Our family would like to extend our heartfelt gratitude to everyone who has reached out to us during this difficult time. The passing of DR AASIA RASHID has left a deep void in our lives, but your prayers, messages, visits, and acts of kindness have given us strength and comfort.
Thank you for standing with us, for honoring their memory, and for reminding us that we are not alone in our grief.
Your support means more than words can express.
Regards,
Chaudhry Muhammad Rashid
Dr Aasia Rashid
PhD in Islamic studies.speclization in comparative Religions.
Death Announcement
It is with deep sorrow that our family announces the passing of Dr. Aasia Rashid who left us peacefully on 23 November 2025
She was a beloved sister whose kindness, strength, and presence touched the lives of many.
We kindly ask everyone to keep our family in their thoughts and prayers during this difficult time.
We appreciate your support, love, and understanding.
Regards,
Irrfan Rashied
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
جب دل پہ شبِ غم چھاتی ہے
اور دل کی شبِ غم میں کوئی جب برقِ بلا لہراتی ہے
اور برقِ بلا جب بن کے گھٹا بارانِ شرر برساتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
جب چاندی کے بت خانوں میں انساں کے لہو کی بھینٹ چڑھے
نشہ ہو مہنتوں پر طاری، ہر بت کا قد کچھ اور بڑھے
ان بت خانوں میں چیخ کوئی جب گونج کے دل دہلاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق وصفا!
بازارِ گنہ کی روشنیاں جب گھور اندھیرے پھیلائیں
کمخواب کی سیجوں کی کلیاں چبھتے ہوئے کانٹے بن جائیں
جب اغوا ہو کر بکنے والی کوئی طوائف گاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
یاں جھوٹ گواہی دیتا ہے جب سچ کا غازہ رخ پہ ملے
کرتا ہے امامت کفر یہاں جب تقویٰ کی محراب تلے
طاغوت کی جب بے باک ہنسی غیرت کو ضرب لگاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق وصفا!
بن باپ کے عاجز بچے جب افلاس کے گھر میں پلتے ہیں
اور ان کے افسردہ چہرے جب پیٹ کی آگ میں جلتے ہیں
کچھ جھوٹی امیدوں سے ان کو جب بیوہ ماں بہلاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق وصفا!
عشرت کی پری کے غمزے جب ہر عزم کو گھائل کرتے ہیں
جب ترکِ سفر پر راہی کو، رہبر ہی مائل کرتے ہیں
تہذیبِ بشر کُش اِٹھلا کر ہر موڑ پہ جب بہکاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
جب مہرِ خمِ مے کھلتی ہے اور رند بہکنے لگتے ہیں
جب صندل کے ترشے ہوئے بت محفل میں تھرکنے لگتے ہیں
ہر شمع سسک کر بجھتی ہے، آہوں کا دھواں پھیلاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
جب تخت بچھاتے ہیں اپنا نمرود نئے، شداد نئے
شمشیریں جب لہراتے ہیں مقتل میں کھڑے جلاد نئے
نازک سے ضمیرِ انساں پر، سِل جبر کی جب لد جاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق وصفا!
جب حرفِ نگفتہ در پسِ لب، اک اخگر بن کے دہکتا ہے
قرطاس سے شعلے اٹھتے ہیں، خامہ سے خون ٹپکتا ہے
اظہار کی حسرت بھِنّا کر، اپنا ہی کلیجہ کھاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
جب دردِ تضاد و قول و عمل رک رک کے فزوں ہو جاتا ہے
جب زہرِ نفاقِ پنہاں سے غایات کا خوں ہو جاتا ہے
غداری کے بازاروں میں جب حبِّ وطن بِک جاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق و صفا!
ماحول کی چکی میں پڑ کر جذبات مرے جب پستے ہیں
ایمان کو چوٹیں لگتی ہیں، جب زخمِ تمنا رِستے ہیں
صد ہا فتنوں کے گھیرے میں جب طبعِ حزیں گھبراتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسےمیں تری یاد آتی ہے!
اے میرے نبیِؐ صدق وصفا!
جب ساتھی سب کھو جاتے ہیں جب میں تنہا رہ جاتا ہوں
انجانے دکھ کی لہروں میں بے بس ہو کر بہہ جاتا ہوں
جب سہمی سہمی میری خودی لہروں میں غوطے کھاتی ہے
ایسے میں تڑپ اٹھتا ہے یہ دل! ایسے میں تری یاد آتی ہے!
٭٭٭
نعیم صدیقیؒ
*جب آفات آتی ہیں، تو غریبوں پر ہی زیادہ کیوں آتی ہیں؟*
ہم نے یہ منظر بار بار دیکھا ہے۔
کہیں سیلاب آتا ہے، کہیں بارش سے مکان گر جاتے ہیں، اور کہیں آسمانی بجلی یا زلزلے زندگیوں کو نگل جاتا ہے۔
مگر ہر بار... مرنے والے، گھر کھونے والے، بے گھر ہونے والے… زیادہ تر غریب ہی کیوں ہوتے ہیں؟
کیا اللہ غریبوں پر زیادہ ناراض ہوتا ہے؟
کیا آزمائش صرف ان کے لیے ہے؟
کیا وہی زیادہ گناہ گار ہیں؟
نہیں، معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔
🌩️ اللہ کا نظام: آزمائش، تنبیہ، سزا — اور شعور کا امتحان
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جو مصیبت ہمیں پہنچتی ہے، وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے:
"وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ"
(الشوریٰ 30)
"تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے ہی کیے کا بدلہ ہے، اور اللہ بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔"
لیکن سوال یہ ہے:
اگر حکمران کرپٹ ہیں تو عام آدمی کا کیا قصور؟
اگر غلط فیصلے اوپر بیٹھے لوگ کرتے ہیں، تو آفت غریب کے گھر کیوں آتی ہے؟
🏚️ غریب کیوں زیادہ متاثر ہوتا ہے؟
کیونکہ قدرتی آفات، زلزلے، بارش، طوفان — یہ مخصوص گناہ کے ردعمل میں نازل نہیں ہوتے۔
یہ فطرت کا نظام ہے، اور اس نظام میں وسائل اور تیاری فرق پیدا کرتے ہیں۔
امیر اونچی زمین پر پکا مکان بناتا ہے، غریب نشیبی علاقوں میں مٹی کی جھونپڑی۔
امیر کے پاس وارننگ سسٹم، گاڑیاں، سیفٹی نیٹ، انشورنس، اور ریسکیو تک رسائی ہے۔
غریب کے پاس نہ بچنے کا وقت ہے، نہ سہولت، نہ آواز سننے والا۔
نتیجہ: آفت وہی ہے، لیکن اثرات مختلف۔
یہ اللہ کا قانونِ اسباب ہے۔
جو دنیا کے اسباب کو بہتر اختیار کرے گا، وہ نتائج سے بچ سکے گا — خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان۔
🤔 تو پھر گناہ کا معاملہ کہاں ہے؟
یہ بات درست ہے کہ:
کفار کے معاشرے بھی گناہوں سے بھرے ہوئے ہیں — بلکہ کئی پہلوؤں سے ہم سے بڑھ کر۔
مگر وہ دنیا کے اسباب، پلاننگ، رسک مینجمنٹ، اور قانون پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔
وہ عقل کو استعمال کرتے ہیں، اجتماعی طور پر سوچتے ہیں، اور اپنے اداروں کو مضبوط رکھتے ہیں۔
جبکہ ہم :
نہ دنیا کے اسباب پر توجہ ہے، نہ ان اعمال پر جو اللہ ہم سے چاہتے ہیں۔
نہ انصاف ہے، نہ احتساب، نہ منصوبہ بندی۔
رشوت، بددیانتی، اقربا پروری، نااہلی — یہ سب کچھ اجتماعی سطح پر ہمیں تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
لہٰذا جب مصیبت آتی ہے، تو ہم نہ رب کے قریب ہوتے ہیں، نہ دنیا کے نظام سے لیس۔
نتیجہ: ہمیں دو طرفہ مار پڑتی ہے۔
🧠 اللہ نے ہمیں عقل دی ہے، اور اختیار دیا ہے
اللہ نے ہمیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے نہ صرف واضح ہدایات دی ہیں، بلکہ فیصلے کرنے کے لیے عقل اور اختیار بھی دیا ہے۔
پھر اگر ہم نہ اللہ کی دی ہوئی عقل استعمال کریں، نہ اللہ کی واضح تفصیلی ہدایات پر عمل پیرا ہوں اور نہ اپنے اختیار کو درست طریقے سے استعمال کریں تو کیسے تبدیلی آسکتی ہے۔
اللہ تعالٰی تو قرآن میں بہت وضاحت سے یہ بات بتا رہے ہیں کہ۔۔۔
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(الرعد 11)
"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔"
یعنی:
ہم جیسی ترجیحات کا تعین کریں گے، ویسے ہی نتائج ہمارے سامنے آئیں گے۔
ہم جس طرح کے لوگوں کو اپنا حکمران دیکھنا پسند کریں گے، ان ہی کی افتاد طبع کے مطابق فیصلے ہوں گے۔
ہم اپنے اعمال سے جیسا معاشرتی نظام تشکیل دیتے ہیں، ویسے ہی نتائج ہمیں نظر آتے ہیں۔
ہم اس دنیا کی زندگی کا جتنا شعور رکھتے ہیں، اتنی ہی ترقی یا تباہی نصیب ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنے رویے، اپنے ارادے، اپنی ترجیحات، اور اپنے نظم اجتماعی کو نہیں بدلتے،
تو اللہ کے فیصلے ہماری خواہشات کے مطابق کیوں ہوں؟
🧭 اللہ کے نزدیک کون معزز ہے؟
اللہ کے ہاں نہ امیر کو غریب پر فوقیت ہے نہ غریب کو اپنی غربت کی وجہ سے کوئی فضیلت ہے۔
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"
(الحجرات 13)
"اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔"
امیر ہو یا غریب، حکمران ہو یا عوام —
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم اللہ کے نظام کو سمجھ کر، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اور نظام کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
کیا ہم اپنے معاملات میں اللہ تعالٰی کے حکم کے مطابق اہل رائے لوگوں سے مشاورت کرتے ہیں؟
کیا ہم درست اسباب اور وسائل اختیار کرتے ہیں؟
کیا ہم درست سمت میں پورے عزم اور ارادے کے ساتھ لگ جاتے ہیں؟
کیا ہم اللہ سے وہ کچھ اور ویسے ہی مانگتے ہیں جیسا کہ اس سے مانگنے کا حق ہے؟
کسی بھی واقعہ اور حادثہ کا اصل اورحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور ناراضگی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حالات کو (خواہ اچھے ہوں یا بُرے) انسانی اعمال سے جوڑا اور وابستہ فرمایا ہے، چنانچہ انسان کے نیک وبداعمال کی نوعیت کے اعتبار سے احوال مرتب ہوتے ہیں:
صحت ومرض، نفع ونقصان، کامیابی وناکامی، خوشی وغمی، بارش وخشک سالی، مہنگائی وارزانی، بدامنی ودہشت گردی، وبائی امراض، زلزلہ، طوفان، سیلاب وغیرہ،وغیرہ،
یہ سب ہمارے نیک وبد اعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر :
ان سب احوال کے ظاہری اسباب میں بھی ہماری غفلت، لالچ اور اللہ کے دیئے ہوئے اسباب کو نہ اختیار کرنا ہے،
لیکن حقیقی اسباب ہمارے نیک و بد اعمال ہوتے ہیں۔
اس طرح کے خوفناک اور عبرت انگیز واقعات (خواہ انفرادی ہوں یااجتماعی ) دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’الارم‘‘ اور ’’تنبیہ‘‘ ہوتے ہیں، تاکہ انسان اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور کوئی تنبیہ اس کے غفلت شعار دل کو جُنبش دینے میں کامیاب ہوجائے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم نے احادیثِ مبارکہ میں اعمال کی حسبِ نوعیت تاثیرات کو مختلف پہلوؤں اور طریقوں سے بیان فرمایا ہے، امت کو بداعمالیوں کے بُرے نتائج سے آگاہ فرماکر اعمال کی اصلاح کا حکم دیا ہے، چنانچہ یہ مضمون قرآن کریم کی دسیوں آیات اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سینکڑوں احادیث سے صراحۃً ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ کے کچھ ارشادات دیکھ لیتے ہیں :
1:…’’مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً‘‘۔ (النحل:98)
ترجمہ:…’’جو کوئی نیک کام کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو، تو ہم اُسے پاکیزہ (یعنی عمدہ) زندگی دیں گے‘‘۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی پُرسکون زندگی کا سبب ہے، چنانچہ دو چیزوں (ایمان اور اعمال صالحہ) کے موجود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ’’حیٰوۃ طیبۃ‘‘ یعنی بالطف، عمدہ اور پُر سکون زندگی عطا فرمانے کا وعدہ کیا ہے۔
عام آدمی بھی یہ آیت پڑھ کر یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ نہ ہوں یا کوئی ایک نہ ہو تو ’’حیٰوۃ طیّبۃ‘‘ یعنی ’’پُرسکون زندگی‘‘ نصیب نہ ہوگی، بلکہ ’’پریشان زندگی‘‘ ہوگی۔
2:…’’وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکاً وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمیٰ۔‘‘ (طہ:124)
ترجمہ:…’’اور جو شخص میرے ذکر (نصیحت) سے اعراض کرے گا تو اس کے لیے معیشت تنگ ہوجائے گی(دنیا میں) اور آخرت میں بھی تنگی کا جینا ہوگا۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل نہ کی، بلکہ نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر دنیا کی زندگی تنگ کردیں گے، بہت دفعہ مالی اور معاشی تنگی میں مبتلا کردیں گے اور بہت بار ظاہری طور پر مال ودولت، منصب وعزت مل بھی جائے تو قلب میں سکون نہیں آنے دیں گے، اس طور پر کہ ہر وقت دنیا کی حرص، ترقی کی فکر اور کمی کے اندیشہ میں بے آرام رہے گا۔ کبھی یہاں بھاگے گا کبھی وہاں بھاگے گا، ہروقت زبان پر شکایت ہی رہے گی، زندگی ایک الجھا ہوا دھاگے کا گولہ جیسی ہوجائے گی۔
اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوا کہ’’ نافرمانی سببِ پریشانی اور فرمانبرداری سببِ سکون ہے‘‘۔
3…’’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ‘‘۔ (الروم:41)
ترجمہ:…’’خشکی اور تری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی (اعمال) کے سبب خرابی پھیل رہی ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اُن کے بعض اعمال کا مزہ انہیں چکھادے، تاکہ وہ باز آجائیں‘‘۔
4:…’’وَمَآ أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ‘‘۔ (الشوریٰ:30)
ترجمہ:…’’اور تم کو جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کیے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سارے (گناہوں) سے تو وہ (اللہ تعالیٰ) درگزر کردیتا ہے‘‘۔
ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ مصیبت اور فساد کا سبب خود انسان کے اپنے ہی اعمال ہیں، اور یہ بھی بآسانی سمجھ میں آرہاہے کہ:
اگر بُرے اعمال نہ ہوں تو یہ مصائب، آفات اورفسادات وغیرہ بھی نہ ہوں گے۔ نتیجہ یہی نکلا کہ’’ نافرمانی سببِ پریشانی اور فرمانبرداری سببِ سکون ہے‘‘۔
5:…’’وَلَوْ أَ نَّ أَہْلَ الْقُرَیٰ أٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمآئِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَأَخَذْنٰہُمْ بِمَاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘‘۔ (الاعراف:96)
ترجمہ:…’’اور اگر ان بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں (کے دروازے) کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا‘‘۔
یعنی ایمان اور تقویٰ( اعمالِ صالحہ) برکت وخوشحالی کا ذریعہ اور بُرے اعمال عذاب وپکڑ اور پریشانی کا سبب ہیں۔
6:…’’وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا إِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً إِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاََتتََوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ‘‘۔ (ہود:52)
ترجمہ:…’’اور اے میری قوم! تم اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ اور اس کے سامنے توبہ کرو، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا اور تم کو قوّت دے کر تمہاری قوّت میں زیادتی کرے گا اور مجرم رہ کر اعراض مت کرو‘‘۔
7:…’’فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا، یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا، وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْہٰرًا۔‘‘ (نوح:12)
ترجمہ:…’’تو میں نے کہا کہ: گناہ بخشواؤ اپنے رب سے، بے شک وہ بخشنے والا ہے، تم پر آسمان کی دھاریں (تیز بارشیں) برسائے گا اور بڑھادے گا تم کو مال اور بیٹوں سے اور بنادے گا تمہارے واسطے باغ اور بنادے گا تمہارے لیے نہریں‘‘۔
ان دونوں آیات میں نعمتوں اور برکات کے حصول کا طریقہ گناہوں سے توبہ، استغفار اور تقویٰ کو بیان فرمایا ہے، جب معلوم ہوا کہ گناہوں کا چھوڑنا اور توبہ کرنا مال واولاد کی کثرت اور خوشحالی کا سبب ہے تو اس سے لازمی طور صاحبِ عقل وشعور یہی نتیجہ نکالے گا کہ’’ گناہ اور نافرمانی‘ نعمتوں میں کمی اور بدحالی کا سبب ہے‘‘۔
8:…’’وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَیَحْتَسِبُ‘‘۔ (الطلاق:2-3)
ترجمہ:…’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے، جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا‘‘۔
اس آیت میں تقویٰ کو نجات اور وسعتِ رزق کا سبب بتایا ہے اور اس کا عکس یہی ہے کہ نافرمانی اور گناہ‘ پریشانیوں میں گرفتار ہونے اور قلتِ رزق اورنعمت میں کمی کا سبب ہے۔
9:…’’ وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ أٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّأْتِیْہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بأَنْعُمِ اللّٰہِ فَأَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ‘‘۔(النحل: 112)
ترجمہ:…’’اور بتائی اللہ نے ایک بستی کی مثال جو چین وامن سے تھے، اس کی روزی فراغت سے ہرجگہ سے چلی آتی تھی، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، پھر اللہ نے اس کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا۔‘‘
اگر غور کیا جائے تو یہ آیت درحقیقت ایک آئینہ ہے، جس میں ہر بستی اور ہر ملک والے اپنی حالت دیکھ اور جانچ سکتے ہیں۔
جس کی حالت اس بستی کی طرح ہے، وہ سمجھ لے کہ اُس سے غلطی بھی اُن ہی کی طرح کی ہوئی ہے۔
اپنے ملک اور قوم کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کے ترجمہ کو دوبارہ پڑھیں اور غورکریں تو صاف پتہ چلے گا کہ ہم میں اور ان بستی والوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کے ساتھ مسلمانانِ پاکستان نے جو غیر اسلامی سلوک روا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کی ناقدری ہے ،جس کے نتیجہ میں ہم پر یکے بعد دیگرے برے حالات مسلط ہیں۔
حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ:
ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے فرمایا: ’’اس وقت کیا ہوگا؟ جب پانچ چیزیں تم میں پیدا ہوجائیں گی اور میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ تم میں پیدا ہوں یا تم ان (پانچ چیزوں) کو پاؤ، (وہ یہ ہیں): ۱…بے حیائی: جسے کسی قوم میں علانیہ (ظاہراً) زنا کیا جاتا ہو تو اس میں طاعون اور وہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو ان سے پہلوں میں نہیں تھیں۔۲… اور جو قوم زکوٰۃ سے رک جاتی ہے تو وہ (درحقیقت) آسمان سے ہونے والی بارش کو روکتی ہے اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش برستی ہی نہیں۔ ۳…اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو وہ قحط سالی، رزق کی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم میں گرفتار ہوجاتی ہے۔۴… اور امراء جب اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے بغیر فیصلے کرتے ہیں تو ان پر دشمن مسلط ہوجاتا ہے جو ان سے ان کی بعض چیزوں کو چھین لیتا ہے۔۵… اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نبی کی سنت کو چھوڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں جھگڑے پیدا کردیتا ہے‘‘۔ (الترغیب،ج:3،ص:169)
حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک دفعہ مدینہ اور حجاز کے علاقہ میں زبردست قحط پڑا، حضرت عمر نے مصر و شام کے علاقہ سے کثیر مقدار میں غذائی اشیا منگوائیں، مگر قحط کسی طور پر کم نہ ہوا، ایک صحابی بلال بن حارث مزنی کو خواب میں حضوراکرم کی زیارت ہوئی، حضور نے فرمایا:
میں تو سمجھتا تھا کہ عمر ؓ سمجھدار آدمی ہے! ان صحابیؓ نے حضرت عمر کو خواب سنایا، حضرت عمر بہت پریشان ہوئے اور نمازِ فجر کے بعد صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں نے میرے اندر حضور کے بعد کوئی تبدیلی محسوس کی؟ صحابہ نے کہا: نہیں اورحضرت عمرq کی کچھ تعریف کی۔
حضرت عمر نے خواب دیکھنے والے صحابیؓ کو فرمایا کہ اپنا خواب بیان کریں۔ خواب سن کرصحابہ نے فرمایا: امیر المؤمنین! رسول اللہ اس جانب متوجہ فرمارہے ہیں کہ قحط کے حالات سے نمٹنے کے لیے آپ دنیا کے ظاہری اسباب تو اختیار فرمارہے ہیں، لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے رجوع نہیں کیا، یعنی نمازِ استسقاء نہیں پڑھی، حضرت عمر چونکہ حق قبول کرنے کا مزاج رکھتے تھے تو آپ ؓ نے نمازِ استسقاء ادا فرمائی اور ایسی بارش ہوئی کہ مدینہ کا طویل قحط دور ہوا۔
(البدایہ والنہایہ،ج:۷، ص:۲۰۳،۲۰۴)
اس واقعہ پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ اچھے اعمال کا اثر بھی اچھا اور بُرے اعمال کا اثر بھی بُرا ہوتا ہے،جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں نمازِ استسقاء (جو کہ مسنون عمل ہے) کا اثر اچھا ہوا۔ اوراس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسائل صرف ظاہری اسباب سے حل نہیں ہوتے، بلکہ ان کے لیے باطنی اسباب بھی ضروری ہوتے ہیں۔
میں آپ سے نہیں کہتا کہ آپ میری بات مان لیں لیکن چلیں۔۔۔
خود سے تو یہ سوال کیجیے:
کیا میں انفرادی طور پہ اپنی زندگی اسی طرح ڈیزائن کرکے چل رہا ہوں جیسے کہ چلنا چاہیے؟
کیا ہم نے کوئی ایسی اجتماعی غلطی کی ہے جو ہمارے لیے ایک ایسی زنجیر بن گئی ہے جس میں ہم جکڑے گئے ہیں؟
کیا ہم نے اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں درست سمت اور طریقے سے نبھائی ہیں؟
کیا ہم نے دنیا کے تمام متعلقہ اسباب کو اختیار کیا ہے؟
کیا ایسا تو نہیں کہ ہم نے توکل کا مطلب ہی بالکل غلط سمجھا ہوا ہے؟ اور ہم ہر تباہی کا ذمہ دار کسی ایک شخص یا طبقے کو سمجھ کر خود فارغ ہوجاتے ہوں؟
کیا ہم نے اللہ کے احکام کی روشنی میں اپنے انفرادی، معاشرتی، معاشی اور اجتماعی نظام کو درست کرنے کی کوشش کی؟
کیا ہم نے اپنا اجتماعی نظم و نسق اہل اور امانت دار لوگوں کے حوالے کیا اور اس کے لیے پوری طرح یکسو ہوئے؟
اگر ان سوالات کا جواب نہیں ہے...
تو پھر ہمیں تبدیلی کی شروعات خود اپنے مواخذے اور سوچ کو بدلنے سے کرنی ہوگی۔
دعاؤں کے ساتھ — فیصلوں میں حکمت، اعمال میں اخلاص، اور نیت میں سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
تب ہی یہ زمین ہمارے لیے بھی امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
ورنہ جو ہمارے اعمال اور حالات ہیں، جس طرح ہم نے قدرت کے نظام کو ہر جگہ چیلنج کیا ہے، پانی کے راستوں پر سوسائٹیاں بنا ڈالی ہیں، جنگلات کاٹ کاٹ کر زمین ادھیڑ ڈالی ہے، نسلی اور زبانوں کے تعصب میں اپنی ہی مت مارے بیٹھے ہیں، نہ ڈیمز بنانے پر اتفاق کرتے ہیں، نہ اسباب درست اختیار کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔۔۔۔
تو آپ ہی بتایئے کہ نتائج کیسے بدل سکتے ہیں؟
خاکم بدہن اگر یہی بے ڈھنگی چال رہی تو مزید آفات و مصائب ہماری راہ تک رہے ہیں کیونکہ۔۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یمین الدین احمد
17 اگست 2025ء
کراچی، پاکستان۔
قنوت نازلہ ، فلسطین کے لیے ۔۔
اللھم احفظ الإسلام والمسلمین اللھم انصر المسلمین والمجاھدین فی فلسطین
اَلَّلھُمَ انصُر المُجَاہِدینَ فِی غَزہ
اللّٰهم احفظ للمسجد الأقصى و فلسطين
اَلَّلھُمَ انصُر المُجَاہِدینَ والمسلمین فِی کُل مَکان
اَلََلھُم انصُر کَنَصر یوم البَدر
اَللّٰھُمَّ اُنْصُر اِخْوَانِنَا فِی فَلَسْطِیْن
اَللّٰھُمَّ اَعِزَّ الْاِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ
وَ اَذِلَّ الْشِرْكَ وَ الْمُشْرِکِیْنَ
وَ دَمِّرْ اَعْدَائَكَ وَ اَعْدَائَنَا وَاَعْدَاءَ الْدِیْنَ
ھٰؤُلَاءِ الْھَنُودَ وَ الْیَہُوْدَ وَ النَصٰارٰی وَ ھٰؤُلَاءِ الْمُلْحِدِیْنَ
اَللّٰھُمَّ شَتِّت شَمْلَھُم
اَللّٰھُمَّ خَرِّب بُیُوتَھُم
اَللّٰھُمَّ دَمِّرْ دِیَارَھُم
اَللّٰھُمَّ زَلْزِلْ اَقْدَامَھُم
اَللّٰھُمَّ اِنّا نَجْعَلُكَ فِی نُحُورِھِم وَنَعُوذُبِكَ مِن شُرُورِھِم
یَا جَبَّارُ یَا قَھـَّار شَاھَتِ الْوُجُوہ شَاھَتِ الْوُجُوہ
یاربَ العَالمین یاقَوی
یارَبَ المُستضعَفِین
یارَبَ المُجَاہِدین
آمین یا ربّ العالمین
غزہ میں اس وقت کا منظر
بمباری اپنی شدت کی انتہاء پر ہے، ایسا ہولناک منظر جیسے قیامت کا دن ہو۔
حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
اے الله! ہم یہود و نصاریٰ کو تیرے سپرد کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔
الله کریم تیری صفت منتقم بھی ہے اور تو ہی دشمن کے مکر اور طاقت کے مقابل سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔
یہ دشمن کی ہلاکت کے لیے بہت مؤثر دعا ہے اور الله ضرور پوچھے گا، ہم سے غزہ والوں کے بارے میں۔۔۔!
یقینِ کامل کے ساتھ دعا کریں، یہ وحشیانہ بمباری ہمارے بے گناہ اہلِ غزہ پر ہو رہی ہے اور ہماری دعائیں ان کے لیے آسانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ کس منہ سے رب کو جواب دیں گے بے بس امت اس وقت کم از کم دعا تو کریں
اہلیان غزہ اور مجاہدین کو دعا کی چادر میں لپیٹ دیں۔
الله تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اہلیان غزہ کے لیے خصوصی دعا کریں۔
الله تعالیٰ دعا میں اتحاد کو پسند فرماتا ہے۔دعا سے کبھی مایوس نہ ہوں.مانگتے رہیں
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ الله فرماتے ہیں:
"لڑائی دعا سے بھی ہوتی ہے، جیسے ہاتھ سے ہوتی ہے۔"
دعاء لأهل غزة والمجاهدين فيھا:
حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
اللَّھُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِ الْيَھُودِ وَالصَّلِيبِيِّينَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.
اللَّھُمَّ ثَبِّتِ الْمُجَاهِدِينَ فِي غَزَّة، اللَّھُمَّ سَدِّدْ رَمْيَھُمْ، وَثَبِّتْ أَقْدَامَھُمْ، وَارْبِطْ عَلَى قُلُوبِھِمْ، وَاقْذِفِ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِ الْيَھُودِ وَمَنْ وَالَاهُمْ.
اللَّھُمَّ اجْعَلْ غَزَّة وَفِلَسْطِين مَقْبَرَةً لِلْيَھُودِ وَمَنْ وَالَاهُمْ، اللَّھُمَّ زَلْزِلِ الْأَرْضَ مِنْ تَحْتِ أَقْدَامِھِمْ، وَفَرِّقْ كَلِمَتَھُمْ، وَاجْعَلْ بَأْسَھُمْ بَيْنَھُمْ شَدِيداً.
اللَّھُمَّ كُنْ لِأَهْلِنَا فِي غَزَّة عَوْنًا وَنَصِيرًا، اللَّھُمَّ خَفِّفْ عَنْھُمْ، وَفُكَّ أَسْرَاهُمْ، وَاشْفِ جَرْحَاهُمْ، وَأَطْعِمْ جَائِعَھُمْ، وَاسْقِ عَطْشَانَھُمْ، وَسَدِّدْ رَمْيَھُمْ، وَاجْمَعْ كَلِمَتَھُمْ، وَقَوِّ ضُعَفَاءَهُمْ.
اللَّھُمَّ أَرْسِلْ لَھُمْ جُنُودًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُقَاتِلُونَ مَعَھُمْ، وَيَرُدُّونَ عَنْھُمُ الصَّوَارِيخَ، وَيُدَمِّرُونَ دَبَّابَاتِ الْيَھُودِ وَطَائِرَاتِھِمْ.
اللَّھُمَّ اجْعَلْ صَوَارِيخَ الْمُقَاوَمَةِ بِأَلْفِ صَارُوخ، وَاجْعَلْ كُلَّ رَصَاصَةٍ بِأَلْفِ رَصَاصَة، وَدُمِّرْ مَدَافِعَھُمْ وَأَبْرَاجَھُمْ وَمَلَاجِئَھُمْ.
اللَّھُمَّ يَا مَنْ نَصَرْتَ قَلِيلًا فِي بَدْرٍ وَمُؤْتَة، انْصُرْ الْمُجَاهِدِينَ فِي غَزَّة، وَصَرِّفْ عَنْھُمُ الْيَھُودَ وَالصَّھَايِنَةَ.
اللَّھُمَّ زَلْزِلِ الْأَرْضَ تَحْتَ أَقْدَامِھِم، وَبَثِّ الرُّعْبَ فِي قُلُوبِھِم، وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ، وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ، وَاخْذُلْھُمْ، وَدَمِّرْهُمْ تَدْمِيرًا.
اللَّھُمَّ إِنَّكَ كَتَبْتَ: ﴿إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ﴾
[الأنفال: 12]
يَا وَدُودُ يَا وَدُودُ يَا وَدُودُ، يَا ذَا الْعَرْشِ الْمَجِيدِ، يَا فَعَّالٌ لِمَا يُرِيد، انْصُرْ أَهْلَ غَزَّة وَالْمُجَاهِدِينَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا.
اللَّھُمَّ لا حَوْلَ لَھُمْ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، فَكُنْ لَھُمْ وَلَا تَكُنْ عَلَيْھِم، وَكُنْ نَصِيرًا لَھُمْ وَعَوْنًا.
اللَّھُمَّ أَغِثْ أَهْلَ غَزَّة، وَاشْدُدْ أَزْرَهُمْ، وَارْبِطْ عَلَى قُلُوبِھِم، وَأَنْزِلْ عَلَيْھِمْ سَكِينَةً وَأَمَانًا وَدِفْئًا وَسَلَامًا.
اللَّھُمَّ نَصْرَكَ الَّذِي وَعَدْتَ، نَصْرَكَ الَّذِي وَعَدْتَ، نَصْرَكَ الَّذِي وَعَدْتَ.
اللھم صَلِّ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ.
(آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ)
دعا الله سے عزم اور یقین کے ساتھ مانگیں اور یہ دعائیں اور قنوت نازلہ پڑھ کر اہلِ فلسطین کی مدد کے لئے دعا کریں۔
اللّهُمّ إنّي أشكُو إليكَ ضَعف قُوّتي، وقِلّةَ حِيلتي، وَهَوَانِي عَلَى النّاس..
أنتَ رَبُّ المُستَضعفين وَأنت رَبّي، إلَى مَنْ تَكِلني؟ إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهمني؟ أَمْ إلَى عَدُوّ مَلّكْتَهُ أَمْرِي؟
إنْ لَمْ يَكُنْ بِك عليّ غَضبٌ فَلا أُبَالي، لكنّ عَافِيَتك هي أَوْسع لِي، أَعُوذُ بِنُورِ وَجْهك الذي أَشْرَقَتْ لَهُ الظّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدّنْيَا وَالْآخِرَة منْ أَنْ تُنْزِلَ بِي غَضَبَك، أَوْ يَحِلّ عَلَيّ سُخْطُكَ!
لَك الْعُتْبَى حَتّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوّةَ إلّا بِك! :))
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! د شمن سے لڑائی بھڑائی کی تمنا نہ کرو‘ بلکہ اللہ سے سلامتی مانگو ۔ ہاں ! جب جنگ چھڑ جائے تو پھر صبر کئے رہو اورڈٹ کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔ پھر آپ نے یوں دعا کی‘
اے اللہ ! کتاب ( قرآن ) کے نازل فرمانے والے‘ اے بادلوں کے چلانے والے ! اے احزاب ( یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوہ خندق کے موقع پر ) شکست دینے والے ! ہمارے دشمن کو شکست دے اوران کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔
صحیح البخاری 👈 2530
تحریر/مظہر صدیقی
ملتان
👇
میں کئی ماہ سے اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں چیخنے چلانے، بلند آواز میں بات کرنے اور سخت لہجے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں پر چیختے ہیں، اساتذہ طلبہ پر رعب ڈالنے کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، باپ بیٹوں کو ڈانٹتا ہے، وکیل اپنے مخالف پر برستے ہیں، دکاندار گاہک سے الجھتا ہے، اور میاں بیوی ایک دوسرے سے تلخی سے پیش آتے ہیں۔ گویا ہر طرف ایک دوسرے پر غصہ نکالنے، کاٹ کھانے اور زبان سے وار کرنے کا چلن عام ہو چکا ہے۔
اس رویے کے نتائج انتہائی خطرناک ہیں۔ رشتے ٹوٹ رہے ہیں، تعلقات ختم ہو رہے ہیں، نفرتیں بڑھ رہی ہیں، دشمنیاں جنم لے رہی ہیں، اور بات چیت میں مٹھاس کی جگہ زہر آ گیا ہے۔ چھوٹے بڑے سب اس تلخی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے، کیا ہم اس تناؤ سے نجات حاصل کر سکیں گے؟ کیا ہمارے لہجے کبھی نرم، الفاظ کبھی شیریں، اور گفتگو کبھی محبت بھری ہو سکے گی؟
ہمیں اس بڑھتی ہوئی تلخی، چیخ و پکار اور زبان کی سختی کا حل اجتماعی سطح پر تلاش کرنا ہوگا۔ سب سے پہلا قدم اپنی گفتگو میں نرمی، شائستگی اور لحاظ کو اپنانا ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ بلند آواز سے دلیل کمزور ہو جاتی ہے اور سخت لہجے سے دل دُکھتے ہیں۔ دوسروں کے جذبات کا احترام، ردعمل سے پہلے لمحہ بھر سوچنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا وہ صفات ہیں جو ہمارے باہمی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں ایسی تربیتی نشستیں ہونی چاہئیں جن میں خوش اخلاقی، برداشت اور گفتگو کا مثبت انداز سکھایا جائے۔ اگر ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنا احتساب کریں کہ ہم نے کسی کا دل تو نہیں دُکھایا، اور اگر سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی لے کر نرمی اور محبت کو اپنا شعار بنالیں تو یقیناً ہم اپنے گرد و پیش کے اس بگڑے ہوئے ماحول کو سنوار سکتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ سارے فساد کی جڑ اکثر ہماری زبان، آواز اور لہجہ ہوتا ہے۔ جنہوں نے دل توڑے ہیں، نفرتوں کے بیج بوئے ہیں، اور زندگیوں میں تلخی گھولی ہے۔ ذرا سی توجہ، شعوری کوشش اور مسلسل مشق سے ہم اپنے جہنم زدہ ماحول کو جنت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مضبوط ارادے سے آغاز کیا جائے تو خوشگوار تبدیلی ممکن ہے۔
مظہر صدیقی
پندرہ اپریل ، دو ہزار پچیس
05/04/2025
غزہ کے نام۔۔۔
یا اللہ!
ہمارے مظلوم بہن بھائیوں پر رحم فرمادے
ان کے دکھوں کا مداوا فرمادے
ان کے بچوں کو جنت کے باغوں میں جگہ دے
ان کی ماؤں کو صبرِ جمیل عطا فرمادے
اور ہمیں غفلت کی نیند سے جگا دے
اللّٰهم انصر أهل غزة نصراً عزيزاً مؤزراً
اللّٰهم أنزل عليهم سكينتك، وأيدهم بجنودك، وارحم شهداءهم، وداوِ جراحهم، وكن لهم ناصراً ومعيناً
انا للہ و انا الیہ راجعون
غزہ کی ایک فلسطینی لڑکی نے لکھا:
"ہماری خبریں اب سے تمہیں پریشان نہیں کریں گی۔ یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور سب ختم ہو جائیں گے۔اللہ اُس کو ہرگز معاف نہ کرے جو ہمارے ظلم پر خاموش رہا۔"
اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضَعْفَ قُوَّتِی
اے اللہ ! میں اپنی طاقت کی ناتوانی
وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ
اپنی قوت عمل کی کمی
وَ ھَوَ انِی عَلٰی النَّا سِ
لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے بسی کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتا/ کرتی ہوں
یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ
اے ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے
وَاَنْتَ رَبِّی
تو میرا بھی رب ہے
اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ
تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے
اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِی
ایسے بعید کے حوالے جو ترش روئی سے میرے ساتھ پیش آتا ہے
اَمْ اِلٰی عَدُوٍّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ
کیا کسی دشمن کو تو نے میری قسمت کا مالک بنادیا ہے
اِنْ لّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ
اگر تو مجھ پر ناراض نہ ہو تو مجھے ان تکلیفوں کی ذرا پروا نہیں
وَلٰکِنَّ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ
پھر بھی تیری طرف سے عافیت اور سلامتی میرے لیے زیادہ دلکشا ہے
اَعُوْذُبِنُوْرِوَجْهِکَ الَّذِیْ
میں پناہ مانگتا/ مانگتی ہوں تیری ذات کے نور کے ساتھ۔
اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ
جس سے تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں
وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُالدُّنْیَا وَالْآٰخِرَۃِ
اوردنیا و آخرت کے کام سنور جاتے ہیں
مِنْ اَنْ تُنَزِلِ بِیْ غَضَبَکَ
کہ تو نازل کرے اپنا غضب مجھ پر
اَوْ یَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ
یا تو اتارے مجھ پر اپنی ناراضگی
لَکَ الْعُتْبٰی حَتیّٰ تَرْضٰی
میں تیری رضا طلب کرتا/ کرتی رہوں گی یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے
وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃ َاِلَّا بِکَ
تیری ذات کے بغیر نہ میرے پاس کوئی طاقت ہے نہ قوت....
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |