افکار امام راحلؒ

افکار امام راحلؒ

Share

افكار امام خمینیؒ کی نظریاتی بنیادیں

17/03/2022

عنوان: افکار امامؒ کی نظریاتی بنیادیں
پوسٹ نمبر 3 (مبانی فکری اندیشہ ھائ امام خمینیؒ)
حوالہ :مشرب ناب نومبر دسمبر ۲۰۰۸
مولف: سید جواد نقوی
مذکورہ نظریات کا تنقیدی جا ئزہ
پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ تھا کہ انقلاب حالات کا نتیجہ تھا، حالات خودبخود ایسے رخ پر تھے اور اس نکتہ پر جا پہنچے کہ امام کیلئے ممکن ہو سکا کہ ان حالات سے استفادہ کریں ۔ یہ نظریہ بہت خام ہےاور یہ ایک انقلابی کا نظریہ ہے نہ دشمن انقلاب کا بلکہ یہ ایک تیسرے طبقے کا نظریہ ہے ، بیج کا ، لاتعلق طبقہ ، جس کا نہ انقلاب برپا کرنے میں کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ انقلابیوں کو ختم کرنے میں کوئی کردار ہوتا ہے ، یہ ایک طماشائی طبقہ ہوتا ہے جو کسی ماجرا کے نزدیک نہیں ہوتے اور واقعات کی تہہ میں نہیں اترتے ، بائر رہ کر تماشہ دیکھتے ہیں اور کچھ خبریں ان کی نظروں میں آجاتی ہیں ، جیسے گیم ہو رہی ہو ، کوئی ٹیم میدان میں کھیل رہی ہو اور یہ میدان کے بائر سے تماشہ دیکھ رہے ہوں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کھیل میں رونما ہون والا حادثہ کن عوامل کا نتیجہ ہے ؟اس کے پیچھے کتنے اسباب کارفرما ہیں ؟جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا ، یہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے تھے اور حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا تھا کہ یہ نتیجہ برآمد ہوا۔ اس نظریہ کے مطابق اس صورت میں جو لوگ تیز اور چالاک ہوتے ہیں وہ حالات سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور جو لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ااس نظریہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی علمی وزن نہیں ہے ، ایک اتنا بڑا آفاقی اور عالمی انقلاب رونما ہوا اور ہم کہیں یہ محض حالات کا ایک رخ تھا ، ایک دھارا تھا ، جو جا رہا تھا امام نے آگے بڑھ کر اس سے استفادہ کر لیا ، دوسرے لفظوں میں اس میں امام کا کوئی کردار نہیں تھا ، سوائے اس کے کہ ہوشیاری سے کام لیا اور بڑھ کر حالات سے فائدہ اٹھا لیا ۔یہاں تک کہ کسی دوسرے عنصر کا بھی کوئی کردار نہیں بنتا ۔
#سیدجوادنقوی،
#امامخمینیؒ،
#فکرامام،
#جامعةالعروةالوثقیٰ
، #اسلامِ_ناب
#انقلاباسلامی

29/01/2022

عنوان: افکار امامؒ کی نظریاتی بنیادیں
پوسٹ نمبر 4 (مبانی فکری اندیشہ ھائ امام خمینیؒ)
حوالہ :مشرب ناب نومبر دسمبر ۲۰۰۸
مولف: سید جواد نقوی
امیر المومنین ؑ کا اپنے آپ کو پہچنوانا ،اپنا تعارف اور پنے فضائل بیان کرنا اسی باب سے ہے ، خود نمائی کے باب سے نہیں ہے جو اخلاقی لحاظ سے یا بعض دیگر جہات سے مذموم ہے۔لیکن ایک رہبر کیلئے ضروری ہے کی اس کو پہچانا جائے آئمہ ؑ اور بعض انبیاء ؑ و بزرگان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ لوگ انہیں ہیچان نہیں سکے ، ان کی شخصیت کے اسرار ہر گز نمایاں نہیں ہو سکے انہیں نہ اپنی امت نے پہچانا نہ ہی دوسری امتوں نے مثال کے طور پر حضرت عیسی ؑ جو اللہ تعالی کا ایک سر بستی راز ہیں قرآن مجید نے متعارف کرایا ہے لیکن وہ مسیح جو قرآن مجید نے پیش کیا ہے اور وہ مسیح جسے دنیا نے سمجھا ہے ،ان دونوں شخصیتوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے ، اسی طرح بعض معصومین حتی غیر معصومین شخصیات کہ جنہیں نہ پہچاننے کی وجہ سے جو مقام دیا جاتا ہے ، ممکن ہے وہ بڑا ظلم ہو ، ان مظالم سے کہیں زیادہ بڑا ستم جوان کے جسم پر ڈھائے گئے ہیں ۔ اس کا شائد قرآن مجید میں بھی موجود ہے اور نہج البلاغہ میں بھی ہے ۔
نہج البلاغہ میں جہاں امام علی ؑ نےا پنا تعارف کرایا ہے ، وہیں اس ظلم کی طرف بھی اشارہ کیا ہے ،امام خمینی ؒ بھی فرماتے ہیں کہامیر المومنین ؑ تمام معصومین میں مظلوم ترین معصوم ہیں بعض بزرگ اساتید کا بھی یہی کہنا ہے کہ امیر المومنین ؑ ، سید الشہداء ؑ سے بھی زیادہ مظلوم ہیں اور کسی حد تک یہ بات صیح بھی ہے ، امیر المومنین ؑ نے ان مظالم کی نشاندہی کی ہے جو ان پر روا رکھے گئے ہیں ۔ ہم جن چیزوں کو ظلم سمجھتے ہیں شاید امیر المومنین ؑ اسے ظلم نہ سمجھتے ہوں ، ہمارے نزدیک حضرت پر سب سے بڑا ظلم اس وقت ہوا جب شب 19 رمضان میں لعین نے آپ کے سر اقدس پر شمشیر چلائی اور اس ضربت کے نتیجہ میں حضرت کی شہادت ہوئی، ہم اسے سب سے بڑا ظلم سمجھتے اور اس پر روتے ہیں ، اس پر ہمارا دل دکھتا ہے ، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہم اسی کو امیر المومنین ؑ پر سب سے بڑا ظلم سمجھتے ہیں ، لیکن خود امیر المومنین ؑ کی رای یہ نہیں ہے ، اس رای میں حضرت ہم سے متفق نہیں ہیں جس طرح اور بہت سی چیزوں میں امام اور ماموم میں فاضلہ ہے انھیں میں ایک ظلم بھی ہے کی آیا امام پر سب سے بڑا ظلم 19 رمضان کی شب کی ضربت تھی ؟ امام ؑ نے اس سلسلے میں کبھی بھی اظہار نہیں کیا کہ تاریخ میں ہمارے اوپر سب سے بڑا ظلم یہ تھا ، بلکہ اس کے برعکس علی ؑ نے اس واقعہ کے بعد کامیابی کا احساس کیا
فزت و رب الکعبہ
امام ؑ نے اس کو فوز اور کامیابی کہا ، اس کو اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل سے تعبیر کیا ۔غرض یہ کہ جسے ہم ظلم کہتے ہیں اس سے فقط ہماری ذہنیت کی ترجمانی ہوتی ہے نہ کہ علی ؑ کی ذہنیت کی ۔ علی ؑ کی نظر میں ظلم کا معیار کچھ اور ہے ،امام علی ؑ نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کوبیان کیا اور یہیں سے پہچانیں کہ وہ ظالمین کون تھے جنہوں نے علی ؑ کے حق میں ظلم کیا ، وہ نقاب پوش ظالم ، جہوں نے علی ؑ پر ظلم ڈھایا ہے متعدد طبقات میں سے ہیں پیچیدہ ، مرموز ، نقاب دار اور خوش قسمت ظالمین جنہیں اچھے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔
امام علی ؑ فرماتے ہیں "مجھے زمانے نے اتنا گرایا کہ میرا معاویہ سے مقابلہ کیا جانے لگا ، ایک انسان کو اس حد تک گرایا جائے ، یہ وہ ظلم ہے جس پر علی ؑ بھی نالاں ہیں ، اس پر علی ؑ بھی گریہ کناں ہیں شخصیت علی ؑ کو مجروح کیا گیا ، اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا کہ خلافت نہ ملنے پر آپ نے خاموشی اختیار کر لی 25 سال سکوت اختیار کیا لیکن شورائی خلافت میں اپنی عضویت کو اپنے ساتھ ناانصافی سمجھا شوری میں بیٹھنا آپ کے لئے زیادہ ناگوار تھا اسی لئے فرمایا " اللہ کی دہائی اس شوری کے ہاتھوں "۔
#سیدجوادنقوی،
#امامخمینیؒ،
#فکرامام،
#جامعةالعروةالوثقیٰ
، #اسلامِ_ناب
#انقلاباسلامی

28/01/2022

عنوان: افکار امامؒ کی نظریاتی بنیادیں
پوسٹ نمبر 3 (مبانی فکری اندیشہ ھائ امام خمینیؒ)
حوالہ :مشرب ناب نومبر دسمبر ۲۰۰۸
مولف: سید جواد نقوی

مذکورہ نظریات کا تنقیدی جا ئزہ
پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ تھا کہ انقلاب حالات کا نتیجہ تھا، حالات خودبخود ایسے رخ پر تھے اور اس نکتہ پر جا پہنچے کہ امام کیلئے ممکن ہو سکا کہ ان حالات سے استفادہ کریں ۔ یہ نظریہ بہت خام ہےاور یہ ایک انقلابی کا نظریہ ہے نہ دشمن انقلاب کا بلکہ یہ ایک تیسرے طبقے کا نظریہ ہے ، بیج کا ، لاتعلق طبقہ ، جس کا نہ انقلاب برپا کرنے میں کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ انقلابیوں کو ختم کرنے میں کوئی کردار ہوتا ہے ، یہ ایک طماشائی طبقہ ہوتا ہے جو کسی ماجرا کے نزدیک نہیں ہوتے اور واقعات کی تہہ میں نہیں اترتے ، بائر رہ کر تماشہ دیکھتے ہیں اور کچھ خبریں ان کی نظروں میں آجاتی ہیں ، جیسے گیم ہو رہی ہو ، کوئی ٹیم میدان میں کھیل رہی ہو اور یہ میدان کے بائر سے تماشہ دیکھ رہے ہوں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ کھیل میں رونما ہون والا حادثہ کن عوامل کا نتیجہ ہے ؟اس کے پیچھے کتنے اسباب کارفرما ہیں ؟جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونما ہوا ، یہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہی ایسے پیدا ہوگئے تھے اور حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا تھا کہ یہ نتیجہ برآمد ہوا۔ اس نظریہ کے مطابق اس صورت میں جو لوگ تیز اور چالاک ہوتے ہیں وہ حالات سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور جو لوگ سادہ لوح ہوتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ااس نظریہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی علمی وزن نہیں ہے ، ایک اتنا بڑا آفاقی اور عالمی انقلاب رونما ہوا اور ہم کہیں یہ محض حالات کا ایک رخ تھا ، ایک دھارا تھا ، جو جا رہا تھا امام نے آگے بڑھ کر اس سے استفادہ کر لیا ، دوسرے لفظوں میں اس میں امام کا کوئی کردار نہیں تھا ، سوائے اس کے کہ ہوشیاری سے کام لیا اور بڑھ کر حالات سے فائدہ اٹھا لیا ۔یہاں تک کہ کسی دوسرے عنصر کا بھی کوئی کردار نہیں بنتا ۔
دوسرا نظریہ :دوسرا نظریہ بھی پہلے نظریہ کی طرح کمزور ہے کہ یہ انقلاب اتفاق کا نتیجہ ہے اور کسی اور کی زندگی میں بھی یہ اتفاق ہو سکتا تھا ، اس زما نے میں کی طبعی حوادث کو بھی اتفاقی نہیں کہا جا سکتاتو یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے اجتماعی حوادث اور اجتماعی تحولات و تغیرات جو بین الاقوامی سطح کے ہوں ، بین الاقوامی سرحدوں سے جا ٹکرائیں اور بین الاقوامی مسائل پر اثر انداز ہوں ، محض اتفاق کا تنیجہ ہوں ۔ یہ بھی ایک خام نظریہ ہے اور کسی بڑے ذہن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ جیسا کہ پہلے نظریہ کے بارے میں ذکر کیا کہ یہ ایک طماشائی اور لاتعلق طبقے کا نظریہ ہے جو نہ تو انقلابی ہیں نہ دشمن انقلاب ، جو کسی چیز کے بارے میں بغیر سوچے سمجھے فی البدیہ نظریہ پیش کرتے ہیں ، اس طرح کے اتفاقات عقل انسانی کیلئے ناقابل قبول ہیں ۔
تیسرا نظریہ یہ کہنا کہ انقلاب ایک قدیمی نہضت کا نتیجہ ہے جو کئی سالوں سے جاری تھی اور اس زمانے میں آکر نکتہ اختتام کو پہنچی ، امام اس سلسلے کی آخری کڑی تھے ، درحقیقت اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جن شخصیات کے بارے میں تقدس اور احترام کے قائل ہیں انہیں بھی کسی نہ کسی طریقے سے اس میں شریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس عظیم انقلاب میں ان کا بھی کچھ سہم ہونا چاہئے ، گویا تاویل کرتے ہیں ، جسے طلباءکی زبان میں " بما لایرضی صاحبہ "کہا جاتا ہے کہ جن حضرات کو انقلاب میں داخل کرنے کیلئے اس قسم کی توجیہ کرتے ہیں وہ خود بھی اس پر راضی نہیں ہیں ، وہ کھل کر اس کی تردید کرتے ہیں کہ اس انقلاب میں ہمارا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ ممکن ہے انہی میں سے بعض اس حرکت کے مخالف بھی رہے ہوں ، سرے سے اس کے حق میں نہ رہے ہوں ۔پس یہ ایسے نظریات نہیں ہیں جن کی ہم توجیہ کر سکیں یا ان کے پیچھے کوئی دلیل موجود ہو یا پھر کوئی ایسی تحلیل یا منطقی شائد ہو جس پر اعتماد کیا جا سکے ۔
چوتھا نظریہ : بعض اساتید بزرگوار کا یہ نظریہ ہے کہ انقلابی فکر تو عام تھی لیکن انقلابی محرک فقط امام میں تھا ،یعنی دوسروں پر امام ؒ کا امتیاز یہ ہے کہ امام ؒ کے اندر انقلابی محرک پایا جاتا تھا ، یہ بات ایک حد تک درست ہے کیونکہ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر فکر تو پائی جاتی ہے لیکن اس فکر کو آگے بڑھانے یا اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ان کے اندر محرک نہیں ہوتا ، یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے لیکن یہ نظریہ اس اعتبار سے قابل قبول نہیں ہےکہ اس میں امام ؒ کا تنہا امتیاز یہی ہے یعنی امام فقط محرک میں دوسروں سے ممتاز ہیں اور محرک کے علاوہ فکر میں دوسروں کے مانند ہیں ۔
ہماری حقیر اور ناقض رائے میں امام ؒ کا امتیاز فقط محرک میں ہی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی امام ؒ کا امتیاز ہے اور وہ فکر اور نظریہ کا امتیاز ہے ، امام اپنی انقلابی فکر اور موج میں بھی دوسروں سے ممتاز ہیں ، محرک میں تو صد در صد دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں لیکن امامؒ اس سے پہلے مرحلے میں بھی ممتاز ہیں اور وہ فکری و نظریاتی مرحلہ ہے ، انقلاب درحقیقت اسی فکر اور نظریہ کا معلول اور نتیجہ ہے ۔
امامؒ اور دوسروں میں ہمیں فرق دیکھنا ہے تو ہم امام ؒ کے اس پیغام کو دیکھیں جسے شہید بزرگوار (عارف حسین حسینی ؒ )کی شہادت کی مناسبت سے امام ؒ نے صادر فرمایا ۔
اس پر غور کریں تو ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس پیغام کی کیا اہمیت ہے ؟اگر کوئی اور فقیہ اپنے وکیل یا نمائندئے کے لئے اسی قسم کا کوئی پیغام صادر کرے تو کیا ہم اس کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں گے ؟!دنیا میں فقہا و مراجع کے وکلاءاور نمائندے موجود ہیں،کیا ہم ان کی رحلت یا شہادت پر دیئے گئے ، پیغام کیلئے اتنی ہی اہمیت کے قائل ہوں گے ۔ ممکن ہے بعض افراد کے ذہن میں یہ بات آئے کہ اس پیغا م کی کیا اہمیت ہے ؟ اور اس میں ایسی کیا بات ہے ؟ جس کی وجہ سے اس کو اتنی اہمیت دی جائے ، یہ بھی دوسرے مجتہدین کے پیغامات کی مانند ایک پیغام ہے ۔اس بات کو سمجھنے کیلئے تھوڑی سی امام شناسی کی ضرورت ، اور امام کی شخصیت شناسی کی ضرورت ہے ،لیکن یہ بات مسلم ہے کہ شخصیت شناسی غیر از شخصیت پرستی ہے ۔ شخصیت کی شناخت کے بغیر شخصیت کو محور قرار دینا افکار ،نظریات ، منطق اور سوچ،راہ و مقصد اور ہدف و مرام کے بجائے فقط شخص سے متاثر ہو کر اسے محور بنانا شخصیت پرستی ہے لیکن شخصیت شناسی ایک الگ چیز ہے ۔ نہج البلاغہ میں ہم کثرت سے دیکھتے ہیں کہ امیر المومنین ؑ نے اپنی تعریف کی ہے ، اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پہچنوایا ہے ، یہ خود نمائی نہیں تھی بلکہ خود شناسائی تھی ،مختلف خطبات میں اپنے آپ کو پہچنوایا ہے مثلا خطبہ شقشقیہ کا آغاز ہی اپنی پہچان سے کیا ۔
لقد تقمص فلان و یعلم ان محلی منھا محل القطب من الرجی
جو جملات امیر المومنین ؑ نے اپنی توصیف میں بیان کیے ہیں اگر کوئی عام آدمی اس طرح کہتا تو ہم کہتے کہ یہ خود نمائی کر رہا ہے ،اپنی بڑائی بیان کر رہا ہے لیکن امیر المومنین ؑ کا بیان خود نمائی نہیں ہے، اس سے بڑھ کر اگر ہم قرآن مجید میں دیکھیں تو اللہ تعالی ٰ نے کس قدر توصیف کی ہے ،جسے دیکھ کر بعضوں نے کہا کہ خود نمائی دوسروں کیلئے جائز نہیں ہےمگر خدا کیلئے جائز ہے ، نہیں ایسا نہیں ہے ،خود نمائی استثناء پذیر نہیں ہے ، یہ اصلا خود نمائی نہیں ہے بلکہ خود شناسائی ہے یعنی اللہ تعالی ٰ نے مخلوق سے کہا کہ مجھے پہچانو مخلوق کے پاس پہچاننے کا ذریعہ نہیں تھا ، لہذا خود اپنی ذات کا تعارف کروایا اور اس حد تک تعارف کرایا جتنا مخلوق کیلئے ضروری تھا ۔
اسی طرح برگزیدگان خدا نمائیندگان اور سفر الہی جو خدا کی معرفت کا واسطہ ہیں ، انہوں نے بھی اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پہچنوایا ہے لیکن یہ خود نمائی نہیں تھی بلکہ خود شناسائی تھی اور یہ کام ان شخصیات کیلئے ضروری ہےجن کا وجود موثر ہے ، جن کا وجود ہدایت بشریت کیلئے ضروری ہے اور جن کی بشر کو اقتداء کرنی چاہیئے ، ان شخصیا ت کی شناخت بہت ضروری ہے اگر اُنہیں نہ پہچانا جائے تو اس میں بشریت کا نقصان ہے اگر کوئی ان کی شناخت نہیں کرتا اور ان کے اسرار سے آگاہ نہیں ہوتا تو وہ خود اپنی ذات کے اسرار سے پردہ اُٹھاتے ہیں تا کہ شاید کسی ایسے شخص تک یہ اسرار پہنچیں جو ان سے آگاہ ہوسکے اورانکی راہ کو اپنا سکے۔

#سیدجوادنقوی،
#امامخمینیؒ،
#فکرامام،
#جامعةالعروةالوثقیٰ
، #اسلامِ_ناب
#انقلاباسلامی
نظریاتی بنیادیں

27/01/2022

انقلاب اسلامی سے متعلق مختلف نظریات
امام راحلؒ کے اس عظیم کارنامے یعنی ایران کے اندر عظیم انقلاب کے رونما ہونے کے سلسلے میں کچھ رائج اور چند غیر رائج نظریات پائے جاتے ہیں ۔
پہلا نظریہ یہ ہے کہ ملک کے حالات نے اس انقلاب کو جنم دیا یعنی ایران کے سیاسی ، اجتماعی ، اقتصادی ، ملکی اور بین الاقوامی حالات ایسے بن گئے تھے اور ان حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا تھا کہ جن سے فائدہ اٹھا کر ایک انقلاب لایا جا سکتا تھا اور امام ؒ نے ان حالات سے فائدہ اٹھایا ۔
یہ ایک نظریہ ہے جسے عام طور پر پیش کیا جاتا ہےاور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہی حالات دوسروں کو بھی میسر ہوتے تو ایسا ہی انقلاب وہ بھی رونما کرتے اور آج امام کے مقام پر وہ بیٹھے ہوتے۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ انقلاب کاملا اتفاقی ہے اور بعض اتفاقات کا نتیجہ ہے ، بعض خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے حق میں مفید اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں ۔امام ؒ بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے جن کے زمانے میں ایسے واقعات رونما ہوئے ، لہذا یہ بھی ممکن تھا کہ اگر اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوتے تو انقلاب بھی وجود میں نہ آتا ۔
تیسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ انقلاب ،تاریخی اور قدیمی تسلسل کا ایک حصہ اور اس کا ایک طبیعی نتیجہ ہے ،زمانہ قدیم سے علماء نےزحمتیں کی تھیں میدان آمادہ کیا تھا اور ظاہر ہے کہ یہ عمل تدریجی طور پر ہوتا ہے ۔ زمانہ امام میں یہ تدریجی کوششیں نکتہ انتہا تک پہنچ گئیں ، سابقہ علماء اور دیگر بزرگان کی زندگی میں یہ کوششیں فقط جاری تھیں ،انتہا کو نہیں پہنچی تھیں ،پس یہ نظریہ بیان کرتاہے کہ انقلاب سابقہ کوششوں کاایک طبیعی نتیجہ ہے ۔
چوتھا نظریہ بعض اساتید بزرگوار کا ہے کہ انقلابی فکر پہلے سے لوگوں میں موجود تھی لیکن اس فکر کے پیچھے انقلابی محرک نہیں تھا اور یہ دو الگ نقطے ہیں کہ کسی کے اندر انقلابی فکر پائی جاتی ہو اور کسی کے اندر محرک بھی پایا جاتا ہو ۔ انقلابی فکر بہت لوگوں میں ہے لیکن صرف انقلابی فکر سے انقلاب برپا نہیں ہوتا ، جب تک اس کے پیچھے انقلابی محرک نہ آجائے ، ان بزرگ اساتید کی تعبیر کے مطابق انقلابی فکر رکھنے والوں پر امام کی بر تری یہ تھی کہ آپ کے اندر انقلابی فکر ہوتے کے ساتھ انقلابی محرک بھی موجود تھا ۔

#سیدجوادنقوی

20/01/2022

عنوان: افکار امامؒ کی نظریاتی بنیادیں
پوسٹ نمبر ۱ (مبانی فکری اندیشہ ھائ امام خمینیؒ)
حوالہ :مشرب ناب نومبر دسمبر ۲۰۰۸
مولف: سید جواد نقوی
امام کے خطبات ہوں یا تقاریر ، دستورات ہوں یا اقدامات چونکہ یہ سب ایک ہی بنیادی سوچ اور فکر کا نتیجہ ہیں، کسی حادثہ یا اتفاق کی بنیاد پر نہیں ہیں لہذا ان اقدامات اور پیغامات کی حقیقت و نوعیت سمجھنے کیلئے ضروری ہےکہ سب سے پہلے ہم امام کی اس فکر سے آشنا ہوں جو ان پیغامات کے قالب میں امتوں یا مختلف طبقات تک پہنچی یا پہنچائی گئی ہےاور کسی بھی فکر کی بذات خود کچھ نظریاتی بنیادیں ہوتی ہیں جس کو ہم یہاں "حضرت امام ؒ کے افکار کی نظریاتی بنیادیں " یا فارسی میں " مبانی فکری اندیشہ ای امام خمینی ؒ " سے تعبیر کر سکتے ہیں ۔اگر انسان پہلے ان نطریاتی بنیادوں سے آشنا ہو جائےپھر ان پیغامات کے معانی بھی سمجھ سکتا ہے اور ان کی تفسیر بھی کر سکتا ہے اور ان دستورات کو بھی حل کر سکتا ہے جسے اس رہبر عزیز نے اپنی زندگی میں وصیت نامہ کی شکل میں اپنے معنوی ، انقلابی اور دینی فرزندوں کے لئے ایک عظیم میراث کے طور پر چھوڑا ہے
#سیدجوادنقوی،
#امامخمینیؒ،
#فکرامام،
#جامعةالعروةالوثقیٰ
، #اسلامِ_ناب
#انقلاباسلامی
نظریاتی بنیادیں

ورلڈ - BBC Urdu - ’امریکہ عراق میں وہی چاہتا ہے جو اسے پاکستان میں حاصل ہے‘ 15/09/2014

http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/09/140915_khamani_us_fz.shtml

ورلڈ - BBC Urdu - ’امریکہ عراق میں وہی چاہتا ہے جو اسے پاکستان میں حاصل ہے‘ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں وہی کچھ چاہتا ہے جو اسے پاکستان میں حاصل ہے کہ جہاں چاہے اور جب چاہے گھس جائے اور اپنی مرضی سے بمباری کرے۔

14/09/2014
12/09/2014
12/09/2014


مخملی انقلاب کی 198 روشیں اور پاکستان کے موجودہ حالات

مخملی انقلاب کی 198 روشیں اور پاکستان کے موجودہ حالات
بہت اہم تجزیہ، ضرور سنئے اور شیئر کریں
استادِ محترم سید جواد نقوی(حفظہ اللہ)
یہ لیکچر جنوری 2013 کا ہے جب قادری صاحب پہلی مرتبہ ’’انقلاب‘‘ لانے کیلئے کینیڈا سے پاکستان آئے تھے۔

Photos 09/09/2014
04/08/2014

DUNIYA k uksane per RALLIYAN aor JALSEJALOOS nikalne walon aoor KHUDA k hukm ki ata_at mn gharon se nikalne walon aoor jaan se guzar jane walon mn farq....

24/07/2014

فرقہ!!

"سارے انسان فطرتاَ ایک امت تھے پھر سب آپس میں الگ الگ ہو گئے" سورۃ یونس، آیہ 19

تفرقہ اور گروہ بندیاں ایک غیر فطری عمل ہے جس میں انسان اپنی نفسانی خواہشات اور روحانی کمزوریوں کی بنا پر مبتلا ہو جاتا ہے۔ ھادی کا کام ہمیشہ سے تقسیم شدہ امتوں کو جھنجوڑنا اور فطرت کی طرف واپس پلٹانا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے جب بھی کسی تقسیم شدہ قوم میں ھادی نے انہیں گروہ بندیوں سے نکل کر خدا کی رسی کے گرد متحد کرنے کی اور امتِ واحدہ بنانے کی کوشش کی تو لوگوں نے اسی ھادی کو ہی ایک نیا گروہ بنانے کا الزام لگایا اور تعلیماتِ خدا اور اس پر چلنے والوں کو بھی اپنی طرح ایک گروہ ہی سمجھا جبکہ حقیقتاَ وہ لوگ گروہ بندیوں سے آزاد خدا کی رسی کے گرد جمع تھے۔ دنیا میں چاہے لاکھوں گروہ ہی کیوں نہ بن جائیں، ان میں سے ایک وہ واحد گروہ ہوگا جو اس تقسیم اور گروہ بندی سے آزاد ہوگا، وہ جو خدا کی رسی کے ساتھ منسلک ہو گا، اسے بھی باقی گروہوں کی طرح ایک گروہ سمجھنا سراسر حماقت ہے، یہ تو ایک عقلی منطق ہے آخر اسے سمجھنے میں کون سی مشکل ہے؟؟؟؟؟ 1400 سال پہلے تقسیم شدہ عرب نے یہی کہا کہ محمدﷺ ایک نیا دین لے کر آئے ہیں، مسلمانوں کا ایک گروہ وجود میں آیا ہے، جبکہ حقیقتاَ جناب محمدﷺ اس تقسیم شدہ اور بھٹکی ہوئی امت کو واپس فطرت کی طرف پلٹانے اور امت واحدہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ امام علیؑ نے بھی امت کو خدا کی رسی سے منسلک رکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نےامیر شام کے مقابلے کا ایک گروہ سمجھا، دشمنی کی اور کچھ نے دونوں کو ایک ایک گروہ اور انکی آپسی جنگ کا نام دے کر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اسی طرح انقلابِ اسلامی ایران باقی دنیا میں موجود مختلف نظاموں کی طرح ایک نیا نظام نہیں بلکہ تمام نظاموں کا انکار کر کے واپس فطرت کی طرف پلٹنے اور خدا کی رسی سے منسلک ہونے کا مظہر ہے۔ تفرقہ شدہ امت میں وہ لوگ جو تفرقے سے آزاد ہونا چاہتے ہیں اور خدا کی رسی کے گرد جمع ہیں اور باقی امت کو بھی اسی رسی کے گرد جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ قطعاَ کوئی نیا گروہ نہیں ہیں، خدارا اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، اور فرقوں اور اور خدا کی رسی کے گرد جمع افراد کو ایک ہی نظر سے نہ دیکھیں۔ یہی کام آج بھی ہو رہا ہے، 1800 اقسام کے گروہوں اور تنظیموں میں بٹی ہوئی امت کو اب کوئی ان گروہ بندیوں اور تفرقے سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے بھی ایک نیا گروہ بنانے کا الزام لگا کر باقی تمام گروہوں کی طرح ایک گروہ قرار دے دیا ہے اور اسکی مخالفت شروع کر دی ہے، واہ رے بصیرت!! بھئی اگر تفرقہ کے اتنا ہی خلاف تھے تو جو تنظیم آپ نے بنائی تھی، وہ بناتے ہوئے یہ خیال کیوں نہ آیا؟؟؟ جب ہدف ایک ہی تھا، منزل ایک ہی تھی، ملک وہی تھا، لوگ وہی تھے تو پھر کسی نئی تنظیم کا اعلان کیوں کیا تھا؟؟؟؟ چلو مان لیتے ہیں مسئولین کے نظم و ضبط اور امور کو ایک منظم طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک تنظیمی ڈھانچہ چاہئیے مگر اتنے تنظیمی ڈھانچے؟؟؟ اور وہ بھی اس طرح کہ ایک تنظیم کے لوگ دوسری تنظیم سے بات تک نہیں کرنا چاہتے؟؟؟؟؟ جب کوئی تنظیم راہِ ہدف میں رکاوٹ بن جائے، جب کسی تنظیم کا اپنا وجود ، وجودِ مکتب کے سامنے ایک بت کی حیثیت اختیار کر لے تو اس بت کو گرا ہی دینا چاہئیے۔ اور بت پرستوں کی تو یہ ہمیشہ سے روش رہی ہے کہ اگر انکے بت کے خلاف کوئی بات کی جائے یا کوئی قدم اٹھایا جائے تو وہ آپکی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Jamia Stop
Lahore