Read Quran With The Translation

Read Quran With The Translation

Share

Online Quran academy here contact now

23/08/2024

کریڈٹ کی مصیبت۔
اھم فیصلے پرخلوص دل سے مبارک باد
کریڈٹ لینے کی کوششوں سے اجتناب لازم ھے۔ اللہ دیکھ رھا ھے اس کے ھاں جس جس کا کریڈٹ بنتا ھے وہ دے گا۔ خود کو اس سے بچانے کی کوشش کرین۔۔ ایک دوسرے کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں ۔۔۔۔ حق سچ کی فتح سب کو مبارک۔۔۔۔

11/06/2024

یا رسول اللہ
غم کے ماروں کا آسرا تم ہو
کائنات روشن ہے
چاند تاروں کا آسرا تم ہو۔۔۔

09/06/2024

جیویں درد ونڈدا
مدینے دا والی
ایویں درد کہیں تو
ونڈائے نہیں جاندے

15/05/2024

پھلاں دا تو عطر بنا
عطراں دا تو کڈھ دریا
دریا وچ فر رج کے نہا
مچھیاں وانگوں تاریاں لا
فر وی تیری ،بو، نہیں مکنی
پہلے اپنی میں مکا

03/05/2024

عمر بڑھنے سے اور کیا ہوگا
بس دکھوں نے طویل ہونا ہے

03/05/2024

*سنی طلباء کا غیر مقلد مولویوں سے مناظرہ*

ایک گاؤں میں غیر مقلدوں وہابی کا جلسہ ہورہا تھا ،
بڑا شور اور ہنگامہ تھا ،
اہل حدیث کانفرنس کے بڑے بڑے اشتہارات تو لگےہوئے تھے ۔۔۔۔۔
مگر اشتہار بازی کے باوجود شرکاء کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی،،
ہوتی بھی کیسے ۔۔۔۔۔۔ ؟
اس فر قہ سے وابستہ لوگ ہی ہمارے ملک میں کتنے ہیں ۔۔۔۔۔ ؟
وہاں لگے ہر اشتہار میں یہ بات نمایاں طور پر لکھی گئی تھی کہ اس کانفرنس میں سوال و جواب کا کھلا شیشن ہوگا ۔۔۔۔۔ اور علمائے اہل حدیث قرآن و سنت کی روشنی میں ہر سوال کا جواب دیں گے ۔۔۔۔
سوال و جواب کا وقفہ شروع ہوا ، غیر مقلد مولویوں کے ذریعے بڑے پر زور دعوے کیے جا رہے تھے کہ وہ تمہیں "ہدایہ" سے مسائل بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "بخاری" سے بتائیں گے
وہ تمہیں "قدوری" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ترمذی" سے بتائیں گے
وہ تمہیں "بہار شریعت" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ابو داؤد" سے مسائل بتائیں گے ۔۔۔۔۔
ہمارے نزدیک قرآن و حدیث سے بڑھ کر کوئی کتاب نہیں ، ہم بس قرآن حدیث کو مانتے ہیں ، دنیا میں صرف اہل حدیث جماعت ہی وہ جماعت ہے جس نے ہر مسئلہ میں قرآن و حدیث سے ہی استفادہ کیا ہے .....
غیر مقلدوں کی اس کانفرنس کا اعلان ہوتے ہی چند سنی طلباء نے یہ تیاری کر لی تھی کہ کس طرح اسٹیج پر جاکر علمی سوالات کے ذریعے سوال و جواب کا کھلا سیشن کرنے والوں کو بتا یا جائے کہ ہر سوال کا جواب قرآن اور حدیث کے دلائل سے دینے کی ان کی اوقات ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
اسی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ طلبا اسٹیج کے قریب اس مقام پر پہنچے ، جسے سوال کرنے والوں کے لیے مختص کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
سنی طلباء کو دیکھ کر غیر مقلدوں نے اس نیت سے ان کی آو بھگت کی کہ ان طلباء کو گمراہ کرنے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ ؟ یہی وجہ تھی کہ منتظمین نے ان طلباء کی مسلکی شناخت ظاہر کرتے ہوئے انہیں سوالات کرنے کا بھرپور موقع دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ۔۔۔۔۔ جس سے اس کانفرنس میں موجود لوگوں کا تجسس بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
یہ موقع پاتے ہی پہلے سنی طالب علم نے غیر مقلد مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ بھینس کو عربی زبان میں کیا کہتے ہیں ؟
غیرمقلد مولوی صاحب نے بتایا ۔۔۔۔۔ جاموس ، دوسرے نوجوان نے کہا ، ٹھیک ہے میں اسے لکھ لیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
تیسرے طالب علم نے سوال کیا ۔۔۔۔
مولوی صاحب ۔۔۔۔۔
"جاموس" کا لفظ قرآن پاک کی کس آیت میں آیا ہے ذرا سنا دیجیے ۔۔۔۔۔۔ ؟
غیرمقلدمولوی صاحب نے کہا قرآن پاک میں یہ لفظ نہیں آیا ہے ،
پہلے طالب علم نے پھر مائک سنبھالتے ہوئے گزارش کی ۔۔۔۔۔
اچھا بخاری شریف کی کوئی حدیث ہی بتا جس میں جاموس کا لفظ آیا ہو ۔۔۔۔۔۔دیجیے
ان سوالات کو سن کر غیرمقلد مولوی صاحب کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
موصوف نے جھنجھلا کر کہا ،
تم یہاں شرارت کرنے آئے ہو؟
ایک طالب علم نے بڑی ہی معصومیت سے جواب دیا ۔۔۔۔۔
مولوی صاحب یہ شرارت نہیں ، ہماری اور تمہاری مشترکہ ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔
بھینس کا دودھ آپ بھی پیتے ہو ، ہم بھی استعمال کرتے ہیں ، بھینس کا گوشت آپ بھی کھاتے ہو ہم بھی کھاتے ہیں ، ، بھینس کے دودھ سے بنی لسی آپ بھی شوق سے پیتے ہو ہم بھی پیتے ہیں ، اس کا مکھن آپ بھی کھاتے ہو ہم بھی استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم سنی حنفی بریلوی ہیں اس لیے اپنی ضرورت "بہار شریعت" سے پوری کر لیتے ہیں ، سنی حنفی بریلوی مسلک کی اس کتاب میں ہم نے پڑھا تھا کہ بھینس کا گوشت حلال ہے ، اس لیے اپنے علماء پر اعتماد کرتے ہوئے ہم نے بھینس کے گوشت کو حلال جان لیا ۔۔۔۔۔۔
مگر آپ نے بھینس کو اپنے لیے کیسے حلال ٹھہرا لیا ۔۔۔۔۔۔ ؟
ذرا ہمیں بھی بتائیے ۔۔۔۔۔۔ ؟
قرآن کی کوئی آیت تو آپ کے پاس ہے نہیں ۔۔۔۔۔ ؟
جو ڈائر کٹ بھینس کو حلال بتا ئے ۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تو آپ کے پاس ہے نہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟
جس سے بھینس کا حلال ہونا ثابت ہو جائے ۔۔۔۔۔
پھر یہ بھینس ، اہل حدیث فرقہ کے لوگوں کے لیے کیسے حلال ہو گئی ۔۔۔۔۔ ؟
یہ معمہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ نے قرآن و حدیث سے ہر سوال کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ پوسٹر دیکھیے ۔۔۔۔۔۔
اسٹیج پر لگے اس بینر پر نظر ڈالیے ۔۔۔۔۔۔
اس میں بھی یہی بات موجود ہے کہ آپ قرآن و حدیث کے حوالوں سے جوابات دیں گے ۔۔۔۔۔
اس مصیبت میں پھنسنے کے بعد غیرمقلد مولوی نے کہا کہ بھینس کو ہم نے "قیاس" کے ذریعے اپنی خاطر حلال ٹھہرالیا ہے ،
قرآن و حدیث سے بھینس کے حلال ہونے کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔
یہ سنتے ہی ایک طالب علم نے سوالات کی بوچھار کردی ۔۔۔۔۔۔ ،
یہ قیاس کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟
وہی تو نہیں ، جس کے خوب طعنے تم نے سنی حنفی علماء کو دیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
اب آپ کیا کررہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
قرآن و حدیث کو چھوڑ کر قیاس کرکے کیوں بھینسوں کو حلال کر رہے ہو ؟
کیا بغیر بھینس کھائے آپ مسلمان نہیں رہ سکتے تھے ؟ جب قرآن و حدیث میں بھینس کے حلال ہونے کا ذکر نہیں تو پھر قیاس کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
اسے حلال قرار دینے کی جسارت تم نے کیسے کرلی ۔۔۔۔۔ ؟
خیر چھوڑیے ،
ہمیں بتائیے کہ بھینس کو حلال کرنےکے لیے کس پر تم نے قیاس کیا ہے؟
غیر مقلد مولوی صاحب نے سرد رات میں اپنے پیشانی کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہا کہ ہم نے گائے پر قیاس کیا ہے ، ایک طالب علم نے دریافت کیا کہ وہ علت بتائیے جس کی وجہ سے آپ نے بھینس کو حلال سمجھ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
غیرمقلد مولوی صاحب نے بتانا شروع کیا
گائےکی بھی دو آنکھیں ہیں ، بھینس کی بھی دو آنکھیں ہیں ،
گائےکی بھی چار ٹانگیں ہیں اور بھینس کی بھی چار ٹانگیں ہیں.
گائےکے بھی دو کان ہیں ، اور بھینس کے بھی دو کان ہیں ۔۔۔۔۔۔
غیر مقلد مولوی صاحب جب اپنا جواب ختم کر چکے تو ایک طالب علم نے کہا کہ
مولوی صاحب ۔۔۔۔۔۔
پھر اس کتیا کا کیا گناہ ہے ۔۔۔۔۔ ؟
جسے آپ نے حرام سمجھ رکھا ہے ۔۔۔۔۔
اسی قیاس سے اسے بھی اپنے لیے حلال کر لیجیے ۔۔۔۔۔
کیا اس کی چار ٹانگیں نہیں ہیں ، دو آنکھیں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور دو کان نہیں ہیں ؟
اس سے قبل کہ غیر مقلد مولوی صاحب کچھ کہتے ۔۔۔۔
ان کی قابل رحم حالت کو دیکھ کر منتظمین نے دوسرے غیر مقلد وہابی مفتی کو میدان میں اتاردیا ۔۔۔۔۔
مائک سنبھالتے ہی گرجدار آواز میں انہوں نے کہا کہ
قیاس نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث ہے ہمارے پاس ۔۔۔۔۔۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا !
کہ جو جانور داڑھ سے شکار کریں وہ بھی حرام ہیں اور جو پنجے سے شکار کریں وہ بھی حرام ہیں ،
بھینس نہ داڑھ سے شکار کرتی ہے نہ پنجے سے - اس لیے اس حدیث سے ثابت ہوگیا کہ بھینس حلال ہے
غیر مقلد مفتی نے جوں ہی حدیث پیش کی ۔۔۔۔۔۔ اس کانفرنس میں موجود سارے وہابیوں کے مرجھائے ہوئے چہر وں پر بہار آگئی ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ خوشی چند لمحوں کی مہمان بن کر ان کے لبوں سے اس وقت رخصت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔ جب سنی طلباء نے غیر مقلد مفتی کو ان کی ہی پیش کردہ حدیث کے ذریعے دھر دبوچا اور ایک ایسا سوال کردیا کہ وہابیوں کے پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو گیا ۔۔۔۔۔
سنی طلباء نے کہا کہ
مفتی صاحب ۔۔۔۔۔۔
گدھوں پر بھی کچھ مہربانی کر دیجیے ۔۔۔۔۔۔۔
ان گدھوں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟
کیا آپ نے کبھی گدھے کو داڑھ سے شکار کرتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
کیا آپ نے کسی گدھے کو کبھی پنجوں سے شکار کرتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟
پھر گدھوں کو ذبح کرنے کا فتوی آپ جاری کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ ؟
اپنے لوگوں کو گدھے کے گوشت کی لذت سے کیوں محروم رکھ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
سنی طلباء کے اس سوال نے غیر مقلدوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ۔۔۔۔۔۔
غیر مقلد مفتی صاحب بھی کچھ پریشان سے نظر آنے لگے ۔۔۔۔۔۔
مگر اچانک جوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ۔۔۔۔
گدھوں کو اس قدر حقارت سے نہ دیکھو ،
تم نہیں جانتے کہ جنگلی گدھوں کے حلال ہونے کی حدیث بخاری میں موجود ہے ۔۔۔۔۔
ایک سنی طالب علم نے کہا
مولوی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم قرآن و حدیث سے بھینس کا ثبوت آپ سے طلب کررہے ہیں ۔۔۔۔
اور آپ گدھے کو پیش کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
گدھے کے حلال ہونے کی دلیل دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا مذاق ہے ؟
یہ آپ کے اپنے لوگ کیا سوچتے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔؟ کچھ تو خیال کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔ !
مولوی صاحب نے کہا ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا حماقت ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
میں حدیث کا حوالہ دے رہا ہوں تم لوگ مذاق کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔ میں جنگلی گدھا کہہ رہا ہوں ،
تم شہر میں موجود گدھوں کا ذکر کیوں کر رہے ہو ۔۔۔۔۔ ؟
اس تقریر کو سن کر ایک سنی طالب علم نے کہا کہ مولوی صاحب ۔۔۔۔۔
جب گائے کی بنیاد پر آپ بھینس کو حلال کر سکتے ہوتو پھر جنگلی گدھے کی بنیاد پر شہری گدھے کو حلال کرنا کون سا مشکل کام ہے آپ کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
غیر مقلدوں نے اپنے اس مفتی صاحب کو مصیبتوں میں پھنستا دیکھ کر ایک وہابی اسکالر کو تیسرے مناظر کے طور پر پیش کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وہابی شیخ نے کہا کہ جس جانور کے کھر چرے ہوئے ہوں وہ جانور حلال ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ علت ہے قیاس کی ۔۔۔۔۔۔۔
اس بات کو سنتے ہی ایک سنی طالب علم نے کہا کہ اس اصول سے تو آپ کے نزدیک خنزیز بھی حلال ہونا چاہیے اس لیے کہ اس کے کھر بھی چرے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس بر جستہ سوال پر غیرمقلد شیخ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بحث نے
قر آن وسنت پر عمل کرنے کے غیر مقلدوں کے کھوکھلے دعوے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ
غیر مقلد مولوی دن رات جس فقہ کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں اور فقہائے کرام کی شان میں مغلظات بکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ان فقہائے کرام نے مسلمانوں پر کیسے کیسے احسانات کیے ہیں ، ۔۔۔۔۔ ؟
فقہ کی جن کتابوں کو دریا برد کرنے اور جلانے کی بکواس غیر مقلدین کرتے ہیں ان کتابوں میں علمائے اسلام کے تحریر کردہ مسائل نے مسلمانوں کو کس قدر راحت پہنچائی ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟
یہ فقہاء کا احسان ہے کہ انہوں نے قرآن و حدیث پر خوب غور وفکر کے بعد مسائل کو بیان کیا ۔۔۔۔۔
اس کی ایک مثال یہیں سمجھ لیجیے کہ
قرآن پاک میں چار جانوروں کا ذکر آیا ہے
1 ۔۔۔ اونٹ ،
2 ۔۔۔۔۔۔ گائے
3 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھیڑ
4 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکری
مجتہدین نے ان چاروں جانوروں پر اس بات کو لے کر خوب غور وفکر کیا کہ آخر وہ کون سی خصوصیت ہے جو قرآن میں بیان کیے گئے ان چار جانوروں کو ممتاز کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہزار زاویوں سے سوچنے کے بعد فقہاء اس نتیجے پر پہنچے کہ ان چاروں جانوروں کی مشترکہ خصوصیت اور خوبی یہ ہے کہ یہ سب جگالی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ، جگالی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ کھانے کے بعد دوبارہ منہ ہلاکر غذا کو چاب چاب کر باریک کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تحقیق پر اطمینان کے بعد فقہاء نے کسی جانور کے حلال یا حرام ہونے کے لیے یہ اصول پیش کیا کہ جو جانور جگالی کرتا ہے وہ حلال ہے ، اور جو جانور جگالی نہیں کرتا وہ حرام ہے ،
اب آپ پوری دنیا کے جانور پوچھتے جائیں -
لومڑی حلال ہے؟
نہیں ، حرام ہے ۔۔۔۔ اس لیے کہ وہ جگالی نہیں کرتی ،
بھینس حلال ہے؟
ہاں ، حلال ہے ۔۔۔۔۔ اس لیے کہ وہ جگالی کرتی ہے ،
گیدڑ حلال ہے؟
نہیں ، حرام ہے ۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ وہ جگالی نہیں کرتا -
گدھا حلال ہے ۔۔۔۔۔ ؟
نہیں ، حرام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ وہ جگالی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مسلمان بھائی بتائیں کہ
کیا یہ علمائے دین اور فقہائے کرام کا احسان نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
کہ قرآن میں ذکر کیے گئے ان چار جانوروں میں ایک ایسی علت نکال لی کہ پوری دنیا کے جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا مسئلہ ہی حل ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اسی کو کہتے ہیں "فقہ اور تفقہ"
اور قرآن میں واضح طور پر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا
فاسئلواأَهْلَ ٱلذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اور تم سوال کرو اہل علم سے اگر تم نہیں جانتے
(16-An-Nahl : 43)
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے نام ور علماء و اولیاء ۔۔۔۔۔ محدثین و مفسرین اور مجددین ۔۔۔۔۔۔ اہل سنت وجماعت کے چاروں ائمہ کرام میں سے کسی نہ کسی کے مقلد ہی رہے ۔۔۔۔۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید اس امت کی غالب اکثریت اسی لیے کرتی ہے کہ
وہ صاحب علم ہیں ۔۔۔۔۔
ایسے علم والے ہیں کہ حدیث میں جن کی بشارت موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایک شخص ایسا ہو گا کہ علم اگر ثریا پر بھی ہو گا تو وہ اسے حاصل کر لے گا ۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر
یہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الر حمہ کی شان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث کو جتنا انہوں نے سمجھا ۔۔۔۔۔۔
اتنا ہم نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔۔۔۔
قرآن و حدیث پر غور وفکر کے بعد آپ نے
ایسے اصول وضع کیے
جس سے ساری دنیا کے مسلمان فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک ، اپنی بے شمار رحمتیں
امام اعظم ابوحنیفہ اور دیگر فقہائے اسلام پر نازل فرمائے ۔۔۔۔۔۔
اور مسلمانوں کو ان کے احسانات کو سمجھنے اور یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔ آمین
اعلی حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الر حمہ کے اس شعر پر میں اس روداد کو ختم کرتا ہوں جس میں آپ نے اہل سنت کے چاروں ائمہ کرام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہو ئے فرمایا کہ
شافعی ، مالک ، احمد ، امام حنیف
چار باغ امامت پہ لاکھوں سلام

26/04/2024

میرے دوست احباب جو جمعہ پڑھاتے ہیں سب سے گزارش ہے کہ میری ہمشیرہ کیلئے دعائے مغفرت فرما دیجئے گا

24/04/2024

تحریر ✍️: محمد ثوبان عطاری
سمجھاتے رہا کریں! دن رات ساتھ رہنے والے، بہت قریبی، ان کو بھی یاد دلاتے رہا کریں . خاموشی، غلط فہمیاں پیدا کرتی ہے ۔ غلط اندازے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اپنے دوست میں ، بیوی میں یا بیوی کو شوہر میں کوئی بات اچھی نہیں لگ رہی تو کہ دیں۔ صرف یہ سمجھنا کہ میری باڈی لینگویج سے وہ خود سمجھ جائے گا، یا اسے خود احساس ہونا چاہیئے، اس طرح نہیں چلے گا. ہاں اگر بار بار سمجھانے کے باوجود ،سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے تو اب کچھ کرنا پڑے گا۔۔ کیونکہ ایک دو بار ہو تو غلطی ہے لیکن بار بار ہو تو وہ عادت ہے ۔ بہرحال الفاظ کی اہمیت کو سمجھیں. یقین کیجیئے،سکون سے بیٹھ کر ، خوبصورت الفاظ کے ساتھ ، آہستہ لہجے میں اور تنہائی میں کی گئی نصیحت بہت اثر رکھتی ہے. اگلا نہ بھی مانے ،آپ کی شخصیت سے متاثر ہوگا، مطلب دروازہ کھلا رہے گا اور جب وہ ٹوٹے گا ،گرے گا،آپ کو ڈھونڈے گا۔اور آپ بھی اپنا کندھا صرف جنازے کے لیے نہ رکھیں،زندوں کو بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔یقین کیجیئے اگر ہمیں سوچوں اور الفاظ کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے تو کبھی نہ فضول سوچیں نہ بولیں۔ کبھی کبھار ایک ذہین ترین انسان بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے ، سمجھدار آدمی سے بھی بھول ہوتی ہے، بہت تیز دوڑ رہے ہیں لیکن سمت غلط ہے ! ایسے میں قریبی دوست کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہمیں الرٹ کرے۔ ایسوں کی قدر کریں جو سمجھاتے ہیں۔ اور ہاں !! دماغ میں آنے والی ہر بات ، بتانے نہ بیٹھ جایا کریں۔
سوچیں جب الفاظ میں ڈھلتی ہیں،بہت پاور فل ہو جاتی ہیں۔ ان میں تباہ کرنے کی صلاحیت مزید بڑھ جاتی ہے اور پھر اوٹ پٹانگ مشورے اور دماغ خراب کرتے ہیں۔ تہجد میں اٹھ کہ اپنے رب کی بارگاہ میں مسائل پیش کر دیا کریں ۔۔ ضروری نہیں کہ جب مصیبت سر پہ آ جائے ، تب ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھیں۔ تعلق مضبوط رکھیں اپنے کریم اللہ سے ۔۔ سب کچھ عرض کیا کریں۔۔ زرا زمانے سے ہٹ کہ ، اس کے بہترین ناموں سے اس کو پکاریں۔۔ ایک دو آنسو بھی نکل آئیں وہ 30 ، 40 سال سے بھی زیادہ کہ گناہ معاف کر دیتا ہے ۔۔ ہے کوئی ایسا ؟ نہیں نا ۔۔ تو نہ چھوڑیں در اس کا۔۔ بس بیٹھ جائیں۔۔ یہ ساری ٹینشن جھاگ بن کہ بیٹھ جائیں گی۔ ان شااللہ
تحریر ✍️: محمد ثوبان عطاری

23/04/2024

*کھونے کے بعد پتا چلتا ہے کہ کتنا قيمتی تھا جو چلا گيا ، چاہے وہ وقت ہو ، انسان ہو يا کوئی رشتہ
😭😭😭

21/04/2024

خبر غم
میری چھوٹی ہمشیرہ قضائے الٰہی سے انتقال فرما گئ ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون
دعاؤں کی درخواست ہے 😭😭

20/04/2024

نبارك لكم هذه الليلة المباركه ليلة مولده صلى الله عليه وسلم
20 نيسان إبريل 571ء

آج 20 اپریل آقا کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کا سن عیسوی کے اعتبار سے یومِ ولادت ہے، آج آپ کی ولادتِ با سعادت کو سن عیسوی کے اعتبار سے 1453 سال ہوچکے۔
تمام احباب ایک بار ضرور دورد شریف پڑھیں۔
اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا وحبيبنا محمد۔

زوہیب رضا
20 اپریل 2024ء / 11 شوال المکرم 1445ھ

18/04/2024

سات لاکھ کا جہیز
تین لاکھ کا کھانا
گھڑی پہنائی
انگوٹھی پہنائی
مکلاوے کے دن کا کھانا
ولیمے کے دن کا ناشتہ
پھر بیٹی کو رخصت کیا تو سب سسرالیوں میں کپڑے بھیجنا
برآت کو جاتے ہوئے بھی ساتھ میں کھانا بھی بھیجنا
بیٹی ہے یا کوئی سزا ہے::

اور یہ سب تب سے شروع ہو جاتا ہے جب منگنی کر دی جاتی ہے کبھی نند آرہی ہے کبھی جیٹھانی آرہی ہے کبھی چاچی ساس آرہی ہے کبھی ممانی ساس آ رہی ہے ٹولیاں بنا بنا کے آتی ہیں اور بیٹی کی ماں ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب کو اعلی' سے اعلی' کھانا پیش کرتی ہے اور سب کو اچھے طریقے سے ویلکم کرتی ہے
باپ یا بھائی کا ایک ایک بال قرضے میں ڈوب جاتا ہے اور ایسے میں بیس لوگ گھیرے میں لے کے کہتے ہیں جی کتنے بندے برآت میں ساتھ لے کر آئیں 100یا 200 بندے تو ہمارے اپنے رشتے دار ہی ہیں اور باپ جب گھر آتا ہے شام کو تو بیٹی سر دبانے بیٹھ جاتی ہے کہ اس باپ کا بال بال میری وجہ سے قرضے میں ہے خدا کا واسطہ ہے آپ کو خدارا ان ہندوؤں کی رسموں کو ختم کر دو تاکہ ہر باپ اپنی بیٹی کو عزت کے ساتھ رخصت کر سکے♥

(منقول)

زوہیب رضا
8 شوال المکرم 1445ھ، بمطابق 17 اپریل 2024ء

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Feroz Wala
Lahore