Ibn E Abbas Quran Academy

  • Home
  • Ibn E Abbas Quran Academy

Ibn E Abbas Quran Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ibn E Abbas Quran Academy, Education, .

🌿 Ibn E Abbas (RA) Quran Academy
Empowering hearts with the teachings of the Holy Quran.
📖 Learn Quran with Tajweed
🕌 Hifz-ul-Quran & Islamic Studies
👨‍🏫 Qualified Male & Female Teachers
🌍 Online & Physical Classes Available

20/07/2026

ہم دنیا میں جو کچھ جمع کرتے ہیں، وہ سب یہیں رہ جاتا ہے، مگر ہمارے اعمال ہمارے ساتھ قبر تک جاتے ہیں۔ اصل کامیابی مال، شہرت یا منصب میں نہیں، بلکہ اس کردار، تقویٰ اور نیک اعمال میں ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری نجات کا ذریعہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی آخرت کی تیاری میں گزارنے اور اپنے اعمال کو خالص اسی کے لیے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲




📖 قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، اس میں غور کرنے اور اپنی زندگی میں نا...
20/07/2026

📖 قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم کلام ہے جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے، اس میں غور کرنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ ایمان افروز قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے اسلاف قرآن کو اپنے رب کا محبت بھرا پیغام سمجھتے تھے۔ وہ راتوں کو اس میں تدبر کرتے اور دن کو اس کی تعلیمات پر عمل کر کے اپنی زندگی سنوارتے تھے۔

آئیے! ہم بھی قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اسے اپنا رہنما بنائیں، اور اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب بنائیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کو پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔




08/07/2026

غرور انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے، جبکہ عاجزی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے آتی ہے۔

ہم سب کی ابتدا مٹی سے ہوئی ہے اور اسی مٹی میں واپس جانا ہے۔ اس لیے اپنے مقام، مال، علم یا طاقت پر تکبر کرنے کے بجائے عاجزی اختیار کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی کرنے والوں کو بلند فرماتا ہے۔

پوچھا گیا: غرور کیا ہے؟
جواب ملا:
"خاک سے بنائے گئے انسان کا اپنی اوقات بھول جانا۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں غرور سے محفوظ رکھے اور عاجزی و اخلاص کی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔




26/06/2026

"سلسلۃ تربیۃ الاولاد"
بچے ہماری نصیحتوں سے پہلے ہمارے کردار کو دیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد نیک، بااخلاق اور ذمہ دار بنے تو تربیت کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ اس اہم اصول کو ضرور پڑھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔
بچے والدین کی نقل کیوں کرتے ہیں؟ (روزمرہ کی 5 مثالیں)
1. سچ بولنا:
اگر والدین ہر حال میں سچ بولتے ہیں تو بچہ بھی سچائی کو اپنی عادت بنا لیتا ہے، لیکن اگر وہ معمولی باتوں میں بھی جھوٹ بولتے ہیں تو بچہ سمجھتا ہے کہ جھوٹ ایک عام چیز ہے۔
2. نماز کی پابندی:
جب بچہ اپنے والدین کو اذان سنتے ہی نماز کے لیے اٹھتے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی نماز کی محبت پیدا ہوتی ہے، کیونکہ وہ عمل کو الفاظ سے زیادہ مؤثر سمجھتا ہے۔
3. گفتگو کا انداز:
اگر گھر میں نرم لہجہ، سلام، شکریہ اور معافی مانگنے کا ماحول ہو تو بچہ بھی لوگوں سے اسی اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہے۔
4. غصے پر قابو:
اگر والدین اختلاف کے وقت چیخنے چلانے کے بجائے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو بچہ بھی مسائل کو پرسکون انداز میں حل کرنا سیکھتا ہے۔
5. موبائل کا استعمال:
اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف رہتے ہیں تو بچہ بھی اسکرین کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے، لیکن اگر والدین کتاب، قرآن اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو بچہ بھی انہی عادتوں کو اپناتا ہے۔

26/06/2026

بچے ہماری نصیحتوں سے پہلے ہمارے کردار کو دیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد نیک، بااخلاق اور ذمہ دار بنے تو تربیت کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ اس اہم اصول کو ضرور پڑھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔




25/06/2026

عقل انسانی زندگی کا ایک بنیادی سرمایہ ہے۔ اسلام نے عقل کو نہ صرف اہمیت دی بلکہ اسے ہدایت، فکر اور معرفتِ الٰہی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ "اسلام اور عقل کا عظیم انسائیکلوپیڈیا" کی اس قسط میں عقل کے لغوی مفہوم، عربی استعمالات اور جاہلی ادب میں اس کے تصور پر تحقیقی گفتگو پیش کی گئی ہے۔




25/06/2026

سلسلۃ" اسلام اور عقل کا عظیم انسائیکلوپیڈیا"
عقل کا لغوی مادہ (ع-ق-ل)، باندھنے اور روکنے کا مفہوم، عربی استعمالات، اور جاہلی ادب میں عقل
یہ بحث "جلد 1: عقل اور انسانی فکر کا تعارف" کے ابتدائی مباحث میں شمار کی جا سکتی ہے، کیونکہ کسی بھی نظریۂ عقل کی تعمیر سے پہلے لفظ "عقل" کے لغوی، تاریخی اور ادبی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
اول: عقل کا لغوی مادہ (ع-ق-ل)
1۔ مادۂ ع-ق-ل کا تعارف
عقل عربی زبان کا ایک قدیم لفظ ہے جو ثلاثی مجرد مادہ (ع-ق-ل) سے مشتق ہے۔
عربی لغات میں اس مادے کے بنیادی معنی درج ذیل ہیں:
باندھنا
روکنا
قابو میں رکھنا
جمع کرنا
ضبط کرنا
قدیم لغویوں کے نزدیک اس مادے کا اصل مفہوم کسی چیز کو منتشر ہونے سے روکنا اور اسے کسی حد میں مقید کرنا ہے۔
ابن فارس کی تحقیق
ابن فارس نے بیان کیا:
العین والقاف واللام أصلٌ واحد يدل على إمساكٍ واستمساكٍ في الشيء
یعنی:
"ع، ق اور ل ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جو کسی چیز کو پکڑنے اور مضبوطی سے تھامنے پر دلالت کرتی ہے۔"
اس تعریف میں عقل کے تمام بعد کے مفاہیم کی بنیاد موجود ہے۔
2۔ مادے سے بننے والے الفاظ
اسی مادے سے متعدد الفاظ وجود میں آئے:
عقل
فہم اور ادراک
عقال
اونٹ کے پاؤں باندھنے کی رسی
اعتقال
قید کرنا
معقول
جسے عقل قبول کرے
تعقل
غور و فکر کرنا
عاقلہ
انسان کی فہم و ادراک کی قوت
3۔ لغوی ارتقاء
عربی میں اکثر الفاظ حسی معنی سے معنوی معنی کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔
مثال:
ہاتھ سے پکڑنا → کسی خیال کو سمجھنا
راستہ دیکھنا → حقیقت کو جاننا
اسی طرح:
اونٹ کو باندھنا → نفس کو قابو میں رکھنا
جسم کو روکنا → خواہشات کو روکنا
منتشر امور کو جمع کرنا → معلومات کو منظم کرنا
یہی ارتقاء "عقل" کے فلسفیانہ معنی کی بنیاد بنا۔
دوم: باندھنے اور روکنے کا مفہوم
1۔ عقال اور عقل کا تعلق
قدیم عرب اونٹ کے اگلے پاؤں باندھنے کے لیے جو رسی استعمال کرتے تھے اسے عقال کہتے تھے۔
اونٹ کے باندھے جانے کا مقصد:
فرار سے روکنا
بے قابو حرکت سے بچانا
مالک کے اختیار میں رکھنا
اسی مناسبت سے عقل کو عقل کہا گیا۔
2۔ انسانی عقل کو عقل کیوں کہا گیا؟
لغویین کے مطابق:
عقل انسان کو روکتی ہے:
جہالت سے
حماقت سے
جلد بازی سے
ظلم سے
خواہشات کی غلامی سے
اس اعتبار سے عقل ایک "ضابطۂ نفس" ہے۔
3۔ اخلاقی پہلو
قدیم عربوں میں عاقل شخص وہ نہیں تھا جو صرف ذہین ہو بلکہ:
بردبار ہو
سنجیدہ ہو
جذبات پر قابو رکھتا ہو
نتائج کو دیکھتا ہو
لہٰذا عقل کا تعلق صرف Intelligence سے نہیں بلکہ Self-Control سے بھی ہے۔
4۔ اسلامی مفہوم کی بنیاد
بعد میں قرآن اور اسلامی فکر نے اسی لغوی مفہوم کو مزید وسعت دی۔
عقل:
خواہشات کو باندھتی ہے
انسان کو حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے
باطل سے روکتی ہے
اسی لیے بعض علماء نے کہا:
العقل ما عُبد به الرحمن واكتسب به الجنان
"عقل وہ ہے جس کے ذریعے اللہ کی عبادت کی جائے اور جنت حاصل کی جائے۔"
سوم: عربی زبان میں عقل کے استعمالات
1۔ عقل بمعنی فہم
مثال:
عقلت الكلام
"میں نے بات سمجھ لی۔"
2۔ عقل بمعنی علم
عرب کبھی عقل کو علم کے معنی میں بھی استعمال کرتے تھے۔
مثال:
فلان لا يعقل شيئاً
"فلاں کچھ نہیں جانتا۔"
3۔ عقل بمعنی تدبر
کسی معاملے کے نتائج پر غور کرنا۔
مثال:
عقل الأمر
"اس نے معاملے میں غور کیا۔"
4۔ عقل بمعنی ضبطِ نفس
یہ جاہلی عربوں میں بہت مشہور معنی تھا۔
مثال:
فلان أعقل قومه
"فلاں اپنی قوم میں سب سے زیادہ بردبار اور دانا ہے۔"
5۔ عقل بمعنی دیت
فقہی اور لغوی استعمال میں:
العقل
دیت (خون بہا) کو بھی کہا جاتا تھا۔
اس کی وجہ یہ بیان کی گئی:
اونٹ مقتول کے گھر باندھے جاتے تھے۔
چنانچہ:
عقل الإبل
یعنی دیت کے اونٹ دینا۔
6۔ عقل بمعنی مشورہ
عربی ادب میں عقل بعض اوقات پختہ رائے کے معنی میں آتی ہے۔
مثال:
أهل العقل
دانش مند لوگ۔
چہارم: جاہلی ادب میں عقل
اسلام سے پہلے عربوں کے ہاں عقل کا مفہوم موجود تھا، اگرچہ وہ بعد کے فلسفیانہ مفہوم سے مختلف تھا۔
1۔ جاہلی تصورِ عقل
جاہلی عرب عقل کو سمجھتے تھے:
حلم
بردباری
تجربہ
قبائلی حکمت
معاملہ فہمی
کے مجموعے کے طور پر۔
اس دور میں عقل کا تعلق منطق سے کم اور کردار سے زیادہ تھا۔
2۔ حلم اور عقل
جاہلی ادب میں حلم اور عقل تقریباً لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے۔
عاقل شخص:
غصے پر قابو رکھتا ہے
انتقام میں جلدی نہیں کرتا
فیصلے میں پختگی دکھاتا ہے
3۔ شعرائے جاہلیت کے ہاں عقل
زہیر بن ابی سلمی
زہیر نے متعدد مقامات پر تجربہ، تدبر اور پختہ رائے کو انسان کی سب سے بڑی قوت قرار دیا۔
اس کے اشعار میں عقل:
دور اندیشی
نتائج بینی
حکمت
کے معنی میں آتی ہے۔
لبید بن ربیعہ
لبید کے ہاں عقل انسانی محدودیت کے شعور سے وابستہ ہے۔
ان کے اشعار میں انسان:
فانی ہے
غلطی کا شکار ہے
تجربے سے سیکھتا ہے
اکثم بن صیفی
اکثم بن صیفی کو عرب کا حکیم کہا جاتا تھا۔
اس کے اقوال میں عقل:
تجربہ
حکمت
ضبط نفس
کا مجموعہ ہے۔
اس سے منسوب ایک مشہور قول ہے:
رأس العقل بعد الإيمان بالله مداراة الناس
"اللہ پر ایمان کے بعد عقل کا بڑا حصہ لوگوں کے ساتھ حسنِ معاملہ ہے۔"
4۔ جاہلی امثال میں عقل
عربی ضرب الامثال میں عقل کو بلند مقام حاصل تھا۔
مثالیں:
العقل زينة
العقل دليل صاحبه
لكل امرئٍ من عقله ما يحسن به أمره
ان تمام امثال میں عقل کا معنی عملی دانائی ہے۔
5۔ جاہلی عرب اور نظری عقل
جاہلی عربوں نے یونانی فلاسفہ کی طرح:
منطق
نظریۂ معرفت
مابعد الطبیعیات
پر منظم بحث نہیں کی۔
لیکن وہ عقل کو عملی زندگی کی رہنما قوت سمجھتے تھے۔
لہٰذا جاہلی عقل بنیادی طور پر:
Practical Wisdom (حکمتِ عملی)
تھی، نہ کہ
Theoretical Reason (نظری عقل)۔
خلاصۂ بحث
عقل کا لغوی مادہ (ع-ق-ل) اصل میں باندھنے، روکنے اور قابو میں رکھنے کے معنی دیتا ہے۔ اسی سے عقال (اونٹ باندھنے کی رسی) وجود میں آیا۔ پھر یہی مفہوم معنوی ارتقاء کے ذریعے انسانی ذہن اور ضبطِ نفس کی قوت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ عربی زبان میں عقل فہم، علم، تدبر، ضبطِ نفس، پختہ رائے اور بعض مواقع پر دیت کے معنی میں بھی استعمال ہوئی۔ جاہلی عربوں کے نزدیک عقل کا مرکزی مفہوم منطقی استدلال نہیں بلکہ حلم، بردباری، تجربہ، حکمت اور عملی دانائی تھا۔ بعد میں قرآنِ مجید اور اسلامی علوم نے اسی لغوی و ادبی بنیاد کو وسیع کر کے عقل کو معرفتِ حق، اخلاقی ذمہ داری اور دینی فہم کے ساتھ مربوط کر دیا۔

22/06/2026
09/06/2026

شیطان کے پاس علم بھی تھا، عبادت بھی تھی، مگر ایک چیز نہ تھی: "عشقِ الٰہی"
عُجب (خود پسندی)، عِناد (ضد) اور عَداوت (دشمنی) انسان کو ہدایت سے دور کر دیتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی محبت دل کو عاجزی، اطاعت اور اخلاص عطا کرتی ہے۔
آئیے اپنے دلوں کا جائزہ لیں اور اللہ تعالیٰ سے سچی محبت مانگیں، کیونکہ یہی محبت دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
✨ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے عشق اور اپنی اطاعت سے بھر دے۔ آمین۔
📖 ابن عباس قرآن اکیڈمی
👨‍🏫 قرآن ٹیوٹر: عزیزاللہ
📱 واٹس ایپ: 03404103435






ٰہی


Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ibn E Abbas Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed school/college?

Share