26/09/2016
اے الله هم آپکی پناہ چاھتےہیں ہر برےدن سےبری رات سےبری گھڑی سےبرےلمحات سے
آنےوالےوقتوں کی بری آفتوں بلاؤں مصیبتوں پریشانیوں
غموں دکھوں اور بیماریوں سے
اےالله ھم کوھر لمحےاپنی حفظ وامان عطافرما.آمین!
26/09/2016
ایک باڑےمیں سو پچاس جانور مہینہ بھر بھی رہ لیں تو ایک دوسرے سے ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں
انسان ہزاروں سال بعد بھی دوسرےانسانوں میں غیرمحفوظ ہے..
26/09/2016
میرے مالک، رب کُل جہاں ، میرے مہرباں، میرے آشنا
مجھے عشق دے اپنی ذات کا اِس کُن سے مجھے نواز دے
اللھم آمین یا رب العالمین
26/09/2016
غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
جب کرم ہوتا ہے حالات بدل جاتے ہیں
کوئی دیکھے تو سہی ان کو دہائی دے کر
اسمِ احمد سے تو پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
صل اللہ علیہ وسلم
❤❤❤❤❤
25/09/2016
٭ گناہ گار بندے کی توبہ سے اللہ کی خوشی۔٭
-------------------------
موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے اللہ! جب آپ کا کوئی نیک بندہ آپ کو پکارتا ہے تو آپ کیسے جواب دیتے ہیں؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں کہتا ہوں:
:لبیک یا عبدی۔"اے میرے بندے میں حاضر ہوں۔
موسٰی علیہ السلام نے دوبارہ پوچھا:اے میرے رب! جب کوئی گناہ گار بندہ آپ کی طرف رجوع کرتا ہے تو آپ کیسے جواب دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں کہتا ہوں:
"لبیک یا عبدی،لبیک یا عبدی،لبیک یا عبدی۔"
"اے میرے بندے میں حاضر ہوں، اے میرے بندے میں حاضر ہوں، اے میرے بندے میں حاضر ہوں۔"
موسیٰ علیہ السلام نے تعجب سے کہا:اے میرے رب! جب کوئی نیک بندہ پکارتا ہے تو اسے ایک مرتبہ"لبیک یا عبدی" سے جواب ملتا ہے،جبکہ گناہ گار بندے کو تین مرتبہ "لبیک یا عبدی" کہہ کر جواب دیا جاتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نیک بندہ اپنی ضرورت( یعنی بلندی درجات) کے لیے مجھ سے دعا کرتا ہے جبکہ میرا گناہ گار بندہ میری رحمت کی امید پر دعا کرتا ہے۔(ردُّالبلاء بالدعاء:ص 28۔)
ہم نے یہ روایت اس لیے نقل کی ہے کیوں کہ اس کا مفہوم نبی کریم ﷺ کے ایک فرمان سےتقریباً ملتا جلتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ معاملہ ایک مثال دے کر سمجھایا:
ایک بندہ کسی بیابان راستے پر جا رہا ہے۔ اس کے پاس کھانے پینے کا سامان اور ایک سواری ہے،جس پر اس کا تمام سامانِ سفر لدا ہوا ہے۔ایک جگہ وہ آرام کرنے کے لیے ٹھہرا ، جب سو کر اُٹھا تو اس کی سواری کھانے پینے کے سامان سمیت غائب تھی۔وہ شخص انتہائی فکر مند ہوا کہ وہ کھائے پیے بغیر بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور سواری کے بغیر بھی اتنا لمبا سفر طے نہیں کرسکتا۔ وہ انتہائی مایوس ہے،دل ہی دل میں سوچ رہا ہے کہ اب شاید میرا مقدر یہیں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنا ہے۔آپ اس کیفیت کا ذرا تصور کریں، پھر سوچیں کہ اگر اسے سواری بھی مل جائے،کھانے پینے کا سامان بھی مل جائے تو وہ کس قدر خوش ہو گا؟جب کوئی گناہ گار بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے،جتنی خوشی اس مسافر کو سامان ملنے سے ہوئی۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 6308)