17/03/2022
عنوان: افکار امامؒ کی نظریاتی بنیادیں
پوسٹ نمبر 3 (مبانی فکری اندیشہ ھائ امام خمینیؒ)
حوالہ :مشرب ناب نومبر دسمبر ۲۰۰۸
مولف: سید جواد نقوی
مذکورہ نظریات کا تنقیدی جا ئزہ
پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ تھا کہ انقلاب حالات کا نتیجہ تھا، حالات خودبخود ایسے رخ پر تھے اور اس نکتہ پر جا پہنچے کہ امام کیلئے ممکن ہو سکا کہ ان حالات سے استفادہ کریں ۔ یہ نظریہ بہت خام ہےاور یہ ایک انقلابی کا نظریہ ہے نہ دشمن انقلاب کا بلکہ یہ ایک تیسرے طبقے کا نظریہ ہے ، بیج کا ، لاتعلق طبقہ ، جس کا نہ انقلاب برپا کرنے میں کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ انقلابیوں کو ختم کرنے میں کوئی کردار ہوتا ہے ، یہ ایک طماشائی طبقہ ہوتا ہے جو کسی ماجرا کے نزدیک نہیں ہوتے اور واقعات کی تہہ میں نہیں اترتے ، بائر رہ کر تماشہ دیکھتے ہیں اور کچھ خبریں ان کی نظروں میں آجاتی ہیں ، جیسے گیم ہو رہی ہو ، کوئی ٹیم میدان میں کھیل رہی ہو اور یہ میدان کے بائر سے تماشہ دیکھ رہے ہوں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کھیل میں رونما ہون والا حادثہ کن عوامل کا نتیجہ ہے ؟اس کے پیچھے کتنے اسباب کارفرما ہیں ؟جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا ، یہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے تھے اور حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا تھا کہ یہ نتیجہ برآمد ہوا۔ اس نظریہ کے مطابق اس صورت میں جو لوگ تیز اور چالاک ہوتے ہیں وہ حالات سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور جو لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ااس نظریہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی علمی وزن نہیں ہے ، ایک اتنا بڑا آفاقی اور عالمی انقلاب رونما ہوا اور ہم کہیں یہ محض حالات کا ایک رخ تھا ، ایک دھارا تھا ، جو جا رہا تھا امام نے آگے بڑھ کر اس سے استفادہ کر لیا ، دوسرے لفظوں میں اس میں امام کا کوئی کردار نہیں تھا ، سوائے اس کے کہ ہوشیاری سے کام لیا اور بڑھ کر حالات سے فائدہ اٹھا لیا ۔یہاں تک کہ کسی دوسرے عنصر کا بھی کوئی کردار نہیں بنتا ۔
#سیدجوادنقوی،
#امامخمینیؒ،
#فکرامام،
#جامعةالعروةالوثقیٰ
، #اسلامِ_ناب
#انقلاباسلامی