Nauman Best urdu teacher in lahore

Nauman Best urdu teacher in lahore

Share

O.level,BISE, highest marks achiever.writer of 9 books.founder of college magazine.organizer of cocurricular activities.speech writer..its Nauman Mudassar.

08/11/2025

(مشہور نوٹس سے تیاری کرنے والے طلبا متوجہ ہوں۔۔۔
یہ میسج فرسٹ ائیر کے بچوں کی راہنمائی کےلیے ہے تاکہ وہ تیاری میں غلطی نہ کربیٹھیں۔متعلقہ ادارے کو درستی کےلیے فیڈبیک بھیج دیا تھا)
مارکیٹ کے ایک مشہور
"یو۔۔۔۔نوٹس اردو" سب سٹینڈرڈ ہیں اور اغلاط سے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔
(1)۔ٹیکسٹ بک کے اندر واضح نوٹ لکھا ہے کہ مصنف و شاعر کے تعارف سے پیپر میں کوئی سوال نہیں آئے گا۔
تو پھر کیوں یونیک نوٹس میں مصنفین و شعرا کے تعارف پر 22 صفحات بھر دیے ہیں؟۔(صفحہ نمبر1۔20۔43۔70۔90۔105۔121۔138۔152۔165۔178۔193۔211۔226۔241۔261۔274۔287۔301۔317۔330۔342۔)
کس لیے یہ نوٹس میں شامل کیے گئے؟
کیا بورڈپیپر میں ان سے کوئی سوال آنا ہے؟
بالکل نہیں!
(2)۔فرسٹ ائیر کے نئے یونیک نوٹس پنجاب بورڈز کے پیپر پیٹرن کے مطابق نہیں ہیں۔ ٹیکسٹ بک کی غیرضروری مشقیں حل کرکے خانہ پری کرکے نوٹس بنائے گئے ہیں۔
یہ "440" سے زائد سوالات ہیں جن کا پیپر پیٹرن سے کوئی تعلق نہیں۔
نہ ان سے بچے نے کوئی تیاری کرنی ہے ،نہ ان سے کچھ پیپر میں آنا ہے۔
یہ غیر ضروری مواد درج ذیل اقسام کا ہے:
1۔مختصر جوابات،
2۔محاورات،
3۔میچ دا کالمز،
4۔خالی جگہ پر،
5۔تفہیم عبارت،
6۔اعراب،
7۔متن کے مطابق غلط درست۔
8۔حروف کی اقسام ،
9۔واحد جمع،
10۔ضرب الامثال،
11۔فقرات کی درستی،
12۔متشابہ الفاظ
13۔جملہ اسمیہ جملہ فعلیہ اور ترکیب نحوی
14۔مرکب ناقص کی اقسام۔۔
15۔مترادف
اور ایسی کافی چیزیں یونیک نوٹس میں ہیں۔
ان تمام چیزوں پر نوٹس کے 92 صفحات صرف کردیے گئے ہیں۔صفحہ 16۔17۔18۔19۔37۔38۔39۔40۔41۔64۔65۔66۔67۔83۔84۔85۔86۔99۔100۔101۔102۔114۔115۔116۔117۔118۔133۔134۔135۔145۔146۔147۔148۔159۔160۔161۔162۔171۔172۔173۔174۔175۔188۔189۔190۔203۔204۔205۔206۔207۔222۔223۔224۔225۔237۔238۔239۔240۔257۔258۔259۔260۔272۔273۔283۔284۔285۔297۔298۔299۔300۔314۔315۔316۔326۔327۔328۔329۔339۔340۔341۔355۔356۔357۔513۔514۔515۔516۔517۔518۔519۔520
ان سب صفحات پر موجود 440 سوالات کا پیپرپیٹرن سے کوئی تعلق نہیں۔
کیا پنجاب بورڈز پیپر میں ان سے کوئی سوال آنا ہے؟ نہیں۔
سر
یعنی کل 114 صفحات پر موجود 500 سوالات کا پیپرپیٹرن سے کوئی تعلق نہیں۔نہ بچے نے ان سے تیاری کرنی ہے اور نہ یہ پیپر میں آتے ہیں۔
تو یہ نوٹس میں کیوں شامل کیے؟
ظاہر ہے نہ تو آتھرز و آراے کے پاس تجربہ ہے،نہ معلومات ہیں اور نہ ویژن۔

(3)۔مزید دیکھیں
جو غلطی نہم نوٹس میں کی
وہی غلطی زیادہ شدت سے فرسٹ ائیر نوٹس میں جگہ جگہ کی ہے۔
"نثرپارے کی تشریح"میں بورڈ پیٹرن یہ ہے کہ آیت،حدیٹ،قول،ادبی یا تاریخی حوالہ دیا جائے۔۔۔لیکن یونیک نوٹس میں نثرپاروں کی تشریحات میں جگہ جگہ "اشعار" کے حوالہ جات کی بھرمار ہے۔مطلوبہ حوالوں کی بجائے شعروشاعری سے خانہ پری کی گئی ہے۔یہ نثر کی تشرہح کے پیٹرن کے ہی خلاف ہے۔نثر کی تشریح میں شعر کے حوالے کی کوئی تک ہی نہیں
4۔فرسٹ ائیر کے پیپر میں 5 مارکس کے تذکیروتانیث کے MCQ آتے ہیں۔
۔mcq نمبر18 میں ٹکٹ "مذکر" لکھا ہے۔
نمبر 131 میں ٹکٹ "مونث" کردیا۔ ہے۔
5۔صفحہ 502 پہ "زعفران" مونث ہے
صفحہ 508 mcq نمبر 88 میں مذکر کردیا ہے۔
6۔صفحہ 501 پہ "اکتفا" مذکر ہے
صفحہ507 mcq نمبر 66 میں مونث کردیا۔
7۔صفحہ 502 پہ "سسرال" مذکر ہے
صفحہ 507 mcq نمبر 75 میں مونث کردیا۔
8۔صفحہ 367۔درخواست 7 دیکھیں۔۔۔
22 دسمبر 2025 کو اشتہار میں اسامی کا پتا چلا۔۔۔۔
26 ستمبر2025 کو ملازمت کےلیے درخواست دی ہے۔
9۔صفحہ 371۔درخواست 14۔
4 نومبر کو خط لکھ رہے کہ
28 ستمبر کا کرکٹ میچ دیکھنے کی اجازت دیں۔
10۔صفحہ 374۔درخواست 19۔
2025ء کے امتحان میں 903 نمبر۔۔۔۔یہ A+ گریڈ کس طرح ہوا؟؟
یہ صرف % 75.25 نمبر بنتے۔۔۔۔A+ گریڈ 91 تا 95 پرسنٹ نمبروں پہ ہوتا۔
اس کا نوٹس پڑھنے والے پہ کیا امپریشن پڑتا؟
یہی کہ یونیک والوں کو A+ گریڈ مارکس کا بھی نہیں پتا!
11۔صفحہ 380۔درخواست 30
پہلی سطر میں لکھا کہ بنڈل 29 جولائی کو بھیجا۔۔۔
نیچے لکھ رہے کہ 4 نومبر کو بنڈل بھیجا تھا۔۔۔۔۔
12۔"Laws are like spiderwebs: they catch the weak and poor, but the rich can rip right through them." - Anarcharsis 6th century BC [OC][740 ×
نوٹس کے صفحہ 156 اور 159 پہ اس کا ترجمہ لکھ کر حوالہ دیا گیا ہے کہ یہ "ارسطو" کا قول ہے۔
13۔صفحہ 274 پہ لکھا ہے
کہ اس نظم میں رات کے کھانے کا ذکر ہے۔۔۔
نظم میں کہاں "رات کے کھانے" کا ذکر ہے؟بھئی کھڑے ہو کر کھانے کا ذکر ہے۔
14۔صفحہ 302 پہ غلط لکھا ہے کہ یہ فراق گورکھپوری کا شعر ہے۔۔۔
یہ ناصر کاظمی کا شعر ہے۔
15۔صفحہ 277 پہ لکھا ہے کہ
"شتر بے مہار"تشبیہہ ہے۔
شتر بے مہار "کنایہ" ہے۔
16۔صفحہ 448 پہ میں ہیڈنگ میں املا کی غلطی ہے۔
17۔صفحہ 317 پہ شعر میں غلطی ہے۔
18۔صفحہ 497 پہ mcqنمبر 11 میں کہا ہے کہ استعارہ میں صرف "مستعار منہ" کا ذکر ہوتا ہے۔
اورmcq نمبر8 میں کہہ رہے کہ اس جملے میں اسلم کیا ہے۔ مطلب "مستعار لہ"۔جب استعارہ میں صرف مستعار منہ کا ذکر ہوتا ہے تو مستعار لہ کہاں سے آ گیا؟
نیز mcq نمبر15 میں پھر مستعار لہ کا ذکر بھی کردیا"ایمان والوں"۔
19۔صفحہ 496 کے mcq نمبر 29 میں "کہ" کو حرف تشبیہہ لکھاہے۔قواعد کی رو سے "کہ" حرف بیان ہے۔
20۔صفحہ 496 mcq نمبر 35 کا جوابات میں جواب ہی موجود نہیں۔
21۔اشفاق احمد کے سبق میں "شیرینی گفتار" کو پنجابی میں چند بار "شرینی گفتار" لکھا ہے۔
22۔صفحہ 491 پہ لکھا ہے کہ اردو غزل میں زیادہ مطلع پائے گئے ہیں۔جواب لکھا ہے 3۔
12 نمبر mcq
جواب غلط ہے۔۔۔
جگرمراد آبادی کی ایک غزل کے 8 مطلع ہیں۔احمدرضا بریلوی کی ایک غزل کے 20 سے زائد مطلع ہیں۔
(ادارے میں ایک بھی بندہ نہیں ہے جسے یہ ٹیکنیکل چیزیں کلئیر ہوں۔کنفیوزڈ ہیں۔میں نے خود پوچھ کے دیکھا ہے)
23۔نوٹس بند کرنے لگا تو سیکنڈلاسٹ پیچ پہ لکھا تھا۔۔۔"یاداشت"۔۔۔یہ غلط ہے۔
اصل لفظ "یاد داشت" ہے۔
لغت دیکھیں۔
25۔صفحہ 34 پہ لکھا ہے "حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روم کی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔۔۔۔۔۔"
کیا حضرت عمر کے دور میں روم کا خاتمہ ہی ہو گیا تھا؟؟
لکھنے والے کو ہسٹری پڑھائیں۔
29 مئی 1453ء کو دارالحکومت "قسطنطنیہ" فتح ہوا تھا۔حضرت عمر کی وفات کے آٹھ سو سال بعد۔
ویسے رومی سلطنت 395ء میں ختم ہو گئی تھی۔یہ بزنطینی سلطنت تھی جو 395ء تا 1453ء قائم رہی۔اسی کے بات یہ تشریح میں کررہے۔یہ 1453ء تک قائم تھی۔
حضرت عمر(634ء۔۔644ء) کے دور میں اس کے چند علاقے شام،فلسطین،مصر وغیرہ فتح ہوئے تھے۔ان کے دور میں اس کا خاتمہ نہیں ہوا۔
25۔صفحہ 34 پہ لکھا ہے حضرت عمر نے پوری دنیا میں اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی۔۔۔۔۔یہ ایک اور فیک بات لمبی چھوڑی ہے۔۔۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں کہاں پوری دنیا پر اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی تھی؟؟
اسلامی حکومت کی بنیاد تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کب پوری دنیا پر اسلامی حکومت قائم ہو گئی تھی؟
تاریخی طور پر غلط بات ہے۔
26۔نوٹس میں کوئی دو سو بار
مرکب لفظ لکھا ہے:
"تشریح طلب"
یہ کسی مستند لغت (ڈکشنری) میں دکھا دیں؟
فرہنگ آصفیہ
فیروزاللغات
فرہنگ تلفظ
وغیرہ کسی ڈکشنری میں یہ مرکب نہیں ہے۔
صرف انٹر نیٹ پہ ادھرادھر سے بنائی گئی غیرمستند لغت پہ ہو سکتا ہے۔
دراصل یہ مرکب ناقص کی آٹھوں اقسام کے کسی قاعدے پہ پورا نہیں اترتا۔
سب لائق لوگ جانتے ہیں کہ یہ غلط مرکب ہے۔
زیر بحث،زیرغور،زیرنظر،زیرتشریح درست ہیں۔
27۔صفحہ 27 پہ سدرت المنتہی کے معنی لکھے ہیں جبریل کا مقام۔
نہ یہ اس کے لغوی معانی ہیں۔
نہ اصطلاحی۔۔۔
نہ پڑھ کر بچے کو سمجھ آتی ہے۔
سدرۃ المنتہیٰ کے لغوی معنی ہیں "بیری کا وہ درخت جو آخری حد پر ہے". یہاں "سدرہ" کا مطلب "بیری کا درخت" اور "المنتیٰ" کا مطلب "آخری حد" ہے. اسلامی روایات کے مطابق، یہ وہ مقام ہے جو ساتویں آسمان پر واقع ہے، اور یہ حضرت جبریل علیہ السلام کی حدِ پرواز بھی ہے.
28۔صفحہ 49 پہ لکھا ہے شبلی کی سیرت النبی اردو میں سیرت کی پہلی کتاب ہے۔۔۔
یہ غلط ہے۔
یہ اردو میں سیرت کی پہلی کتاب نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی سیرت کی کتب لکھی جا چکی تھیں۔
29۔پروین شاکر کی غزل کے پہلے شعر کا مفہوم غلط لکھا ہے۔شعر کی تشریح بھی غلط ہے۔
30۔اسباق کے خلاصے۔۔۔صرف "نیاقانون" کا خلاصہ پڑھ لیں۔کچھ فعل ماضی اور کچھ فعل حال میں لکھا گیا ہے۔یہ انداز نمبر کٹواتا ہے۔
31۔کثیرالانتخابی سوالات انتہائی کمتر درجے کے بنائے ہیں۔
سبق کا ایک جملہ اٹھایا ہے۔۔۔اس کا ایک لفظ ہٹا کر خالی جگہ بنائی ہے ۔۔۔اور ہٹایا ہوا لفظ آپشن بنا دیا ہے۔اس طرح ہیں نوٹس کے 90% mcqs.
آپ سبق چارپائی،آنگن،ایک استاد۔۔۔وغیرہ کوئی سبق دیکھ لیں۔
آپ پہلے نثری "سبق اخلاق نبوی"
کے پہلے پانچ سات mcq پڑھ لیں۔صفحہ نمبر 68۔۔۔آپ دیکھیں گے کہ بہت سطحی اور عامیانہ mcq بنائے ہیں۔بلکہ سبق کے جملے اٹھا کر ان کا ایک لفظ اٹھا کر آپشن بنائی ہے۔
ان کو پتا ہی نہیں mcq کس طرز کے بنانے اور بچوں کوتیار کروانے ہیں۔ایس ایل او بیسذ mcq کتنی اقسام اور کس کس طرز کے ہوتے ہیں۔
32۔ مشکل الفاظ کے معانی۔
تمام کے تمام ٹیکسٹ بک کے آخر سے کاپی کیے۔ترتیب آگے پیچھے کی اور نوٹس میں ڈال دیے۔صرف دو چار نئے شامل کیے ہیں۔صریحا" خانہ پری سے کام لیا ہے۔

21/07/2025

ادارہ فروغ قومی زبان
کے مطابق اردو حروف تہجی 54 ہیں۔
اس حساب سے تو اس قطعہ میں بہت سے حروف تہجی موجود نہیں ہیں۔

20/07/2025

احمدندیم قاسمی کی آخری آرام گاہ

20/07/2025

شاعر مشرق علامہ اقبال کی پہلی بیوی کریم بی بی کی قبر

19/07/2025

پنجاب بورڈز کے اساتذہ کرام
مصنف یا شاعر کے تعارفی نوٹ سے پیپر میں سوال نہیں پوچھا جائے گا۔

Photos from Nauman Best urdu teacher in lahore's post 16/09/2024
23/08/2024
21/07/2024

پنجاب میں
اطلاعات کے مطابق 2025 سے نہم اور سال اول کا نیا نصاب آجائے گا۔نصابی کتب کے مسوادات اگست میں جمع ہوں گے۔

05/05/2024

سال دوم کے طلبہ کےلیے کل کے پیپر کی تیاری کےلیے تحفہ
مضامین:
1۔محسن انسانیت
2۔پسندیدہ شخصیت/ شاعر
3۔تعلیم نسواں
4۔اتحاد امت/ اسلام
5۔سوشل میڈیا/موبائل/انٹرنیٹ کے فوائدونقصانات
6۔گداگری
7۔ محنت کی عظمت،
8۔دہشت گردی،
9۔پابندی وقت۔
۔۔۔۔۔حصہ غزل۔۔۔۔
درد
مصحفی
فراق
اقبال
۔۔۔۔۔خط۔۔۔۔۔
۔ایڈیٹر/مدیر کے نام تمام
۔والدہ/والد کی وفات پر تعزیت
۔گاوں/شمالی علاقہ جات کی سیر
۔استاد کا شکریہ ادا کرنے کا
۔ہم نصابی سرگرمیاں
۔۔۔۔نثری سبق کا خلاصہ:
محسن الملک
اکبری کی حماقتیں
ہوائی
پہلی فتح
دستک
قرطبہ کا قاضی
ایک سفرنامہ جو کہیں کا نہیں
.. نثرپارے...
ایوب عباسی
مولوی نذیر
ظفر علی خاں
ہوائی
محسن الملک
تشکیل پاکستان

15/04/2024

....."پر" اور "پہ".......

اُردو کے لفظ "پر" کا مخفّف "پہ" ہے۔ مرزا غالب کا شعر ہے:

میں بلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبہ دل!
اُس پہ بن جائےکچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے

"پہ" ۔ یہ لفظ دو معنوں میں آتا ہے۔ ایک تو اُس معنی میں جس میں یہ اِس شعر میں آیا ہے اور کبھی یہ "لیکن" کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے مرزا غالب کے اِس شعر میں:

گُو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبےسےاِن بُتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

اِس شعر میں یہ لفظ "لیکن" کے معنی میں آیا ہے۔ بات یہ ہے کہ اصل لفظ "پر" کے دو معنی ہیں: اوپر، لیکن۔ اُس کے مخفف "پہ" کے بھی یہی دونوں معنی برقرار رہے۔ بس ذرا سا فرق یہ ضرور پیدا ہوگیا ہے کہ اب یہ لفظ "لیکن" کے معنی میں بہت کم استعمال میں آتا ہے۔

اِس لفظ "پہ" کے سلسلے میں ایک اور بات بھی کہنے کی ہے۔ پہلے جوش ملیح آبادی کی رُباعی نقل کرتا ہوں:

تقدیر کے دائرے میں آنا ہی پڑے
سر، پاے مشیّت پہ جھکانا ہی پڑا
واقف تھیں مآلِ گُل سے کلیاں، لیکن
پھوٹی جو کرن، تو مسکرانا ہی پڑا

اگر جوش صاحب زندہ ہوتے اور اُن کے سامنے مَیں دوسرے مصرعے میں "پاے مشیّت پِہ" پڑھتا تو وہ بہت ناراض ہوتے اور ڈانٹ کر کہتے: "پاے مشیّت پَہ" کہو۔ یعنی "پَہ" (زبر کے ساتھ) پڑھو۔ دلیل یہ دیتے کہ "پر" میں پ پر زبر ہے، اِس لیے اُس کے مخفف "پہ" میں بھی اُس پر زبر آئے گا۔

لکھنؤ میں عام طور پر پڑھے لکھے لوگ "پَہ" ہی کہتے ہیں۔ اِس کے برخلاف دہلی میں زیادہ لوگوں کی زبان سے "پِہ" (پ کے نیچے زیر) سننے میں آیا ہے۔ میں نہ دہلی کا ہوں نہ لکھنؤ کا، اِس لیے اِس پھیر میں نہیں پڑتا، "پَہ" کو بھی صحیح سمجھتا ہوں اور "پِہ" کو بھی درست سمجھتا ہوں۔ بہ قولِ اقبال:

اقبال! لکھنؤ سے نہ دلّی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے

رہی عادت کی بات، وہ دوسری چیز ہے، مثلاً یگانہ چنگیزی کی رُباعی ہے:

یارانِ چمن! آگ برسنے کی ہے دیر
روؤ گے بہت، برق کے ہنسنے کی ہے دیر
پھولوں سے لدی ہوئی، دُلھن کیا جانے
اِن تازہ گُلوں پہ رات بسنے کی ہے دیر

میں جب اِس رُباعی کا چوتھا مصرع پڑھتا ہوں تو بے اختیاری میں میری زبان سے "گُلوں پَہ" نکلتا ہے، لیکن کوئی شخص "گُلوں پِہ" کہتا ہے تو کسی طرح کا اعتراض میرے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا۔

کتاب : "عبارت کیسے لکھیں"
از : "رشید حسن خاں"
صفحہ : 36..37..38

29/03/2024

اصلاح زبان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ اِستفادہ حاصل کرنا؟:’’اِستفادہ‘‘ کا مطلب ہے ’’فائدہ حاصل کرنا‘‘ اس لیے تحریر یا تقریر میں استفادہ کے بعد حاصل کا اضافہ کرنا فاش غلطی ہے۔ اسی طرح کی غلطی جیسے کہا جائے ماہِ رمضان کا مہینہ یا شبِ قدر کی رات۔

2۔ بُرا منانا؟:اردو میں ’’بُرا منانا‘‘ کے بجائے برا ’’ماننا‘‘ بولنا چاہیے: گرنازنیں کہے سے بُرا مانتے ہو تم میری طرف تو دیکھیے میں نازنین سہی ’’منانا‘‘ کا استعمال جشن یا خوشی (یا کسی کی ناراضی دور کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔

3۔ برائے مہربانی یا برائے کرم؟:مہربانی یا کرم سے پہلے برائے کا استعمال بالکل غلط ہے اس کی جگہ ’’براہِ‘‘ لکھنا چاہیے براہِ مہربانی یا براہِ کرم۔

4۔ تربیّت؟:صحیح لفظ ’’تربیت‘‘ ہے۔ پہلی ’’ت‘‘ پر زبر ’’ب‘‘ کے نیچے زیر ’’ی‘‘ پر زبر دوسری ’’ت‘‘ پر جزم ’’ی‘‘ پر شد ڈالنا بالکل غلط ہے۔ تربیت کے معنی ہیں پالنا، حسنِ اخلاق کی تعلیم دینا، ادب سکھانا، تہذیب سکھانا، پرورش کرنا۔

5۔ کبھی بھی، ابھی بھی:کبھی اور ابھی کے بعد بھی کا استعمال فصاحت کے خلاف ہے۔ یہ جملے کو ثقیل بنا دیتا ہے۔ اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

6۔ کُرَّہ؟:صحیح لفظ ’’کُرَہ‘‘ ہے ’’ر‘‘ پر شدّ نہیں ہے (کُ۔رَہ) اس کا مطلب ہے گولا، گیند، ہر گول چیز مثلاً کرۂ ارض (یعنی تمام زمین) کرۂ باد (یعنی ہوا کا کرہ جو زمین کو محیط ہے۔ کرّہَ ارض یا کرّۂ باد وغیرہ لکھنا بالکل غلط ہے۔

7۔ مکتبۂ فکر؟:بعض لوگ دبستانِ فکر (سکول آف تھاٹ School of thought) کے معنوں میں ’’مکتبۂ فکر‘‘ لکھتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ صحیح ترکیب ’’مکتبِ فکر‘‘ ہے۔ بعض اصحاب واحد کی صورت میں تو ’’مکتبِ فکر‘‘ صحیح لکھتے ہیں مگر جمع کی صورت میں ’’مکاتیبِ فکر‘‘ لکھتے ہیں جو غلط ہے۔ مکَتب کی جمع مکاتِب ہے۔ اس لیے ’’مکاتِب فکر‘‘ لکھنا چاہیے۔

8۔ انکساری، تقرّری، تَنَزّْلی، فراری؟:انکسار، تقرُّر، تنزُّل، فرار کی جگہ انکساری، تقرّری، تنزّلی، فراری لکھنا اور بولنا فصاحت کے خلاف (بلکہ بعض ماہرینِ لِسانیات کی رائے میں بالکل غلط) ہے۔
(طالب الہاشمی)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Head Of Department At UGI , Ex Professor At KIPS, Ex Gazetted Govt Officer
Lahore