الحمیدی سیدانوالہ ضلع جہلم
06/06/2023
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سادات کرام
تحریر عنوان:
اصول النسابین فی انساب الطالبین
الحمدللہ شاہ شہابل فائونڈیشن کی جانب سے منفرد اور تحقیقی کام دلکش طباعت کے ساتھ علم الانساب کی تحقیقی اور جید کتاب القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں سادات کے انساب و شجرات لکھے گئے ہیں۔
ملک پاکستان کے معروف نسابہ،استاد المحققین السید قمر عباس الاعرجی ہمدانی الحسینی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس کتاب سے قبل بھی آپ کی کئی کتب انساب کی تحقیق کے حوالے سے عرب نسابین سے داد تحسین پاچکی ہیں۔
سادات کرام نے کتاب کے حوالے سے بہت اچھا ریسپانس دیا اور روز بروز اس کتاب کی مانگ میں اضافہ ہورہا ھے۔ سادات کی جانب سے مصنف کتاب و ناشرین کو تہنتی پیغام اور مبارک باد پیش کرنے اور حوصلہ افزائی کرنے پر ہم آپ سب سادات کے مشکور و ممنون ہیں۔
اس کتاب میں علم الانساب سے دلچسپی رکھنے والے سادات کرام کے لیے بہت معلومات لکھی گئی ہیں تاکہ سادات گھرانوں کی نوجوان نسل اپنے آباؤ اجداد کے نسب کی طرف راغب ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے اپنے اپنے قبائل کے انساب و شجرات پر کام کرسکیں۔
قارئین کرام اس کتاب میں نسابہ السید قمر عباس الاعرجی صاحب نے علم الانساب کے مطالعہ کے شائقین کے لیے اور علم الانساب سے وابستہ سادات کے لیے اس کتاب میں ایک مکمل باب ( اصول النسابین فی انساب الطالبین) لکھا اس باب میں 30 سے زیادہ اصول تحریر کیے اور ہر اصول کے لیے ھیڈنگ دی اور واضح اور سلیس تشریح کی ھے کتاب سے پہلی 9 ھیڈنگ درج ذیل ہیں جبکہ ان کی تشریح کتاب میں لکھی ھے ۔
1.نسابین اپنے شاگردوں کو کتابیں پڑھاتے تھے۔
2.عراقی نسابین کے مکتبے جو کہ انساب الطالبین کی بنیاد ہیں۔
کوفی نسابین
بصری نسابین
بغدادی نسابین
3.نسابین کا طریقہ کار
4.نسابین کہیں پر بھی نسب کی تحقیق کرتے تھے۔
5۔ نسابین خط کے ذریعے بھی معلومات حاصل کرتے تھے۔
6.نسابین اپنی لاعلمی کو نہیں چھپاتے تھے۔
7۔ مخصوص حالات میں میں نسب کے انکار اور اقرار کی نوعیت
8۔ روپوش کے سلسلے میں اگر کوئی شخصیت روپوش ہو جاتی ھے تو پھر اس کی اولاد کے بارے میں نسابین میں اختلاف ممکن ھے۔
9۔ جس کی خبر کسی تک نہ پہنچے اس کی اولاد کا ہونا ممکن ھے۔
القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل ( سادات کے انساب و شجرات پر مشتمل کتاب)
شاہ شہابل فاؤنڈیشن کے بانی و سرپرست اعلیٰ
پیر سید اعجاز حسین شاہ الحسینی الاعرجی سے اس واٹس ایپ نمبر 6667720 0300 پر رابطہ کرکے منگوائی جاسکتی ہے۔
31/05/2023
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سادات کرام
(اپڈیٹ 31 مئی 2023ء)
الحمدللہ شاہ شہابل فائونڈیشن کی جانب سے منفرد اور تحقیقی کام دلکش طباعت کے ساتھ منظرعام پر آ چکا ہے۔ علم الانساب کی تحقیقی اور جید کتاب شاہ شہابل فائونڈیشن کے پلیٹ فارم سے شائع ہوچکی ہے۔
ملک پاکستان کے معروف نسابہ،استاد المحققین السید قمر عباس الاعرجی ہمدانی الحسینی صاحب کی سادات قبائل پر مشتمل عمدہ تحقیق القمری فی انساب الطالبین المعروف سادات قبائل منظر عام پر آچکی ہے۔ نسابہ السید قمر عباس صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں،اس کتاب سے قبل بھی آپ کی کئی کتب انساب کی تحقیق کے حوالے سے عرب نسابین سے داد تحسین حاصل کرچکے ہیں۔
سادات آپ کو القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل ،کتاب کی اشاعت پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
قارئین کرام مذکورہ کتاب میں دنیا کے مختلف ممالک جن میں ایران۔ سعودی عرب۔ عراق۔ پاکستان۔ بھارت۔ یمن۔ عمان۔ کویت۔ بحرین۔ افغانستان۔ مصر ۔لبنان۔ آذربائیجان۔ ترکیہ۔ لیبیا۔ تیونس۔ مراکش۔ موریطانیہ۔ فلسطین۔ شام۔ جارجیا۔ کشمیر۔ الجزائر۔ اردن۔ تاجیکستان۔ کے سادات کا ذکر ہے۔
الحمدللہ جس دن سے کتاب القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل کے بارے سادات کی فرعیں / شاخیں لکھی گئیں ہیں پاکستان میں بسنے والے سادات کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کررہے ہیں اور انکے علاوہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی سادات کرام بھی اس کتاب کے بارے واٹس ایپ کے ذریعے مبارک باد / تہنتی پیغام بھجوا رہے اور کتاب حاصل کرنے کے بارے پوچھ رہے۔ ان شاءاللہ اس بارے بیرون ممالک میں پاکستانی سادات کے لیے کتاب کی ترسیل کے بندوبست کے بارے بھی مشاورت کرکے اگاہ کریں گے۔
مندرجہ بالا تحریر ہم نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر شئیر کی تھی ۔
اللہ پاک بطفیل اہلبیت علیہم السلام ، سادات کرام نے کتاب کے حوالے سے بہت اچھا ریسپانس دیا یعنی کتاب منگوانے کے لیے ہم سے رابطے کیے اور روز بروز ہمیں کتاب کے حصول کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں کے سادات کی طرف سے رابطے کیے جارھے ہیں ہم سب سادات کے ممنون و مشکور ہیں کہ آپ نے کتاب القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل کو پذیرائی بخشی۔
جو جو سادات ہم سے کتاب کے حصول کے لیے رابطے کررھے ہیں ہمارے ادارہ کے کارکن کتاب کی ترسیل کرنے میں مصروف ہیں اور آپ سب کو کتاب بروقت وصول ہوگی۔ ان شاءاللہ۔
بیرون ممالک سے کتاب کے حصول کے لیے جن سادات نے رابطے کیے اور ابھی بھی رابطے کررھے ہیں اس بارے ہم نے مشاورت کی ھے اور کتاب کی ڈلیوری چارجز کے بارے ریٹس معلوم کرکے آپ سادات کو جلد آگاہ کردیں گے اور بیرون ممالک میں بسنے والے سادات کے بھی مشکور و ممنون ہیں کہ آپ نے کتاب کے لیے رابطے کیے۔
کتاب القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل
شاہ شہابل فاؤنڈیشن کے بانی و سرپرست اعلیٰ
پیر سید اعجاز حسین شاہ الحسینی الاعرجی سے اس واٹس ایپ نمبر 6667720 0300 پر رابطہ کرکے منگوائی جاسکتی ہے۔
22/05/2023
*سادات ترمذی کے لئے بڑی خوشخبری!*
غوث سرحد،پیر خراسان سید علی ترمذی المعروف پیر بابا رحمۃ اللّٰہ ۔ کہ نسب پر اٹھاے جانیوالے اعتراضات جو مختلف ماہرین انساب محققین کیطرف سے اٹھاے جاتے رہے کئی سالوں کی محنت جو پیر خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر کہ ماہرین انساب محققین نیں مختلف ممالک کہ سفر کہ بعد عرب و فارس اور مملکت خداداد پاکستان کہ عظیم سپوت ماہر انساب مولف کتب کثیرہ محقق برادرم عزیز السید قمر عباس الاعراجی الھمدانی کی بہترین کاوش تحقیقی رسالہ جو طبع ہوچکا حاصل کرنے کہ لیے زیر نظر نمبرز پر رابطہ کیجیے شکریہ
رسالے کی قیمت *500* روپے ہیں۔
حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر پر ایزہ پیسہ اکاونٹ ہے۔
03462219114
نام سید عاقب شاہ
*پیر خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر*
20/05/2023
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سادات کرام
الحمدللہ شاہ شہابل فائونڈیشن کی جانب سے منفرد اور تحقیقی کام دلکش طباعت کے ساتھ منظرعام پر آ چکا ہے۔ علم الانساب کی تحقیقی اور جید کتاب شاہ شہابل فائونڈیشن کے پلیٹ فارم سے شائع ہوچکی ہے۔
ملک پاکستان کے معروف نسابہ،استاد المحققین السید قمر عباس الاعرجی ہمدانی الحسینی صاحب کی سادات قبائل پر مشتمل عمدہ تحقیق القمری فی انساب الطالبین المعروف سادات قبائل منظر عام پر آچکی ہے۔ نسابہ السید قمر عباس صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں،اس کتاب سے قبل بھی آپ کی کئی کتب انساب کی تحقیق کے حوالے سے عرب نسابین سے داد تحسین حاصل کرچکے ہیں۔
سادات آپ کو القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل ،کتاب کی اشاعت پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
قارئین کرام مذکورہ کتاب میں دنیا کے مختلف ممالک جن میں ایران۔ سعودی عرب۔ عراق۔ پاکستان۔ بھارت۔ یمن۔ عمان۔ کویت۔ بحرین۔ افغانستان۔ مصر ۔لبنان۔ آذربائیجان۔ ترکیہ۔ لیبیا۔ تیونس۔ مراکش۔ موریطانیہ۔ فلسطین۔ شام۔ جارجیا۔ کشمیر۔ الجزائر۔ اردن۔ تاجیکستان۔ کے سادات کا ذکر ہے۔
یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔
1. باب اول میں جید نسابین کے طبقات کو فی صدی تحریر کیا گیا ہے۔
2. باب دوئم میں دسویں صدی ہجری تک نسب کو محفوظ اور مدون کرنے والے نسابین کے درمیان باہم روابط اور ایک نسابہ سے دوسرے نسابہ تک کیسے قرن بہ قرن یہ علم پہنچا۔
3. باب سوئم میں نسب کو محفوظ کرنے میں نقابت کے کردار پر بحث کی گئی ہے اور نقباء کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔
4. باب چہارم میں علم الانساب کے اصول مکمل تفصیل کے ساتھ تحریر کیے گئے ہیں۔
5. باب پنجم میں سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد کی مکمل تفصیل کے ساتھ تحریر کیے گئے ہیں۔
6. باب ششم میں اولاد حضرت ابو طالب علیہ السلام کی تفصیل لکھی گئی ہے اور یہ باب اولاد حضرت امام حسن علیہ السلام تک لکھا گیا ہے۔
7. باب ہفتم میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
8. باب ہشتم میں حضرت عباس علمدار بن امام علی علیہ السلام کی اولاد کا ذکر کیا گیا ہے۔
9. باب نہم میں حضرت محمد حنفیہ بن امام علی علیہ السلام کی اولاد کا ذکر ہے۔
10. باب دہم میں حضرت عمرالاطرف بن امام علی علیہ السلام کی اولاد کا ذکر ہے۔
کتاب کو خالصتاً تحقیقی بنیادوں پر تحریر کرتے ہوئے مصادر کو مدنظر رکھ کر اور باحوالہ انساب کو مدون کیا گیا ہے۔
سادات کرام مذکورہ کتاب میں نسابہ السید قمر عباس الاعرجی الحسینی صاحب نے دنیا میں بسنے والے تمام سادات قبائل کی شاخوں کا ذکر کیا ہے اور بلخصوص درج ذیل شاخوں سے اولیاء اللہ کی اولادوں کا تذکرہ لکھا ھے امید ھے قارئین کرام اس کتاب کے مطالعہ سے سادات کے انساب و شجرات کو پڑھیں گے اور علم الانساب سے دلچسپی رکھنے والے علم دوست اس کتاب کو ایک نایاب و منفرد پائیں گے۔
👈۔سادات ہمدانی جعفری
👈۔سادات ہمدانی حسنی
👈۔سادات ہمدانی اعرجی
👈۔سادات رضوی برقع
👈۔سادات رضوی زید پوری
👈۔سادات رضوی سامانوی
👈۔سادات ترمذی
👈۔سادات دوکوھا ترمذی
👈۔سادات جعفری
👈۔سادات عریضی خوارزمی
👈۔سادات گردیزی
👈۔سادات شیرازی
👈۔سادات سبزواری
👈سادات حسینی ترمذی
👈۔سادات صفوی موسوی
👈۔سادات اسماعیلی موسوی
👈۔سادات جعفری موسوی
👈۔سادات حمزاوی موسوی
👈۔سادات لکیاری موسوی
👈۔سادات کنتوری موسوی
👈۔سادات کاظمی المشہدی
👈۔سادات غیاثیال مشہدی
👈۔سادات خراسانیال مشہدی
👈۔سادات عیسیال مشہدی
👈۔سادات فیروزیال مشہدی
👈۔سادات صغیرال مشہدی
👈۔سادات قاضیال مشہدی
👈۔سادات حسینیال مشہدی
👈۔سادات زینیآل مشہدی
👈۔سادات بخاری
👈۔سادات نقوی
👈۔سادات نصیرآباد سی نقوی
👈۔سادات گردیزی نقوی
👈۔سادات سرسوی نقوی
👈۔سادات نقوی بھاکھری
👈۔سادات حسنی
👈۔سادات حکیمی حسنی
👈۔سادات طباطبائی حسنی
مندرجہ بالا شاخوں کا تذکرہ لکھا گیا ہے اور ان کے علاوہ بہت سی شاخوں کا ذکر کتاب میں موجود ھے۔
کتاب القمری فی انساب طالبین المعروف سادات قبائل
شاہ شہابل فاؤنڈیشن کے بانی و سرپرست اعلیٰ
پیر سید اعجاز حسین شاہ الحسینی الاعرجی سے اس واٹس ایپ نمبر 6667720 0300 پر رابطہ کرکے منگوائی جاسکتی ہے۔
30/04/2023
السلام علیکم
یا علی ع مدد
موضع ملال بگلہ تحصیل دھیر کوٹ ضلع باغ کا مغل خاندان جو 1980 تک کے سرکاری ریکارڈ میں بھی مغل ہی لکھا ہے ۔ اہل علاقہ بھی انکو مغل ہی کہتے ہیں ارد گرد سادات میں کہیں بھی انکی رشتہ داری نہیں ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں دعوی سیادت کیا اور ایک پیشہ ور لکھاری سے اس کی کتاب انساب القبائل اکبریہ میں اپنا خود ساختہ شجرہ شامل کرا لیا جو بالکل غلط اور واضح منگھڑت ہے ۔ ان کا راہی سیداں کے مشہدی سادات سے کوئی تعلق نہیں ۔ اب انہوں نے محکمہ مال کے ریکارڈ میں بھی سید لکھوا لیا ہے ۔
انکو متنبٰی کیا جاتا اس دعوی باطلہ سے باز آ جائیں ۔ اللہ تعالی کے مجرم بھی نہ بنیں اور سادات کے بھی ۔ ورنہ انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور سادات کو بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ ان سے تعلق رشتہ داری سے پرہیز کریں ۔ کیونکہ یہی پھر رشتے دعوی سیادت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں ۔
منجانب ۔ مجلس خبرگان و تحفظ انساب کاظمیہ پاکستان