21/03/2025
امام علیؑ کا سلونی کا اعلان: ایک تحقیقی مطالعہ
تعارف:
تاریخ اسلام میں حضرت علی علیہ السلام کے علمی مقام کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ آپؑ نے کئی مواقع پر اپنے وسیع علم کو واضح کیا اور امت کو اس سے استفادے کی دعوت دی۔ ایک مشہور اعلان جو آپؑ نے متعدد مرتبہ فرمایا، وہ "سلونی قبل ان تفقدونی" (مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں) ہے۔
یہ تحقیق اس اعلان کے تاریخی تناظر، اس کے مختلف بیانات، راویوں اور معتبر مصادر میں اس کے ذکر کا جائزہ لے گی۔
تاریخی شواہد:
تاریخی روایات اور تاریخ کی گواہی کے مطابق، حضرت علیؑ نے یہ اعلان 14 مرتبہ کیا:
7 مرتبہ مدینہ میں
7 مرتبہ کوفہ میں
یہ صرف ایک علمی دعویٰ نہیں تھا بلکہ علمی دعوت تھی، جس میں حضرت علیؑ نے لوگوں کو براہ راست ترغیب دی کہ وہ ان سے ہر طرح کے سوالات کریں۔
حدیثِ سلونی کی مختلف عبارتیں:
یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے، جن میں سے چند مشہور عبارتیں درج ذیل ہیں:
"فَاسْأَلُونی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی" (مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں نہ رہوں)
"سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ" (مجھ سے پوچھو جس چیز کے بارے میں بھی چاہتے ہو)
"سَلُونِی قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلُونِی" (مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ تم مجھ سے سوال نہ کر سکو)
"سَلونی" (مجھ سے پوچھو)
یہ مختلف الفاظ ایک ہی بنیادی پیغام کی وضاحت کرتے ہیں: امام علیؑ نے اپنی علمی برتری کو ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو آزادانہ سوال کرنے کی دعوت دی۔
حدیث کے راویان:
یہ حدیث متعدد معتبر راویوں کے ذریعہ نقل ہوئی ہے، جن میں شامل ہیں:
عامر بن واثلہ
عبداللہ بن عباس
سلیم بن قیس ہلالی
اصبغ بن نباتہ
عبایہ بن ربعی
شیخ صدوق، شیخ مفید، اور دیگر معتبر محدثین نے اس روایت کو نقل کیا ہے، اور حاکم نیشاپوری نے عامر بن واثلہ کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
شیعہ مصادر میں ذکر
شیعہ مآخذ میں حدیثِ سلونی کو کئی مقامات پر نقل کیا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:
01-بصائر الدرجات
02-کتاب سلیم بن قیس ہلالی
03-الامالی (شیخ صدوق)
04-الارشاد (شیخ مفید)
05-نہج البلاغہ
یہ مصادر حضرت علیؑ کے علمی مقام کو واضح کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور سلونی کے اعلان کو امامؑ کی فکری و علمی برتری کی علامت قرار دیتے ہیں۔
نتیجہ:
حدیث "سلونی قبل ان تفقدونی" حضرت علیؑ کے علمی مقام اور ان کے وسیع علم کا واضح ثبوت ہے۔ تاریخی شواہد، مختلف بیانات، معتب
12/02/2025
غیبت کبریٰ میں شیعوں کے ذمہ داریاں
امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَ اَللَّهِ لَيَغِيبَنَّ غَيْبَةً لاَ يَنْجُو فِيهَا مِنَ اَلْهَلَكَةِ إِلاَّ مَنْ ثَبَّتَهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَى اَلْقَوْلِ بِإِمَامَتِهِ وَ وَفَّقَهُ فِيهَا لِلدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ فَرَجِهِ
خدا کی قسم امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت طولانی ہوگی اس زمانے میں وہی نجات پائے گا جسے اللہ امامت کے اعتقاد پے ثابت قدم رکھے اور امام کے جلدی ظہور کے دعا کی توفیق دے۔
کمال الدین، ج 2، ص 384
10/02/2025
حضرت شہزادہ علی اکبرؑ اِس قدر شفاعت کرے گے کہ امام حُسینؑ کی شفاعت کی نوبت ہی نہ آئے گی ،
( آیت اللہ کوھستانی )
( حوالہ : برقلہ پارسائی )
09/02/2025
شبیہ پیغمبر، شاگرد اباالفضل العباس، سکون قلب حسین، زینب کبری کا دلارا، امام حسین علیہ السلام کا نور عین، ام لیلی کا جگر گوشہ، یوسف بنی ہاشم، چودھویں کا چاند، پاسبان ولایت و امامت، پروردہ دست امامت و ولایت، مجاہد فی سبیل اللہ، محافظ دین اسلام، مدافع شریعت، نوجوان، ابوالحسن حضرت علی اکبر ابن الحسین علیہما السلام کی ولادت با سعادت کے پر مسّرت موقع پر تمام مومنین کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں
02/02/2025
🌙3 شعبان المعظم 🎉 جشنِ ولادت باسعادت 🎂 کریمِ کربلا طبیبِ فطرس وارثے انبیاء محسنِ دینِ اسلام مولا امام حُسین (ع) ابنِ علی (ع) تمام مومنین ؤ مومنات بلخصوص امامِ وقت مولا صاحب الزمان عج) کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہیں 💝🥰🙏🏻🎉💐
🎉🥰🍨🎂🙏🏻💫❤️🌹🚩
23/01/2025
*یزید کے باپ کا عرس منانے والوں کو دعوت فکر*
سُنّی پروفیسر : مولوی صاحب! یہ معاویہ بن ابو سفیان کون تھا؟
مولوی : جی وہ صحابی رسول اور کاتبِ وحی تھے۔
سُنّی پروفیسر : اچھا یہ وہی شخص ہے کہ جس کا آپ کی جماعت عرس مناتی ہے؟
مولوی : جی جی وہی ہیں!
سُنّی پروفیسر : یہ معاویہ کیا علانِ نبوتؐ کے فوراً بعد ایمان لے آئے تھے؟
مولوی : نہیں جی!
سُنّی پروفیسر : تو پھر دین کیلئے کفار کے کچھ مظالم سہے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ تو خود اُس وقت کفار میں شامل تھے۔
سُنّی پروفیسر : پھر پہلی ہجرتِ حبشہ میں شرکت کی ہو گی؟
مولوی : نہیں جی!
سُنّی پروفیسر : تو پھر دوسری ہجرتِ حبشہ میں شامل رہے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
سُنّی پروفیسر : تو پھر ہجرتِ مدینہ میں تو ضرور شامل ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ اُس وقت مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔
سُنّی پروفیسر : پھر جنگِ بدر میں تو ضرور مسلمانوں کی طرف سے لڑے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
سُنّی پروفیسر : جنگِ احد میں شہید ہوئے ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی!
سُنّی پروفیسر : کیا صلح حدیبیہ والوں میں شامل تھے؟
مولوی : نہیں جی! (اب مولوی صاحب تھوڑا گھبرانے لگے)
سُنّی پروفیسر : جنگِ خیبر اور یرموک میں لڑنے والوں میں شامل ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہاں بھی نہیں تھے۔
سُنّی پروفیسر : پھر فتح مکہ میں تو ضرور ہوں گے؟
مولوی : نہیں جی! وہ تو مسلمان ہی فتح مکہ کے بعد ہوئے تھے۔
سُنّی پروفیسر : یعنی اُس وقت جب اسلام غالب ہو چکا تھا؟
مولوی : (مشکل سے بولتے ہوئے) جی ہاں!
سُنّی پروفیسر : آپ کو معلوم ہے معاویہ کے اسلام لانے کے بعد کون سی وحی نازل ہوئی تھی؟
مولوی : جی نہیں معلوم!
سُنّی پروفیسر : آپ نے بتایا کہ معاویہ کاتبِ وحی تھے تو پھر آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کون سی آیات کی کتابت کی تھی؟
مولوی : جی مجھے نہیں معلوم! بس سن رکھا ہے کہیں پڑھا نہیں ہے!
سُنّی پروفیسر : یعنی آپ کے مطابق اسلام کے پہلے مشکل ترین اکیس سالوں میں معاویہ کہیں نہیں تھا؟
مولوی : جی ایسا ہی ہے!
سُنّی پروفیسر : تو پھر آپ کی جماعت اُن میں سے کسی کا عرس کیوں نہیں مناتی کہ جن کی اکیس سالہ محنت اور قربانیوں کی وجہ سے معاویہ کو مجبوراً ہی سہی مگر مسلمان ہونا پڑا؟
مولوی : جی یہ معاویہ کا عرس ہمارے حضرت صاحب مناتے ہیں اِس لیے ہم بس آنکھیں بند کر کے اُن کی پیروی کرتے ہیں!
سُنّی پروفیسر : کیا آپ کے حضرت
13/12/2024
26 بین الاقوامی دہشت گرد مسلح تجارتی دھڑوں نے شام پر بھی قبضہ کر لیا:
"اسرائیل" نے جنوبی شام پر قبضہ کر لیا،
ترکی نے شمالی شام پر قبضہ کر لیا۔
امریکیوں نے تیل/گندم کے کھیتوں پر قبضہ کر لیا۔
کردوں نے ملک کے ایک حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ اپنی ریاست قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کے ساتھ شام کے راستے ڈایپر آرمی "اسرائیل" کے ساتھ "اقتصادی" راہداری کھولنے کی بات ہو رہی ہے۔
شامیوں کے لیے کیا بچا ہے؟
05/12/2024
اے لوگو ! جان لو میں فاطمہؑ ہوں اور میرے باپ محمدؐ ہیں اب میں تمہیں ابتداء سے آخر تك كے واقعات اور امور سے آگاہ كرتى ہوں تمہیں علم ہونا چاہیئے میں جھوٹ نہیں بولتى اور گناہ كا ارتكاب نہیں كرتی اللہ تعالى نے تمہارے لئے پیغمبرؐ جو تم میں سے تھا بھیجا ہے تمہارى تكلیف سے اسے تكلیف ہوتى تھى اور وہ تم سے محبت كرتے تھے اور مومنین كے حق میں مہربان اور دل سوز تھے لوگو وہ پیغمبر میرے باپ تھے نہ تمہارى عورت كے باپ ، میرے شوہر كے چچازاد بھائی تھے نہ تمہارے مردوں كے بھائی كتنى عمدہ محمّدؐ سے نسبت ہے جناب محمدؐ نے اپنى رسالت كو انجام دیا اور مشركوں كى راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان كى پشت پر سخت ضرب وارد كى ان كا گلا پكڑا اور دانائی اور نصیحت سے خدا كى طرف دعوت دی بتوں كو توڑا اور ان كے سروں كو سرنگوں كیا كفار نے شكست كھائی اور شكست كھا كر بھاگے
خطبہ فدک سے اقتباس