Gallery e Ahle bait

Gallery e Ahle bait Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gallery e Ahle bait, Religious school, Lahore.

19/09/2026

26/08/2026

تاریخ اسلام کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ فقہ جعفریہ کے بہت سے احکام جنہیں صدیوں تک بعض اہل سنت فقہاء نے بعید از عقل اور خلاف قیاس کہہ کر رد کیا، آج جدید سائنسی تحقیقات انہی احکام کو عین فطرت اور عقل کے مطابق ثابت کر رہی ہیں۔ آئمہ اہل بیت علیہم السلام کا علم چونکہ علم نبوت کا تسلسل تھا، وہ وحی الہی کے زیر سایہ گفتگو فرماتے تھے، اس لیے ان کے فرامین میں وہ حقائق موجود تھے جن تک عام انسانی عقل صدیوں بعد پہنچی
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ پانی جب کر کی مقدار کو پہنچ جائے تو نجاست گرنے سے نجس نہیں ہوتا۔ کلینی نے کافی میں روایت کی ہے کہ کر کی مقدار تقریباً 1200 عراقی رطل ہے جو تقریباً 384 لیٹر بنتی ہے۔
بعض فقہاء نے کہا یہ کیسی حد بندی ہے؟ پانی تو پانی ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، نجس تو نجس ہوگا۔
جدید مائیکرو بیالوجی نے ثابت کیا کہ پانی کی بڑی مقدار میں Self-Purification کی صلاحیت ہوتی ہے۔ WHO کی رپورٹس کے مطابق اتنی بڑی مقدار میں پانی میں بیکٹیریا اپنی تعداد برقرار نہیں رکھ پاتا، الٹرا وائلٹ شعاعوں اور آکسیجن کی کثرت سے وہ خود بخود ختم ہونے لگتے ہیں۔ آج سوئمنگ پول اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اسی اصول پر کام کرتے ہیں۔

امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ "برتن کے ٹوٹے ہوئے کنارے سے پانی نہ پیو کیونکہ وہاں شیطان بیٹھتا ہے"۔
اعتراض: اس پر کہا گیا کہ شیطان کا برتن سے کیا تعلق؟
آج سائنس کہتی ہے کہ برتن کے ٹوٹے ہوئے اور کھرچے ہوئے حصے میں خوردبینی دراڑیں پڑ جاتی ہیں جہاں صابن سے دھونے کے بعد بھی جراثیم اور بیکٹیریا محفوظ رہتے ہیں۔ امریکہ کی Food & Drug Administration آج ریسٹورنٹس کو ٹوٹے برتن استعمال کرنے سے منع کرتی ہے۔ امام نے شیطان سے مراد اسی نظر نہ آنے والے ضرر رساں جراثیم کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "انسان کے جسم میں 360 جوڑ ہیں۔"
بحار الانوار جلد 61 میں یہ روایت موجود ہے۔
قدیم اطباء اور فقہاء نے اس کا مذاق اڑایا کہ گنتی تو 200 سے زیادہ نہیں بنتی۔
سائنسی تصدیق: جدید Anatomy نے 2006 میں تحقیق کے بعد ثابت کیا کہ اگر چھوٹے چھوٹے جوڑوں جیسے کان کے اندر کے جوڑ اور ریڑھ کی ہڈی کے اندرونی مفاصل کو گنا جائے تو تعداد 360 ہی بنتی ہے۔ یہی حدیث اہل سنت کی کتب میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے - "إنه خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاثمائة مفصل"
یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے جسے آئمہ طاہرین نے فقہ میں باقاعدہ بیان کیا کہ اگر مکھی کھانے میں گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دو۔
کہا گیا کہ گندی مکھی میں شفاء کیسی؟
2002 میں سوئٹزرلینڈ اور 2014 میں برطانیہ کی یونیورسٹی آف نبراسکا کی تحقیق نے ثابت کیا کہ مکھی کے ایک پر پر بیکٹیریا ہوتے ہیں اور دوسرے پر اسی بیکٹیریا کا اینٹی بائیوٹک Antibiotic۔ جب مکھی کو ڈبویا جاتا ہے تو وہ اینٹی بائیوٹک مائع میں شامل ہو کر اسے محفوظ بنا دیتی ہے۔

امام علی علیہ السلام نے قرآن کی آیت "والارض بعد ذلک دحاھا" کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ نے زمین کو انڈے کی طرح بنایا ہے۔
اس وقت زمین کو چپٹی مانی جاتی تھی، اس قول کو فلکیات کے خلاف سمجھا گیا۔
سائنسی تصدیق: آج سائنس کہتی ہے زمین Perfect Sphere نہیں بلکہ Oblate Spheroid ہے یعنی شتر مرغ کے انڈے کی طرح، بالکل وہی لفظ جو امام نے استعمال کیا "دحا" یعنی شتر مرغ کا انڈہ۔
امام صادق(ع) فرماتے ہیں: ولا تنكحوا القرابۃ القريبہ فان الولد یخلق ضاوی یعنی "نزدیکی رشتہ داروں سے
شادی مت کرو کیونکہ اس سے ضعیف اولاد پیدا ہوتی ہے"۔
یہ روایت شیخ طوسی نے نہایۃ الاحکام میں، علامہ حلی نے تذکرۃ الفقہاء میں، شہید ثانی نے مسالک الافہام میں، اور شیخ یوسف بحرانی نے حدائق الناظرہ میں نقل کی ہے۔ آيت اللہ مکارم شیرازی نے بھی اپنی ایک استفتاء میں اس روایت سے استدلال کیا ہے اور نہایت قریبی شادیوں میں کراہت کے قائل ہوئے ہیں۔
اس پر کہا گیا کہ قرآن و حدیث میں کوئی ممانعت نہیں اور شیعہ مکتب فکر خود حدیثیں گھڑ لیتا ہے ان رشتوں کو حرام قرار دے رہا ہے جو اللہ نے حلال کیے ہیں
اب جدید سائنس نے معذوری کا سبب کزن میرج کو قرار دیکر سب کا یقین اس پر کامل کر دیا

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں۔
اسی طرح:
• حالت جنابت میں زیادہ کھانا کھانے سے منع کرنا اور آج سائنس کا یہ کہنا کہ اس حالت میں میٹابولزم سست ہوتا ہے۔
• قیلولہ (ظہر کے وقت تھوڑی دیر سونا) کا حکم جو آج NASA اور Harvard میڈیکل سکول دل اور دماغ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
• طاعون کے علاقے سے نہ نکلنے کا حکم جسے آج Quarantine کہا جاتا ہے۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے بہت سے فقہی احکام جیسے:
• گوشت کھانے کے بعد وضو کے بغیر سونے کی کراہت
• کھڑے پانی میں پیشاب کی حرمت •
عورتوں کے لیے مخصوص ایام میں نماز روزہ کی معافی
یہ سب آج ہمیں صرف تعبدی لگتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے وہ طبی، نفسیاتی اور حیاتیاتی حکمتیں پوشیدہ ہیں جن تک سائنس آہستہ آہستہ پہنچ رہی ہے۔

جس طرح کل تک کر کے پانی اور 360 جوڑوں کو غلط کہا جاتا تھا اور آج درست مانا جاتا ہے، اسی طرح انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب لیبارٹریاں آئمہ کے باقی فرامین جیسے نجاسات عشرہ کی حقیقت، استبراء کی مدت، اور بہت سے محرمات کی سائنسی وجوہات کو بھی تسلیم کر لیں گی۔ کیونکہ فرمان معصوم وقت کا محتاج نہیں، وقت فرمان معصوم کا محتاج ہے۔

اگر مولوی کی اور موجودہ جنریشن کی حجت یعنی سائنس ترقی کر رہی ہے اور چیزوں کی حقیقت تک پہنچنے کی سعی کر رہی ہے تو اس کا غصہ ہم پر اور علوم آل محمد پر مت نکالیں ، ہماری چودہ سو سالہ کتب میں جو چیزیں درج ہیں ان کو اپنی سائنس کی تحقیق سے غلط ثابت کریں ہم اس کو بھی علمی اور عملی کاوش سمجھیں گے تاہم تب تک کہ جب تک ہمارے پاس پہنچا طاہر علم ، علل و اسباب غلط ثابت نہیں کر سکتے تب تک اس کو توہم پرستی کہنے کی ضد چھوڑ دیں

ایک حدیث مزید پیش کر رہا ہوں کہ
مولا کے فرمان کے مطابق دوران ازدواج عورت کے اعضاء مخصوصہ کو دیکھنے سے اولاد آندھی پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ، سو اس احتیاط کو بھی ملحوظ رکھ کر آپ اور میں اپنی اولاد کو دنیا دیکھنے کی خدائی آسائش سے محروم ہونے سے بچا سکتے ہیں

والسلام
نجم الحسن نجمی

31/07/2026

لفظ اللہ کی تشریح بزبان مولانا
طالب جوہری

15/07/2026

راز دارِ رسولؐ

مدائن عراق کا قدیم ترین شہر ہے، مدائن میں چار ہستیاں آرام فرما رہی ہیں، صحابیِ رسولؐ حضرت سلمان محمدیؓ(سلمان فارسی) ، صحابیِ رسولؐ حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت طاہر بن امام محمد باقرؑ ، حضرت عبداللہ بن جابر انصاریؓ۔

صحابی جلیل القدر حضرت حذیفہ بن یمانؓ پہلے دریائے دجلہ کے کنارے دفن تھے، دریا کا پانی آنے کی وجہ سے قبر میں پانی آنے لگا تو اہلِ مدائن نے آپ کا جسد مبارک وہاں سے نکال کر حضرت سلمان محمدیؓ کےقریب منتقل کیا۔ آج بھی ان ہستیوں کی زیارت کو جائیں تو وہاں دیوار پہ اس زمانے کی ایک بڑی سی بلیک اینڈ وائٹ تصویر نصب کی گئی ہے جب حضرت حذیفہ بن یمانؓ کا جسد مبارک ایک بڑے جلوس کی شکل میں انتہائی عزت و احترام سے یہاں منتقل کیا جارہا تھا۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ اور ان کے والد حسل بن جابرؓ اوئل عہدِ نبویؐ میں اسلام میں داخل ہوئے، آپ کے والد کا نام حسل تھا لیکن یمنی ہونے کی وجہ سے یمان کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ دونوں باپ بیٹا نے جنگِ احد میں حصہ لیا اور جوانمردی سے لڑے۔ آپ کے والد احد میں شہید ہوگئے۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ بہت سے خصوصیات کے مالک تھے۔ نبی کریمؐ کا یہ طریقہ رہا کہ وہ اپنے اصحابِ کرام کو ان میں موجود خصوصیات سے جانچ لیتے تھے اور پھر اس خوبی کے لحاظ سے ان کو ذمہ داری سونپتے تھے۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ انتہائی صابر اور پرسکون طبیعت کے مالک تھے، انتہاء کے بہادر اور دلیر شخصیت کے مالک تھے، نبی کریمؐ کے قریب ترین رہنے والے اصحابؓ میں سے تھے ، آپ کی ایک خوبی یہ تھی جو ہر زبان زد عام تھی کہ آپ کسی کا بھی راز عیاں نہیں کرتے تھے، یہی وجہ کہ آقا کریمؐ نے آپ کو کچھ منافقین کے نام بتائے تاکہ آپ خاموشی سے ان منافقین کی سرگرمیوں پہ نظر رکھیں۔ نبی پاکؐ کے بعد ان منافقین میں سے کوئی مر جاتا تو حضرت حذیفہؓ اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوتے تھے۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ نبی کریمؓ کے بعد آپ کی اہل بیتؑ سے متمسک رہے، امام علیؑ کے محبان میں سے تھے، حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد امام علیؑ کی بیعت کرنے والے پہلے چند افراد میں سے تھے، ابتدائی دورِ خلافت حضرت علیؑ میں 28 محرم الحرام کو آپ نے وفات پائی اور آپ مدائن میں دفن ہوئے۔

لاکھوں درود و سلام ہوں نبی پاکؐ کے صحابہ کرامؓ پہ۔

12/07/2026
خطبہ امام زین العابدینؑ (دربارِ یزید، دمشق)امام علیہ السلام نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اپنے تعارف اور فضائلِ اہل بیتؑ پ...
12/07/2026

خطبہ امام زین العابدینؑ (دربارِ یزید، دمشق)
امام علیہ السلام نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد اپنے تعارف اور فضائلِ اہل بیتؑ پر مبنی یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے:
أَيُّهَا النَّاسُ! أُعْطِينَا سِتّاً وَ فُضِّلْنَا بِسَبْعٍ: أُعْطِينَا الْعِلْمَ، وَ الْحِلْمَ، وَ السَّمَاحَةَ، وَ الْفَصَاحَةَ، وَ الشَّجَاعَةَ، وَ الْمَحَبَّةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ. وَ فُضِّلْنَا بِأَنَّ مِنَّا النَّبِيَّ الْمُخْتَارَ مُحَمَّداً، وَ مِنَّا الصِّدِّيقُ، وَ مِنَّا الطَّيَّارُ، وَ مِنَّا أَسَدُ اللَّهِ وَ أَسَدُ الرَّسُولِ، وَ مِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ.
أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَ مَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي أَنْبَأْتُهُ بِحَسَبِي وَ نَسَبِي:
أَنَا ابْنُ مَكَّةَ وَ مِنى‏، أَنَا ابْنُ زَمْزَمَ وَ الصَّفَا... أَنَا ابْنُ مَنْ أُسْرِيَ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصى‏... أَنَا ابْنُ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى... أَنَا ابْنُ عَلِيٍّ الْمُرْتَضَى... أَنَا ابْنُ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ، أَنَا ابْنُ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ...
أَنَا ابْنُ الْمُرْمَلِ بِالدِّمَاءِ، أَنَا ابْنُ ذَبِيحِ كَرْبَلَاءَ...
خطبے کا اردو ترجمہ و مفہوم
"اے لوگو! خدا نے ہمیں چھ (۶) خصوصیات سے نوازا ہے اور سات (۷) فضیلتوں کے ذریعے ہمیں دوسروں پر برتری دی ہے: ہمیں علم، حلم (بردباری)، سخاوت، فصاحت، شجاعت اور مومنوں کے دلوں میں ہماری محبت عطا کی گئی ہے۔ اور ہماری فضیلت یہ ہے کہ نبیِ مختار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے ہیں، صدیقِ اکبر (امام علیؑ) ہم میں سے ہیں، جعفرِ طیار ہم میں سے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے شیر (حضرت حمزہ) ہم میں سے ہیں، اور اس امت کے دونوں سبط (حسنؑ و حسینؑ) ہم میں سے ہیں۔"
"اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے، اور جو مجھے نہیں جانتا میں اسے اپنے حسب و نسب کا تعارف کرواتا ہوں:"
"میں مکہ و منا کا بیٹا ہوں، میں زمزم و صفا کا بیٹا ہوں... میں اس ہستی کا بیٹا ہوں جنہیں راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصٰی لے جایا گیا (یعنی رسولِ خدا کا نواسہ ہوں)... میں محمدِ مصطفیٰ کا بیٹا ہوں، میں علیِ مرتضیٰ کا بیٹا ہوں، میں فاطمہ زہرا کا بیٹا ہوں جو دنیا کی تمام خواتین کی سردار ہیں..."
"میں اس کا بیٹا ہوں جو خاک و خون میں تڑپایا گیا، میں کربلا کے ذبیح (جسے پیاسا ذبح کیا گیا) کا بیٹا ہوں..."
أَنَا ابْنُ مَنْ بَكَتْ عَلَيْهِ جِنَّانُ السَّمَاءِ
ترجمہ: "میں اس کا بیٹا ہوں جس پر آسمان کے ملائکہ اور جنتیں روئیں۔"
(یہاں لفظ 'جِنَّان' جنت کی جمع کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے اور کچھ روایات میں یہ 'ملائکہ' یا 'مخلوقاتِ سماوی' کے معنی میں آتا ہے جنھوں نے امام حسینؑ کی مظلومیت پر گریہ کیا)۔
أَنَا ابْنُ مَنْ نَصَرَهُ الطَّيْرُ فِي الْهَوَاءِ
ترجمہ: "میں اس کا بیٹا ہوں جس کی نصرت (اور عزاداری) فضا میں پرندوں نے کی۔"
طالب دعا

07/07/2026

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gallery e Ahle bait posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share